BN

ذوالفقار چودھری


ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد


ریاستوں کے تعلقات جذبات پر نہیں باہمی مفادات پر استوار ہوتے ہیں۔ سعودی عرب دنیا کی واحد ریاست ہے جس کے ساتھ مسلمانان عالم کی جذباتی وابستگی ہے۔ پاکستانی قوم کا تو سعودی عرب سے محبت نہیں عشق کا رشتہ ہے۔ یہ مداراتیں یک طرفہ بھی نہیں۔ سعودی عرب ہر مشکل وقت میں پاکستان کا معاشی اور سفارتی سہارا بنتا رہا ہے تو پاکستان نے بھی ارض مقدس کے تحفظ کے عزم کا ہمیشہ اعادہ ہی نہیں ،عملی مظاہرہ بھی کیا ہے۔ دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات کی سات دہائیوں پر مبنی تاریخ ہے مگر پھر یکایک کیا ہوا کہ
اتوار 09  اگست 2020ء

بیوروکریسی:قریب آئے تو چہرے بدل گئے!

اتوار 26 جولائی 2020ء
ذوالفقار چودھری
گزشتہ کالم میں یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی کہ فوج کی سیاسی معاملات میں مداخلت اقتدار کی خواہش تھی یا مجبوری۔ حقیقت منکشف ہو چکی کہ پاکستان کے پہلے دو وزرائے اعظم خواجہ ناظم الدین اور محمد علی بوگرہ کو 1951-55ء کے عرصے میں گھر بھیجنے والی فوج نہیں بلکہ بیورو کریٹ غلام محمد تھا۔ دوسرے بیورو کریٹ سکندر مرزا نے چار وزرائے اعظم چودھری محمد علی‘ حسین شہید سہروردی‘ آئی آئی چندریگر اور فیروز خان کی حکومتیں چلتی کیں ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی بیورو کریسی اس قدر طاقتور کیوں ہے کہ جب چاہے
مزید پڑھیے


فوج پر الزام دھرنے کا فیشن

اتوار 19 جولائی 2020ء
ذوالفقار چودھری
اجتماعی شعور کی نابالیدگی کے باعث عوامی سوچ ان سوکھے پتوں کے ماند ہوتی جن کو پراپیگنڈہ کا طوفان من چاہی سمت میں اڑاتا لیے پھرتا ہے۔ پاکستان کو 74سال بعد بھی اسی قسم کی صورتحال کا سامنا ہے۔ میڈیا پراپیگنڈا مہم نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایک تاثر پیدا کر دیا ہے، سیاسی اشرافیہ یہاں تک کہ دانشور حلقوں میں بھی سیاسی ناکامیوں کا الزام عسکری اداروں پر دھرنے کا فیشن بن چکا ہے۔ حق گوئی کا عالم یہ ہے کہ بڑے سے بڑا سیاستدان اور دانشور کھل کر بات کرنے کے بجائے مقتدر حلقے‘بحرانوں اور ناکامیوں کا
مزید پڑھیے


دیکھئے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض

اتوار 12 جولائی 2020ء
ذوالفقار چودھری
جمہوری نظام میں عوام کی حمایت اور اعتماد حکمران کو با اختیار بناتا ہے۔ عمران خان نے احتساب‘ لوٹی ہوئی دولت کی واپسی احتساب‘ ترقی و خوشحالی کے خواب دکھا کر عوام سے ووٹ مانگے۔ صبر جواب دینے لگا تو الیکٹیبلز کو اقتدار کی سیڑھی بنایا پھر بھی بات نہ بنی تو اتحادیوں کی بیساکھیوں کا سہارا لیا۔ اقتدارتو مل گیا مگر عوام کے اعتمادکی طاقت کمزور پڑنے سے اختیار کی ڈور ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ بھان متی کے حکومتی کنبے میں 38وزیر مشیر غیر منتخب ہیں‘ جو منتخب ہو کر آئے ہیں ان کو تحریک انصاف کے منشور اور
مزید پڑھیے


5 جولائی اور جمہوریت کے رخسار کی سرخی

اتوار 05 جولائی 2020ء
ذوالفقار چودھری
تاریخ مستقبل کا آئینہ بھی ہوا کرتی ہے۔ ماضی کے چراغوں کی روشنی میں قومیں اس میں آنے والے کل کاعکس دیکھتی ہیں۔ 5جولائی 1977ء پاکستان کی تاریخ کا وہ دن ہے جس کے اسباب و محرکات میں آج کے مسائل اور چیلنجز کو جانا اور سمجھا جا سکتا ہے۔ کوئی بھی صاحب شعور سابق آمر جنرل ضیاء الحق کے 5جولائی کے ’’کو‘‘ کی تائید نہیں کر سکتا۔ مگر یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ وہ کون سے سیاسی حالات اور اسباب تھے جنہوں نے جنرل ضیاء الحق کو 5جولائی کے غیر آئینی اور انتہائی اقدام کا حوصلہ دیا۔ اس
مزید پڑھیے



