BN

ذوالفقار چودھری


عارف ہمیشہ مست مے ذات چاہئے


جمہوریت محض انتخابات کا ڈھونگ رچا کر حکومتیں بدلنے کا نہیں بلکہ اجتماعی رویوں میں جمہوری انداز فکر اپنانے کا نام ہے۔رویے عادات و اطوار کا مجموعہ ہوتے ہیں جیسا کہ پنجابی میں مشہور ہے کہ وارث شاہ نہ عادتاں جاندیاں نے،بھاویں کٹیے پوریاں پوریاں وو‘۔ اقوام کے اسی چلن کو بھانپتے ہوئے علامہ اقبال نے ا س کا اشارہ’ آئین نوسے ڈرنا ، طرز کہن پے اڑنا ‘کے طور پر کیا ہے۔ جیسا کہ آج ایک صدی بعد بھی ہم الیکشن میں جدید ٹیکنالوجی’ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کو لے کر طرز کہن پے اڑے کھڑے ہیں اور
جمعه 17  ستمبر 2021ء مزید پڑھیے

امریکی انخلا اور بدلتا عالمی منظر نامہ

جمعه 10  ستمبر 2021ء
ذوالفقار چودھری
قوموں کا عروج ہو یا زوال یہ مہینوں برسوں نہیں دہائیوں اور صدیوں کے فیصلوں پر محیط بتدریج سلسلہ ہوتا ہے۔کوئی قوم یا ریاست کسی ایک کامیابی سے عروج پاتی ہے نہ ہی محض ایک ناکامی سے تباہ ہوتی ہے۔ یونان،روم، بغداد کی سلطنتوں کے عروج و زوال کی کہانی تاریخ کا سبق ہے۔برطانیہ نے لگ بھگ دو سو سال تجارتی راستوں اور سمندری گزرگاہوں کوکنٹرول کر کے اپنا تسلط برقرار رکھا۔ برطانیہ میدان میں جنگ عظیم تو جیت گیا مگر مذاکرات کی میز پر امریکہ سے پاور پالٹیکس کی بازی ہار گیا۔امریکہ نے تجارتی راستوں اور انڈسٹریل سبقت
مزید پڑھیے


مجھی کو پردہ ہستی میں دے رہا ہے فریب

جمعه 03  ستمبر 2021ء
ذوالفقار چودھری
تھامس جفرسن نے اچھی حکومت کا واحد مقصد عوام کی ترقی و خوشحالی اور جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا بتایا ہے۔کسی بھی ملک کی ترقی کا معیار بھی اس کے عوام کے معیار زندگی سے لگایا جاتا ہے۔ تحریک انصاف میرٹ، شفافیت اور بدعنوانی کے خاتمے کے ذریعے ملک کی تقدیر بدلنے کا دعویٰ کرتی ہے۔حکومت 18اگست 2021ء کو اپنے اقتدار کے تین سال مکمل کر چکی ۔حکومت نے تین سال کے دوران اپنی کارکردگی کا پورے ملک میں بھرپور ڈھنڈورا پیٹا اور وزیراعظم کا تقریب سے خطاب ملک بھر میں بڑی سکرینز کے ذریعے پاکستانیوں کو
مزید پڑھیے


جینا ہر دور میں عورت کا خطا ہے لوگو!

جمعه 27  اگست 2021ء
ذوالفقار چودھری
کتاب حق قرآن عظیم نے اقوام کی تباہی کے اسباب میں ایک نشانی اس کے اخلاق کی تباہی بتائی ہے ۔جب کوئی قوم اجتماعی طور پر بدعملی، بدخلقی اور بے راہ روی کا شکار ہو جاتی ہے تو تباہی اس کا مقدر ٹھہرتی ہے ۔ معاشرے کے اخلاقی دیوالیہ پن کی وجوہات کو جاننا سماج کی نیت کو سمجھے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ معاشرہ افراد کا مجموعہ اور فرد کی تربیت خاندان،عصری حا لات و رجحانات اور مدارس کے تحت ہوتی ہے۔ جب اخلاقی جرم بندے اور اللہ کے دائرے سے نکل کر دوسرے فرد کی حدود میں داخل
مزید پڑھیے


زمین کروٹ بدلنا چاہتی ہے!!

جمعه 13  اگست 2021ء
ذوالفقار چودھری
سیاست اختیار اور اقتدار کا ایسا کھیل ہے جس میں جیت کا انحصار بروقت اوردرست فیصلوں پر ہوتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز اپنے کارکنوں کو انتخابات کی تیاری کرنے اور آئندہ وفاق اور بلوچستان کے علاوہ پنجاب میں بھی جیالوں کی حکومت کا دعویٰ کیا ہے۔ بلاول کے دعوے کو خواہش یا خوش فہمی کہا جا سکتا تھا اگر بلاول کے اعلان کے بعد فیصل واوڈا بجٹ بعد انتخاب کے اعلان کرنے کی بات نہ کر تے۔ بلاول اورفیصل واوڈا کے بیانات کے بعد ایک بات تو حتمی طور پر کہی
مزید پڑھیے



