BN

ذوالفقار چودھری


تحریک انصاف کی مسیحائی اور عاشق بے جا ن عوام


فرانسیسی مفکر ہانورے ڈی بال زیک کے مطابق بیورو کریسی ایسا دیو ہیکل میکنزم ہے جس کو کج فہم لوگ چلاتے ہیں۔ قائد اعظم پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ سیاستدانوں کی کوتاہ اندیشی کے سبب بیورو کریسی نے اسلام پوٹھوہار کی پہاڑیوں میں آباد کیا اور ملک کو اپنی چراگاہ بنا لیا۔ سات دھائیوں سے سیاستدان اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ ملک وہ چلا رہے ہیں مگر سچ یہ ہے کہ اقتدار میں جو بھی سیاسی پارٹی ہو حکومت افسر شاہی کی ہی ہوتی ہے۔ سیاست دانوں کا کام تو بس کرسی اور کچھ ذاتی
اتوار 12 جنوری 2020ء

عالم اسلام اور 2020ء کا بدلتا منظر نامہ

اتوار 05 جنوری 2020ء
ذوالفقار چودھری
اکیسویں صدی کا طلوع ہونے والا ہر سورج مسلمان حکمرانوں کی بے بسی اور بے حسی کو عیاں سے عیاں تر کر رہا ہے۔2001ء میں انڈیورنگ فریڈم کے نام پر نہتے اور تباہ حال افغانیوں پر امریکی آتش و آہن کی بارش پر مسلمان حکمرانوں کی خاموشی اور لاچاری اس آگ کو 2003ء میں عراق تک لے آئی۔ افغانستان اور عراق کے 5لاکھ مسلمانوں کا قتل ناحق بھی جب خون مسلم میں حرارت پیدا نہ کر سکا تو یہ لہو رنگ اسلام دشمنی عرب بہار بن کر اٹھی ۔ تیونس، لیبیا، یمن کے حکمران عوام کی حمایت کے بغیر ریت
مزید پڑھیے


پیاس جس نہر سے ٹکرائی وہ بنجر نکلی

اتوار 29 دسمبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
پاکستان اسلام کے نام پر دنیا کے نقشے پر پہلے ملک کے طورپر معرض وجود میںآیا۔ قوم گزشتہ 72برسوں سے یہاں اسلامی مساوات اور عدل کے نظام کی آس لگائے بیٹھی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کی پیاس بڑھتی جا رہی ہے۔تحریک انصاف نے عوام کی آنکھوں میں ریاست مدینہ کے خواب سجا کر مسند اقتدار حاصل کی۔ عمران خان اسلام آباد میں اپنے 126دن کے دھرنے کے دوران عوام کو ریاست مدینہ کی برکتیں اور خصوصیات بیان کیا کرتے تھے۔ ایسی ریاست جہاں سماجی انصاف ہو‘ دو نہیں ایک پاکستان۔ انسانی حقوق پر مبنی ریاست
مزید پڑھیے


جرأت انکار اور عمران کا یوٹرن

اتوار 22 دسمبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
کسی بھی قوم کی سالمیت کا انحصار اس کے داخلی اتحاد میں مضمر ہوتا ہے تو اقوام عالم میں عزت و وقار کا انحصار اس کی خود مختاری اور قیادت کے دلیرانہ فیصلوں پر ہوتا ہے۔ عمران خان اپنے اسلام آباد میں دھرنے کے دوران دنیا میں اقوام کی کامیابی اور پاکستان کی ناکامیوں کے اسباب بھی گنواتے رہے۔126روز کے دھرنے میں عمران خان کی ہر تقریر بلا امتیاز احتساب، انصاف، کرپشن سے پاک پاکستان سے شروع ہو کر داخلی خود مختاری اور قیادت کے فقدان پر ہی ختم ہوتی تھی۔2018ء کے انتخابات میں عوام نے تحریک انصاف کو دو
مزید پڑھیے


مصلحتوں کی شکار ریاست کا زوال پذیر معاشرہ

اتوار 15 دسمبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
قانون کسی بھی معاشرے کے اجتماعی شعور کا عکاس ہوتا ہے تو وکیل انصاف تک پہنچنے میں جج کا معاون۔ تھامس ہابز نے کہا تھا کہ یہ ریاست کی اتھارٹی ہوتی ہے جو ایک قانون کو موثر بناتی ہے ناکہ معاشرے کی دانش۔ اس لحاظ سے ہم کسی بھی ملک کے قوانین سے اس معاشرے کی اخلاقی اقدار کا اور وہاں قانون کی عملداری سے ریاست کی رٹ کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ پاکستان میں قانون کی طاقت کا پول تو مقتدر سیاسی اشرافیہ کے سامنے بے بسی سے کھل چکا عدالت راہ دیکھتی رہ گئی اور ملزم گھر سے
مزید پڑھیے



