BN

ذوالفقار چودھری


کورونا کے بعد کا عالمی منظر نامہ ( 2)


1930ء کی کساد بازاری کی وجہ کورونا ہے تو پھر پہلی اور دوسری جنگ عظیم کو بھی ماضی کے آئینے میں دیکھنا پڑے گا۔دنیا جنگ عظیم پر کیونکر مجبور ہوئی۔ اس وقت عالمی منظر نامے کی بڑی قوتیں کیا کھیل کھیل رہی تھیں۔1898ء میں سلطنت عثمانیہ کے جاسوس سلطان عبدالحمید کو برطانیہ کی ملکہ کے محل سے دستاویزات چوری کر کے لا کر دیتے ہیں جس میں مستقبل کی دنیا کے نقشے ہوتے ہیں نقشوں میں 1921ئمیں سلطنت عثمانیہ کے وجود سے تخلیق ہونے والی ریاستوں کے نقشے بھی نصف صدی پہلے بنا دئیے گئے تھے۔ ماضی
اتوار 26 اپریل 2020ء

کورونا کے بعد کا عالمی منظر نامہ

اتوار 19 اپریل 2020ء
ذوالفقار چودھری
اختیار اور اقتدار کا حصول انسانی جبلت ہے۔ بدترین حالات بھی انسا ن کا دوسروں پر حکمرانی کے جنون ٹھنڈا نہیں پڑتا۔ یہ کھیل صدیوں سے جاری ہے اگر کچھ تبدیل ہوتا ہے تو اقوام عالم کا منظر نامہ اور عالمی بساط پر مہرے اور چالیں۔ آج قرعہ ارض پر موجود لگ بھگ تمام ممالک کو کورونا کے عفریت کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گریتیسنے کہا ہے کہ دینا کو دو عظیم جنگوں کے بعد سے مشکل ترین حالات کا سامنا ہے۔ اعداد و شمار کے لحاظ سے مختلف ممالک کی معاشی صورت حال پر تجزیے
مزید پڑھیے


بے تیغ لڑنے والے مجاہد

اتوار 12 اپریل 2020ء
ذوالفقار چودھری
’’میں اللہ اور یہاں پر موجود تمام لوگوں کے سامنے اس بات کا حلف اٹھاتا ہوں/ اٹھاتی ہوں کہ میں اپنے تمام اساتذہ کو عزت و احترام دوں گا ، دوں گی۔ میں اپنے کام کو پوری ایمانداری اور لگن سے کروں گا‘ کروں گی۔ میری پہلی ترجیح میرے مریض کی صحت ہو گی اس میں کسی بھی مذہب قومیت، نسل یا کسی بھی سیاسی سماجی تحریک کو اپنی ڈیوٹی اور مریض کے درمیان نہیں لائوں گا‘ لائوں گی میں وعدہ کرتا ہوں‘ کرتی ہوں کہ اپنا یہ کام آزادی اور وقار سے سرانجام دوں گا‘ دوں گی ‘‘۔یہ
مزید پڑھیے


وزیر اعلیٰ کے خلاف سازش کون کر رہا ہے!

اتوار 05 اپریل 2020ء
ذوالفقار چودھری
نیلسن منڈیلا نے کہا تھا کہ سیاستدان اگلے الیکشن کا سوچتا ہے اور لیڈر اگلی نسل کا۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے سیاستدانوں کی دوڑ پیٹ سے شروع ہوتی ہے اور پیٹ پر ہی ختم۔ رہے لیڈر تو اگلی نسل کا سوچنا اور دیوار کے پار دیکھنا تو دور کی بات انہیں اپنے ناک تلے بھی دکھائی نہیں دیتا۔ باقی رہی سوچنے کی بات تو یہ کام وطن عزیز میں بیورو کریسی نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے۔ جس کی سوچ یہ ہے کہ سیاستدان نااہل مگر جمہوری نظام کی مجبوری ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ نااہل سیاستدانوں
مزید پڑھیے


وزیر اعظم کی عوام دوستی اور افسر شاہی کی عینک

اتوار 29 مارچ 2020ء
ذوالفقار چودھری
چکبست نرائن نے عناصر میں ظہور ترتیب کو زندگی اور ان اجزا کے پریشان ہونے کو موت لکھا ہے۔انسان کی بد بختی کہ خدائی کے دعوئوں سے بڑھ کر قانوں قدرت میں مداخلت کی جسارت کی اور جینٹک انجینئرنگ کے ذریعے 2050ء تک موت پر قابو پانے کا دعویٰ کر بیٹھا ۔ نتیجہ !! آج ٹیکنالوجی کے خدا ہونے کے دعویدار پریشان ہیں کہ ایک نظر نہ آنے والے وائرس نے ان کی خدائی لمحوں میںتلپٹ کرکے رکھ دی ہے۔ جو ٹیکنالوجی اور طاقت کے زعم میں کمزور اقوام کے وسائل ہڑپنے کے لئے کسی جواز کے محتاج نہ تھے
مزید پڑھیے



