BN

رعایت اللہ فاروقی



ٹھیکیداری نظام


کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وطنِ عزیز میں اسلامی نظام ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ نہیں ہے اور ایسے بھی ہیں جن کے مطابق ایڈھاک ازم کو فروغ ہے، کبھی ملک اسلامی ہو جاتا ہے، کبھی سیکولر ۔جہاں سے میں دیکھتا ہوں وہاں سے ’’ٹھیکیداری نظام ‘‘ سکہ رائج الوقت نظر آ تا ہے۔ اہلِ دین کئی یونینوں میں بٹے ہیں اور ہر یونین کا دعویٰ ہے کہ دینی و شرعی تعبیرات کی تعمیر کا ٹینڈر انہیں کے نام ہے لہٰذا ان کی یونین کے علاوہ کسی کو اس کام میں ہاتھ ڈالنے کی اجازت نہیں۔ جو
منگل 04  ستمبر 2018ء

ہتھیار چھوٹا، تباہی بڑی

هفته 01  ستمبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
انسانی رویہ بھی عجیب چیز ہے۔ یہ یکمشت نقصان پر تو دل کے دورے جیسی سنگین کیفیت تک پہنچ جاتا ہے جبکہ قسطوں میں ہوتے اس سے کئی گنا بڑے نقصان کو اہمیت ہی نہیں دیتا۔ مثلا آپ ہتھیاروں کے معاملے کو ہی لے لیجئے ! ایٹم بم یا جراثیمی ہتھیار کا نام ہی سن کر اس کے چہرے کا رنگ متغیر ہوجاتا ہے اور بسا اوقات یہ تک کہہ جاتا ہے کہ ’’شکر ہے ہیرو شیما اور ناگاساکی کے بعد اس کا مزید استعمال نہیں ہوا‘‘ لیکن یہ جانتا نہیں کہ ’’چھوٹا ہتھیار‘‘ ہر سال ہیروشیما اور ناگاساکی کی
مزید پڑھیے


نشے کے نرخ

منگل 28  اگست 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
یہ چند برس قبل اسلام آباد میں دسمبر کی ایک یخ بستہ رات تھی ، جب میں بوجھل طبیعت لئے ایک دوست کی رہائشگاہ پہنچا، اس نے پوچھا ، تمہاری بے کیفی کیسے ختم کی جائے ؟ میں نے عدم مرحوم کا شعر پڑھ دیا خزاں زدہ دل کی بے حسی کا علاج صرف ایک تلخ شئے ہے وہ تلخ شئے کوئی لے کے آئے، تو میں یقینِ بہار کر لوں وہ اُٹھا ، گیا اور لوٹا، ااُ س نے تلخ شئے سے بھرا گلاس میرے سامنے رکھدیا۔ گلاس کو سامنے سے ہٹانے کے لئے اسے چھونا پڑتا، میں نے گلاس
مزید پڑھیے


انصاف سب کے لیے

اتوار 26  اگست 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
یہ ۱۰۵؁ھ اور ولید ابن عبدالملک کا عہد تھا ، جب اسلامی فوجیں ثمرقند میں فاتحانہ داخل ہوئیں ۔ دیکھتے ہی دیکھتے ثمرقند اسلامی ریاست کا حصہ بنادیا گیا ، عدلیہ سمیت تمام محکمے وجود میں آ گئے ۔ ابھی مہینہ بھی نہ گزرا تھا کہ ثمرقند کے مقامی مذہبی پیشوا ،اسلامی عدالت کے رو برو پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ ثمرقند میں قا ئم ہونے والی اسلامی حکومت خود اسلامی قانون کی رو سے ہی ناجائز اور غیر قانونی ہے، لہذا عدالت اس حکومت کو ختم کر کے مسلم فاتحین کو ثمرقند سے نکل
مزید پڑھیے


