BN

خاور نعیم ہاشمی



بالآخر دونوں جیت گئے


لاہور ہائی کورٹ کے دو معزز ججوں نے آخرکار بیمار نوازشریف کے علاج کے لئے باہر جانے کا مسئلہ انتہائی احسن طریقے سے حل کر دیا اور پھر فیصلہ آ گیا۔ وفاق کے وکلاء کی طرف سے کچھ اعتراضات کئے گئے جنہیں عدالت خاطر میں نہ لائی۔ اب نواز شریف چار ہفتوں کیلئے علاج کرا سکیں گے اور ضرورت پڑی تو اس میں توسیع ہو سکے گی۔ شہباز شریف کی درخواست پر سماعت شروع ہوتے ہی عدالت نے ریمارکس دیے ،، ہم یہ معاملہ دونوں فریقوں کی رضامندی سے حل کرنا چاہتے ہیں،، اور پھر ایسے ہی ہوا، فیڈریشن نے
اتوار 17 نومبر 2019ء

نواز شریف پر پھر ڈیل کا الزام

اتوار 10 نومبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
میرا یقین تو اب تک کامل ہے کہ نواز شریف واقعی علیل ہیں اور ان کی بیماری اس خطرناک موڑ تک پہنچی ہوئی ہے جہاں،، کچھ ،،بھی ہو جایا کرتا ہے، لیکن ,,میرے اس یقین کا کسی ڈیل کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے، بتایا جا رہا ہے کہ میاں صاحب آج شہباز شریف کے ساتھ لندن روانہ ہو رہے ہیں، میں میاں صاحب کی علالت اور ان کی بیرون ملک روانگی کو علیحدہ علیحدہ منظر میں دیکھتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ وزیر اعظم عمران خان نے انہیں خود باہر چلے جانے کی ،، اجازت،،
مزید پڑھیے


اہل صحافت کیا کیا گل کھلاتے رہے

جمعه 08 نومبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
پاکستان میں آج سیاست اور صحافت جس نازک موڑ پر کھڑی ہیں یہ کئی نام نہاد سیاستدانوں اور نادان صحافیوں کا نامہ اعمال ہے۔ یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہو گیا، اس تباہی کے پیچھے ایک طویل’’جدوجہد‘‘ ہے۔ طے شدہ منصوبوں اور حادثاتی طور پر صحافی اور سیاستدان بن جانے والے افراد نے تباہیوں اور بربادیوں کی تاریخ رقم کی ہے اور یہ کہانی ہے کم از کم نصف صدی کی اور میں سمجھتا ہوں کہ صحافت اور سیاست کے اصل منصب کی بحالی کے لئے اگر آج جدووجہد شروع کرنے کی کوشش بھی کی جائے تو یہ
مزید پڑھیے


دھرنے کومحفوظ راستے کی ضرورت

اتوار 03 نومبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
یہ کالم میں دو دن پہلے جمعہ کی رات اس وقت لکھ رہا ہوں جب مولانا فضل الرحمان کا دھرنا عروج پر دکھائی دے رہا ہے، بے شک وہاں مدرسوں کے طلباء کا جم غفیر ہے، میں ذاتی طور پر اپنے رسک پر وہاں موجود لوگوں کی تعداد کو ایک لاکھ سے سوا لاکھ تک تصور کر رہا ہوں،چاہے وہاں ساٹھ ستر ہزار سے بھی کم لوگ ہوں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو چھوڑئیے، کراچی سے اسلام آباد تک کے اس سفر میں کوئی ایک عام شہری بھی مولانا کا شریک سفر نہ ہوا، نجانے کیوں
مزید پڑھیے


مولانا کی جیت اور خان کی ٹیم

جمعه 01 نومبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں بظاہر ’’سبز انقلاب‘‘برپا ہو چکا ہے، اگر ن لیگ ’’ ڈنڈی‘‘نہ مارتی تو اس مارچ کا رنگ مخصوص نہ ہوتا، مولانا کا امن مارچ اسلام آباد پہنچنے سے ہی پہلے کامیاب ہو چکا تھا۔ اب وزیر اعظم سے استعفیٰ مانگنے یا ان کے استعفیٰ دینے کی بھی ضرورت نہیں رہی،،، کیونکہ مطلوبہ نتائج برآمد ہو چکے ہیں، مطلوبہ مقاصد حاصل کر لئے گئے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی تو اپنی حکمت عملی کے تحت اس کھیل میں شریک ہی نہیں رہی لیکن ن لیگ اپنے صدر شہباز شریف کی دو رخی حکمت عملی سے
مزید پڑھیے




