BN

رعایت اللہ فاروقی



’’رشتوں کی حرارت‘‘


ہمارے ذاتی تجربات سے بڑی سیکھ شاید ہی کوئی چیز مہیا کرتی ہو۔ اور عملی تجربہ ایسی چیز ہے جو پڑھے لکھے اور ان پڑھ کا ایک جیسا اہم ہے۔ فرق بس شاید اتنا ہی ہو کہ پڑھا لکھا شخص اپنے تجربات کا تجزیہ علمی بنیاد پر کرنے کی سہولت سے بھی آراستہ ہوتا ہے ورنہ نتائج دونوں ہی کے تجربات کے شاید ایک جیسے ہوں۔ میرے لئے زندگی کے بعض موڑ اس لحاظ سے بہت اہم ثابت ہوئے کہ ان کے متعلق کتابی تصورات کچھ اور تھے جبکہ عملا کچھ اور ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ ممکن ہے
هفته 20 اکتوبر 2018ء

ضمنی انتخاب ،کیا کھویا کیا پایا

منگل 16 اکتوبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
عام انتخابات کے موقع پر کئی قومی و صوبائی حلقے ایسے ہوتے ہیں جہاں کسی نہ کسی وجہ سے انتخاب ملتوی ہوجاتا ہے۔ کسی امیدوار کی ناگہانی موت، کسی امیدوار کے خلاف آنے والا عدالتی فیصلہ، الیکشن کے موقع پر متعلقہ حلقے میں کسی بڑے فساد یا پھر دھاندلی کی کسی بڑی شکایت سمیت کوئی بھی وجہ کسی بھی حلقے میں الیکشن کے التوا کا باعث بن جایا کرتی ہے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں ایسے حلقوں کی تعداد 41تھی جہاں عام انتخابات والے روز پولنگ نہیں ہوپائی تھی۔ ان حلقوں میں 22 اگست 2013ء کو ملکی تاریخ کا سب
مزید پڑھیے


’’تبدیلی اور مسلم ذہن‘‘

هفته 13 اکتوبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
اس بات میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ علم اور شعور کی ترقی معاشرتی ترقی کو جنم دیتی ہے جسے سادہ لفظوں میں ارتقاء کہتے ہیں۔ چنانچہ انسانی زندگی کا جتنا پیچھے جا کر مشاہدہ کیا جائے نظر یہ آتا ہے کہ آثار قدیمہ اور تاریخ کی پرتوں میں سماج کے عجیب و غریب ادوار پوشیدہ پڑے ہیں۔ انہی ادوار میں سے ایک دور موہنجودوڑو اور مصری تہذیب و تمدن کا ہے تو ایک دور وہ بھی ہے جو ’’پتھر کا دور‘‘ قرار دیا جاتا ہے اور اس سے بھی پیچھے ایک غاروں کا دور بھی کہیں مدفون ہے۔
مزید پڑھیے


مصنف و کتاب اور زچہ و بچہ

منگل 09 اکتوبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
میں ایک ایسے عالم دین کا بیٹا ہوں جن کی یہ سوچی سمجھی رائے تھی کہ بچے کو سکول یا کالج کی تعلیم کے لئے بھیجنا گمراہ کن کام ہے کیونکہ ان اداروں میں بچے اخلاقی و دینی لحاظ سے برباد ہوتے ہیں۔ وہ معاشرے میں گھومتی پھرتی نوجوان نسل کی اخلاقی حالت بطور مثال پیش کیا کرتے تھے۔ چنانچہ اپنے بچوں کے لئے ان کی تعلیمی ترجیح مدرسہ تھا۔ ہم نو بھائی ہیں اور ہر بھائی مدرسے ہی کا پڑھا ہوا ہے۔ ہم امیر تو کیا متوسط طبقے سے بھی تعلق نہ رکھتے تھے، سو میرا بچپن انہی غریب
مزید پڑھیے


’’سچ کی بتی‘‘

اتوار 30  ستمبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
انسان کے پاس سب سے بیش قیمت چیز ’’خیال‘‘ ہے۔ یہ خیال ہی ہے جو انسان کو سماجی زندگی گزارنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ خیال ہی ہے جو کسی نثر کو شہ پارے کی حیثیت دلوا دیتا ہے۔ یہ خیال ہی ہے جو کسی شعر کے لئے مکرر ارشاد کے مطالبات بلند کروا دیتا ہے۔ یہ خیال ہی ہے جو سیاسی کوچوں میں ہنگامہ خیزی کا طوفان برپا کر دیتا ہے اور وہ بھی خیال ہی ہے جو لشکری طوفانوں کا رخ موڑ دیتا ہے۔ خیال کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ یہ انسان کے لئے
مزید پڑھیے




