BN

راوٗ خالد


یہ کون لوگ ہیں !


وزیر اعظم کے مشیران با تدبیر کی عقل پر ماتم کرنے کو دل کر رہا ہے۔ انکی حکمت عملی پر صدقے واری جانے کو بھی دل کرتا ہے کیونکہ ایک دوست ملک کے انتہائی ہمدرد اور پاکستان سے محبت کرنے والے سربراہ طیب اردوان کے دورے کو سبو تاژ کرنے کی اس سے اچھی تدبیر نہیں ہو سکتی تھی۔ عین اس روز جب ترکی کے صدر پاکستان کی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کشمیر پر اپنی غیر مشروط حمایت کی بات کر رہے ہوں اور ہمیں یہ باور کرا رہے ہوں کہ جس طرح آپ کشمیر کے بارے میں
اتوار 16 فروری 2020ء

تاریخ پہ تاریخ

اتوار 09 فروری 2020ء
راوٗ خالد
اس عنوان کا بھارتی اداکارسنی دیول کے فلم دامنی کے معروف ڈائیلاگ سے کوئی تعلق نہیں ، کیونکہ یہ عدالت میں پڑنے والی مقدمات کی تاریخ کے حوالے سے نہیں ہے۔ یہ وہ تاریخ پہ تاریخ ہے جو ہمارے ڈرائنگ روم سیاسی ماہرین حکومت کے جانے کے حوالے سے دیتے چلے آ رہے ہیں۔یہ تاریخیںکچھ خواہشات پر مبنی ہیں اور کچھ ان کے با خبر ذرائع انکے جذبات کو تسکین پہنچانے کے لئے ’’لیک‘‘ کرتے رہتے ہیں۔اس حوالے سے حکومت کے جانے کی پہلی تاریخی پیش گوئی حکومت کے چھ ماہ پورے ہونے پر کی گئی کہ بس ہنی
مزید پڑھیے


سر بکف وزیر اعظم

جمعه 07 فروری 2020ء
راوٗ خالد
وزیر اعظم عمران خان مظفر آباد میں 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیرمنانے گئے، جس کا مقصد کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا اور اس عزم کا ا عادہ کرنا تھا کہ وہ ہر مشکل میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔خاص طور پر گزشتہ اگست سے مودی نے مقبوضہ کشمیر میں اسیّ لاکھ کشمیریوں کو قید کر رکھا ہے اسکے خلاف پاکستان کے اندر سے بیک آواز ہو کر صدائے احتجاج بلند کی جائے۔عمران خان نے مودی کے مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کے خلاف اس ظالمانہ عمل پر پہلے دن سے ہی ایک مضبوط مئوقف اپنایا اور خود کو کشمیر کاز
مزید پڑھیے


اتحادیوں کی سیاست

اتوار 02 فروری 2020ء
راوٗ خالد
گزشتہ کئی ہفتوں سے حکومتی اتحاد یوں نے حکومت کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں۔ انکے مطالبات جائز بھی ہیں اور وہی ہیں جنکا وعدہ انکو اتحادی بناتے ہوئے کیا گیا تھا جو بوجوہ پورے نہیں ہو پارہے۔ وزیر اعظم نے خود چوہدری برادران یعنی مسلم لیگ (ق) کے علاوہ تمام اتحادیوں کو بلا کر یا انکے پاس جا کر بات کی ہے اور زیادہ تر کے ساتھ بات بن گئی ہے لیکن چوہدری برادران کے ساتھ معاملات ٹھیک ہوتے نظر نہیں آ رہے۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ وزیر اعظم معاملات بہتر کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے یا چوہدری
مزید پڑھیے


سوتن

جمعه 31 جنوری 2020ء
راوٗ خالد
پاکستان میں کمپیوٹر کی آمد تو بہت پہلے ہو گئی تھی، لیکن مجھے ذاتی کمپیوٹر حاصل کرنے کا اعزاز 1997ء میںحاصل ہوا ۔ اس سے قبل میں ایک اردو روزنامے، جس سے مین بطور رپورٹر وابستہ تھا، کے کمپیوٹر سیکشن میں جا کر فارغ وقت میں اردو ٹائپنگ کی پریکٹس کرتا تھا۔ انگلش ٹائپنگ تو سکول کالج کے زمانے میں والد صاحب کے دفتر میں موجود ٹائپ رائٹر پر سیکھ لی تھی۔اس کی بدولت اردو ٹائپنگ سیکھنے میں زیادہ دقت نہیں ہوئی۔ پھر ایسوسی ایٹڈ پریس سے 1995ء میں وابستہ ہوا تو دوبارہ انگریزی ٹائپنگ سے واسطہ پڑا لیکن بآسانی
مزید پڑھیے



