BN

رعایت اللہ فاروقی



بین المکاتب سیرت کانفرنس


بر صغیر پاک ہند میں فرقہ واریت کی موجودہ شکل انگریز لے کر آئے تھے۔ اس واردات کے ذریعے انہوں نے بھائیوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنا کر تقسیم کیا جس سے ان کے خلاف مزاحمت کمزور ہوئی۔ اس فرقہ واریت میں دیوبندی اور بریلوی ایک دوسرے کے حریف رہے جبکہ اہلحدیثوں کا وزن دیوبندیوں کے پلڑے میں ہی رہا۔ قیام پاکستان کے بعد 1980ء تک تو لگ بھگ یہی صورتحال رہی مگر جب ایران کی مذہبی حکومت نے اپنا انقلاب پڑوسی ممالک کو ایکسپورٹ کرنا شروع کیا تو دیوبندی بریلوی اختلاف پس منظر میں چلا گیا اور شیعہ
جمعرات 31 اکتوبر 2019ء

ترقی سے بغاوت

اتوار 27 اکتوبر 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
دبئی میں بیٹھے ایک قوم پرست پشتون نے پچھلے کالم پر ردعمل دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سوویت دور میں افغانستان اتنا ترقی یافتہ تھا کہ وہاں خلائی تحقیق کا ادارہ بھی قائم تھا اور عبدالاحد نامی ایک پختون وہ پہلا شخص تھا جس نے خلا میں پشتو بولی تھی۔ جس طرح یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس نے خلا میں پشتو مکالمہ کس سے کیا ہوگا ؟ اسی طرح یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہوں کہ خلا میں پشتو بولنے سے پشتون تو چھوڑیں خود پشتو زبان کو کیا فائدہ ہوا ؟ کیا اس کے حروف تہجی
مزید پڑھیے


علاقائی موسیقی اور قوم پرست

بدھ 23 اکتوبر 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
قوم پرست حقائق کو کس بے رحمی سے مسخ کرتے ہیں اس کا اندازہ اس سے لگا لیجئے کہ پاکستان کے چاروں صوبوں کی موسیقی کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ نتیجہ پیش کیا پنجاب کی موسیقی بلندی کی جانب سفر کر رہی ہے جبکہ دیگر تین صوبے اس میدان میں زوال پذیر ہیں۔ خالصتاً موسیقی پر لکھی گئی اس تحریر پر رد عمل دیتے ہوئے ایک پختون قوم پرست نے فرمایا… "اگر میں یہ کہوں کہ پنجاب اور پنجاب کی موسیقی کو روز اول سے ریاستی سرپرستی حاصل تھی، غلط نہیں ہوگا اور بچپن سے ہی سرکاری ٹی وی پر ہمیں
مزید پڑھیے


مسئلہ کشمیر اور ہمارے قوم پرست

اتوار 20 اکتوبر 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
آپ سوشل میڈیا پر کشمیر کا ذکر چھیڑیئے تو پختون یا بلوچ قوم پرسست فورا ً وزیرستان یا بلوچستان کا ذکر لے بیٹھیں گے۔ ایسے میں سوال تو بنتا ہے کہ کشمیر کے ذکر پر بلوچستان کا حوالہ دینا بھارت کا چلن ہے، آپ بھارت کی زبان کب سے اور کیوں بولنے لگے ؟ آپ کا بھارت سے رشتہ کیا ہے ؟ کیا یہ رشتہ جغرافیائی ہے ؟ کیا اس تعلق کی نوعیت مذہبی ہے ؟ یا پھر آپ اکھنڈ بھارت کے پرچارک ہیں ؟ اگر ایسا کچھ نہیں تو پھر کہنے دیجئے کہ یہ اس خطے میں جاری مفادات
مزید پڑھیے


’’ایک قوم پرست کا انجام‘‘

منگل 15 اکتوبر 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
ہر نسل پرست و قوم پرست تحریک کا حتمی مرحلہ تشدد اور دہشت گردی ہوا کرتا ہے۔ ہمارے ہاں پانچ نسل پرست تحریکیں اٹھیں پہلی پختون، دوسری بلوچ، تیسری مہاجر، چوتھی سندھی اور پانچویں سرائیکی نسل پرست تحریک۔ ان میں سے پہلی تین کو باقاعدہ تحریک بننے کا موقع ملا سو ان تینوں نے ملکی تاریخ کی بڑی خونریزیاں انجام دی ہیں، سندھی نسل پرستوں نے بھی دہشت گردی کی راہ اختیار کی لیکن انہیں کچلنا بہت ہی آسان رہا، کسی بڑی فوج کشی کے بجائے انہیں خفیہ انٹیلی جنس آپریشنز میں ہی نمٹایا جاتا رہا ہے۔ سرائیکی نسل پرست
مزید پڑھیے




"دلچسپ !"

