Common frontend top

BN

ذوالفقار چوہدری


پھولوں کا شہر ،گلاب چہرے اور بارود کی بو!


پھولوں کے شہر پشاور میں نفرت اور انتقام کی آگ نے 102 پھول چہرے بھسم کر دیے گئے۔ پشاور ہی نہیں پورا ملک دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔کوئی دن نہیں گزرتا جب پاکستانیوں کا خون نہ بہایا جاتا ہو۔ سنٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2022ء میں دہشت گردی کے 376حملوں میں 400 شہادتیں ہوئیں ہیں۔ شہید ہونے والوں میں 282 سکیورٹی اہلکار شامل ہیں ان میں 376 حملوں میں سے 57 کی ذمہ داری ٹی ٹی پی ‘ داعش اور بی ایل اے نے قبول کی ہے۔باقی 314حملے کرنے والے کون تھے ان
جمعه 03 فروری 2023ء مزید پڑھیے

معاشی بحران اور ’’ڈرائونے خواب‘‘

جمعه 27 جنوری 2023ء
ذوالفقار چوہدری
وولسن انٹرنیشنل سنٹر فار سکالرز میں جنوبی ایشیا کے لئے سینئر ایسوسی ایٹ اور ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین نے 2022ء کو پاکستانیوں کے لئے ’’ڈراونا خواب‘‘ قرار دیا ہے اور پیش گوئی کی ہے کہ پاکستانی رواں سال 2023ء سے بھی بہتری اور رحم کی کوئی امید نہ رکھیں۔ مائیکل کوگل اس ڈرائونے خواب کی وجہ ان معاشی اور قومی سلامتی کے چیلنجز کو قرار دیتے ہیں جو ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کے مابین ایک تقرری پر اختلاف کی بنا پر سیاسی عدم استحکام کا سبب بنے۔کوگل نے جو تفصیلات لکھی ہیں
مزید پڑھیے


خالی گھٹا کو کیا کریں برسات بھی تو ہو!

جمعه 13 جنوری 2023ء
ذوالفقار چوہدری
ٹیرنس میک کینا کے مطابق ’’آج کی جدید دنیا میں دو چیزوںشعور اور کنڈیشنگ کا بحران ہے ۔ ہمارے پاس تکنیکی طاقت ہے، اپنے سیارے کو بچانے کی، بیماری کا علاج کرنے، بھوکوں کو کھانا کھلانے، جنگ کو ختم کی لیکن ہمارے پاس فکری وژن، اپنی سوچ بدلنے کی صلاحیت کی کمی ہے۔ ہمیں اپنے آپ کو 10,000 سال کے برے رویے سے آزاد کرنا چاہیے۔ اور، یہ آسان نہیں ہے۔ ٹیرنس کہتا ہے کہ حکومت کو ڈر ہوتا ہے کہ جو رائے عامہ کا ڈھانچااس نے تشکیل دیا ہے اجتماعی شعور اس کو تحلیل نہ کر دے ۔ ثقافتی
مزید پڑھیے


’’کوزہ گر ‘‘کے سیاسی کھلونے!

جمعه 06 جنوری 2023ء
ذوالفقار چوہدری
تھیو ڈور روز ویلٹ کو امریکہ کاصدر رہنے کا اعزاز ہی حاصل نہیں بلکہ وہ امریکہ کے اس وقت حکمران تھے جب شہنشاہیت اور جمہوریت باہم برسر پیکار تھے۔ امریکہ دنیا میں میں جمہوریت کا استعارہ بن رہا تھا۔دنیا کو جمہوریت کا سبق پڑھانے والے تھیوردور روز ویلٹ نے امریکی جمہوریت کے بارے میں کہا تھا’’ ظاہری حکومت کے پیچھے ایک غیر مری حکومت بیٹھی ہے جس کی کوئی وفاداری نہیں اور عوام کے حوالے سے اس کی کوئی ذمہ داری نہیں اس نادیدہ طاقت نے کرپٹ سیاستدانوں کے ساتھ مل کر ناپاک اتحاد بنا رکھا ہے آج کی سٹیٹمین
مزید پڑھیے


مفلسی کی موت بھی اچھی نہیں

جمعه 23 دسمبر 2022ء
ذوالفقار چوہدری
فلپ پل مین نے کرپشن ‘ حسد ‘اقتدار کی ہوس اور ظلم کو شیطانی غلاظت کے ایسے گڑھے قرار دیا ہے جن میں گرے ہوئے حکمران اپنے غیر اخلاقی افعال ‘ناانصافی اور ظلم پر فخر کرتے ہیں۔ایسے سماج کے انجام کے بارے میں ہی حضرت علی ؓ نے فرمایا تھا کہ کفر کی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے ظلم و ناانصافی کی نہیں۔اب اسے پاکستان کی بدقسمتی کہیے یا پھر پاکستانیوں کی شامت اعمال کا نتیجہ۔ قائد اعظم کی وفات سے قبل ہی پاکستان کی سیاسی اشرافیہ نے اقتدار کے لئے عوام کی تائید و حمایت کے بجائے
مزید پڑھیے



