BN

رعایت اللہ فاروقی



"دلچسپ !"


زمانہ طالب علمی میں اگر ایک جانب اپنے ساتھ یہ ظلم کیا تھا کہ اسباق میں سوائے ان کتب کے کسی کتاب کے سبق میں دلچسپی نہ لی جو اپنے والد سے پڑھیں تو دوسری جانب اسی زمانے میں دو اچھے کام بھی کئے۔ ایک یہ کہ فلمیں دبا کر دیکھیں۔ اور دوسرا یہ کہ ناولز اور غیر نصابی کتب بے شمار پڑھ ڈالیں۔ قریب تھا کہ "مغربی لنڈا" بیچنے والا لبرل بن جاتا مگر خدا کی شان کہ جب درس نظامی سے فارغ ہو کر اپنے حصے کے گل کھلانے کو عملی زندگی سے روبرو ہونے کو تھا تو
هفته 12 اکتوبر 2019ء

بچے اور اچھی عادات

منگل 08 اکتوبر 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بچوں کی عادتیں ہم خود بگاڑتے ہیں اور جب وہ بگڑی عادتیں ان کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہیں تو پھر ہم ان کی "اصلاح" شروع کر دیتے ہیں۔ بہتر نہیں کہ شروع سے ہی بہتر عادتیں ڈالی جائیں ؟ مثلا آپ یہی دیکھ لیجئے کہ شیر خوار بچے کو ہم غیر ضروری طور پر گود میں اٹھانے لگتے ہیں۔ اب بچہ تو اس عمر میں بھی اس عمر کے تقاضے جتنی ذہانت رکھتا ہے۔ چنانچہ بہت جلد وہ یہ جان جاتا ہے کہ گود سے بڑی کوئی عیاشی نہیں۔ یوں وہ بار
مزید پڑھیے


"تعریف کا حق"

هفته 05 اکتوبر 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
وزیر اعظم عمران خان کی اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر پر کچھ دلچسپ چٹکلے اپنی جگہ مگر تقریر کے بھرپور مؤثر ہونے سے انکار ممکن نہیں۔ از راہ تفنن ایک چٹکلہ اس رات میں نے بھی سوشل میڈیا پر چھوڑا کہ تقریر مولوی سے اچھی کون کر سکتا ہے مگر تقریر کا اثر تب زائل ہوکر رہ جاتا ہے جب مولوی صاحب چندے کی رسید بک نکال لیتے ہیں۔ مطلب اس کا یہ رہا کہ عمران خان ایک ایسے ملک کے وزیر اعظم ہیں جس کے سربراہ کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری عربوں سے
مزید پڑھیے


"علمی فرقے"

منگل 01 اکتوبر 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
ہمارے والد مولانا محمد عالم صاحب کی پیدائش 1935ء کی تھی۔ وہ بارہ برس کی عمر کو پہنچے تو اس خطے میں برٹش راج کا سورج غروب ہورہا تھا اور ہر طرف کامرانی کی پرجوش کیفیت تھی۔ گویا ان کا بچپن، لڑکپن اور نوجوانی اس عرصے کی تھی جب برطانیہ ہی نہیں اس کی خوبیاں بھی نفرت کی علامت تھیں، کہ آزاد فکر قابض فورس کی خوبیاں بھی پسند نہیں کرسکتی۔ انسانی فکر میں اس کے بچپن، لڑکپن اور نوجوانی کا ہی سب سے زیادہ عمل دخل ہوتا ہے۔ سو میرے والد کی فکر میں انگریزیت سے نفرت ایسی رچی
مزید پڑھیے


دینداری کے معیارات

هفته 28  ستمبر 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
1993ء میں مجھے کراچی میں سعودی عرب سے آنے والے دو کشمیری نوجوانوں کی میزبانی کا موقع ملا۔ ان کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے تھا اور وہ پہلی بار پاکستان آئے تھے۔ براستہ سعودی عرب آنے والے وہ کشمیری نوجوان کراچی ایئرپورٹ کے ارائیول لاؤنچ سے باہر آئے تو بہت پرجوش تھے۔ ان کی دلی حالت ان کے چہروں سے عیاں تھی۔ ابتدائی گفتگو میں ہی اندازہ ہوگیا کہ وہ پاکستان نہیں بلکہ کسی مقدس خانقاہ میں آئے ہیں۔ کوئی بعید نہیں کہ سعودی عرب سے چلے بھی وضوء کرکے ہوں۔ ہم گاڑی میں بیٹھے اور ایئرپورٹ سے روانہ ہوئے
مزید پڑھیے