مقبوضہ کشمیر اور بین الاقوامی بے حسی

اتوار 26 جنوری 2020ء
راوٗ خالد
ڈیووس میںعالمی اقتصادی فورم کا اجلاس ہوا اور ایک بار پھر وزیر اعظم عمران خان نے عالمی ضمیر کو مقبوضہ کشمیرکو جیل میں تبدیل کرکے وہاں ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کی داستان بھرپور انداز میں سنا کر جھنجھوڑنے کی کوشش کی جو کہ بے سود نظر آتی ہے۔ دنیا بھر کے اہم سربراہان ، دانشور، معاشی، ماحولیاتی، ٹیکنالوجی کے بڑے بڑے نام وہاں موجود تھے لیکن ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ اس معاملے پر جانتے بوجھتے بے حسی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کو جیل بنانے اور وہاں کے باشندوں کا ہر طرح سے ناطقہ
مزید پڑھیے


آلو لینے نہیں آئے!

جمعه 24 جنوری 2020ء
راوٗ خالد
وزیر اعظم عمران خان کے سارے اتحادی اپنے اپنے مطالبات کا پنڈورا باکس کھول چکے ہیں اور یہ سب کچھ عوام کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ترقیاتی فنڈز کی عدم فراہمی اور انفرا سٹرکچر کی کمی کا رونا رویا جا رہا ہے۔مہنگائی، بیروزگاری اور پنجاب میں خاص طور پرخراب گورننس پر تان ٹوٹتی ہے اور اس سب کا ذمہ دار پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بز دار کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔عوامی نمائندوں کا حق ہے کہ وہ جن کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آئے ہیں انکے حقوق اور سہولتوں کی فراہمی کے لئے آواز اٹھائیں۔لیکن جتنی آواز
مزید پڑھیے


عمران خان اور سیاسی مشکلات

اتوار 19 جنوری 2020ء
راوٗ خالد
سیاسی منظر نامے پر ایک قضیہ ختم ہوتا ہے، کوئی نیا جنم لے لیتا ہے۔گزشتہ دو تین ماہ خاص طور پر سیاسی گہما گہمی سے زیادہ، سیاسی اور عدالتی جھٹکوں کے تھے جس سے حکومتی اور ادارہ جاتی چولیں ہلی نہیں تو تھوڑی تھوڑی کھسکی ضرور ہیں۔موجودہ سیاسی ہلچل کی بنیاد بھی انہی عوامل کے باعث پیدا ہو رہی ہے۔ اپوزیشن اور خاص طور پر حکومتی اتحادیوں کا خیال ہے کہ اس وقت حکومت وقت کمزور پچ پر ہے اس لئے اس پر دبائو بڑھا کربہت سی ایسی رعائیتیں حاصل کی جا سکتی ہیں جو پہلے ممکن نہیں تھا۔ مسلم
مزید پڑھیے


سچائی کے بعد کی دنیا

جمعه 17 جنوری 2020ء
راوٗ خالد
میاں نواز شریف کی ایک تصویر اپنے رشتہ داروں کے ہمراہ لندن کے ایک ریستوران میں پچھلے دنوں سوشل میڈیا کی زینت بنی جس کے بارے میں انکے نقادوں کا کہنا تھا کہ وہ علاج کرانے گئے ہیں اور وہاں کھابے کھا رہے ہیں، حالانکہ اس تصویر میں کھانے پینے کی کوئی شے نظر نہیں آ رہی۔ بہر حال سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے اسکو کوئی بھی رنگ دیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح جواب میں انکے صاحبزادے نے فرمایا کہ انکی مسلسل گھر میں رہنے سے طبیعت بوجھل ہو رہی تھی اس لئے ہوا خوری کے لئے انکو باہر
مزید پڑھیے


پارلیمنٹ فعال ہو گئی

اتوار 12 جنوری 2020ء
راوٗ خالد
پاکستان تحریک انصاف کو حکومت سنبھالے سولہ ماہ ہوگئے ، اس دوران پارلیمنٹ کی عدم فعالیت سب سے بڑا مسئلہ رہی۔ عوامی مسائل تو دور کی بات کوئی ڈھنگ کی بات بھی نہیںہو رہی تھی۔جیسے ہی اجلاس منعقد ہوتا تھا ایوان مچھلی بازار بن جاتا۔ الزامات اور جوابی الزامات، الٹے سیدھے ناموں سے ایکدوسرے کو پکارنے کا کام اور پھر سپیکر مجبوراً اجلاس برخواست کر کے حکومت اور اپوزیشن دونوں کی جان خلاصی کراتے۔لیکن بھلا ہو سپریم کورٹ کا جس نے آرمی ایکٹ میں ترمیم جیسی قانون سازی کی ضرورت کی نشاندہی کی۔ جیسے ہی حکومت نے اس ترمیم کا ڈول
مزید پڑھیے