سیاست کا مطلب عوام کی خدمت

جمعه 09 دسمبر 2022ء
ذوالفقار چوہدری
ونسٹن چرچل نے کہا تھا کہ کامیابی سے بے نیاز ہو کر پے درپے ناکامیوں کے باوجود عزم و ہمت کے ساتھ اپنے ہدف کی طرف بڑھتے جانے میں ہی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔ سیاست میں کامیابی کا مطلب اقتدار ،اختیار اور طاقت کا حصول ہے۔ پاکستان میںاقتدار اس لئے حاصل نہیں کیا جاتا ہے کہ جن کے ووٹ سے اقتدار حاصل ہوا ہے، اسے ان کے مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال کیا جائے۔ عوام کو تو جذباتی نعروں، دلکش وعدوں اور بلند بانگ دعوئوں کی جادوگری سے لبھایا جاتا ہے۔ اقبال نے کہا ہے: شیاطین ملوکیت کی آنکھوں
مزید پڑھیے


سوال پوچھیں گے تم سے حساب مانگیں گے

جمعه 02 دسمبر 2022ء
ذوالفقار چوہدری
لیون ٹراٹسکی نے کہا ہے کہ کوئی بھی معاشرہ کسی سماجی تعمیر نو کے منصوبے کے تحت نہیں بلکہ اس احساس کے ساتھ انقلاب برپا کرتا ہے کہ وہ پرانی حکومت کو برداشت کرنے سے عاجز آ چکا ہوتا ہے جس میں خوشحالی ،ترقی کے مواقع صرف حکمران اشرافیہ تک محدود ہوتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں انقلاب کی ابتدا استحصال کی انتہا سے ہوتی ہے اورلاوا بھوک کی آگ سے پیٹ میں پکتا ہے۔استحصال کی انتہا کا آغاز تب ہوتا ہے جب معاشرہ بحیثیت مجموعی فیصل آباد کی گلناز کی طرح یہ التجائیں شروع کر دے۔ گوتم میرے نال
مزید پڑھیے


ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو

جمعه 25 نومبر 2022ء
ذوالفقار چوہدری
تاریخ کی صرف آنکھیں ہوتی ہیں جو دیکھتی ہیں اور محفوظ کر لیتی ہیں۔ ہماری سیاسی تاریخ اس امر پر گواہ ہے کہ یہاں سیاست میں وفاداری نام کی کوئی چیز نہیں۔ سیاست اقتدار اور مفادات کے تحفظ کے لئے کی جاتی ہے۔ فلپ پل مین نے کرپشن، حسد اور اقتدار کی ہوس کو اخلاقی گراوٹ کے ایسا گڑھے قرار دیا جہاں دھوکہ اور سازش پر فخر کیا جاتا ہے۔سیاست میں حسد در آئے تو گوجرانوالہ میں ملک کے لئے سرحدوں پر جان قربان کرنے والوں کے نام لے لے کر حساب مانگتی ہے۔ اقتدار کی ہوس غالب آ جائے
مزید پڑھیے


آنکھیں جھوٹ ،نظارہ جھوٹ!!

جمعه 18 نومبر 2022ء
ذوالفقار چوہدری
ہٹلر نے کہا تھا کہ جھوٹ اگر تواتر کے ساتھ بولا جائے تو لوگ اس پر یقین کرنا شروع کر دیتے ہیں۔یہ جھوٹ بولنا کس طرح ہے یہ بھی ہٹلر نے ہی بتا دیا تھا ۔ سفید جھوٹ کا عوام کی شدید ترین ضروریات اور خواہشات سے تعلق جوڑنا چاہیے دوسرے اس کو عوامی جذبات کی عکاسی کا مظہر بنا کر مسلسل منظم انداز میں اس طرح دہرایا جائے کہ لوگوں کو جہنم بھی جنت نظر آنے لگے ۔ وہ جاں نثار اختر نے کہا ہے نا: ہم سے پوچھو غزل کیا ہے غزل کا فن کیا چند لفظوں میں کوئی
مزید پڑھیے


زمیں پہ پاؤں ذرا احتیاط سے دھرنا

جمعه 04 نومبر 2022ء
ذوالفقار چوہدری
سیاست خواہشات اور جذبات کا نہیں حالات کے مطابق فیصلوں کا کھیل ہے۔سیاستدان حالات کا رخ اپنی طرف موڑنے کے لئے سیاسی چالیں چلتے ہیں۔2008ء میں پرویز مشرف کے اقتدار کے خاتمے کا عمل شروع اور پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو حالات نے مسلم لیگ ن کو پیپلز پارٹی کی اپوزیشن سے زیادہ اتحادی بنا دیا۔یہاں تک کہ مسلم لیگ ن پہلے حکومت میں شامل ہوئی پھر پیپلز پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے اپوزیشن کے کردارکا بوجھ بھی اٹھا لیا۔ آگ اور پانی کے اس ملاپ کا مقصد اس ’’ہوا‘‘ کا مقابلہ کرنا تھا جو پاکستان میں سیاسی
مزید پڑھیے








اہم خبریں