BN

ذوالفقار چودھری


دھرنے کے ثمرات اور پیشہ وارانہ سیاسی مہارت


سیموئیل ہٹنگٹن نے کہا تھا کہ سیاست میں پیشہ وارانہ مہارت سے عسکری مداخلت کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ہٹنگٹن کی تجویز اس بات پر دلیل ہے کہ سیاست میں عسکری مداخلت صرف ترقی پذیر دنیا کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک کو بھی اس کشمکش کا سامنا رہتا ہے ۔اتنا فرق ضرور ہے کہ امریکہ‘ یورپ‘ روس یہاں تک کہ بھارت بھی کمزور ممالک کی سیاست میں مداخلت کے لئے عسکری مداخلت کو سیاسی مہارت سے استعمال کر رہے ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک نے اقتدار کے ایوانوں تک رسائی کے لئے عسکری مداخلت کے
اتوار 10 نومبر 2019ء

آرزوئوں کی اڑن اور مارچ کے آزاد اہداف

اتوار 03 نومبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
آرزوئوں کی کوئی حد ہوتی ہے نا ان کا کوئی اصول‘ اہلیت اور اخلاقی جواز سے کوئی سروکار۔ یہ تو بس تکمیل چاہتی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے بھی کچھ ایسی ہی اپنی اور دوسروں کی آرزوئوں کی گٹھڑی باندھ کر اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا تھا، اہداف کا تعین کیونکہ منزل پر پہنچ کر ہونا تھا اس لئے دائیں بائیں بازو اور علاقائی ،لسانی نو جماعتوں نے بھی مولانا کا رفیق سفر بننے کی حامی بھر لی۔ اس پراسراریت کو آزادی مارچ کا دلفریب نام دیا گیا گویا مارچ شروع ہونے سے پہلے ہی یہ
مزید پڑھیے


بیماری کااتفاق اور حسن اتفاق

اتوار 27 اکتوبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
ابوالکلام آزاد نے درس وفا میں لکھا ’’آہ تم کیا جانو اتفاق کیا ہے۔ اتفاق ایک سفید کبوتر ہے۔ جو اپنی چونچ میں زیتون کی شاخ لئے ہوئے نااتفاقی کے طوفان سے نجات دلانے کی خوشخبری سنا رہا ہے۔ اللہ بزرگ و برتر میاں نواز شریف کو صحت کاملہ عطا فرمائے کہ صحت پر سیاست اخلاقی کم ظرفی ہے مگر کیاکیجیے کہ پاکستانیوں کو ماضی میں کچھ عجیب اتفاقات سے واسطہ رہاہے کہ دودھ کے جلے چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پی رہے ہیں۔ اسلام آباد کی سڑکوں پر یہ تلخ حقیقت متعدد بار گزر چکی جب نیلی بتیاں ایک
مزید پڑھیے


ڈاکٹروں کی ہڑتال: صحت کا مریضانہ پہلو

اتوار 20 اکتوبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
آج کل ہڑتالوں کا موسم چل رہا ہے کہ یہ موسم بھی تو تحریک انصاف کی ہی ایجاد ہے۔ شٹر بندی ‘ شہر بندی‘ تالہ بندی سوائے نس بندی کے وہ کون سے بندی تھی جس کا سبق تحریک انصاف نے 2014ء میں 126دن کے دھرنے میں عوام کو نہیں پڑھایا؟عوام نے سبق یاد کر لیا اور آج خود اپنے دام میں صیاد آ گیا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ 2014ء میں جملہ اقسام کی بندیوں کا بوجھ صرف تحریک انصاف نے اٹھا رکھا تھا جبکہ 2019ء میں حشر کا سماں یوں ہے کہ ہر کوئی اپنا اپنا تالا
مزید پڑھیے


آزادی مارچ اور مولانا کی کثیر الجہتی سیاست

اتوار 13 اکتوبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
روزگار کے غم دلفریب ہوتے ہیں یہ تو فیض احمد فیض بھی کہہ گئے ہیں مگر غم روزگار کی دلفریبی خود فریبی بلکہ مستی اور پھر جنوں میں بدل جاتی ہے اس کا اندازہ اپنے ماضی کے حکمرانوں کی حالت کو دیکھ کر ہو جاتا ہے جن کا معاملہ مادھو رام جوہر کے مطابق پوری ہوتی ہیں تصور میں امیدیں کیا کیا دل میں سب کچھ ہے مگر پیش نظرکچھ بھی نہیں! ان کی اقتدار کے روزگار سے بچھڑنے کے بعد جو حالت ہے اس کومیر نے کچھ یوں بیان کیا ہے ع روتے پھرتے ہیں ساری ساری رات اب یہی
مزید پڑھیے



بچوں کے قاتل جو بھی ہوں قصور وارصرف حکومت!

