BN

رعایت اللہ فاروقی



انصاف سب کے لیے


یہ ۱۰۵؁ھ اور ولید ابن عبدالملک کا عہد تھا ، جب اسلامی فوجیں ثمرقند میں فاتحانہ داخل ہوئیں ۔ دیکھتے ہی دیکھتے ثمرقند اسلامی ریاست کا حصہ بنادیا گیا ، عدلیہ سمیت تمام محکمے وجود میں آ گئے ۔ ابھی مہینہ بھی نہ گزرا تھا کہ ثمرقند کے مقامی مذہبی پیشوا ،اسلامی عدالت کے رو برو پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ ثمرقند میں قا ئم ہونے والی اسلامی حکومت خود اسلامی قانون کی رو سے ہی ناجائز اور غیر قانونی ہے، لہذا عدالت اس حکومت کو ختم کر کے مسلم فاتحین کو ثمرقند سے نکل
اتوار 26  اگست 2018ء

’’اہل قلم کا ضمیر‘‘

هفته 18  اگست 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
ملک میں اقتدار کی منتقلی کے ایام ہیں۔ ان ایام میں وہ جماعت اور اس کے کارکن اب گھروں میں ہیں جنہوں نے چار سال تک قومی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کے لئے نظام زندگی کو مفلوج کئے رکھا۔ نہ انہوں نے کسی کو سکون سے کار و بار کرنے دیا، نہ بڑے پروجیکٹس کو بروقت مکمل ہونے دیا اور نہ ہی غیرملکی وفود کو اپنے شیڈول پر پاکستان پہنچنے دیا۔ ہم انہیں بہت سمجھاتے رہے کہ آپ کی ان حرکتوں سے مسلم لیگ نون کا نہیں ملک کا نقصان ہو رہا ہے۔ لیکن نچ بلیوں نے ہماری
مزید پڑھیے


’’چنگیزی ساس اور بیگم جان‘‘

بدھ 15  اگست 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
پچھلا کالم ’’بڈھا کھانستا بہت ہے‘‘ شادی کی عمر اور بچوں کی تعداد کے حوالے سے تھا۔ اس کالم میں آپ کے سامنے اپنے والد، اپنی اور اپنے بیٹے کی مثال رکھی تھی۔ یوں وہ کالم شادی کی عمر اور بچوں کی تعداد کے حوالے سے صرف مردانہ پہلو کو لئے ہوئے تھا۔ میں چاہتا ہوں زیر نظر کالم میں خواتین کے پہلو کا بھی احاطہ کر لیا جائے تاکہ تصویر مکمل ہوجائے۔ آپ پچھلے کالم میں جان چکے کہ میرے والد کی شادی 36 برس کی عمر میں ہوئی تھی اور میری پیدائش کے وقت ان کی عمر 37
مزید پڑھیے


’’بڈھا کھانستا بہت ہے !‘‘

هفته 11  اگست 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
ہمارے ہاں جو گھریلو مسائل سب سے زیادہ زیر بحث رہتے ہیں ان میں ایک تو یہ ہے کہ شادی کس عمر میں ہونی چاہئے اور دوسرا یہ کہ بچے کتنے اچھے ؟۔ دوسروں کی طرح اس حوالے سے مجھے بھی نوجوانی ہی سے بہت کچھ سننے اور پڑھنے کو ملا۔ ان میں بہت سے مغالطے تھے تو بہت سی کار آمد باتیں بھی تھیں لیکن عملاً مجھے بعض ایسے تجربات سے گزرنا پڑا جن میں سے بعض کا مجھ پر اور میری فیملی پر بہت خوشگوار اثر پڑا جبکہ بعض حوالوں سے بہت تکلیف دہ صورتحال کا بھی سامنا
مزید پڑھیے


’’قومی بقاء کی واحد ضمانت‘‘

منگل 07  اگست 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
’’مبارک ہو ! نیا پاکستان بن رہا ہے‘‘ ’’میں نئے پاکستان کا مخالف ہوں مجھے اس کی مبارکباد نہ دیجئے‘‘ ’’مخالف کیوں ہیں نئے پاکستان کے ؟‘‘ ’’مخالف اس لئے ہوں کہ 1971ء میں بھی نیا پاکستان بنانے کی کوشش ہوئی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد والا پاکستان قائد اعظم والا پاکستان تو نہ رہا۔ ایک بالکل ہی نیا پاکستان وجود میں آگیا جس کا نہ جغرافیہ پرانے پاکستان والا تھا، نہ آبادی پرانے پاکستان والی تھی اور نہ ہی اکائیاں پرانے پاکستان والی تھیں۔ اس سانحے نے اتنا ڈرا رکھا ہے کہ جب ایک بار پھر نئے پاکستان
مزید پڑھیے