’’خدا کو منظور نہ تھا‘‘

منگل 25  ستمبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
نصیب یا قسمت وہ خدائی تقسیم ہے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے بندوں میں فرمادی ہے۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ بندہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے اور تقسیم میں سے اس کا حصہ اس تک پہنچ جائے۔ ہر محنت کا صلہ ہے اور محنت جتنی ہوگی صلہ اتنا ہی ہوگا۔ نصیب اور قسمت کے کھیل میں خدا کے ’’امر‘‘ اور بندے کی محنت دونوں ہی کا عمل دخل ہے۔ اگر غور کیجئے تو بات اسی نصف اختیار کی ہے جو بندے کو حاصل ہے اور جس کا باقی نصف خدا نے اپنے پاس رکھ لیا
مزید پڑھیے


’’بیوقوف، سمجھدار اور پاگل‘‘

بدھ 19  ستمبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
خرد کی زبان سے قدرتی آفات پر انسان کا سب سے بڑا دشمن ہونے کا الزام بارہا سنا ہوگا۔ اور یہ بھی دیکھا ہوگا کہ جب یہ الزام گونجتا ہے تو سننے والے پورے جوش و خروش کے ساتھ اس کی تصدیق میں سر ہلاتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اگر اصل حقیقت دیکھی جائے تو روح کانپ اُٹھتی ہے۔ چھ بڑی قدرتی آفات ، قحط، سیلاب، طوفان، زلزلہ، سونامی اور گرمی نے انسانی تاریخ میں جو بڑی تباہیاں مچائی ہیں اگر ان کے مجموعی عدد کو دیکھیں تو 10 کروڑ 28 لاکھ انسانوں کا قتل ان کے گلے پڑتا ہے،
مزید پڑھیے


’’علمی زوال‘‘

هفته 15  ستمبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
جب کسی معاشرے پر زوال آتا ہے تو ہر سطح پر آتا ہے، معاشرے کا کوئی ایک بھی طبقہ یا میدان ایسا نہیں ہوتا جو زوال کے آسیب سے خود کو بچا سکے ۔ تعلیم وہ واحد چیز ہے جو کسی معا شرے کو زوال کی پستی سے واپس اٹھا سکتی ہے ۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپان دو ایٹم بم کھا کر مسمار ہو چکا تھا یہ انسانی تاریخ کے دو مہلک ترین زخم تھے جو ایک قوم کو ایک ہی ہفتے میں لگے تھے۔ جاپانیوں کا حوصلہ زمین سے جا لگا تھا۔ کچھ ایسا ہی حال جرمنی کا
مزید پڑھیے


’’آج کا نوجوان، ایک سیاسی دہقان‘‘

منگل 11  ستمبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
مطالعہ اور مشاہدہ انسانی دل دماغ کو غور کا سامان مہیا کرتاہے ۔ اگر کوئی غور کرتا ہے تو یہ غور اس کے شعو ر کو پرواز عطاء کرتا ہے ، یہ پرواز جب بلندی پر پہنچتی ہے تو زندگی کے اسرار و رموز سے ہی آشنائی حاصل نہیں ہوتی بلکہ عالم امکان کے مناظر بھی کھلنا شروع ہوجاتے ہیں۔ تب انسان بیقرار ہو جاتا ہے اور باقی دنیا کو دکھتے مناظر اور آنے والے طوفانوں کی خبر کرتا ہے۔ لوگ نت نئے سوالات کرتے ہیں اور یہ فہم کو قبول جوابات دیتا ہے۔ پھر دھیرے دھیرے اس کا کہا
مزید پڑھیے


درس نظامی کا جمود

هفته 08  ستمبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
ہم سالہا سال سے یہ تماشا دیکھ رہے ہیں کہ حکومت ِ وقت مدارسِ عربیہ میں اصلاحات کا ایک شوشہ چھوڑتی ہے جواباََ کچھ سیاسی و نیم سیاسی علماء گھسے پٹے ڈائیلاگ بول دیتے ہیں اور معاملہ سٹیٹس کو کے سپرد ہو جاتا ہے۔ حکومت اس معاملے پر کسی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے اور نہ ہی علماء اپنی روایتی ڈگر چھوڑنے پر غور کرتے ہیں۔ کوئی اس حقیقت سے کیسے انکار کر سکتا ہے کہ ارتقاء فطرت کی تین بڑی صداقتوں میں سے ایک ہے، انسانیت نے اپنی پوری عمر میں ایسا ایک سیکنڈ بھی نہیں دیکھا جب ارتقاء
مزید پڑھیے