BN

جسٹس نذیر غازی



اک نئے دور کا آغاز ہوا چاہتا ہے


روزانہ انتظار کرتے ہیں کہ عوام کے لیے آج اچھا دن آتا ہے۔ کوئی راہبر آئے گا اور وہ بگڑے ہوئے حالات کو سدھارے گا۔ الیکشن میں ان کا گمان یقین میں بدل جاتا ہے کہ تبدیلی آئے گی اور قسمت کا ستارہ چمکے گا۔ الیکشن ہو جاتے ہیں۔ ستارہ تو کیا چمکے، کوئی نحوست کی گھڑیاں نظر آنے لگتی ہیں۔ چوروں کو نئے شکار کی تلاش میں ایسے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں کہ اگر ادھر کا جہاں ادھر ہو جائے تو یہ چور، ڈاکو سارے نظام کوتلپٹ کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ ایک پرانے دور کی بات ہے کہ
هفته 04  اگست 2018ء

اس دیس پر مولا کا کرم ہو کے رہے گا

بدھ 01  اگست 2018ء
جسٹس نذیر غازی
الیکشن ہو گیا روایتی تنائو اور پھر تقاضا ہائے انتخابی روایت کا سامنا بھی ہوا۔مقامی اور قومی سطح پر شکایات کا اظہار بھی قولی اور تحریری طور پر جاری ہے البتہ ایک واضح تغیر جوماقبل از انتخابات نظر آتا تھا وہ وقوع پذیر ہوا۔ قومی سطح کے مشترکہ مسائل پانی‘ صحت ‘ امن و امان اور حکمران طبقے کی مراعات یافتہ زندگی ہمیشہ ہی شکایات کا باعث بنے ہیں۔10سال سے مسلسل اور 35سال سے وقفہ وقفہ سے حکمران جماعت کی شکایات کا ایک خاموش ردعمل بالآخر تبدیلی کی صورت میں رونما ہو۔ عوامی تجزیے میں عموماً لوگ نئی اور پرانی سیاسی
مزید پڑھیے


نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر

هفته 28 جولائی 2018ء
جسٹس نذیر غازی
ایک اندازہ تھا، غلط ثابت ہوا۔ چوک میں دعوئوں کی دھجیاں اڑیں اور تکبر کی کشتی بے کنارہ ہو کر ڈوبی مگر بے اطمینان اور نادار طبیعت کو سکون کہاں، اب نئی گہما گہمی اور پرانے مکر کے سوداگروں کی خدمات پر نئی بولیاں دینے کو تیار۔ مان کیوں نہیں لیتے کہ ہم ابلیس کے گرائونڈ میں قوم ملک، سلطنت کو گیند، بلا، ہاکی بنا کر کھیل رہے تھے۔ ہم کبھی حلیف اور کبھی حریف بن کر سوانگ رچاتے تھے۔ سوانگ رچاتے رچاتے اتنے بائولے ہو گئے تھے کہ ہم کو لات مارنے کی عادت نے اپنا اسیر بنا لیا تھا۔
مزید پڑھیے


بے مطلب کی باتیں تیری ‘بے مقصد کی ذات

اتوار 22 جولائی 2018ء
جسٹس نذیر غازی
قومیں حالت جنگ میں حوصلوں کے سہارے سربلند ہوتی ہیں اور وقت کی ڈوری کو اپنے دست توانا میں مضبوطی سے تھامے رکھتی ہیں ہم بہرحال زندہ قوم ہیں‘ پائندہ قوم ہیں۔ قوم ‘ ملک‘ سلطنت کا حقیقی اثاثہ تو وہ عوام ہیں جوہر نازک موڑ پر اپنا سرمایہ حیات وطن پر نچھاور کرتے اور ہر سچی بات کو پسند کرتے ہیں صداقت کا ساتھ دینے کے لیے آمادہ کار رہتے ہیں اگر کوئی مدعی خیانت کا ارتکاب کرے تو وہ نالاں ہو جاتے ہیں۔ اپنی ہمت اور زور کو تبدیلی کے لیے آزماتے ہیں یہی انداز ایثار ان کو
مزید پڑھیے


انتقام آسمانی، الامان و الحفیظ

هفته 14 جولائی 2018ء
جسٹس نذیر غازی
پاکستان ہی کیا، ملت اسلامیہ کی فیصلہ کن تاریخ اپنے اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ بین الاقوامی روایتی، غیر روایتی، مستقل اور عارضی سازش کار پوری طرح سے آمادہ بہ شر ہیں۔ مغرب، مشرق کا کردار ہر اہل نظر پر واضح ہے۔ ملک کے اندر بہت سے تبصرہ نگار اپنے مخصوص نقطہ نظر اور مفاداتی اہداف کے تحت ملکی حالات کی وہ تصویر پیش کرتے ہیںجو بہت ہی شکستہ ہے، خستہ ہے اور بھیانک ہے۔ ہر شخص کو سوچنے اور بیان کرنے کا جو حق انسانی حقوق کا چارٹر عطا کرتا ہے، ہر تبصرہ نگار کو اس کے اندر ہی محدود رہنا
مزید پڑھیے




