BN

ذوالفقار چودھری


قسطوں میں خودکشی کا مزا ہم سے پوچھئے


مایوسی گناہ ہے مگر زمینی حقائق سے چشم پوشی خودکشی بھی۔افراد ہوں یا اقوام امید ان کے لئے زندگی کی علامت ہوا کرتی ہے۔ہماری تو امیدیں باندھنے کی بھی ایک تاریخ ہے۔ پہلی بار تحریک پاکستان کے دوران اسلامی‘خود مختار اور آزاد وطن کی امیدیں باندھیں جو ہماری سیاسی ناپختگی‘ اقتدار کے لالچ اور آمرانہ و حاکمانہ سوچ سے چکنا چور ہوگئیں۔ دوسری بار ذوالفقار بھٹو نے پاکستانیوں کی آنکھوں میں اسلامی سوشلزم کے نام پر روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے کی صورت میں سماجی مساوات کے خواب سجائے جو وطن کے دولخت ہونے اور استحصالی نظام کے باعث
اتوار 21 جون 2020ء

کیا کیا فتنے سر پہ اپنے لاتا ہے معشوق اپنا

اتوار 14 جون 2020ء
ذوالفقار چودھری
سعادت حسن منٹو نے کہا تھا کہ میرے شہر کے معززین کو میرے شہر کی طوائفوں سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ مگر وطن عزیز کے سیاستدانوں کا معاملہ بدقسمتی سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ ان کے بارے میں جتنا عوام جانتے ہیں اتنا تو شاید وہ خود بھی اپنے بارے میں نہ جانتے ہوں مرزا غالب کے بقول : عاشق کا مقدر ہے عاشق ناتواں ہے میر کی طرح کیا کیا فتنے سر پہ اپنے لاتا ہے معشوق اپنا آج کل پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے سر پہ سنتھیا رچی ہی فتنے پہ فتنہ لاتی ہیں کہ رحمان ملک
مزید پڑھیے


کرپشن کی زنبیل طلسمات!

اتوار 07 جون 2020ء
ذوالفقار چودھری
پروفیسررسول بخش رئیس کے مطابق سیاست کا ہزاروں برس کاپہلا اور آخری سبق مفاد ہے! مگر تیسری دنیا کی جمہوریتوں میں یہ ذاتی مفادات اور لوٹ مار کا دھندہ بن کر رہ گئی ہے۔ وطن عزیز میں سیاسی اشرافیہ سیاسی تلوار کے زور پر قومی وسائل کو ہڑپ کرتی ہے اور موقع آنے پر سیاست کو ڈھال بنا کر سیاسی انتقام کی آڑ میں پناہ بھی تلاش کرتی ہے گویا بقول شاعر: ایک زنبیل طلسمات ہے اسباب سفر میں ایک پیمانہ ہے مجھ پاس جو بھرتا ہی نہیں قومی احتساب بیورو نے اس زنبیل طلسمات میں جھانکنے کی کوشش کی تو سیاسی
مزید پڑھیے


کورونا ’’کو رونا‘‘ چھوڑیے مرتے مریضوں کا سوچئے!!

اتوار 31 مئی 2020ء
ذوالفقار چودھری
موت زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ انسان سہل اور آبرومندانہ موت کی آرزو کرتا ہے۔پاکستان میں مریضوں کی لاچاری کا یہ عالم کہ کوئی بھی سرکاری ہسپتال ایسا نہ تھا جہاں مریضوں کو ایمرجنسی میں داخلے کے علاوہ چھ چھ ماہ کی داخلے کی تاریخ نہ ملتی ہو۔امیر تو نجی ہسپتالوں میں سرکاری ڈاکٹروں سے علاج کروا لیتے اور غریب داخلے کی باری یا موت کا انتظار کرتے۔ اب یہ اس کا نصیب ہے کہ پہلے جو بھی آ جائے، لیکن پھر بھی ان بے کسوں اللہ کے بعد ڈاکٹر ہی آخری امید تھے۔دسمبر 2019ء میں شاہدرہ کی
مزید پڑھیے


میں روز موت کے منجدھار سے نکلتا ہوں

اتوار 24 مئی 2020ء
ذوالفقار چودھری
حضرت علیؓ کا قول ہے کہ کفر کے ساتھ معاشرہ زندہ رہ سکتا ہے ظلم کے ساتھ نہیں۔ ہمارا المیہ مگر یہ ہے کہ یہاں ظالم کا کوئی چہرہ نہیں معاشرتی بے حسی نے آنکھوں کا نور اور اجتماعی شعور چھین لیا ہے ۔مظفر گڑھ کے نذیر کے گھر پانچ دن فاقے رہے معصوم بچے پورے پانچ دن پانی سے روزہ رکھتے اور کھولتے رہے کسی کو احساس نہ ہوا! ایسا بھی نہیں کہ نذیر کسی جنگل یا صحرا میں انسانی بستیوں سے دور بھوک سے لڑ رہا تھا وہ انسانوں کے اسی بے حس جنگل کا باسی تھا۔اس کے
مزید پڑھیے



القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا

جمعرات 21 مئی 2020ء
ذوالفقار چودھری
گزشتہ اتوار کو شائع ہونے والے کالم’’ بے تیغ لڑنے والے مجاہدوں کی بپتا‘‘ پر شیخ زید ہسپتال لاہور اور نشتر ہسپتال ملتان کی ینگ نرسز کی صدور کے کمنٹس میں یہ گلہ تھا کہ آپ نے کورونا کے خلاف لڑنے والی خواتین کو اپنی تحریر میں نظرانداز کر کے زیادتی کی ہے۔ اس شکایت کے مداوے کے لئے میوہسپتال میں ایک خاتون فارماسسٹ جو حال ہی میں کورونا آئسولیشن میں اپنی ٹرن مکمل کر کے آئی تھیں ان تک پہنچا۔ ان سے چند سوالات کئے پہلا سوال یہ تھا کہ کورونا وارڈ میں ڈیوٹی کرنے کے بعد آپ کا
مزید پڑھیے


بے تیغ لڑنے والوں کی بپتا

اتوار 17 مئی 2020ء
ذوالفقار چودھری
محبت کسی قانون کی پابند نہیں ہوتی یہی اس کی سب سے بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ وطن اور ہم وطنوں کی محبت کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں۔ اسی جذبے کے زیر اثر 12اپریل کو بے تیغ لڑنے والے مجاہد کے عنوان سے انہی صفحات پہ کالم لکھا۔ مضمون شائع ہونے کے بعد دوستوں کی طرف سے واہ واہ کے کمنٹس اور عام قاری کی جانب سے تعریفی اور تنقیدی کلمات بھی معمول کی بات ہے۔ اس لیے کالم کے بعد ایک قاری کی تنقید بھی اس معمول کی نذر ہو گئی۔ ایک ماہ کے بعد گزشتہ روز ڈاکٹر
مزید پڑھیے


خوشی میں ناچنے والوں کا دکھ

اتوار 10 مئی 2020ء
ذوالفقار چودھری
سعادت حسن منٹو بھوک کو دنیا کی تمام لعنتوں کی ماں قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: بھوک گداگری سکھاتی ہے۔ بھوک جرائم کی ترغیب دیتی ہے‘ بھوک عصمت فروشی پر مجبور کرتی ہے۔ بھوک انتہا پسندی کا سبق دیتی ہے اس کا وار بھر پور، اس کا زخم بہت گہرا ہوتا ہے۔ ایک مفلس آدمی کے تئیں سماج کا رویہ کیا ہوتا ہے وہ کس طرح سماجی علیحدگی کا دکھ جھیلتا ہے اس کو پرنم الہ آبادی نے یوں بیان کیا ہے: غریبی جرم ہے ایسا کہ دیکھ کر مجھ کو نگاہیں پھیر کے اپنے پرائے جاتے ہیں اپنوں کے نگاہیں پھیرنے کا
مزید پڑھیے


عثمان بزدار کی کرسی، شہباز شریف کا دانہ اور پرویز الٰہی

جمعرات 07 مئی 2020ء
ذوالفقار چودھری
امید کے کھیت میں امکانات کے بیج بونے کو سیاست کہتے ہیں اور امکانات کی بہتر کاشت اور اپنے مفادکی صورت گیری کرنے والے کو سیاستدان‘ ایسی ہی ایک کوشش چند روز پہلے پاکستان مسلم لیگ کے صدر میاں شہباز شریف نے اپنے ایک خیر اندیش صحافی کے ساتھ دل کے پھپھولے پھوڑ کر کی۔ گزشتہ الیکشن کو یاد کرتے ہوئے پہلا انکشاف تو یہ کیا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے قابل قبول ہیں اسی لئے تو گزشتہ انتخابات سے ایک ماہ قبل طاقتور حلقے ان کو وزیر اعظم بنانے کے لئے ان کے ساتھ مستقبل کی کابینہ کے ارکان
مزید پڑھیے


تحریک انصاف، تبدیلی اور عثمان بزدار

اتوار 03 مئی 2020ء
ذوالفقار چودھری
عمران خان اقتدار کی جس کرسی پر براجمان ہیں یہ ق لیگ ‘متحدہ پاکستان‘ جی ڈی اے اور بلوچستان عوامی پارٹی کی اینٹوں کے سہارے کھڑی ہے۔ کپتان جب بھی تبدیلی کے لئے حرکت میں آتا ہے کرسی کی کوئی اینٹ اپنی جگہ سے سرک جاتی ہے۔ اس ڈانواں ڈول صورتحال میں تحریک انصاف تبدیلی کے جنوں کو وزارتوں اور بیورو کریسی میں تبدیلیاں کر کے ہی ٹھنڈا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اقتدار کے دو سال میں دودرجن وزیروں کے قلمدان تبدیل ہوئے یا پھر وزیر ہی بدل دیا گیا۔ تبدیلیوں کے اس جھکڑ نے سب سے
مزید پڑھیے