BN

خاور نعیم ہاشمی



چیف جسٹس کو توسیع کیوں نہیں؟


جو لوگ کہتے تھے وزیر اعظم عمران خان دسمبر میں نظر نہیں آئیں گے اب انہوں نے انہیں مارچ2020تک کی ،، توسیع ،، دیدی ہے لیکن میرے خیال میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ان کے اقتدار کو کم از کم ایک سال کے لئے تو دوام بخش دیا ہے، اب عمران خان پر منحصر ہے کہ وہ خود کہاں تک ٹھہرتے ہیں، اگر انہوں نے اپنی سیاست اور حکومت کا محور اپنی موجودہ ٹیم کو ہی بنائے رکھا تو کوئی بڑے سے بڑا نجومی بھی کوئی پیش گوئی کرنے سے قاصر رہے گا، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے
اتوار 01 دسمبر 2019ء

ابھی بات ختم نہیں ہوئی

جمعه 29 نومبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
پاکستانی سیاست کی تاریخ دھماکہ خیز واقعات سے بھری پڑی ہے لیکن جو دھماکے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کر دیے ان کی گونج کبھی ختم نہ ہوگی۔ سوچا تھا اب جمہوریت پٹری پر چڑھ جائے گی۔ 1977ء کے بعد اب تک جمہوریت کا چہرہ داغ دار ہے، اس کی سرجری کی ضرورت تھی، چیف جسٹس اس کے لئے آخری حد تک گئے۔ میرا کیا ہے میں تو دو اور دو چار والا آدمی ہوں اور یہ اصول جذباتیت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ پاکستان میں کبھی دو اور دو چار نہیں ہوتے۔ بدھ کی رات
مزید پڑھیے


اب پچھتائے کیا ہوت

اتوار 24 نومبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
وزیر اعظم عمران خان چلتے پھرتے نواز شریف کو ٹی وی اسکرینوں پر دیکھ کر بہت پریشان ہیں اور ہماری پریشانی یہ ہے کہ ہم نے نواز شریف اور ان کے خاندان کی بجائے وزیر اعظم پر اعتبار کیا، مریم اورنگ زیب کی نواز شریف کی صحت کے بارے میں روزانہ بریفنگ ہمیں متاثر نہیں کر رہی تھی ہمیں تو نواز شریف کی بیماری کی سنگینی کا اعتبار اس وقت آیا تھا جب خود وزیر اعظم نے اس کی مسلسل تصدیق کی اور اعلان کیا کہ نواز شریف کا علاج ان ڈاکٹروں اور اس اسپتال سے کرایا جائے جہاں
مزید پڑھیے


سب کچھ بدلنے والا ہے

جمعه 22 نومبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
پچھلے کالم میں ہم نے لکھا تھا ،، پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیاں بشمول حلیف جماعتوں کے،سب کی سب پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار کے خلاف متحد ہیں، آج ہم یہ امکان غالب ظاہر کر رہے ہیں کہ اب کوئی’’ دوسرا‘‘ بھی عمران خان کے ساتھ نہیں،،،جن کے بارے میں ایک پیج پر ہونے دعوے کئے جاتے تھے وہ بھی اب عوام کی حالت زار کی جانب دیکھ رہے ہوں گے، وزیر اعظم سوا سال تک جنہیں لٹکانے کے دعوے کرتے رہے وہ بھی بحفاظت ان کی پہنچ سے دور جا چکے، رہی بات آصف زرداری کی تو
مزید پڑھیے


بالآخر دونوں جیت گئے

اتوار 17 نومبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
لاہور ہائی کورٹ کے دو معزز ججوں نے آخرکار بیمار نوازشریف کے علاج کے لئے باہر جانے کا مسئلہ انتہائی احسن طریقے سے حل کر دیا اور پھر فیصلہ آ گیا۔ وفاق کے وکلاء کی طرف سے کچھ اعتراضات کئے گئے جنہیں عدالت خاطر میں نہ لائی۔ اب نواز شریف چار ہفتوں کیلئے علاج کرا سکیں گے اور ضرورت پڑی تو اس میں توسیع ہو سکے گی۔ شہباز شریف کی درخواست پر سماعت شروع ہوتے ہی عدالت نے ریمارکس دیے ،، ہم یہ معاملہ دونوں فریقوں کی رضامندی سے حل کرنا چاہتے ہیں،، اور پھر ایسے ہی ہوا، فیڈریشن نے
مزید پڑھیے




