BN

خاور نعیم ہاشمی



حسن ، شباب اور کراچی


میں خوش نصیب ہوں کہ میں اس زمانے میں دو بار کراچی شہر میں رہا جب ایم کیو ایم اور بعض اس جیسی دوسری متشدد تنظیموں نے جنم نہیں لیا تھا، اس دور کے شہر کے بارے میں راوی چین ہی چین لکھا کرتا تھا،کراچی کا سماجی، سیاسی اور ثقافتی ڈھانچہ لاہور سے مختلف نہیں بلکہ زیادہ مضبوط تھا، اس دور کو سوچتا ہوں تو سوچتا ہی رہ جاتا ہوں، گو آج کراچی پھر پر سکون ہے لیکن اس سکون میں ایک سکوت بھی محسوس ہوتا ہے، یقیناً وہ شہر جس کا سینہ سالہا سال تک زخمی
اتوار 15  ستمبر 2019ء

یہ کس کا پاکستان ہے؟

جمعه 13  ستمبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
حکمران طبقات پچھلے تہتر سال سے عوام کے ساتھ مسلسل جھوٹ بولتے چلے آ رہے ہیں کہ وہ قائد اعظم کے پاکستان میں زندہ رہ رہے ہیں، حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ انہی بالادست طبقات نے قائد اعظم کے پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہی قتل کر دیا تھا، یہی نہیں خود بانی پاکستان نے جن حالات میں رحلت فرمائی وہی اس نظریے کی نفی کے لئے کافی ہیں۔ پاکستان کے عوام ،، پارٹیشن،، سے پہلے انگریز کی جس پولیس کے ہاتھوں محکوم تھے وہی محکومی آج بھی برقرار ہے۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان
مزید پڑھیے


عظمت انسان کا علمبردار

اتوار 08  ستمبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
فسانۂ غم ہجراں سنا نہیں سکتے خلوص یار پہ تہمت لگا نہیں سکتے کوئی فرعون اگر تیغ پہ اترائے گا آشتی کا یہ تقاضہ ہے، بغاوت ہوگی آج کا کالم پیرزادہ غلام دستگیر کے نام موسوم کرتا ہوں ، جنہیں آپ ظہیر کاشمیری کے نام سے جانتے ہیں، مجھے نہ صرف ان کی ماتحتی میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا بلکہ وہ میرے ساتھ تحریک آزادی صحافت کے دوران سنٹرل جیل میں اسیر بھی رہے، کہتے ہیں کہ آدمی کی اصلیت کا پتہ یا تو جیل میں چلتا ہے یا ریل میں، جیل میں پتہ چلا کہ وہ واقعی
مزید پڑھیے


کریمنل انٹلیکچوئلز

بدھ 04  ستمبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
یہ کہانی تو ہے گجرات سے تعلق رکھنے والے ایک ان پڑھ شکرے نوجوان کی، لیکن آپ تھوڑا سا غور فرما لیں تو پتہ چلے گا کہ یہ تو شاید پاکستانی سیاست کی داستان ہے اور اگر آپ مزید گہرائی میں چلے جائیں تو اسی کہانی میں امریکہ، روس اور دوسری بڑی عالمی طاقتوں کی طے شدہ پالیسیاں بھی آپ کے سامنے آ جائیں، لگتا ہے جیسے یہ دنیا ہی گلیوں، محلوں کے چھوٹے چھوٹے بدمعاشوں کی پالیسیوں پر چل رہی ہے۔ عالمی سیاسیات اور اسی عالمی سیاست کے درخت پر کچھ پتے ایسے بھی ہوتے ہیں جن
مزید پڑھیے


وہ جو باعث شرمندگی ہیں

اتوار 01  ستمبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
چھوٹے شہروں اور قصبات میں تو نام نہاد صحافیوں کی بھرمار ہے ہی، لاہور سمیت بڑے شہروں کو بھی ایسے ’’صحافیوں‘‘ سے پناہ حاصل نہیں ہے جنہوں نے اس مقدس پیشے کی حرمت کو کچھ اس طرح پامال کیا ہے کہ اصلی صحافیوں کو بھی کہیں منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملتی۔ یہ سلسلہ نیا نہیں شروع ہوا، کئی ان پڑھ اور بلیک میلر لوگ کھلے عام صحافی بنے ہوئے ہیں، ان کی جیبوں میں عجیب و غریب ناموں کے میڈیا ہاؤسز کے کارڈ ہوتے ہیں، اب تو شہر کے کونے کونے ، گلیوں اور بازاروں میں اخبارات و جرائد
مزید پڑھیے