هفته 12 اکتوبر 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
زمانہ طالب علمی میں اگر ایک جانب اپنے ساتھ یہ ظلم کیا تھا کہ اسباق میں سوائے ان کتب کے کسی کتاب کے سبق میں دلچسپی نہ لی جو اپنے والد سے پڑھیں تو دوسری جانب اسی زمانے میں دو اچھے کام بھی کئے۔ ایک یہ کہ فلمیں دبا کر دیکھیں۔ اور دوسرا یہ کہ ناولز اور غیر نصابی کتب بے شمار پڑھ ڈالیں۔ قریب تھا کہ "مغربی لنڈا" بیچنے والا لبرل بن جاتا مگر خدا کی شان کہ جب درس نظامی سے فارغ ہو کر اپنے حصے کے گل کھلانے کو عملی زندگی سے روبرو ہونے کو تھا تو
مزید پڑھیے


بچے اور اچھی عادات

منگل 08 اکتوبر 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بچوں کی عادتیں ہم خود بگاڑتے ہیں اور جب وہ بگڑی عادتیں ان کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہیں تو پھر ہم ان کی "اصلاح" شروع کر دیتے ہیں۔ بہتر نہیں کہ شروع سے ہی بہتر عادتیں ڈالی جائیں ؟ مثلا آپ یہی دیکھ لیجئے کہ شیر خوار بچے کو ہم غیر ضروری طور پر گود میں اٹھانے لگتے ہیں۔ اب بچہ تو اس عمر میں بھی اس عمر کے تقاضے جتنی ذہانت رکھتا ہے۔ چنانچہ بہت جلد وہ یہ جان جاتا ہے کہ گود سے بڑی کوئی عیاشی نہیں۔ یوں وہ بار
مزید پڑھیے


"تعریف کا حق"

هفته 05 اکتوبر 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
وزیر اعظم عمران خان کی اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر پر کچھ دلچسپ چٹکلے اپنی جگہ مگر تقریر کے بھرپور مؤثر ہونے سے انکار ممکن نہیں۔ از راہ تفنن ایک چٹکلہ اس رات میں نے بھی سوشل میڈیا پر چھوڑا کہ تقریر مولوی سے اچھی کون کر سکتا ہے مگر تقریر کا اثر تب زائل ہوکر رہ جاتا ہے جب مولوی صاحب چندے کی رسید بک نکال لیتے ہیں۔ مطلب اس کا یہ رہا کہ عمران خان ایک ایسے ملک کے وزیر اعظم ہیں جس کے سربراہ کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری عربوں سے
مزید پڑھیے


"علمی فرقے"

منگل 01 اکتوبر 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
ہمارے والد مولانا محمد عالم صاحب کی پیدائش 1935ء کی تھی۔ وہ بارہ برس کی عمر کو پہنچے تو اس خطے میں برٹش راج کا سورج غروب ہورہا تھا اور ہر طرف کامرانی کی پرجوش کیفیت تھی۔ گویا ان کا بچپن، لڑکپن اور نوجوانی اس عرصے کی تھی جب برطانیہ ہی نہیں اس کی خوبیاں بھی نفرت کی علامت تھیں، کہ آزاد فکر قابض فورس کی خوبیاں بھی پسند نہیں کرسکتی۔ انسانی فکر میں اس کے بچپن، لڑکپن اور نوجوانی کا ہی سب سے زیادہ عمل دخل ہوتا ہے۔ سو میرے والد کی فکر میں انگریزیت سے نفرت ایسی رچی
مزید پڑھیے


دینداری کے معیارات

هفته 28  ستمبر 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
1993ء میں مجھے کراچی میں سعودی عرب سے آنے والے دو کشمیری نوجوانوں کی میزبانی کا موقع ملا۔ ان کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے تھا اور وہ پہلی بار پاکستان آئے تھے۔ براستہ سعودی عرب آنے والے وہ کشمیری نوجوان کراچی ایئرپورٹ کے ارائیول لاؤنچ سے باہر آئے تو بہت پرجوش تھے۔ ان کی دلی حالت ان کے چہروں سے عیاں تھی۔ ابتدائی گفتگو میں ہی اندازہ ہوگیا کہ وہ پاکستان نہیں بلکہ کسی مقدس خانقاہ میں آئے ہیں۔ کوئی بعید نہیں کہ سعودی عرب سے چلے بھی وضوء کرکے ہوں۔ ہم گاڑی میں بیٹھے اور ایئرپورٹ سے روانہ ہوئے
مزید پڑھیے