BN

راوٗ خالد



قومی مفاہمتی آرڈیننس (NRO)


آج کل قومی مفاہمتی آرڈیننس کے بڑے چرچے ہیں، بلکہ جب سے عمران خان نے زمام اقتدار سنبھالی ہے اور میاں نواز شریف ضمانت پر رہا ہو کر جاتی عمرہ سدھارے ہیں ڈرائنگ روم سرگوشیاں این آر او ہی کے گرد گھوم رہی ہیں۔ میاں نواز شریف احتساب عدالت میں اگر صحافیوں کے سوالوں کے جواب نہ دیں تو یہی سمجھا جاتا ہے کہ کوئی این آر او ہو گیا ہے۔ مریم صفدر اگر سوشل میڈیا پر بہت فعال نہیں ہیں تو اسے بھی این آر او کا کمال بتایا جاتا ہے۔وزیر اعظم اور انکے ترجمان ان چیف فواد چوہدری
اتوار 28 اکتوبر 2018ء

ڈالرمہنگاکیا ہوا

اتوار 21 اکتوبر 2018ء
راوٗ خالد
ہمیشہ کی طرح گھر سے دفتر کے لئے روانہ ہونے کوتھا کہ بڑے صاحبزادے نے ماں سے سوپ کی فرمائش کر دی۔ چھٹی کا پورا دن میرے ساتھ ونڈو شاپنگ کرنے، گھومنے باہر کھانا کھانے میں گزارا ‘گھر کی چیزوں سے بے فکر بیگم صاحبہ کو ورکنگ ڈے پر یاد آیا کہ کھانے پکانے کا سامان تو ختم ہو چکا ہے۔وہی پرانی کھچ کھچ شروع، جو میں ہی کرتا ہوں ۔کل سارا دن گھر پہ تھا، باہر گھنٹوں گھومتے رہے بتا دیتیں خرید لیتے۔اور وہی پرانا جواب، آج کے لئے تو ہے لیکن سوپ بنانے کی چیزیں تو لانے والی
مزید پڑھیے


انصاف بنام عدلیہ

اتوار 14 اکتوبر 2018ء
راوٗ خالد
جس نظام کا ڈھانچہ جھوٹ اور بد دیانتی پر مبنی ہو وہ کیسے انصاف کرے گا، چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے یہ بات گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اسی روز ایک مقدمے کی سماعت کے دوران انہوں نے ججوں کے احتساب کے آغاز کا اعلان بھی کیا اور اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ہمارا نظام عدل بر وقت فیصلہ کرنے میں ناکام رہتا ہے۔اگر کوئی فیصلہ ہو بھی جائے تو اسے ضبط تحریر میں لانے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ انہوں نے لاہور ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں کی کارکردگی پر
مزید پڑھیے


خزانہ خالی ہے!

جمعه 12 اکتوبر 2018ء
راوٗ خالد
حکومت کو خود پتہ نہیں ہے یا وہ وضاحت نہیں کر پا رہی۔ اتنے بڑے بڑے دعووئوں کے بعد کہ اگر آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا تو خود کشی کو ترجیح دیں گے۔عمران خان کی حکومت ہر محاذ پر خصوصاً کرپٹ لوگوں کی گرفتاری پر پوری آواز کے ساتھ بول رہی ہے لیکن اس مسئلے پر گنگ سی ہو کر رہ گئی ہے۔اس بارے میں جتنی طویل خاموشی ہو گی اتنی ہی جلدی عوام میں پزیرائی میں کمی واقع ہو گی۔اللہ بھلا کرے میاں نواز شریف کا جنہوں نے حکومت کی مشکل کسی طور آسان کر دی۔ وہ
مزید پڑھیے


زرداری ،کیا واقعی سب پر بھاری؟

اتوار 07 اکتوبر 2018ء
راوٗ خالد
محترم آصف علی زرداری کی سیاسی سوجھ بوجھ سے زیادہ لوگ انکی سیاسی چالوں سے متاثر ہیں۔ انکے بارے میں یہ خو ش گمانی انکی جماعت کے اندر اور خطرہ دوسری سیاسی جماعتوں میں ہر وقت محسوس کیا جاتا ہے کہ وہ کسی وقت بھی بازی پلٹ سکتے ہیں۔بلکہ پیپلز پارٹی تو ببانگ دہل نعرہ لگاتی ہے؛ ایک زرداری سب پر بھاری۔ میں جس آصف علی زرداری کو جانتاتھاوہ دوستی اور دشمنی دونوں میں کسی حد تک بھی جا سکتا ہے۔ سودے بازی اسکے مزاج کا حصہ کبھی نہیں تھی۔ اور اگر کسی سے سیاسی اختلاف بھی ہے تو پوری زندگی
مزید پڑھیے