خوف تھا جس کا کل، وہی ہو گیا

جمعه 06  اگست 2021ء
ذوالفقار چودھری
محسن انسانیت حضرت محمدﷺ نے غریب کے لئے الگ اور امیر کے لئے الگ قانون کو معاشروں کی تباہی کا بڑا سبب بیان فرمایا تھا، سرور کونینؐ کے فرمان کی اس آفاقی سچائی کا ادراک غیر مسلم فلاسفر نے بھی کیا اور کہا کہ’’ جن معاشروں کی اشرافیہ خود کو قانون سے مستثنیٰ خیال کرے ان معاشروں کی تباہی یقینی ہے‘‘۔وزیر اعظم عمران خان قانون کی بالادستی اور امیر، غریب کے لئے ایک قانون کے وعدے اور دعوے کر کے اقتدار کی کرسی تک پہنچے۔عمران خان امارت و غربت کے لئے ایک قانون کا وعدہ کس حد تک
مزید پڑھیے


تم اپنے رنگ میں نہائو ،میں اپنی موج اڑوں

جمعه 16 جولائی 2021ء
ذوالفقار چودھری
کسی درویش نے کہا تھا کہ جب تک راستے سمجھ میں آتے ہیں تب تک واپسی کا وقت آ جاتا ہے عمران خان اپنے اقتدار کے تین سال مکمل کرنے کو ہیں اور واپسی کا وقت قریب ‘ مگر منزل سے کوسوں دور ہیں۔ ایسا نہیں کہ ان کو منزل کا پتہ نہیں تھا منزل کا تعین تو بقول ان کے انہوں نے اپنی جماعت کے قیام کے وقت ہی کر لیا تھا اسی لئے جماعت کا نام تحریک انصاف رکھا تھا، یہ بھی نہیں کہ ان کو راستوں کی سمجھ نہ تھی اسلام آباد کنٹینر پر 128دن وہ قوم
مزید پڑھیے


میڈیکل کے شعبے کو کاروبار بنانے کی سازش

منگل 06 جولائی 2021ء
ذوالفقار چودھری
نیلسن منڈیلا نے سیاستدان اور لیڈر میں یہ فرق بتایا تھا کہ سیاستدان اگلے الیکشن اور لیڈر اگلی نسل کے بارے میں سوچتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے لیڈروں اور سیاستدانوں نے سوچنے کا کام افسر شاہی کے سپرد کر رکھا ہے جبکہ ہمارا بیورو کریٹک سسٹم انگریز نے ہندوستان کے غلاموں پر حکمرانی کرنے کے لئے استوار کیا تھا۔ اسے بدقسمتی کہیے یا سیاسی کج فہمی اور لالچ کہ آزادی کے بعد سیاستدانوں نے بیورو کریسی کو اپنے وقتی اور ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرنا شروع کیا ۔ حکومتی مشینری میں سیاسی مداخلت نے ملک میں
مزید پڑھیے


خطے کو جنگ میں جھونکنے کی امریکی سازش

جمعه 02 جولائی 2021ء
ذوالفقار چودھری
اطالوی سیاسی مفکر اور دانشور میکاولی نے سیاست کا مرکز غلط اور صحیح کے بجائے حقائق اور اہداف کو قرار دیتے ہوئے فلسفیانہ خیالات کے بجائے عملی سیاست اور حقیقت پسندانہ حکمت عملی پر زور دیا ہے۔ ہٹلر کے پروپیگنڈا وزیر گوئبلز کو اس بات پر یقین تھا کہ جھوٹ اعتماد اور تسلسل کے ساتھ بولا جائے تو سچ بن جاتا ہے۔ مغرب میکاولی اور گوئبلز سے بظاہر جتنی بھی نفرت کا ڈھونگ رچائے مگر امریکہ اور اس کے اتحادی آج بھی میکاولی اور گوئبلز کے افکار کے پجاری ہیں۔ امریکی صد جوبائیڈن نے یہ بات ایک بار
مزید پڑھیے


فساد کے دیوتا کا نیا جال

جمعه 25 جون 2021ء
ذوالفقار چودھری
قدیم یونان کا شاعرہومر اندھاسہی مگر صاحب بصیرت ضرورتھا۔ اس نے حکمرانوں کی ہوس اور لالچ کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کو باطن کی آنکھ سے دیکھ لیا تھا۔ ہومر نے یورپ کی حسین ترین عورت ہیلن کے لئے دس سال تک لڑی جانے والی ٹرائے کی جنگ کی تباہی کو اپنی شہرہ آفاق رزمیہ نظموں ایلیڈ اور اوڈیسی کی صورت میں اقوام عالم کے سبق کے لئے محفوظ کر دیا۔33سو سال کے شعوری ارتقا کے بعد آج بھی زمین کے خدا لالچ اور ہوس کے غلام ہیں ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ دنیا کے نقشے
مزید پڑھیے








اہم خبریں