میاں صاحب اورخون خاک نشیناں

اتوار 27 اکتوبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
نواز شریف کو العزیزیہ کیس میں سات سال جیل کی سزا قصہ پارینہ ، شدید بیمار میاں صاحب کی اگلی منزل لندن ہی ہے، خدا انہیں صحت یاب کرے، لڑنے اور بچنے کے سارے،، سلیقے،، خوب آزمائے اور بالآخر فتح یاب ہوئے، ویسے اس ساری ،، جدوجہد ،،میں کریڈٹ شہباز شریف کو نہ دینا بد دیانتی ہوگی، بیماری منجانب اللہ ہوتی ہے اور اسے انسانی جان کا صدقہ قرار دیا گیا ہے، بلاؤں کو ٹالتی ہے، مصائب اور مشکلات کا راستہ روکتی ہے، ہمارے بیس اکتوبر کو شائع ہونے والے کالم کا عنوان تھا،، نواز شریف رہا ہو رہے ہیں،
مزید پڑھیے


روٹی سے محتاج قومی ہیرو

جمعه 25 اکتوبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
پچھلے کالم میں ہم نے لکھا تھا کہ نواز شریف مارچ دوہزار بیس سے پہلے پہلے رہا ہو جائیں گے، لیکن نواز شریف کی اچانک علالت اتنی شدید نظر آ رہی ہے کہ ’’قدرت‘‘ کی طرف سے ماہ مارچ سے پانچ مہینے پہلے یعنی اکتوبر کی رخصتی کا بھی انتظار کئے بغیرسر پر کھڑا دکھائی دینے لگا ہے۔ وزیر اعظم اور حکومتی مشینری کے رویے بدل گئے ہیں۔ عمران خان ن لیگ کے قائد کی ناساز طبیعت کو خود مانیٹر کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنا ذاتی طیارہ نواز شریف کے لئے مختص کر دیا ہے۔ یاسمین راشد
مزید پڑھیے


’’نواز شریف رہا ہو رہے ہیں‘‘

اتوار 20 اکتوبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
بعض دوسرے ’’خاموش سیاسی مبصرین‘‘ کی طرح میری صحافیانہ چشم بھی میاں نواز شریف کو اکتیس مارچ دو ہزار بیس سے پہلے جیل سے باہر آتے دیکھ رہی ہے،،،( خاموش سیاسی مبصرین سے مراد ’’پولیٹیکل انٹلکچوئلز‘‘ کا وہ گروپ ہے جسے عوام نہ تو نیوز چینلز کے حالات حاضرہ کے پروگرامز میں اپنی اپنی نظریاتی جنگ لڑتے ہوئے دیکھتے ہیں اور نہ ہی اخبارات میں ان کے تبصرے اور بیانات شائع ہوتے ہیں)۔ پاکستان میں یک جماعتی نظام حکومت مسلط کرنے کا وہ منصوبہ جو برسوں پہلے سوچا گیا تھا اس پر پانی پھر چکا ہے۔ یہ شعوری
مزید پڑھیے


استعفیٰ یا دوبارہ الیکشن

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
آج کل اہم ترین موضوع گفتگو مولانا فضل الرحمان کا کراچی سے اسلام آباد تک امن مارچ اور ممکنہ دھرنا ہے، مولانا کو اپنی اس ’’جدوجہد‘‘ میں پہلی بڑی کامیابی یہ ہوئی کہ حکومت ’’ مذاکرات‘‘ پر آمادہ ہوچکی ہے۔ جبکہ مولانا نے بات چیت کے لئے بھی استعفیٰ ساتھ لے کر آنے کی شرط لگا دی ہے۔میں اس موضوع پر کچھ نہیں لکھنا چاہتا تھا لیکن پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت کے پوری طرح مولانا کے شکنجے میں آجانے کے بعد ضروری ہوگیا ہے کہ اس بظاہر ’’بڑی لڑائی‘‘ میں کچھ حصہ ڈالا جائے۔ مولانا
مزید پڑھیے


ذاتی ڈائری کا ایک ورق

بدھ 16 اکتوبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
میں نے اس دور میں روزانہ ڈائری لکھنا شروع کی تھی جب واقعتاً صحافت پابہ زنجیر تھی مگر زندہ تھی اور محب وطن صحافی آزادی صحافت کے لئے جہد مسلسل میں مصروف تھے۔ آج اگرآزاد صحافت اورآزاد صحافی کا تصور ختم ہو رہا ہے یا ختم کیا جا رہا ہے تو یہ عمل ایک سال میں شروع نہیں ہوا۔ آج سوشل میڈیا نے ہر شہری کو صحافی بنا دیا ہے تو یہ بھی کوئی عجوبہ نہیں۔ سوشل میڈیا نے آج جنم نہیں لیا، یہ تو روایتی میڈیا کے ساتھ ساتھ پھلتا پھولتا رہا ہے۔ جب کوئی حکومت ترکی جیسے
مزید پڑھیے