عشق اگر اشک بہانے سے امر ہو جائے…

اتوار 28 جون 2020ء
ذوالفقار چودھری
قومیں مشکل سے مشکل حالات سے ابھر کر ترقی و عروج کی منزل پا سکتی ہیں‘ شرط صرف یہ ہے کہ ان کو اپنے تنزل کا ادراک اور اصلاح احوال کی فکر ہو۔ عمران خان 126دن تک ڈی چوک میں پاکستان کو درپیش مسائل اور ان کے اسباب ہی نہیں حل حل بھی بتاتے رہے پاکستانی قوم کو بھی مسائل کا احساس اور لیڈروں کی تن آسانیوں اور تساہل پسندی کا بخوبی علم تھا اسی لئے 2018ء میں اصلاح احوال کے ایجنڈے پر پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دے کر عمران خان کے ہاتھ میں اپنے مقدر اور پاکستان کے
مزید پڑھیے


قسطوں میں خودکشی کا مزا ہم سے پوچھئے

اتوار 21 جون 2020ء
ذوالفقار چودھری
مایوسی گناہ ہے مگر زمینی حقائق سے چشم پوشی خودکشی بھی۔افراد ہوں یا اقوام امید ان کے لئے زندگی کی علامت ہوا کرتی ہے۔ہماری تو امیدیں باندھنے کی بھی ایک تاریخ ہے۔ پہلی بار تحریک پاکستان کے دوران اسلامی‘خود مختار اور آزاد وطن کی امیدیں باندھیں جو ہماری سیاسی ناپختگی‘ اقتدار کے لالچ اور آمرانہ و حاکمانہ سوچ سے چکنا چور ہوگئیں۔ دوسری بار ذوالفقار بھٹو نے پاکستانیوں کی آنکھوں میں اسلامی سوشلزم کے نام پر روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے کی صورت میں سماجی مساوات کے خواب سجائے جو وطن کے دولخت ہونے اور استحصالی نظام کے باعث
مزید پڑھیے


کیا کیا فتنے سر پہ اپنے لاتا ہے معشوق اپنا

اتوار 14 جون 2020ء
ذوالفقار چودھری
سعادت حسن منٹو نے کہا تھا کہ میرے شہر کے معززین کو میرے شہر کی طوائفوں سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ مگر وطن عزیز کے سیاستدانوں کا معاملہ بدقسمتی سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ ان کے بارے میں جتنا عوام جانتے ہیں اتنا تو شاید وہ خود بھی اپنے بارے میں نہ جانتے ہوں مرزا غالب کے بقول : عاشق کا مقدر ہے عاشق ناتواں ہے میر کی طرح کیا کیا فتنے سر پہ اپنے لاتا ہے معشوق اپنا آج کل پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے سر پہ سنتھیا رچی ہی فتنے پہ فتنہ لاتی ہیں کہ رحمان ملک
مزید پڑھیے


کرپشن کی زنبیل طلسمات!

اتوار 07 جون 2020ء
ذوالفقار چودھری
پروفیسررسول بخش رئیس کے مطابق سیاست کا ہزاروں برس کاپہلا اور آخری سبق مفاد ہے! مگر تیسری دنیا کی جمہوریتوں میں یہ ذاتی مفادات اور لوٹ مار کا دھندہ بن کر رہ گئی ہے۔ وطن عزیز میں سیاسی اشرافیہ سیاسی تلوار کے زور پر قومی وسائل کو ہڑپ کرتی ہے اور موقع آنے پر سیاست کو ڈھال بنا کر سیاسی انتقام کی آڑ میں پناہ بھی تلاش کرتی ہے گویا بقول شاعر: ایک زنبیل طلسمات ہے اسباب سفر میں ایک پیمانہ ہے مجھ پاس جو بھرتا ہی نہیں قومی احتساب بیورو نے اس زنبیل طلسمات میں جھانکنے کی کوشش کی تو سیاسی
مزید پڑھیے


کورونا ’’کو رونا‘‘ چھوڑیے مرتے مریضوں کا سوچئے!!

اتوار 31 مئی 2020ء
ذوالفقار چودھری
موت زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ انسان سہل اور آبرومندانہ موت کی آرزو کرتا ہے۔پاکستان میں مریضوں کی لاچاری کا یہ عالم کہ کوئی بھی سرکاری ہسپتال ایسا نہ تھا جہاں مریضوں کو ایمرجنسی میں داخلے کے علاوہ چھ چھ ماہ کی داخلے کی تاریخ نہ ملتی ہو۔امیر تو نجی ہسپتالوں میں سرکاری ڈاکٹروں سے علاج کروا لیتے اور غریب داخلے کی باری یا موت کا انتظار کرتے۔ اب یہ اس کا نصیب ہے کہ پہلے جو بھی آ جائے، لیکن پھر بھی ان بے کسوں اللہ کے بعد ڈاکٹر ہی آخری امید تھے۔دسمبر 2019ء میں شاہدرہ کی
مزید پڑھیے