میں بہت شرمندہ ہوں

جمعه 30  اگست 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
یہ کہانی نہیں میری شرمندگی کی داستان ہے، لوگ مجھے ایک بہادر آدمی سمجھتے ہوں گے لیکن اس واقعہ نے مجھ پر ثابت کر دیا تھا کہ میں کتنا کمزور اور بے بس شخص ہوں،کاش اس دن جب یہ واقعہ رونما ہوا تھا، اس دن کا سورج ہی نمودار نہ ہوتا، کاش میں اس دن بھی سماج سے بغاوت کر دیتا اور ایک بیٹی کے مکالمے پر زندگی قربان کرکے اسے سینے سے لگا لیتا اور اسے اپنے وجود کا حصہ بنا لیتا،پتہ نہیں آج وہ کہاں ہوگی؟ کس حال میں ہوگی؟ پچیس سال بیت گئے ہیں اس سے
مزید پڑھیے


نواز شریف کو ریلیف

اتوار 25  اگست 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
عدالت عظمیٰ کی جانب سے نواز شریف کو سات سال قید اور جرمانے کی سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے حوالے سے ویڈیو اسکینڈل کا فیصلہ سامنے آ چکا ہے فیصلے میں اس کے باوجود جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل پر تحقیقاتی کمیشن بنانے کی استدعا مسترد کر دی گئی ہے کہ کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے یہ ریمارکس بھی دیے تھے کہ جج ارشد ملک کے ’’مس کنڈکٹ‘‘ سے ہزاروں ججوں کے سر شرم سے جھک گئے ہیں، یہ ریمارکس بھی سامنے آئے کہ مریم نواز کی جانب سے مبینہ ویڈیو
مزید پڑھیے


اے عدم ، احتیاط لوگوں سے

جمعه 23  اگست 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
یہ بات ہے اس زمانے کی جب پاکستان میں آزادی صحافت کے لئے دنیا کی سب سے بڑی جنگ لڑی گئی تھی، 1977-1978ء پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی قیادت منہاج برنا اور نثار عثمانی جیسے بے باک اور دوٹوک صحافیوں کے ہاتھوں میں تھی، کارکن صحافیوں کی ملک گیر فوج ظفر موج اپنے راہنماؤں پر اندھا اعتماد رکھتی تھی، ایک پر حملہ سب پر حملہ کا تصور ایمان کی حد تک مستحکم تھا، جنرل ضیاء الحق کی آمریت سرکاری میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو بھی سنسر شپ کے خلاف جدوجہد میں شامل ہونے سے نہیں روک سکی
مزید پڑھیے


ایک خط ، من وعن

بدھ 21  اگست 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
(شوکت مہر صاحب ایک سینئر وکیل، قانون دان ،مفکر اور دانشور ہیں، انہیں صرف تاریخ سے ہی نہیں، شعر و ادب ، موسیقی اور سیاست سے بھی گہرا لگاؤ ہے۔ پیانو بڑا زبردست بجاتے ہیں، بہت بے باک اور جی دار دوست ہیں۔ دنیا بھر سے معلومات کے ذخیرے ان کے پاس ہیں، حالات حاضرہ پر گہری نگاہ رکھتے ہیں، شوکت مہر صاحب نے ہمیں ایک مکتوب بھجوایا ہے جسے ہم آج کے کالم میں من و عن شائع کر رہے ہیں) ٭٭٭٭٭ 1973ء میں جب عرب، اسرائیل جنگ دیوار پر لکھی جا چکی تھی۔ جنگ سے پہلے ایک امریکی
مزید پڑھیے


کہیں دیر نہ ہو جائے

اتوار 18  اگست 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ کو بھارتی اکائی ڈیکلیئر کرنے کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس سولہ اگست کو ہوا، ایک دن پہلے سلامتی کونسل کی خاتون صدر(جو کہ اقوام متحدہ میں پولینڈ کی سفیر ہیں) کا ایک بیان میری نظروں سے گزرا جس نے مجھے چونکا کر رکھ دیا ، ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لئے جانے کا امکان ہے، سلامتی کونسل در اصل دنیا کے پانچ طاقت ور ترین ممالک، امریکہ، چین، برطانیہ،روس اور فرانس کے گٹھ جوڑ کا نام ہے، سلامتی کونسل
مزید پڑھیے