BN

راوٗ خالد



مزاحمتی سے علالتی بیانئے تک


وزیر اعظم عمران خان کی فرسٹریشن بلا وجہ نہیںہے۔ انہوں نے اپنی سیاست کا آغازبے لاگ انصاف کے نعرے سے کیا اور طاقتور اور کمزور کے لئے ایک قانون کی بات کی۔2018ء کاا نتخاب انصاف کے ساتھ احتساب کے نعرے سے جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ اپوزیشن جو بھی الزام لگائے لیکن انکو بھی پتہ ہے کہ انتخابات میں انہوں نے جیتنے کے لئے الیکٹیبل کا سہارا لیا تھا اور یہی کام عمران خان نے کیا۔ الیکٹیبل سے سیانی مخلوق کہیں نہیں پائی جاتی۔ وہ بر وقت جیتنے والی پارٹی میںجانے کی حس سے مزّین ہیں اور انہیں کسی کو بتانے
اتوار 24 نومبر 2019ء

دو نظام عدل!

جمعه 22 نومبر 2019ء
راوٗ خالد
وزیر اعظم عمران خان بہت جز بز ہو رہے ہیں کیونکہ بظاہر انکی مرضی کے خلاف میاں نواز شریف کو ملک سے باہر جانے کی لاہور ہائیکورٹ نے اجازت دیدی ہے۔ہزارہ موٹروے کے افتتاح کے موقع پر انہوں دو کی بجائے ایک نظام عدل رائج کرنے کی بات کی اور اس کے لئے انہوں نے موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اور انکے بعد بننے والے چیف جسٹس گلزار احمد سے اپیل کی کہ وہ اس نظام کوطاقتور اور کمزور کے لئے یکساں بنانے میں مدد کریں اسکے لئے حکومت تمام وسائل مہیا کرنے کو تیار ہے۔ اسکے جواب میں
مزید پڑھیے


جمہوریت کا درد

اتوار 17 نومبر 2019ء
راوٗ خالد
جب بھی کوئی پارٹی بلکہ شخصیت اقتدار سے باہر ہوتی ہے جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے اور سب ہارنے والے قائدین کے پیٹ میں جمہوریت کا مروڑ اٹھنے لگتا ہے جیسے کہ آجکل مولانا فضل الرحمٰن کو ہو رہا ہے کہ اصلی تے وڈی جمہوریت ملک سے نا پید ہو گئی ہے اور انہوں نے اسکی بحالی کا بیڑا اٹھایا ہے۔ انکا مشن تو بہت جلد مکمل ہونے والا ہے اور انکو اسی جمہوریت پر گزر بسر کرنا ہوگی اور چار سال بعد شاید انکو دوبارہ موقع ملے کہ جس قسم کی جمہوریت انکو درکار ہے وہ قائم کر
مزید پڑھیے


سب چلے جائیں گے

جمعه 15 نومبر 2019ء
راوٗ خالد
سب اہتمام ہو چکا ہے، مولانا فضل الرحمٰن دھرنا ختم کر گئے ہیں، میاں نواز شریف کو حکومت نے ایک دفعہ چار ہفتوں کے لئے ملک سے باہر جا کر علاج کرانے کی اجازت دیدی ہے جس میں یہ لچک بہر حال موجود ہے کہ وہ اس دوران صحتمند نہ ہو پائیں تو اپنے قیام کو طول دے سکتے ہیں، یہ قیام کتنا طویل ہو سکتا ہے اس بارے میں کوئی اس لئے کچھ نہیں کہہ سکتا کہ جب تک میاں نواز شریف کا مکمل چیک اپ نہیںہو جاتا اور ڈاکٹر انکی بیماری کے حوالے سے حتمی تشخیص نہیں
مزید پڑھیے


جانا ٹھہر گیا!

اتوار 10 نومبر 2019ء
راوٗ خالد
نواز شریف جا رہے ہیں اورپتہ نہیں مجھے کیوں لگ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن بھی اسی ہفتے چلے جائیں گے اور شاید دسمبر تک آصف زرداری بھی خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر لیں۔ کیا مولانا فضل الرحمٰن کا اس ساری سیاسی ہجرت کے اہتمام سے کوئی تعلق ہے، شاید ابھی یہ ثابت کرنا مشکل ہو لیکن مولانا فضل الرحمٰن جس شدّ و مد سے نواز شریف اور آصف زرداری کی کرپشن مقدمات میں گرفتاری اور سزا کے حوالے سے کنٹینر پر کھڑے ہو کر بات کرتے ہیں اس سے انکا اپنے ان دو پرانے حکومتی
مزید پڑھیے