اب تو غنی کے در پر بستر جما دیئے ہیں

جمعرات 28 جون 2018ء
جسٹس نذیر غازی
تکمیل سیرت کے لیے ایک کامل شخصیت کی راہ گزر بھی سنگ میل دکھائی دیتی ہے اور کاملین کے لیے جادہ روشن بڑے لوگوں کی قربت کے فیضان سے میسر آتا ہے۔ نسل نو، نسل قدیم سے مربوط رہتی ہے تو انسانیت کے قافلے میں تسلسل اور تواتر کی برکت برقرار رہتی ہے لیکن انسانی سیرت اور اس کی روح کی قوت کی روشنی کا منبع و مصدر وہ ذات اقدس اور وہ وجود کرم نواز ہے جسے قرآن نے قد جاء کم من اللہ نور وکتاب مبین فرمایا:کہ یقینا تمہاری طرف خدائے وحدہ لا شریک کی جانب سے بلند نور
مزید پڑھیے


ظالمو، فتنہ گرو، شعبدہ بازو خاموش

جمعرات 21 جون 2018ء
جسٹس نذیر غازی
قوم کی توجہات تقسیم ہو کر رہ گئی ہیں۔ کسی بھی طرز کا انداز یکسانیت کہیں واضح نظر نہیں آتا اور بڑی مصیبت یہ ہے کہ لوٹ مار اور قوم فروشی کے پرانے ماہرین اب بزرگ سیاستدانوں میں شمار کئے جاتے ہیں اور ان کے طرز خرام سے تیز رفتار قزاقی آنکھوں والے اب تازہ خون کے جذبات پر خوان مفادات سجانے کا ارادہ کر رہے ہیں۔ قوم تو نظریات اور شعور و جذبات کی مربوط کہانی کا نام ہے۔ قوم کے نعرے کا علم مقہور و مجبور عوام ہر سردوگرم حالات میں اٹھائے رکھتے ہیں۔ عوام تو اکثریت میں ہیں
مزید پڑھیے


غفلت کی چادر‘ تان کر رہبر بھی سو گئے

منگل 12 جون 2018ء
جسٹس نذیر غازی
روزانہ اخبار پڑھتا ہوں ‘ لوگوں سے ملتا ہوں اور مختلف چینلز دیکھتا ہوں کتنی ہی طرح کی باتیں ذہن میں ایک قافلہ بن کر مرتب ہوتی ہیں سفر فکر کا ارادہ بہت مضبوطی سے باندھنا میرا روز مرہ کا فطری شعار ہوتا ہے ارادے میں کتنے ہی موضوعات ہوتے ہیں کچھ تازہ عنوانات مجھے احساس دلاتے ہیں کہ اب یہ لکھو اور کچھ پرانے عنوانات مجھے سونے نہیں دیتے اور مجبور کرتے ہیں کہ ان پر لکھا جائے اور قوم کو سونے نہ دیا جائے۔ قوم تو سو رہی ہے اور چور ڈاکوئوں کی مٹھی میں ایک زہریلی دوا
مزید پڑھیے


لیڈروں کو اک حیا درکار ہے

جمعرات 07 جون 2018ء
جسٹس نذیر غازی
کل شام ایک قریبی عزیز نے فون کیا اور رسمی خیر خیریت پوچھنے کے بعد بہت ہی مایوسانہ انداز میں بولے کہ بھائی آپ اخبار میں لکھتے ہیں ۔ اکثر قومی مسائل میں آپ کا انداز بے باکانہ ہوتا ہے اور آپ پاکستان کی بقا ‘ دفاع اور نظریہ وطن پر بات کرتے ہیں ۔ عرض کیا کہ آپ درست کہہ کر رہے ہیں۔ وہ بولے کہ کیا افرادِقوم کے مسائل میں اجتماعی مسائل سے جدا ہوتے ہیں اور کیا کسی لیڈر کو جیب تراشی کی اجازت بھی دی جا سکتی ہے۔ وہ مسلسل بول رہے تھے اور اپنی دل
مزید پڑھیے


دستار کے ہر پیچ میں کچھ بھید ہیں پنہاں

جمعه 01 جون 2018ء
جسٹس نذیر غازی
پاکستان آزاد ہوا، جغرافیائی پاکستان پر خیانت پیکر انگریز اور حیا سے عاری ہندو نے ضرب کاری لگائی۔ کچھ ریاستیں اور کچھ علاقے تھے کہ وہ برضا و رغبت پاکستان کے جغرافیے میں وسعت کا سبب بن گئے۔ کشمیر حیدر آباد دکن پر ہندو ننگ انسانیت نے اپنی بدنیتی کا پورا مظاہرہ کیا۔ کئی ننگ اسلاف بزعم خویش مرتبہ صالحیت پر فائز اور کھلم کھلا ننگ انسانیت ہندوئوں نے پاکستان کو خواب قرار دیا۔ کئی قلندری ذوق گویوں نے پاکستان کی پ کو لوح کائنات سے خارج کر رکھا تھا۔ رات بھر پاکستان کے قائدین کو استہزاء کی بنسری پر رکھ
مزید پڑھیے