راوٗ خالد



عمران خان اور سیاسی مشکلات


سیاسی منظر نامے پر ایک قضیہ ختم ہوتا ہے، کوئی نیا جنم لے لیتا ہے۔گزشتہ دو تین ماہ خاص طور پر سیاسی گہما گہمی سے زیادہ، سیاسی اور عدالتی جھٹکوں کے تھے جس سے حکومتی اور ادارہ جاتی چولیں ہلی نہیں تو تھوڑی تھوڑی کھسکی ضرور ہیں۔موجودہ سیاسی ہلچل کی بنیاد بھی انہی عوامل کے باعث پیدا ہو رہی ہے۔ اپوزیشن اور خاص طور پر حکومتی اتحادیوں کا خیال ہے کہ اس وقت حکومت وقت کمزور پچ پر ہے اس لئے اس پر دبائو بڑھا کربہت سی ایسی رعائیتیں حاصل کی جا سکتی ہیں جو پہلے ممکن نہیں تھا۔ مسلم
اتوار 19 جنوری 2020ء

سچائی کے بعد کی دنیا

جمعه 17 جنوری 2020ء
راوٗ خالد
میاں نواز شریف کی ایک تصویر اپنے رشتہ داروں کے ہمراہ لندن کے ایک ریستوران میں پچھلے دنوں سوشل میڈیا کی زینت بنی جس کے بارے میں انکے نقادوں کا کہنا تھا کہ وہ علاج کرانے گئے ہیں اور وہاں کھابے کھا رہے ہیں، حالانکہ اس تصویر میں کھانے پینے کی کوئی شے نظر نہیں آ رہی۔ بہر حال سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے اسکو کوئی بھی رنگ دیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح جواب میں انکے صاحبزادے نے فرمایا کہ انکی مسلسل گھر میں رہنے سے طبیعت بوجھل ہو رہی تھی اس لئے ہوا خوری کے لئے انکو باہر
مزید پڑھیے


پارلیمنٹ فعال ہو گئی

اتوار 12 جنوری 2020ء
راوٗ خالد
پاکستان تحریک انصاف کو حکومت سنبھالے سولہ ماہ ہوگئے ، اس دوران پارلیمنٹ کی عدم فعالیت سب سے بڑا مسئلہ رہی۔ عوامی مسائل تو دور کی بات کوئی ڈھنگ کی بات بھی نہیںہو رہی تھی۔جیسے ہی اجلاس منعقد ہوتا تھا ایوان مچھلی بازار بن جاتا۔ الزامات اور جوابی الزامات، الٹے سیدھے ناموں سے ایکدوسرے کو پکارنے کا کام اور پھر سپیکر مجبوراً اجلاس برخواست کر کے حکومت اور اپوزیشن دونوں کی جان خلاصی کراتے۔لیکن بھلا ہو سپریم کورٹ کا جس نے آرمی ایکٹ میں ترمیم جیسی قانون سازی کی ضرورت کی نشاندہی کی۔ جیسے ہی حکومت نے اس ترمیم کا ڈول
مزید پڑھیے


اضطراب کیوں!

جمعه 10 جنوری 2020ء
راوٗ خالد
آرمی ایکٹ میں ترمیم کا معاملہ کئی ہفتوں سے سیاسی اضطراب کا باعث بنا ہوا تھا۔ سپریم کورٹ کے الیونتھ ہاور پر اس معاملے پر دائر درخواست کو ؤسننے کی وجہ سے ہمارے کچھ دوستوںکے اندر خواہش پیدا ہوئی کہ عدالت کوئی ایسی رکاوٹ کھڑی کردے کہ یہ مدت یہیں پر ختم ہو جائے۔ لیکن سپریم کورٹ کے پاس اس تقرری اور توسیع کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ جو قانونی مسئلہ سپریم کورٹ کوتینوں مسلح افواج کے سربراہوں اور چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی مدت اور توسیع کے تعین
مزید پڑھیے


نئی دہائی میں امن کے امکانات(۲)

اتوار 05 جنوری 2020ء
راوٗ خالد

ارادہ فواد چوہدری کے پارلیمنٹ میں درد دل کے ساتھ خطاب پر لکھنے کا تھا کہ اس قسم کا خطاب1997 ء میں محترمہ بینظیر بھٹو نے بھی کیا تھا جب میاں نواز شریف دو تہائی اکثریت کے ساتھ کشتوں کے پشتے لگائے چلے جا رہے تھے لیکن صدر ٹرمپ کسی عجلت میں ہیں ۔ گزشتہ کالم میں جن خطرات کا اظہار کیا تھا وہ وقت سے پہلے ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔اس لئے اسی عنوان کے تحت صورتحال کا مزید جائزہ لینا بہت ضروری ہے۔ جمعہ کے روز شائع ہونے والے کالم میں عرض کیا تھا کہ ،’’توقع کی
مزید پڑھیے