جمہوریت ناپائیدار کیوں؟

جمعه 08 نومبر 2019ء
راوٗ خالد
تاریخی طور پر دیکھیں تو ہمارے ہاں کبھی انتخابات منصفانہ،غیر جانبدارانہ اور شفاف ہوئے ہیں اور نہ ہی کوئی حکومت عوام کی نمائندہ مانی گئی ہے بھلے وہ میاں نواز شریف کی دو تہائی اکثریت والی ہی کیوں نہ ہو ۔ یہ سب کچھ مشکوک بنانے والے ہمیشہ جمہوری عمل پر بظاہر یقین رکھنے والے اسکاحصہ بننے والے، انتخابات میں حصہ لینے، کئی بار حکومتیں کرنے والے سیاستدان ہیں۔ جنہوں نے انتخابی عمل کے بارے میں ہارنے کے بعد بہت واویلا کیا لیکن اسکی اصلاح کے لئے جب بھی موقع ملا کچھ نہیں کیا بلکہ اس کو اپنے حق میں
مزید پڑھیے


کچھ بھی نہیں بدلا

جمعه 01 نومبر 2019ء
راوٗ خالد
کھلاڑی ہو کہ بیوپاری،تجربہ کار ہو کہ اناڑی، کچھ بھی نہیں بدلا۔ نہ سیاسی منظر نامے پر نہ ملکی سوچ کے حوالے سے ،سب کچھ وہی ہے جو گزشتہ ستر سال سے ہوتا چلا آ رہا ہے۔ ہر دفعہ انتخابات میں دھاندلی ہوتی ہے۔ ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کا گھوڑا جیتنے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ جب میاں نواز شریف وزیر اعظم بنے تو جنرل حمید گل اور انکے ساتھی انہیں فخر سے ’’اپنے ہاتھ کا نشان‘‘ قرار دیتے تھے۔این آر او کر کے پیپلز پارٹی کو اگر حکومت لینے کا طعنہ دیا جاتا ہے تو میاں نواز شریف کی 2013 ء
مزید پڑھیے


اندھی تقلید

اتوار 27 اکتوبر 2019ء
راوٗ خالد
دیش رتن نگم، یہ نام آپ نے بھی میری طرح پہلی بار سنا ہوگا۔یہ صاحب وزیر اعظم نریندر مودی کی بی جے پی کی ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے بھگت ہیں اوروکیل ہونے کے ساتھ ساتھ آر ایس ایس کے مفکر بھی ہیں۔اس ہستی کو جاننے کا موقع ہمارے ایک دوست کے ذریعے ملا جو اکثر دنیا بھر سے دلچسپ ویڈیوز گاہے بگاہے وٹس ایپ پر بھیجتے رہتے ہیں۔ جمعہ کی صبح اٹھا تو دیش رتن نگم صاحب کی ایک ویڈیو موصول ہو چکی تھی ۔ موصوف گزشتہ سال مارچ میں NDTVبھارتی چینل ایک پروگرام
مزید پڑھیے


دھرنے کے ممکنہ نتائج

جمعه 25 اکتوبر 2019ء
راوٗ خالد
دعوئوں، وعدوں اور اپوزیشن جماعتوں کے نفاق اور اتفاق کے بہت سے مراحل گزر گئے بالآخر وہ دن آنے کو ہے جب مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں ملک کی دو بڑی جماعتیں اسلام آباد پر دھاوا بولنے کو تیار ہیں۔دوسری طرف حکومت اپنے دھرنے کے دوران ہر حکومتی قدم کو خلاف قانون قرار دینے کے بعد اب ان تمام اقدامات کو عین اسی طرح سر انجام دے رہی ہے جیسے مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 2014 ء کے دھرنے میں کیا تھا۔ اسلام آباد میں بہار کا موسم مارچ کے مہینے میں عروج پر ہوتا ہے لیکن کنٹینرز
مزید پڑھیے


اکتوبر، کچھ یادیں

اتوار 20 اکتوبر 2019ء
راوٗ خالد
میں ان دنوں ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی پی) میںر پورٹر کے طور پر کام کر رہا تھا۔میری ذمہ داریوں میں سپریم کورٹ کی دن بھر کی کارروائی کی رپورٹنگ تھی جو کہ ایک تھکا دینے والا کام تھا کیونکہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں ایک ایک لفظ گھنٹوں تک غور سے سننا اور پھر اسے درست طریقے سے رپورٹ کرنا بہت محنت طلب کام تھا۔ میری رہائش سپریم کورٹ سے کافی قریب تھی تو میں نے ایک ایسی روزانہ کی روٹین بنا لی تھی کہ صبح عدالتی وقت ساڑھے نو بجے شروع ہونے سے پہلے سپریم
مزید پڑھیے