BN

رعایت اللہ فاروقی



مکتوب نگاری


نائی کی دکان میں اچانک داخل ہونے والا مجذوب گویا ہوا: ’’مجھے خط لکھوانا ہے !‘‘ بال تراشتے جاوید صاحب، بال رنگوائے بیٹھے پروفیسر انیس زیدی اور انتظاری نشست سنبھالے مجھ سمیت سب ہی کچھ دیر کے لئے سناٹے کے زیر اثر آگئے۔ شاید اس مجذوب نے ہم میں سے ہر شخص کو آن واحد میں اس زمانے کی جانب لوٹا دیا تھا جب اپنی بات کسی عزیز تک پہنچانے کے لئے خط اور تار والا فون ہی کل عوامی ذرائع اتصالات ہوا کرتے۔ تب ناخواندہ مرد و زن خط لکھوانے کو کسی پڑھے لکھے کے پاس جایا کرتے۔ وہ اپنے خط
هفته 16 فروری 2019ء

سوشل میڈیا

منگل 12 فروری 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
ہماری ماضی قریب کی تاریخ میں قیدوبند اور قربانیوں کا ذکر بکثرت ملتا ہے۔ قید و بند اور قربانیوں کا یہ سلسلہ تحریک آزادی سے شروع ہوکر مشرف دور تک آتا ہے۔ اس حوالے سے ایک قابل غور بات یہ ہے کہ تحریک آزادی کے کئی اہم رہنماء سیاسی جدوجہد کے ساتھ ساتھ صحافتی محاذ بھی سنبھالے رہے۔ ان میں مولانا محمد علی جوہر، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا ظفر علی خان اور آغا شورش کاشمیری خاص طور پر بہت نمایاں ہیں۔ یوں برصغیر کی صحافت اور سیاست کا باہمی ربط من تو شدم تو من شدی کی حد تک اپنی
مزید پڑھیے


لبرل ڈیموکریسی کا چورن !

هفته 09 فروری 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
امریکہ وہ ملک ہے جہاں آج بھی عورت اس نام نہاد جنسی مساوات کی تلاش میں ہے جس کا امریکہ سب سے زیادہ پروپیگنڈہ کرتا ہے۔ حالت یہ ہے کہ اگر ٹاپ لیول پر دیکھا جائے تو امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں خواتین کی نمائندگی کچھ یوں ہے کہ 435 سیٹس والے ایوان نمائندگان اور 100 سیٹس والی سینیٹ میں خواتین کی نمائندگی 20، 20 فیصد ہے۔ دونوں ہی ایوانوں میں 20 فیصد جیسی فکسڈ تعداد صاف بتا رہی ہے کہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اس تعداد کو متعین کیا گیا ہے ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ
مزید پڑھیے


طالبان کا اصل امتحان

منگل 05 فروری 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
افغانستان میں امریکی شکست اور عالمی و علاقائی سیاست پر مرتب ہونے والے اس کے اثرات کا تمامتر دارومدار طالبان کے رویے پر ٹھہرا ہے۔ امن کی طرف ہونے والی پیش رفت ان کی فہم و فراست کا کڑا امتحان ہے۔ میں اسے ان کی فہم و فراست کا کڑا امتحان دو وجوہات کے تحت سمجھتا ہوں۔ پہلی یہ کہ روسی انخلاء کے بعد افغان مجاہدین نے جب کابل فتح کیا تو وہ اسے پر امن نہ رکھ سکے۔ یہ تاثر پہلے قائم اور پھر مستحکم ہوا کہ افغان مجاہدین گفتگو سے زیادہ بندوق پر یقین رکھتے ہیں۔ چنانچہ گفتگو
مزید پڑھیے


اقبال کے بے تیغ سپاہی !

هفته 02 فروری 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
سپر طاقتوں کا سب سے بڑا تکبر یہ ہوتا ہے کہ یہ خود کو "ناقابل شکست" سمجھتی ہیں۔ جن لوگوں نے سوویت یونین کا دور دیکھ رکھا ہے انہیں یاد ہوگا کہ اس سپر طاقت کی فوج سے متعلق یہ جملہ عالمی سطح پر زبان زد عام تھا "ریڈ آرمی کبھی واپس نہیں ہوتی" اس جملے کا مطلب یہ تھا سرخ فوج ناقابل شکست ہے، وہ اپنی تاریخ کے دوران جب بھی کسی علاقے میں گھسی مشن مکمل کرکے چھوڑا۔ ریڈ آرمی کی اس تاریخ کے سبب سوویت فوج کا مغرب میں بھی شدید خوف پایا جاتا تھا۔ مگر خدا
مزید پڑھیے




