BN

ذوالفقار چودھری


ہمالہ کے چشمے ابلنے لگے


اقتدار اور اختیار کی خواہش انسانی جبلت ہے۔ افراد سے معاشرہ اور معاشرے سے قوم بنتی ہے۔ قومیں مہینوں برسوں میں نہیں صدیوں میں بنتی اور بکھرتی ہیں۔ اٹھارہویں صدی میں امریکہ میں جمہوری اور یورپ میں نو آبادیاتی نظام تشکیل پانا شروع ہوا۔ انیسویں صدی میں امریکہ میں جمہوری اور یورپ میں نو آبادیاتی نظام مضبوط ہوا ۔امریکہ اور یورپ نئے عالمی نظام میں حریف بھی تھے اور حلیف بھی۔ بیسویں صدی میں جس برطانیہ کے راج میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا اس برطانیہ کی مسلمانوں کے پٹرول کے ذخائر پر قبضے کی خواہش نے دنیا
اتوار 23  اگست 2020ء

تحریک انصاف کے دو سال

جمعرات 20  اگست 2020ء
ذوالفقار چودھری
تحریک انصاف اپنے اقتدار کے دو سال مکمل کر چکی ۔ ان دو برسوں میں عوام نے تو مہنگائی اور بے روزگاری کا جو جبر بھگتا سو بھگتا خود حکومت پر بھی یہ 24ماہ خاصے بھاری رہے۔ عمران خان کو اس عرصے میں چومکھی لڑنا پڑی۔ ان کومعاشی بدحالی اور غیر ملکی قرضوں کی عدم ادائیگی کی صورت میں دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لئے کشکول اٹھانے کے ساتھ بیورو کریسی کے عدم تعاون کا بھی سامنا رہا۔ یہ افسر شاہی کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کا نتیجہ تھا کہ حکومتی رٹ ختم ہو کر رہ گئی
مزید پڑھیے


عالمی سیاست کا بدلتا منظر نامہ

اتوار 16  اگست 2020ء
ذوالفقار چودھری
ریاستیں اپنے مفادات کے انڈے کبھی کسی ایک ملک کی ٹوکری میں نہیں رکھتیں۔ عالمی سیاسی معاملات میں ہمیشہ کچھ لو اور کچھ دو والا معاملہ ہوا کرتا ہے۔ ماضی میں پاکستان نے امریکہ اور چین کے درمیان پل کا کردار ادا کیا اور امریکہ اور چین دونوں کا اتحادی رہا۔ چین سے ہماری دوستی سردگرم حالات، ہر آزمائش پر پورا اترتی رہی تو امریکہ سے تعلقات میں بھی وقت اور ضرورت کے لحاظ سے تغیر کے شکار رہے ۔چین نے پاکستان کے لئے سی پیک کے ذریعے کثیر سرمایہ کاری کی، ترقی و خوشحالی کے دروازے
مزید پڑھیے


ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد

اتوار 09  اگست 2020ء
ذوالفقار چودھری
ریاستوں کے تعلقات جذبات پر نہیں باہمی مفادات پر استوار ہوتے ہیں۔ سعودی عرب دنیا کی واحد ریاست ہے جس کے ساتھ مسلمانان عالم کی جذباتی وابستگی ہے۔ پاکستانی قوم کا تو سعودی عرب سے محبت نہیں عشق کا رشتہ ہے۔ یہ مداراتیں یک طرفہ بھی نہیں۔ سعودی عرب ہر مشکل وقت میں پاکستان کا معاشی اور سفارتی سہارا بنتا رہا ہے تو پاکستان نے بھی ارض مقدس کے تحفظ کے عزم کا ہمیشہ اعادہ ہی نہیں ،عملی مظاہرہ بھی کیا ہے۔ دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات کی سات دہائیوں پر مبنی تاریخ ہے مگر پھر یکایک کیا ہوا کہ
مزید پڑھیے


بیوروکریسی:قریب آئے تو چہرے بدل گئے!

اتوار 26 جولائی 2020ء
ذوالفقار چودھری
گزشتہ کالم میں یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی کہ فوج کی سیاسی معاملات میں مداخلت اقتدار کی خواہش تھی یا مجبوری۔ حقیقت منکشف ہو چکی کہ پاکستان کے پہلے دو وزرائے اعظم خواجہ ناظم الدین اور محمد علی بوگرہ کو 1951-55ء کے عرصے میں گھر بھیجنے والی فوج نہیں بلکہ بیورو کریٹ غلام محمد تھا۔ دوسرے بیورو کریٹ سکندر مرزا نے چار وزرائے اعظم چودھری محمد علی‘ حسین شہید سہروردی‘ آئی آئی چندریگر اور فیروز خان کی حکومتیں چلتی کیں ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی بیورو کریسی اس قدر طاقتور کیوں ہے کہ جب چاہے
مزید پڑھیے



