BN

ذوالفقار چودھری


مصلحتوں کی شکار ریاست کا زوال پذیر معاشرہ


قانون کسی بھی معاشرے کے اجتماعی شعور کا عکاس ہوتا ہے تو وکیل انصاف تک پہنچنے میں جج کا معاون۔ تھامس ہابز نے کہا تھا کہ یہ ریاست کی اتھارٹی ہوتی ہے جو ایک قانون کو موثر بناتی ہے ناکہ معاشرے کی دانش۔ اس لحاظ سے ہم کسی بھی ملک کے قوانین سے اس معاشرے کی اخلاقی اقدار کا اور وہاں قانون کی عملداری سے ریاست کی رٹ کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ پاکستان میں قانون کی طاقت کا پول تو مقتدر سیاسی اشرافیہ کے سامنے بے بسی سے کھل چکا عدالت راہ دیکھتی رہ گئی اور ملزم گھر سے
اتوار 15 دسمبر 2019ء مزید پڑھیے

پاک امریکہ تعلقات اور خوابوں کی تعبیر

اتوار 08 دسمبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
آج کی دنیا میں افراد ہوں یا ممالک تعلقات جذبات اور محبت پر نہیں مفادات کی بنیاد پر استوار کرنے کا چلن ہے۔اسے بدقسمتی کہا جائے یا موسموں کی شدت کا اثر کہ برصغیر آج بھی دماغ کے بجائے دل سے نہ صرف سوچتا ہے بلکہ تعلقات بھی مفادات کے بجائے محبت اور نفرت کی بنیادوں پر قائم کئے جا تے ہیں۔ ہمارے محبوب رانا محبوب اختر خطے کی قیادت کی اس روش کو برصغیر کی حماقت (Subcontinent's Stupidity) کہتے ہیں۔ بات صرف بھارت کے متعصب اور تنگ نظر بنیا حکمرانوں کی ہی نہیں پاکستان کی قیادت نے بھی عالمی
مزید پڑھیے


تحریک انصاف کا سونامی سونامیوں کی زد میں

اتوار 01 دسمبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
سونامی کے ذریعے تبدیلی لانے والی حکومت کو اقتدار میں آنے کے بعد سے خود ایک کے بعد ایک سونامی کا سامنا ہے۔ اقتصادی بحران کے سونامی نے تحریک انصاف کی ارسطو دماغ کابینہ کو تہہ و بالا کرکے رکھ دیا تو معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے ٹیم باہر سے امپورٹ کرنا پڑی۔ احتساب اور لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کا جنون آزادی مارچ اور دھرنے پر منتج ہوا تو انہی چور ڈاکوئوں سے مذاکرات کے لئے پائوں میں گرنا پڑا۔ شاید ایسی ہی کسی صورتحال کے بارے میں اکبر الہ آبادی نے کہا تھا… مرعوب ہو گئے ہیں ولایت
مزید پڑھیے


عمران زرداری‘ نواز شریف اور مولانا ایک پیج پر!

اتوار 24 نومبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
ابوالکلام آزاد نے کہا تھا! سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ جہاں دل ہی نہ ہو وہاں احساس اور جذبات کا کیا کام۔ مگر کیا کیجیے کہ وزیر اعظم تو قوم کو سیاست ایسی شطرنج کی بساط کو کرکٹ کا کھیل سمجھ کر اخلاص کے جنوں سے میدان مارنے کے خواب دکھاتے رہے ۔اقتدار ملا تو این آر او نہیں دونگا‘ کسی کو نہیںچھوڑوں گا کہہ کر اپنا اور قوم کا دل بہلایا۔ مگر خواب تو خواب ہوتے ہیں آنکھ کھلتے ہی حقیقت کی دنیا سامنے منہ چڑا رہی ہوتی ہے۔ شورش وقت کی رفتار میں عمران خاں کے
مزید پڑھیے


زندگی نام ہے مر مر کے جیے جانے کا

اتوار 17 نومبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
زندگی اتنی سادہ نہیں جتنی بظاہر نظر آتی ہے۔ بہتوں کے لئے زندگی ہمدرد ہے اور بعض صورتوں میں سفاک بھی۔ سفاکیت بھی ایسی کہ اختر سعید خاں بھی چیخ اٹھے’’ زندگی تیری حقیقت نہیں دیکھی جاتی‘‘۔ دو ہفتے کے اخبارات مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ‘ میاں نواز شریف کی بیماری، ڈیل ڈھیل اور بیرون ملک علاج کے لئے روانگی کی خبروں سے بھرے پڑے ہیں ۔ کسی بھی اخبار میں عام آدمی کے مسائل کے لئے کوئی جگہ ہے نہ ہمارے لیڈروں کو غربت مہنگائی اور بے روزگاری ایسے عوامی مسائل سے کوئی سروکار۔ دھرنے، مارچ حکومت کی
مزید پڑھیے