’’ایک بڑا یو ٹرن‘‘

هفته 04  اگست 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
پی ٹی آئی کے ورکرز کو شکوہ ہے کہ خان صاحب کے معاملے میں ہم کوئی رعایت نہیں دیتے۔ حالانکہ بات فقط اتنی سی ہے کہ خان صاحب رعایت لینے کی گنجائش نہیں دیتے۔ ان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی کہی گئی کسی بھی بات پر قائم نہیں رہتے۔ ان کی اسی کمزوری کے سبب ان کے مخالفین نے ان کا نام ’’یوٹرن خان‘‘ بھی رکھدیا ہے جو اس لحاظ سے بہت بڑا گناہ بھی ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قران مجید میں واضح حکم کے ذریعے کسی کا نام بگاڑنے یا الٹا
مزید پڑھیے


’’قلم کی سولی‘‘

منگل 31 جولائی 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
الیکشن 2018ء آیا، ہوا اور گزر گیا۔2011ء سے میری رائے تھی کہ پی ٹی آئی ملک کے لیے سود مند ثابت نہیں ہوسکتی۔۔ 2018ء میں تحریک انصاف نے ملک بھر کے الیکٹ ایبلز کو اپنی جماعت میں جمع کردیا۔ یوں پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے الیکٹ ایبلز پی ٹی آئی میں جمع ہوئے اور امکان ہے کہ یہی ہم پر حکومت کریں گے۔ اب جبکہ اس جماعت کی حکومت بننے جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی سپورٹ کی جائے۔ آنے والی پارلیمان پر ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوئی ہے کہ وہ غور کرے کہ الیکشن میں ذمہ
مزید پڑھیے


’’کلبھوشن کی خیر نہیں !‘‘

هفته 28 جولائی 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
پی ٹی آئی کے سربراہ جناب عمران خان جلد وزیر اعظم پاکستان کا منصب سنبھالیں گے۔ ان کے دور کا پاکستان کیسا ہوگا اس حوالے سے کچھ باتوں کا تو یقین ہے جبکہ کچھ کے حوالے سے سوالات کا سامنا ہے۔ ان کے ابتدائی اقدامات ہی واضح کر دیں گے کہ یہ ملک ’’نیا پاکستان‘‘ بننے جا رہا ہے یا یہ بطور ’’پرانا پاکستان‘‘ ہی چلتا رہے گا۔ پرانے پاکستان میں تو بائیسویں گریڈ کا سرکاری افسر وزیر اعظم کو سلیوٹ کرتا تو اس سلیوٹ کے مناظر ٹی وی چینلز کے ذریعے قوم کو دکھانے کی اجازت نہ ہوتی۔ صرف
مزید پڑھیے


’’کٹھ پتلیاں یا عوامی نمائندے؟‘‘

منگل 24 جولائی 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
الیکشن مہم تمام ہوئی، اب کل وہ دن طلوع ہوگا جس کی شام یہ خبر لائے گی کہ کون جیتا، امپائر جو 2014ء سے اس دن کی تاک میں تھا۔ اس ملک میں امپائر اور عوام کا کبھی آمنا سامنا نہ ہوا۔ اور ایسا اس لئے نہ ہوپایا کہ ہاتھی کی طرح امپائر کے بھی دکھانے والے دانت الگ اور کھانے والے الگ ہیں۔ جب بھی عوام اس کے کھانے والے دانتوں کی جانب متوجہ ہوئے اس نے فورا دکھانے والے دانتوں کی نمائش شروع کردی۔ اور لوگ ان دانتوں کو دیکھ کر قدیم افریقی قبائل کی طرح سجدے میں
مزید پڑھیے


’’ہوا اکھڑ گئی ہے‘‘

هفته 21 جولائی 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
الیکشن سے عین بارہ روز قبل تو حد ہی ہوگئی۔ جیل نواز شریف گیا اور قید پی ٹی آئی کے سپورٹر ہوگئے۔ ایک کے بعد ایک اس کے لگاتار چھ جلسے یوں بری طرح ناکام ہوگئے جیسے کسی نے پی ٹی آئی کے جلسوں میں آنے والوں کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دی ہوں۔ جہلم کے جلسے پر تو چہلم کا گمان ہو رہا تھا۔ اپنے اپنے وقت کے آٹھ طاقتور ترین لوگوں کی آٹھ سالہ محنت تو جیسے ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے۔ غبارے میں اپنے اپنے حصے کی ہوا بھرنے والے فرماتے ہیں ’’پی ٹی
مزید پڑھیے