BN

خاور نعیم ہاشمی



مولانا کی جیت اور خان کی ٹیم


مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں بظاہر ’’سبز انقلاب‘‘برپا ہو چکا ہے، اگر ن لیگ ’’ ڈنڈی‘‘نہ مارتی تو اس مارچ کا رنگ مخصوص نہ ہوتا، مولانا کا امن مارچ اسلام آباد پہنچنے سے ہی پہلے کامیاب ہو چکا تھا۔ اب وزیر اعظم سے استعفیٰ مانگنے یا ان کے استعفیٰ دینے کی بھی ضرورت نہیں رہی،،، کیونکہ مطلوبہ نتائج برآمد ہو چکے ہیں، مطلوبہ مقاصد حاصل کر لئے گئے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی تو اپنی حکمت عملی کے تحت اس کھیل میں شریک ہی نہیں رہی لیکن ن لیگ اپنے صدر شہباز شریف کی دو رخی حکمت عملی سے
جمعه 01 نومبر 2019ء

میاں صاحب اورخون خاک نشیناں

اتوار 27 اکتوبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
نواز شریف کو العزیزیہ کیس میں سات سال جیل کی سزا قصہ پارینہ ، شدید بیمار میاں صاحب کی اگلی منزل لندن ہی ہے، خدا انہیں صحت یاب کرے، لڑنے اور بچنے کے سارے،، سلیقے،، خوب آزمائے اور بالآخر فتح یاب ہوئے، ویسے اس ساری ،، جدوجہد ،،میں کریڈٹ شہباز شریف کو نہ دینا بد دیانتی ہوگی، بیماری منجانب اللہ ہوتی ہے اور اسے انسانی جان کا صدقہ قرار دیا گیا ہے، بلاؤں کو ٹالتی ہے، مصائب اور مشکلات کا راستہ روکتی ہے، ہمارے بیس اکتوبر کو شائع ہونے والے کالم کا عنوان تھا،، نواز شریف رہا ہو رہے ہیں،
مزید پڑھیے


روٹی سے محتاج قومی ہیرو

جمعه 25 اکتوبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
پچھلے کالم میں ہم نے لکھا تھا کہ نواز شریف مارچ دوہزار بیس سے پہلے پہلے رہا ہو جائیں گے، لیکن نواز شریف کی اچانک علالت اتنی شدید نظر آ رہی ہے کہ ’’قدرت‘‘ کی طرف سے ماہ مارچ سے پانچ مہینے پہلے یعنی اکتوبر کی رخصتی کا بھی انتظار کئے بغیرسر پر کھڑا دکھائی دینے لگا ہے۔ وزیر اعظم اور حکومتی مشینری کے رویے بدل گئے ہیں۔ عمران خان ن لیگ کے قائد کی ناساز طبیعت کو خود مانیٹر کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنا ذاتی طیارہ نواز شریف کے لئے مختص کر دیا ہے۔ یاسمین راشد
مزید پڑھیے


’’نواز شریف رہا ہو رہے ہیں‘‘

اتوار 20 اکتوبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
بعض دوسرے ’’خاموش سیاسی مبصرین‘‘ کی طرح میری صحافیانہ چشم بھی میاں نواز شریف کو اکتیس مارچ دو ہزار بیس سے پہلے جیل سے باہر آتے دیکھ رہی ہے،،،( خاموش سیاسی مبصرین سے مراد ’’پولیٹیکل انٹلکچوئلز‘‘ کا وہ گروپ ہے جسے عوام نہ تو نیوز چینلز کے حالات حاضرہ کے پروگرامز میں اپنی اپنی نظریاتی جنگ لڑتے ہوئے دیکھتے ہیں اور نہ ہی اخبارات میں ان کے تبصرے اور بیانات شائع ہوتے ہیں)۔ پاکستان میں یک جماعتی نظام حکومت مسلط کرنے کا وہ منصوبہ جو برسوں پہلے سوچا گیا تھا اس پر پانی پھر چکا ہے۔ یہ شعوری
مزید پڑھیے


استعفیٰ یا دوبارہ الیکشن

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
آج کل اہم ترین موضوع گفتگو مولانا فضل الرحمان کا کراچی سے اسلام آباد تک امن مارچ اور ممکنہ دھرنا ہے، مولانا کو اپنی اس ’’جدوجہد‘‘ میں پہلی بڑی کامیابی یہ ہوئی کہ حکومت ’’ مذاکرات‘‘ پر آمادہ ہوچکی ہے۔ جبکہ مولانا نے بات چیت کے لئے بھی استعفیٰ ساتھ لے کر آنے کی شرط لگا دی ہے۔میں اس موضوع پر کچھ نہیں لکھنا چاہتا تھا لیکن پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت کے پوری طرح مولانا کے شکنجے میں آجانے کے بعد ضروری ہوگیا ہے کہ اس بظاہر ’’بڑی لڑائی‘‘ میں کچھ حصہ ڈالا جائے۔ مولانا
مزید پڑھیے