نئی دہائی میں امن کے امکانات

جمعه 03 جنوری 2020ء
راوٗ خالد
بارہ اگست2014 کو امریکی سفارتخانے سے اطلاع آئی کہ ملک میں عمران خان کے چودہ اگست کو اسلام آباد میںدھرنے کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر امریکی سفیر رچرڈ اولسن بات کرنا چاہتے ہیں۔بھاگم بھاگ دوپہر طے شدہ وقت پر پہنچے، وقت کے پابند امریکی سفیر نے میٹنگ روم میںموجود دس صحافیوں سے فرداً فرداً مصافحہ کیا اور بیٹھتے ہی اپنا مدعا بیان کر نا شروع کیا۔ حیرت انگیز طور پر انکی بات چیت دھرنے سے زیادہ ملک میں متوقع مارشل لاء پر مبنی تھی۔ انہوں نے اپنے پندرہ منٹ کے ابتدائیے میں ہمیں یہ باور
مزید پڑھیے


کوفے کی سیاست!

اتوار 29 دسمبر 2019ء
راوٗ خالد
دو روز قبل محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی بارہویں برسی تھی،لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے سے خطاب کے دوران، کیا خوبصورت جملہ بولا ہے جناب بلاول بھٹو زرداری نے، ’’ کوفے کی سیاست سے مدینہ کی ریاست نہیں بن سکتی‘‘ اور کیا جواب دیا ہے حکومت کی ترجمان معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے ،’’بی بی کا مشن اور کمیشن اکٹھا نہیں چل سکتا‘‘۔یہی ہماری سیاست ہے، جملے بازی، جگت بازی اور ایکدوسرے کی توہین، اسکو کوفے کی سیاست کہہ لیں یا عوام کو بیوقوف بنانے کی۔ کیا کوئی بتائے گا خاص طور پر بی بی کی شہادت کے بعد حکمران
مزید پڑھیے


بیانیوں کی حقیقت جانئے

جمعه 27 دسمبر 2019ء
راوٗ خالد
دوستوں کے ساتھ مختلف سیاسی اور غیر سیاسی موضوعات پر تبادلہ خیال ہوتا ہے تو اکثرجذبات کی رو میں بہہ جاتے ہیں اور اچھی خاصی معقول گفتگو تو تڑاک تک پہنچ جاتی ہے۔ مسئلہ کسی کا ذاتی نہیں ہوتالیکن ہمارے ہاں مختلف ایشوز کے حوالے سے اتنا کنفیوژن ہے کہ سنی سنائی باتوں پر دلائل کی بنیاد جب رکھی جاتی ہے تو اسکا نتیجہ اختلاف رائے کی بجائے ذاتی رنجش کی صورت میں نکلتا ہے۔ دوسری وجہ جو سمجھ آتی ہے وہ ہمارے معاشرے کی تقسیم در تقسیم ہے جو ذات برادری، فرقے، علاقے، زبان اور سیاسی ہمدردیوں کی
مزید پڑھیے


انصاف کا بہائو

اتوار 22 دسمبر 2019ء
راوٗ خالد
کہتے ہیں پانی نیچی جگہ کا رخ کرتا ہے، ہمارے ہاں انصاف کا یہی چلن بہت عرصہ رہا کہ کمزور کی نسلیں انصاف کو ترس جاتیں لیکن طاقتور آڑے آتا۔ سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے بقول 2009ء کے بعد کی عدلیہ بدل گئی ہے۔انصاف کے بہائو میں اگرچہ بہتری ہوئی ہے اور گزشتہ کچھ برسوں سے طاقتوروں کو انصاف کا سامنا ہے اور وزراء اعظم سے لیکر جنرل مشرف تک کٹہرے میں ہیں اور انکے مقدمات کے فیصلے دھڑا دھڑ ہو رہے ہیں۔ یہ فیصلے پسند کئے جائیں یا نہیں لیکن بحر حال اس ملک کے بڑے اور
مزید پڑھیے


جنرل پرویز مشرف

جمعه 20 دسمبر 2019ء
راوٗ خالد
آرٹیکل چھ کے تحت آئین کی پامالی کے حوالے سے سابق صدر اور آرمی چیف جنرل ریٹائرڈپرویز مشرف کا ٹرائیل خصوصی عدالت میںمکمل ہوا اور اسکا فیصلہ بھی سنا دیا گیا اس حوالے سے بہت سے تبصرے اور رد عمل آ رہے ہیں جس میں سب سے سخت بیان انکے اپنے ادارے کی طرف سے آیا۔ اسکی شدت اور غصے کو مجھے سمجھنے میں اس لئے دقت نہیں ہو رہی کہ جب جنرل مشرف نے ملک میں مارشل لاء لگایا تھا اور چیف ایگزیٹو کا عہدہ سنبھالا مجھے سرکاری نیوز ایجنسی (اے پی پی) کے فارن ایڈیٹر ہونے کے ناطے
مزید پڑھیے