نواز شریف پر پھر ڈیل کا الزام

اتوار 10 نومبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
میرا یقین تو اب تک کامل ہے کہ نواز شریف واقعی علیل ہیں اور ان کی بیماری اس خطرناک موڑ تک پہنچی ہوئی ہے جہاں،، کچھ ،،بھی ہو جایا کرتا ہے، لیکن ,,میرے اس یقین کا کسی ڈیل کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے، بتایا جا رہا ہے کہ میاں صاحب آج شہباز شریف کے ساتھ لندن روانہ ہو رہے ہیں، میں میاں صاحب کی علالت اور ان کی بیرون ملک روانگی کو علیحدہ علیحدہ منظر میں دیکھتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ وزیر اعظم عمران خان نے انہیں خود باہر چلے جانے کی ،، اجازت،،
مزید پڑھیے


اہل صحافت کیا کیا گل کھلاتے رہے

جمعه 08 نومبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
پاکستان میں آج سیاست اور صحافت جس نازک موڑ پر کھڑی ہیں یہ کئی نام نہاد سیاستدانوں اور نادان صحافیوں کا نامہ اعمال ہے۔ یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہو گیا، اس تباہی کے پیچھے ایک طویل’’جدوجہد‘‘ ہے۔ طے شدہ منصوبوں اور حادثاتی طور پر صحافی اور سیاستدان بن جانے والے افراد نے تباہیوں اور بربادیوں کی تاریخ رقم کی ہے اور یہ کہانی ہے کم از کم نصف صدی کی اور میں سمجھتا ہوں کہ صحافت اور سیاست کے اصل منصب کی بحالی کے لئے اگر آج جدووجہد شروع کرنے کی کوشش بھی کی جائے تو یہ
مزید پڑھیے


دھرنے کومحفوظ راستے کی ضرورت

اتوار 03 نومبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
یہ کالم میں دو دن پہلے جمعہ کی رات اس وقت لکھ رہا ہوں جب مولانا فضل الرحمان کا دھرنا عروج پر دکھائی دے رہا ہے، بے شک وہاں مدرسوں کے طلباء کا جم غفیر ہے، میں ذاتی طور پر اپنے رسک پر وہاں موجود لوگوں کی تعداد کو ایک لاکھ سے سوا لاکھ تک تصور کر رہا ہوں،چاہے وہاں ساٹھ ستر ہزار سے بھی کم لوگ ہوں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو چھوڑئیے، کراچی سے اسلام آباد تک کے اس سفر میں کوئی ایک عام شہری بھی مولانا کا شریک سفر نہ ہوا، نجانے کیوں
مزید پڑھیے


مولانا کی جیت اور خان کی ٹیم

جمعه 01 نومبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں بظاہر ’’سبز انقلاب‘‘برپا ہو چکا ہے، اگر ن لیگ ’’ ڈنڈی‘‘نہ مارتی تو اس مارچ کا رنگ مخصوص نہ ہوتا، مولانا کا امن مارچ اسلام آباد پہنچنے سے ہی پہلے کامیاب ہو چکا تھا۔ اب وزیر اعظم سے استعفیٰ مانگنے یا ان کے استعفیٰ دینے کی بھی ضرورت نہیں رہی،،، کیونکہ مطلوبہ نتائج برآمد ہو چکے ہیں، مطلوبہ مقاصد حاصل کر لئے گئے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی تو اپنی حکمت عملی کے تحت اس کھیل میں شریک ہی نہیں رہی لیکن ن لیگ اپنے صدر شہباز شریف کی دو رخی حکمت عملی سے
مزید پڑھیے


میاں صاحب اورخون خاک نشیناں

اتوار 27 اکتوبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
نواز شریف کو العزیزیہ کیس میں سات سال جیل کی سزا قصہ پارینہ ، شدید بیمار میاں صاحب کی اگلی منزل لندن ہی ہے، خدا انہیں صحت یاب کرے، لڑنے اور بچنے کے سارے،، سلیقے،، خوب آزمائے اور بالآخر فتح یاب ہوئے، ویسے اس ساری ،، جدوجہد ،،میں کریڈٹ شہباز شریف کو نہ دینا بد دیانتی ہوگی، بیماری منجانب اللہ ہوتی ہے اور اسے انسانی جان کا صدقہ قرار دیا گیا ہے، بلاؤں کو ٹالتی ہے، مصائب اور مشکلات کا راستہ روکتی ہے، ہمارے بیس اکتوبر کو شائع ہونے والے کالم کا عنوان تھا،، نواز شریف رہا ہو رہے ہیں،
مزید پڑھیے