دھرنے کے ثمرات اور پیشہ وارانہ سیاسی مہارت

اتوار 10 نومبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
سیموئیل ہٹنگٹن نے کہا تھا کہ سیاست میں پیشہ وارانہ مہارت سے عسکری مداخلت کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ہٹنگٹن کی تجویز اس بات پر دلیل ہے کہ سیاست میں عسکری مداخلت صرف ترقی پذیر دنیا کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک کو بھی اس کشمکش کا سامنا رہتا ہے ۔اتنا فرق ضرور ہے کہ امریکہ‘ یورپ‘ روس یہاں تک کہ بھارت بھی کمزور ممالک کی سیاست میں مداخلت کے لئے عسکری مداخلت کو سیاسی مہارت سے استعمال کر رہے ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک نے اقتدار کے ایوانوں تک رسائی کے لئے عسکری مداخلت کے
مزید پڑھیے


آرزوئوں کی اڑن اور مارچ کے آزاد اہداف

اتوار 03 نومبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
آرزوئوں کی کوئی حد ہوتی ہے نا ان کا کوئی اصول‘ اہلیت اور اخلاقی جواز سے کوئی سروکار۔ یہ تو بس تکمیل چاہتی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے بھی کچھ ایسی ہی اپنی اور دوسروں کی آرزوئوں کی گٹھڑی باندھ کر اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا تھا، اہداف کا تعین کیونکہ منزل پر پہنچ کر ہونا تھا اس لئے دائیں بائیں بازو اور علاقائی ،لسانی نو جماعتوں نے بھی مولانا کا رفیق سفر بننے کی حامی بھر لی۔ اس پراسراریت کو آزادی مارچ کا دلفریب نام دیا گیا گویا مارچ شروع ہونے سے پہلے ہی یہ
مزید پڑھیے


بیماری کااتفاق اور حسن اتفاق

اتوار 27 اکتوبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
ابوالکلام آزاد نے درس وفا میں لکھا ’’آہ تم کیا جانو اتفاق کیا ہے۔ اتفاق ایک سفید کبوتر ہے۔ جو اپنی چونچ میں زیتون کی شاخ لئے ہوئے نااتفاقی کے طوفان سے نجات دلانے کی خوشخبری سنا رہا ہے۔ اللہ بزرگ و برتر میاں نواز شریف کو صحت کاملہ عطا فرمائے کہ صحت پر سیاست اخلاقی کم ظرفی ہے مگر کیاکیجیے کہ پاکستانیوں کو ماضی میں کچھ عجیب اتفاقات سے واسطہ رہاہے کہ دودھ کے جلے چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پی رہے ہیں۔ اسلام آباد کی سڑکوں پر یہ تلخ حقیقت متعدد بار گزر چکی جب نیلی بتیاں ایک
مزید پڑھیے


ڈاکٹروں کی ہڑتال: صحت کا مریضانہ پہلو

اتوار 20 اکتوبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
آج کل ہڑتالوں کا موسم چل رہا ہے کہ یہ موسم بھی تو تحریک انصاف کی ہی ایجاد ہے۔ شٹر بندی ‘ شہر بندی‘ تالہ بندی سوائے نس بندی کے وہ کون سے بندی تھی جس کا سبق تحریک انصاف نے 2014ء میں 126دن کے دھرنے میں عوام کو نہیں پڑھایا؟عوام نے سبق یاد کر لیا اور آج خود اپنے دام میں صیاد آ گیا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ 2014ء میں جملہ اقسام کی بندیوں کا بوجھ صرف تحریک انصاف نے اٹھا رکھا تھا جبکہ 2019ء میں حشر کا سماں یوں ہے کہ ہر کوئی اپنا اپنا تالا
مزید پڑھیے


آزادی مارچ اور مولانا کی کثیر الجہتی سیاست

اتوار 13 اکتوبر 2019ء
ذوالفقار چودھری
روزگار کے غم دلفریب ہوتے ہیں یہ تو فیض احمد فیض بھی کہہ گئے ہیں مگر غم روزگار کی دلفریبی خود فریبی بلکہ مستی اور پھر جنوں میں بدل جاتی ہے اس کا اندازہ اپنے ماضی کے حکمرانوں کی حالت کو دیکھ کر ہو جاتا ہے جن کا معاملہ مادھو رام جوہر کے مطابق پوری ہوتی ہیں تصور میں امیدیں کیا کیا دل میں سب کچھ ہے مگر پیش نظرکچھ بھی نہیں! ان کی اقتدار کے روزگار سے بچھڑنے کے بعد جو حالت ہے اس کومیر نے کچھ یوں بیان کیا ہے ع روتے پھرتے ہیں ساری ساری رات اب یہی
مزید پڑھیے








اہم خبریں