ڈائٹ اور تجدید ایمان

بدھ 25  ستمبر 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
یہ کرامت بھی صرف مولوی کے ہاں ہی ملتی ہے کہ چائے پیش کیجئے تو وہ جیب سے سکرین کی ڈبیا نکال لیتا ہے کہ ڈاکٹر نے چینی سے پرہیز کا کہا۔ اسی مولوی کے آگے حلوہ یا کوئی بھی میٹھی ڈش رکھدیجئے اور پھر دیکھئے تماشا۔ نتیجہ یہ کہ جلد اپنے ڈاکٹر سے رجوع فرماتے ہیں کہ شوگر تو نیچے آنے کا نام نہیں لے رہی۔ ڈاکٹر پوچھتا ہے"میٹھے سے پرہیز جاری ہے نا ؟"وہ فورا جیب میں ہاتھ ڈال کر سکرین والی ڈبیا نکال کر ثابت بھی کردیتے ہیں کہ جی ہاں پرہیز جاری ہے۔ دراصل مولوی یہ
مزید پڑھیے


"شخصی ترقی کا تصور"

هفته 21  ستمبر 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
سمجھداری جب حد سے بڑھ جائے تو حماقت سے بھی بدتر شئی وجود میں آجاتی ہے اور اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری موجودہ نوجوان نسل میں سمجھداری حد سے بڑھنے لگی ہے۔ اس کے سامنے مقابلے کا ایک ایسا مصنوعی چیلنج رکھدیا گیا ہے جس میں اسے نوکری کا مقابلہ درپیش ہے اور مقابلہ بھی اپنے دوستوں سے ہی ہے۔ اسے دوستوں کو نیچا دکھانا ہے اور انہیں پیچھے چھوڑنا ہے۔ پھر حد یہ ہے کہ اس عمل کو وہ "ترقی" بھی سمجھتا ہے حالانکہ یہ ایک بدتر زوال سے زیادہ کچھ نہیں۔ آگے بڑھنے اور دوستوں
مزید پڑھیے


’’مذاکرات کا مستقبل‘‘

منگل 17  ستمبر 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
مذاکرات اگر ایک ہی ریاست کی حکومت اور اپوزیشن کے مابین ہوں تب بھی ایسا کم کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ بلا تعطل مذاکرات جاری رہیں اور کسی ڈیڈلاک کی نوبت نہ آئے۔ ڈیڈلاک بھی آتے ہیں، مذاکرات تعطل کا بھی شکار ہوتے ہیں۔ لیکن وہ میزیں ایک بار پھر سجتی ہیں جہاں کڑیوں سے کڑیاں جوڑ کر نتائج تک پہنچنے کی کوششیں ہوتی ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ تعطل ہمیشہ اس فریق کی جانب سے آتا ہے جس کی گردن پھنسی ہو۔ اگر یہ ایک ریاست کے اندرونی مذاکرات ہوں اور اپوزیشن کی پوزیشن مظبوط
مزید پڑھیے


دوحہ سے فرار

جمعرات 12  ستمبر 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
مذاکرات کا نواں دور شروع ہونے سے کچھ ہی قبل طالبان امیر ملا ہیبت اللہ کے بھائی کو قتل کروانے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے سینہ کوبی کرتے ہوئے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مذاکرات کے آخری مراحل میں اس درجہ ہائی ویلیو ٹارگٹ کو صدر کی منظوری کے بغیر نشانہ نہیں بنایا جاسکتا۔ امریکیوں کو یقین رہا ہوگا کہ یہ اقدام طالبان کو مذاکرات سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردے گا، جس سے نظر تو وہ امن گریز قوت کے طور پر آئیں گے جبکہ ضرورت امریکہ کی پوری ہوجائے گی۔ مگر طالبان نے مذاکرات سے فرار کی
مزید پڑھیے


مقصد حیات

جمعه 06  ستمبر 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
چلئے گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کے معاملے کو قدرے گہرائی میں جا کر سمجھتے ہیں۔ انسان کا مقصد حیات کیا ہے ؟ یہ وہ سوال ہے جو انسانی فطرت نے ہمیشہ اٹھایا ہے اور جب بھی اٹھایا ہے خود انسانی جبلت اس سے پریشان ہوئی ہے۔ یہ اتنا بنیادی سوال ہے کہ انسانی شعوری عمر کے ہر زمانے میں موجود رہا ہے۔ انسان نے جتنی بھی علمی ترقی کی یہ سوال اتنا ہی مضبوط ہوتا چلا گیا۔ اس سوال کی اپنے ہی عہد میں کار فرمائی دیکھئے کہ اسلام سب سے تیز رفتاری سے سب سے ترقی یافتہ معاشروں
مزید پڑھیے