پاک امریکہ تعلقات اور خوابوں کی تعبیر

اتوار 08 دسمبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
آج کی دنیا میں افراد ہوں یا ممالک تعلقات جذبات اور محبت پر نہیں مفادات کی بنیاد پر استوار کرنے کا چلن ہے۔اسے بدقسمتی کہا جائے یا موسموں کی شدت کا اثر کہ برصغیر آج بھی دماغ کے بجائے دل سے نہ صرف سوچتا ہے بلکہ تعلقات بھی مفادات کے بجائے محبت اور نفرت کی بنیادوں پر قائم کئے جا تے ہیں۔ ہمارے محبوب رانا محبوب اختر خطے کی قیادت کی اس روش کو برصغیر کی حماقت (Subcontinent's Stupidity) کہتے ہیں۔ بات صرف بھارت کے متعصب اور تنگ نظر بنیا حکمرانوں کی ہی نہیں پاکستان کی قیادت نے بھی عالمی
مزید پڑھیے


تحریک انصاف کا سونامی سونامیوں کی زد میں

اتوار 01 دسمبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
سونامی کے ذریعے تبدیلی لانے والی حکومت کو اقتدار میں آنے کے بعد سے خود ایک کے بعد ایک سونامی کا سامنا ہے۔ اقتصادی بحران کے سونامی نے تحریک انصاف کی ارسطو دماغ کابینہ کو تہہ و بالا کرکے رکھ دیا تو معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے ٹیم باہر سے امپورٹ کرنا پڑی۔ احتساب اور لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کا جنون آزادی مارچ اور دھرنے پر منتج ہوا تو انہی چور ڈاکوئوں سے مذاکرات کے لئے پائوں میں گرنا پڑا۔ شاید ایسی ہی کسی صورتحال کے بارے میں اکبر الہ آبادی نے کہا تھا… مرعوب ہو گئے ہیں ولایت
مزید پڑھیے


عمران زرداری‘ نواز شریف اور مولانا ایک پیج پر!

اتوار 24 نومبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
ابوالکلام آزاد نے کہا تھا! سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ جہاں دل ہی نہ ہو وہاں احساس اور جذبات کا کیا کام۔ مگر کیا کیجیے کہ وزیر اعظم تو قوم کو سیاست ایسی شطرنج کی بساط کو کرکٹ کا کھیل سمجھ کر اخلاص کے جنوں سے میدان مارنے کے خواب دکھاتے رہے ۔اقتدار ملا تو این آر او نہیں دونگا‘ کسی کو نہیںچھوڑوں گا کہہ کر اپنا اور قوم کا دل بہلایا۔ مگر خواب تو خواب ہوتے ہیں آنکھ کھلتے ہی حقیقت کی دنیا سامنے منہ چڑا رہی ہوتی ہے۔ شورش وقت کی رفتار میں عمران خاں کے
مزید پڑھیے


زندگی نام ہے مر مر کے جیے جانے کا

اتوار 17 نومبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
زندگی اتنی سادہ نہیں جتنی بظاہر نظر آتی ہے۔ بہتوں کے لئے زندگی ہمدرد ہے اور بعض صورتوں میں سفاک بھی۔ سفاکیت بھی ایسی کہ اختر سعید خاں بھی چیخ اٹھے’’ زندگی تیری حقیقت نہیں دیکھی جاتی‘‘۔ دو ہفتے کے اخبارات مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ‘ میاں نواز شریف کی بیماری، ڈیل ڈھیل اور بیرون ملک علاج کے لئے روانگی کی خبروں سے بھرے پڑے ہیں ۔ کسی بھی اخبار میں عام آدمی کے مسائل کے لئے کوئی جگہ ہے نہ ہمارے لیڈروں کو غربت مہنگائی اور بے روزگاری ایسے عوامی مسائل سے کوئی سروکار۔ دھرنے، مارچ حکومت کی
مزید پڑھیے


دھرنے کے ثمرات اور پیشہ وارانہ سیاسی مہارت

اتوار 10 نومبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
سیموئیل ہٹنگٹن نے کہا تھا کہ سیاست میں پیشہ وارانہ مہارت سے عسکری مداخلت کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ہٹنگٹن کی تجویز اس بات پر دلیل ہے کہ سیاست میں عسکری مداخلت صرف ترقی پذیر دنیا کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک کو بھی اس کشمکش کا سامنا رہتا ہے ۔اتنا فرق ضرور ہے کہ امریکہ‘ یورپ‘ روس یہاں تک کہ بھارت بھی کمزور ممالک کی سیاست میں مداخلت کے لئے عسکری مداخلت کو سیاسی مہارت سے استعمال کر رہے ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک نے اقتدار کے ایوانوں تک رسائی کے لئے عسکری مداخلت کے
مزید پڑھیے