اتوار 06 اکتوبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
کوئی بھی قوم جب اجتماعی طور پر بدعملی‘ بداخلاقی اور بے راہ روی کا شکار ہوتی ہے تو تباہی و برباد ی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ مہذب معاشرے اپنی بقا کے لئے نئی نسل کی اخلاقی تربیت سے صرف نظر نہیں برتا کرتے۔ سویڈن کے ایک چھوٹے سے قصبے میں مارچ کی یخ بستہ سردی میں ایک 13برس کی لڑکی نے ٹرین کے آگے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔ بظاہر یہ خودکشی کا معمول کا واقعہ تھا مگر اس زندہ قوم نے اس ایک بچی کی موت کو سویڈن کے مستقبل کی موت تصور کرتے ہوئے خودکشی
مزید پڑھیے


میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی!

اتوار 29  ستمبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
خاندان سے معاشرے اور معاشرے سے ریاست وجود میں آتی ہے۔ روسو نے کہا تھا کہ ریاست امیر لوگوں نے اپنی جائیداد کی حفاظت کے لئے بنائی ہے۔ عدم مساوات ریاست کی سرپرستی میں پروان چڑھتی ہے ۔طاقت کا حصول کمزوروں کے وسائل پر قبضہ آج کی جدید ریاستوں کا غیر اعلانیہ منشور ہے۔ یہ طاقت کے حصول اور وسائل پر قبضہ کی خواہش ہی تھی کہ دو عظیم جنگیں لڑنے اور کروڑوں انسانوں کے قتل عام کے بعد جب 5بڑی طاقتیں مستقبل میں جنگوں کی تباہی سے بچنے کے لئے اقوام متحدہ ایسا ادارہ بنانے پر مجبور ہوئیں
مزید پڑھیے


مولانا کا آزادی مارچ اور ردِ نامعقولات

اتوار 22  ستمبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
کج فہم ہیں جو اقتدار پر نشہ کی تہمت باندھتے ہیں۔ یہ عشق کی مستی ہے‘ جو مقتدران کو مخمور کیے رکھتی ہے۔ اگر اقتدار میں نشہ ہوتا تو اہلیان اختیار و اقتدار کے بجائے ایوان اقتدار ناچا کرتے۔ وہ تو اہل کمال و فن مذہب کو سیاست سے جدا اس لئے نہیں ہونے دیتے کہ کہیں سیاست صرف چنگیزی نہ رہ جائے۔ یہ سچ ہے کہ جب اقتدار کی شرابوں میں اعتقادات ودینیات کی شراب طہورہ ملتی ہے تو نشہ بھی سوا ہو جاتا ہے اور عشاق مستی میں دیوانہ وار جھومتے اور معتقدیان سردھنتے ہیں۔ اس مستی بلکہ
مزید پڑھیے


افغان طالبان کا یقین اور بکھرتی واحد سپر پاور

اتوار 15  ستمبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
جنگیں اسلحہ بارود سے نہیں نصرت الٰہی ‘حق پر ہونے کے یقین سے جیتی جاتی ہیں۔ یہ یقین کی قوت ہی تھی جس نے 313کو بے سروسامانی میں ایک ہزار کے مقابل لاکھڑا کیا۔ تباہ حال افغانیوں کو یقین کی قوت نے ہی دنیا کی واحد سپر پاور کے سامنے سینہ سپر ہونے کا حوصلہ دیا۔ آخر دنیا بھر کے وسائل اور وقت کی جدید ترین ٹیکنالوجی یقین کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئی۔ افغان طالبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات اور امن معاہدے پر اصولی اتفاق کوئی معجزہ نہیں عزم واستقلال کی بے یقینی پر فتح تھی ۔یہ
مزید پڑھیے


ذہنی مریض کون: صلاح الدین، حکمران یا سماج؟

اتوار 08  ستمبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
حقائق اور خواہشوں کو دبانے سے محرومی جنم لیتی ہے اور محرومی کی کوکھ سے غصہ پھوٹتا ہے۔ انفرادی رویوں میں اصلاح کے بغیر سماج کا سد ھار ممکن نہیں۔ہم ایسے پرتشدد اور اذیت پسند سماج میں جی رہے ہیں جو ایک جان لیوا بحران کا شکار ہے۔ ہماری محرومیاں اور اذیت پسندی ہی اس بحران کی صورت گری کر رہی ہیں۔ المیہ تو یہ بھی ہے کہ ہم نفرت کی تجارت کرتے ہیں اور اس کاروبار کی سب سے بڑی منڈی سوشل میڈیا ہے۔ یہ جادو کی وہ نگری ہے جہاں کوئلے کی کان میں سونے کا بیوپار ہوتا
مزید پڑھیے