اب منظور پشتین کی کفالت کون کرے گا ؟

منگل 29 جنوری 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
برصغیر سے برٹش انخلا کا وقت آیا تو طے یہ پایا کہ تقسیم ہونے والے دیگر علاقوں کے برخلاف اس صوبے میں بذریعہ ریفرینڈم عوام سے پوچھ لیا جائے کہ وہ بھارت کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ۔ اس ریفرنڈم کے نتیجے میں جہاں اس بات کا امکان تھا کہ شہری دونوں مجوزہ ممالک میں سے کسی ایک کے ساتھ جانے کا فیصلہ کر سکتے ہیں وہیں ایک امکان یہ بھی تھا کہ شہری ریفرنڈم کا مکمل بائیکاٹ کردیں جو اس بات کا اظہار ہو کہ ہم برصغیر کے حصے کے طور پر تقسیم ہونے کو ہی
مزید پڑھیے


کابل کا وظیفہ خوار

هفته 26 جنوری 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
کل شب کسی نیوز چینل پر کراچی میں منعقد ہونے والے ایک سیاسی سیمینار کے ٹکر دیکھنے کو ملے۔ ٹکرز کے مطابق مقررین نے باچا خان اور ان کے فرزند خان عبدالولی خان مرحوم کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا کہ ایسے فرزندان حر صدیوں میں پیدا ہوا کرتے ہیں۔ مقررین نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ان دونوں رہنماؤں کی خدمات کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی کیونکہ وہ تاریخی طور پر ناقابل فراموش ہیں۔ ان ارشادات کے پس منظر میں ایک معصوم سا سوال ہے کہ باچا خان اور ان کے فرزند کی "خدمات"
مزید پڑھیے


جنریشن گیپ !

هفته 19 جنوری 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
آپ نے "جنریشن گیپ" کا لفظ تو سن رکھا ہوگا۔ جب اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے تو ساتھ ہی "نئی نسل" کا لفظ بھی سننے کو ملتا ہے۔ ایک بچہ پیدا ہوتا ہے اور وہ بیس برس کی عمر کو پہنچتا ہے تو یہ اکائی نئی نسل کے طور پر اپنی فملی میں باقاعدہ درج ہو جاتی ہے۔ پھر خاندان میں یہ گروپ خاندان کی نئی نسل ہوتا ہے اور اسی طرح یہ قبیلے، صوبے اور قومی سطح پر نئی نسل قرار پاتا ہے۔ چونکہ بڑی سطح پر دو الگ نسلوں کو گننا ممکن نہیں ہوتا چنانچہ اس سطح
مزید پڑھیے


تخلیقی بچے اور دینی مدارس

منگل 08 جنوری 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
کسی بھی دوسرے نظام تعلیم کی طرح مدارس میں پڑھنے والے طلباء کی بھی تین کٹییگریز ہوتی ہیں ایک وہ جو ہمیشہ اے (ممتاز) گریڈ لیتے ہیں اور دوسرے وہ جو سی (مقبول) گریڈ لیتے ہیں جبکہ تیسرے وہ جو ان دونوں کے بیچ میں پائے جاتے ہیں اور تعداد میں غالب اکثریت ہوتے ہیں۔ اے گریڈ والے وہ ہوتے ہیں جو ہر وقت اپنی تعلیم میں مشغول نظر آتے ہیں اور غیر نصابی سرگرمیوں سے دور رہتے ہیں۔ انہیں مدرسے کے ذہین ترین طلباء شمار کیا جاتا ہے اور یہ سب کی آنکھ کا تارا ہوتے ہیں۔ اس کے
مزید پڑھیے


درس نظامی کا سقم !

هفته 05 جنوری 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
بہت دردناک تھا یہ احساس کہ تعلیم کے نام پر جو کچھ میں حاصل کر رہا ہوں یہ مجھے صرف اس لائق بنائے گا کہ میں کسی مسجد میں امامت کر سکوں اور وہاں کچھ کھانستے بوڑھے صرف اس لئے میری تذلیل کرسکیں کہ وہ اپنی اولاد پر کنٹرول کھو چکے ہیں اور ان کے پاس اپنی بھڑاس نکالنے کے لئے 1400 روپے تنخواہ والے امام مسجد کے سوا کوئی سافٹ ٹارگٹ نہیں۔ اور امام اس خوف کے سبب یہ ذلت برداشت کرتا جائے کہ اگر اس نے اْف کی تو اگلے ہی لمحے مسجد سے نکال دیا جائے گا
مزید پڑھیے