فوج پر الزام دھرنے کا فیشن

اتوار 19 جولائی 2020ء
ذوالفقار چودھری
اجتماعی شعور کی نابالیدگی کے باعث عوامی سوچ ان سوکھے پتوں کے ماند ہوتی جن کو پراپیگنڈہ کا طوفان من چاہی سمت میں اڑاتا لیے پھرتا ہے۔ پاکستان کو 74سال بعد بھی اسی قسم کی صورتحال کا سامنا ہے۔ میڈیا پراپیگنڈا مہم نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایک تاثر پیدا کر دیا ہے، سیاسی اشرافیہ یہاں تک کہ دانشور حلقوں میں بھی سیاسی ناکامیوں کا الزام عسکری اداروں پر دھرنے کا فیشن بن چکا ہے۔ حق گوئی کا عالم یہ ہے کہ بڑے سے بڑا سیاستدان اور دانشور کھل کر بات کرنے کے بجائے مقتدر حلقے‘بحرانوں اور ناکامیوں کا
مزید پڑھیے


دیکھئے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض

اتوار 12 جولائی 2020ء
ذوالفقار چودھری
جمہوری نظام میں عوام کی حمایت اور اعتماد حکمران کو با اختیار بناتا ہے۔ عمران خان نے احتساب‘ لوٹی ہوئی دولت کی واپسی احتساب‘ ترقی و خوشحالی کے خواب دکھا کر عوام سے ووٹ مانگے۔ صبر جواب دینے لگا تو الیکٹیبلز کو اقتدار کی سیڑھی بنایا پھر بھی بات نہ بنی تو اتحادیوں کی بیساکھیوں کا سہارا لیا۔ اقتدارتو مل گیا مگر عوام کے اعتمادکی طاقت کمزور پڑنے سے اختیار کی ڈور ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ بھان متی کے حکومتی کنبے میں 38وزیر مشیر غیر منتخب ہیں‘ جو منتخب ہو کر آئے ہیں ان کو تحریک انصاف کے منشور اور
مزید پڑھیے


5 جولائی اور جمہوریت کے رخسار کی سرخی

اتوار 05 جولائی 2020ء
ذوالفقار چودھری
تاریخ مستقبل کا آئینہ بھی ہوا کرتی ہے۔ ماضی کے چراغوں کی روشنی میں قومیں اس میں آنے والے کل کاعکس دیکھتی ہیں۔ 5جولائی 1977ء پاکستان کی تاریخ کا وہ دن ہے جس کے اسباب و محرکات میں آج کے مسائل اور چیلنجز کو جانا اور سمجھا جا سکتا ہے۔ کوئی بھی صاحب شعور سابق آمر جنرل ضیاء الحق کے 5جولائی کے ’’کو‘‘ کی تائید نہیں کر سکتا۔ مگر یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ وہ کون سے سیاسی حالات اور اسباب تھے جنہوں نے جنرل ضیاء الحق کو 5جولائی کے غیر آئینی اور انتہائی اقدام کا حوصلہ دیا۔ اس
مزید پڑھیے


عشق اگر اشک بہانے سے امر ہو جائے…

اتوار 28 جون 2020ء
ذوالفقار چودھری
قومیں مشکل سے مشکل حالات سے ابھر کر ترقی و عروج کی منزل پا سکتی ہیں‘ شرط صرف یہ ہے کہ ان کو اپنے تنزل کا ادراک اور اصلاح احوال کی فکر ہو۔ عمران خان 126دن تک ڈی چوک میں پاکستان کو درپیش مسائل اور ان کے اسباب ہی نہیں حل حل بھی بتاتے رہے پاکستانی قوم کو بھی مسائل کا احساس اور لیڈروں کی تن آسانیوں اور تساہل پسندی کا بخوبی علم تھا اسی لئے 2018ء میں اصلاح احوال کے ایجنڈے پر پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دے کر عمران خان کے ہاتھ میں اپنے مقدر اور پاکستان کے
مزید پڑھیے


قسطوں میں خودکشی کا مزا ہم سے پوچھئے

اتوار 21 جون 2020ء
ذوالفقار چودھری
مایوسی گناہ ہے مگر زمینی حقائق سے چشم پوشی خودکشی بھی۔افراد ہوں یا اقوام امید ان کے لئے زندگی کی علامت ہوا کرتی ہے۔ہماری تو امیدیں باندھنے کی بھی ایک تاریخ ہے۔ پہلی بار تحریک پاکستان کے دوران اسلامی‘خود مختار اور آزاد وطن کی امیدیں باندھیں جو ہماری سیاسی ناپختگی‘ اقتدار کے لالچ اور آمرانہ و حاکمانہ سوچ سے چکنا چور ہوگئیں۔ دوسری بار ذوالفقار بھٹو نے پاکستانیوں کی آنکھوں میں اسلامی سوشلزم کے نام پر روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے کی صورت میں سماجی مساوات کے خواب سجائے جو وطن کے دولخت ہونے اور استحصالی نظام کے باعث
مزید پڑھیے