امریکہ سے تجدید تعلقات

جمعرات 04 اکتوبر 2018ء
راوٗ خالد
جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہونگے تو امریکہ میں ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پاک امریکہ تجدید تعلقات کے اجلاس کر چکے ہونگے اور امید ہے اس بارے میں ساری اطلاعات ایک آدھ دن میں مل جائیں گی کہ تجدید تعلقات کی کوششیں کس سمت جا رہی ہیں۔لیکن تجدید تعلقات کیوں؟امریکہ کے ایک فون پر بچھ جانے والاجنرل مشرف کا پاکستان،سرد جنگ میں امریکہ کو روس کے خلاف فتح دلانے والا جنرل ضیاء کا پاکستان اور اس سے پہلے جنرل ایوب کا پاکستان جسےmost allied of the ally کہا جاتا تھا۔آخر ایسا کیا ہوا کہ تجدید تعلقات کی
مزید پڑھیے


نئی حکومت اور توقعات

اتوار 30  ستمبر 2018ء
راوٗ خالد
عمران خان نے ابھی وزیر اعظم کا حلف اٹھا کر مبارکباد وصول کرنا بھی شروع نہیں کی ہو گی کہ انہیں فوراً نیا پاکستان بنانے میں ناکامی کے طعنے ملنا شروع ہو گئے ۔یہ تمام وہ لوگ ہیں جو نہ تو نئے پاکستان پر یقین رکھتے ہیںبلکہ پرانے پاکستان کو بنانے اور اسی طرح رکھنے کے لئے وہ کسی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ ان مطالبات کو دیکھتے ہوئے بہت سے لطیفے اور سوشل میڈیا پر ڈرامائی قسم کی نئے پاکستان بننے کے حوالے سے طنز ومزاح سے بھر پور ویڈیوز بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ ان کو
مزید پڑھیے


سازشیں ہی سازشیں

جمعرات 27  ستمبر 2018ء
راوٗ خالد
وفاقی دارالحکومت میں آج سے اکتیس سال پہلے اکتوبر1987 ء جب قدم رکھا اور نئی نئی صحافت شروع کی تھی تو جنرل ضیاء کی حکومت تھی انکے اور وزیر اعظم محمد خان جونیجو کے درمیان سرد جنگ جاری تھی جو چند ماہ میںہی لڑائی میں تبدیل ہوگئی اور اوجھڑی کیمپ سانحے نے اسکو جلا بخشی۔ مئی 1988 میں جنرل ضیاء نے جونیجو حکومت بر طرف کر دی۔وہ خود بھی ڈھائی ماہ بعد طیارے کے حادثے میں مارے گئے۔اس طرح ملک سے طویل ترین ڈکٹیٹرشپ کا خاتمہ ہوا لیکن جو سیاسی پسمامندگان وہ چھوڑ گئے انہوں نے سازشوں کے علاوہ کچھ
مزید پڑھیے


خارجہ امور

اتوار 23  ستمبر 2018ء
راوٗ خالد
اقتصادی معاملات کے بعد نئی حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج بین ا لاقوامی تعلقات ہیں۔ابتداء وزیر اعظم کے حالیہ دورہ سعودی عرب اور یو اے ای سے کرتے ہیں۔ اس دورے کے بعدسعودی عرب بہت بڑی سرمایہ کاری کے ساتھ سی پیک کا حصہ بننے کے لئے راضی ہو گیا ہے۔اس مقصد کے لئے فالو اپ دورہ کے لئے اعلیٰ سطحی سعودی وفد دو ہفتوں میں پاکستان آ رہا ہے۔چین کو بھی خطے کے ممالک کا اس ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا حصہ بننے پر کبھی اعتراض نہیں رہا ہے ۔خطے کے ممالک کی اگر بات کریں
مزید پڑھیے


ڈیم اور سیاست

جمعرات 20  ستمبر 2018ء
راوٗ خالد
اس وقت ملک میں پانی کی قلت کے حوالے سے بحث اور ڈیموں کی تعمیر کی ضرورت کے بارے جس قدر شدت سے بات چیت ہو رہی ہے شاید پاکستان کی تاریخ میں کبھی اس طرح اس پہلو سے اتنے گھمبیر معاملے کو کبھی نہ دیکھا گیا نہ سوچا گیا۔ ہاں یہ ضرور ہوتا رہا کہ سیاست چمکانے کے لئے کالا باغ ڈیم کوتختۂ مشق ضرور بنایا جاتا رہا۔ کبھی کسی سیاسی جماعت نے ووٹ لینے کے لئے اس ایشو کی بجھی ہوئی راکھ میں سے چنگاری ڈھونڈ کر آگ بھڑکائی اور کبھی کسی ڈکٹیٹر نے اپنے اقتدار کو طول
مزید پڑھیے