ذاتی ڈائری کا ایک ورق

بدھ 16 اکتوبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
میں نے اس دور میں روزانہ ڈائری لکھنا شروع کی تھی جب واقعتاً صحافت پابہ زنجیر تھی مگر زندہ تھی اور محب وطن صحافی آزادی صحافت کے لئے جہد مسلسل میں مصروف تھے۔ آج اگرآزاد صحافت اورآزاد صحافی کا تصور ختم ہو رہا ہے یا ختم کیا جا رہا ہے تو یہ عمل ایک سال میں شروع نہیں ہوا۔ آج سوشل میڈیا نے ہر شہری کو صحافی بنا دیا ہے تو یہ بھی کوئی عجوبہ نہیں۔ سوشل میڈیا نے آج جنم نہیں لیا، یہ تو روایتی میڈیا کے ساتھ ساتھ پھلتا پھولتا رہا ہے۔ جب کوئی حکومت ترکی جیسے
مزید پڑھیے


انا پرستی کا مارا ہوا ایک شخص

اتوار 13 اکتوبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
اک شخص جزیرہ رازوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں اک گھر ہے تنہا یادوں کا اور ہم سب اس میں رہتے ہیں میرا ایک بھائیوں جیسا دوست ایسا بھی ہے جو دوستیوں اور محبتوں میں مجھ سے چار قدم آگے ہے۔ یہ میں نے بارہا عملی طور پر دیکھا ہے کہ وہ جب بھی کہیں بھی میرے ساتھ ہوتا ہے تو لوگوں کا رخ اس کی جانب ہوجاتا ہے۔ یہ بات میرے لئے قابل فخر بن جاتی ہے کہ میرے اس دوست کو لوگ کتنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں ہی نہیں، بیرونی ممالک میں بھی اس کی مقبولیت
مزید پڑھیے


امتیاز راشد بھی اک یاد بن گئے

جمعه 11 اکتوبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
انیس سو ستر میں جب پہلے عام انتخابات ہونے جا رہے تھے، اس وقت میں اس اخبار میں کام کر رہا تھا جو شیخ مجیب الرحمان اور ان کی جماعت،، عوامی لیگ،، کا ترجمان تھا، یہ شعبہ صحافت میں میری پہلی جاب تھی، مغربی پاکستان میں عوامی لیگ کی ،، مقبولیت،، کا یہ عالم تھا کہ بائیں بازو کے گنے چنے دانشوروں کے سوا اس کا کوئی ووٹر دکھائی نہیں دیتا تھا، میں اس زمانے میں شاہ حسین کالج میں پڑھ بھی رہا تھا، میں بلا وجہ شیخ مجیب کے چھ نکات کا حامی تھا، کالج میں اسٹوڈنٹ یونین
مزید پڑھیے


مٹی کے کھلونے اورلنگرخانے

بدھ 09 اکتوبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
مجھے اعتراض مولانا فضل کے آزادی مارچ یا دھرنا پر نہیں، خوف یہ ہے کہ جب ملک بھر سے دینی مدارس کے طالبان سڑکوں پر نکلیں گے تو انہیں واپس بھجوانا مشکل ہوجائے گا، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن والے بھی شاید اسی خدشے کی بنیاد پر مولانا کے ساتھ چلنے یا نہ چلنے کا حتمی فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے، لیکن تازہ ترین صورتحال میں اب مولانا فضل الرحمان کو ان دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کی کسی قسم کی حمایت یا مدد کی ضرورت ہی نہیں رہی، مولانا کو سارا اسلحہ، سارا ڈیزل، خود حکومتی وزراء
مزید پڑھیے


بی بی شہید کے پہلے دور کا ایک واقعہ

اتوار 06 اکتوبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
مولانا فضل الرحمان نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے تحفظات کے باوجود بالآخر آزادی مارچ اور دھرنا کی تاریخ کا اعلان کر ہی دیا، اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیاں اب کمرہ امتحان میں جا بیٹھی ہیں۔ بلاول بھٹو اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ مولانا کے احتجاج میں تو شریک ہوں گے لیکن دھرنے کا حصہ نہیں بنیں گے۔ ن لیگ کے صدر شہباز شریف کی کمر میں پھر درد نکل آیا ہے۔ سنا جا رہا ہے کہ نواز شریف مولانا کا ساتھ دینے کا حکم صادر کر چکے ہیں۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق
مزید پڑھیے