میکوں جیندے قبرستان دا دکھ

اتوار 22 مارچ 2020ء
ذوالفقار چودھری
موت زندگی کی بہترین محافظ ہے مگر اونٹ کی رسی باندھنا توکل کی پہلی شرط بھی۔ قدرت کی طرف سے اشرف المخلوقات کو کرونا کی آزمائش کا سامنا ہے۔ دنیا کے 194ممالک میں سے لگ بھگ 154اس امتحان سے گزر رہے ہیں۔ چین جہاں سے اس عفریت نے سر اٹھایا تھا اپنے عزم اور حوصلے اور بہترین کوششوں کے باعث اپنے حصے کا عذاب سہہ کے نجات کے مراحل میںداخل ہو چکا ہے۔ باقی اقوام بھی تدابیر میں مصروف ہیں۔ ہالینڈ کے وزیر صحت ملک میں کرونا کی صورت حال کے بارے میں اسمبلی کو آگاہ کر رہے تھے کہ
مزید پڑھیے


حقوق نسواں : حالات اور ہمارا طرز عمل

اتوار 08 مارچ 2020ء
ذوالفقار چودھری
آج خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ ہر سال کی طرح ہر آج بھی دنیا بھر میں صنفی امتیاز کے خاتمے ‘ عورت کا استحصال روکنے‘ مسائل کے اسباب اور تدارک پر غور و فکر کے لئے سیمینارز کا انعقاد اور خواتین کی تکریم اور حقوق کی بیداری کے لئے ریلیاں نکالی جائیں گی۔ پاکستان میں خواتین کے استحصال اور معاشرتی ناہمواریوں سے انکار ممکن ہے نا ہی حکومتی اور معاشرتی سطح پر صنفی امتیاز کے خاتمے کے لئے کوششوں کے فقدان کو تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ۔ہماراسماجی ڈھانچہ ہی کچھ ایسا ہے کہ خواتین پر روا رکھے
مزید پڑھیے


افغان باقی کہسار باقی

اتوار 01 مارچ 2020ء
ذوالفقار چودھری
جنگ میں سامان حرب اور حکمت عملی کی حیثیت مسلمہ‘ مگر لڑائی میں جیت قوت ایمانی سے ہی ہوتی ہے۔ امن معاہدے کی صورت میں دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ کی جدید ترین ٹیکنالوجی اور دنیا بھر کے بے پناہ وسائل کی طاقت کا پہاڑ افغان طالبان کے جذبہ ایمانی کی ہیبت سے رائی ثابت ہو چکا ہے۔ افغانستان امن معاہدہ کلی طور پر امن نہ سہی مگر امن کی جانب پہلا قدم اور امریکہ کا افغان جنگ میں اعتراف شکست ضرور ہے۔ اس معاہدے کی بنیاد میں 70ہزار پاکستانیوں سمیت 5لاکھ افغانیوں کا خون شامل ہے۔ دنیا کا
مزید پڑھیے


اس کو آتے ہیں بہانے کیا کیا

اتوار 16 فروری 2020ء
ذوالفقار چودھری
مارک ٹوائن نے سیاستدانوں اور ڈائپرز کو تبدیل کرنے کی ایک ہی وجہ بتائی ہے البتہ ہمارے زبردستی کے صدر سکندر مرزا نے لکھا کہ ناخواندہ پاکستانی گند منتخب کر کے اسمبلیوں میں بھیج دیتے تھے جس کو انہیں صاف کرنا پڑتا تھا۔ ماضی میں نرسری میں صحت مند صاف ستھرے سیاستدانوں کی افزائش کا بھی تجربہ ناکام ہوا تو لانڈری کا یہ کام ایک بار پھر عوام کو ہی سونپ دیا گیا مگر عوام کی سہولت کے لئے داغ ڈھونڈنے کا کام میڈیا اور دھلائی احتساب کی لانڈری میں کی جاتی ہے۔ ہمارے ایک محترم تحقیقاتی صحافی جو پہلے
مزید پڑھیے


فقط کچھ دوست ہیں اور دوست بھی کیا!!!

اتوار 26 جنوری 2020ء
ذوالفقار چودھری
امریکی مفکر میکس ویل نے کہا ہے کہ جب طوفان آتا ہے تو یاسیت پسند تباہی کا رونا رونا شروع کر دیتے ہیںاور خوش فہم طوفانوں سے بہتری کی امید باندھ لیتے ہیں جبکہ لیڈر آندھی کا رخ دیکھ کر بادبانوں کی سمت درست کرتے ہیں تاکہ تباہی پھیلانے والی تیز ہوائوں کو اپنی منزل کی جانب بڑھنے کے لئے معاون بنایا جا سکے۔شہر اقتدار آج کل افواہوں کے طوفان کی زد میں ہے۔ ہر کوئی اپنے اپنے علم اور فہم کے مطابق تبدیلی سرکار کی تبدیلی کے وقت اور حکمت عملی کے بارے میں قیاس آرائی کر رہا ہے۔
مزید پڑھیے