’’اہل قلم کا ضمیر‘‘

هفته 18  اگست 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
ملک میں اقتدار کی منتقلی کے ایام ہیں۔ ان ایام میں وہ جماعت اور اس کے کارکن اب گھروں میں ہیں جنہوں نے چار سال تک قومی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کے لئے نظام زندگی کو مفلوج کئے رکھا۔ نہ انہوں نے کسی کو سکون سے کار و بار کرنے دیا، نہ بڑے پروجیکٹس کو بروقت مکمل ہونے دیا اور نہ ہی غیرملکی وفود کو اپنے شیڈول پر پاکستان پہنچنے دیا۔ ہم انہیں بہت سمجھاتے رہے کہ آپ کی ان حرکتوں سے مسلم لیگ نون کا نہیں ملک کا نقصان ہو رہا ہے۔ لیکن نچ بلیوں نے ہماری
مزید پڑھیے




’’چنگیزی ساس اور بیگم جان‘‘

بدھ 15  اگست 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
پچھلا کالم ’’بڈھا کھانستا بہت ہے‘‘ شادی کی عمر اور بچوں کی تعداد کے حوالے سے تھا۔ اس کالم میں آپ کے سامنے اپنے والد، اپنی اور اپنے بیٹے کی مثال رکھی تھی۔ یوں وہ کالم شادی کی عمر اور بچوں کی تعداد کے حوالے سے صرف مردانہ پہلو کو لئے ہوئے تھا۔ میں چاہتا ہوں زیر نظر کالم میں خواتین کے پہلو کا بھی احاطہ کر لیا جائے تاکہ تصویر مکمل ہوجائے۔ آپ پچھلے کالم میں جان چکے کہ میرے والد کی شادی 36 برس کی عمر میں ہوئی تھی اور میری پیدائش کے وقت ان کی عمر 37
مزید پڑھیے


’’بڈھا کھانستا بہت ہے !‘‘

هفته 11  اگست 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
ہمارے ہاں جو گھریلو مسائل سب سے زیادہ زیر بحث رہتے ہیں ان میں ایک تو یہ ہے کہ شادی کس عمر میں ہونی چاہئے اور دوسرا یہ کہ بچے کتنے اچھے ؟۔ دوسروں کی طرح اس حوالے سے مجھے بھی نوجوانی ہی سے بہت کچھ سننے اور پڑھنے کو ملا۔ ان میں بہت سے مغالطے تھے تو بہت سی کار آمد باتیں بھی تھیں لیکن عملاً مجھے بعض ایسے تجربات سے گزرنا پڑا جن میں سے بعض کا مجھ پر اور میری فیملی پر بہت خوشگوار اثر پڑا جبکہ بعض حوالوں سے بہت تکلیف دہ صورتحال کا بھی سامنا
مزید پڑھیے


’’قومی بقاء کی واحد ضمانت‘‘

منگل 07  اگست 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
’’مبارک ہو ! نیا پاکستان بن رہا ہے‘‘ ’’میں نئے پاکستان کا مخالف ہوں مجھے اس کی مبارکباد نہ دیجئے‘‘ ’’مخالف کیوں ہیں نئے پاکستان کے ؟‘‘ ’’مخالف اس لئے ہوں کہ 1971ء میں بھی نیا پاکستان بنانے کی کوشش ہوئی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد والا پاکستان قائد اعظم والا پاکستان تو نہ رہا۔ ایک بالکل ہی نیا پاکستان وجود میں آگیا جس کا نہ جغرافیہ پرانے پاکستان والا تھا، نہ آبادی پرانے پاکستان والی تھی اور نہ ہی اکائیاں پرانے پاکستان والی تھیں۔ اس سانحے نے اتنا ڈرا رکھا ہے کہ جب ایک بار پھر نئے پاکستان
مزید پڑھیے


’’ایک بڑا یو ٹرن‘‘

هفته 04  اگست 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
پی ٹی آئی کے ورکرز کو شکوہ ہے کہ خان صاحب کے معاملے میں ہم کوئی رعایت نہیں دیتے۔ حالانکہ بات فقط اتنی سی ہے کہ خان صاحب رعایت لینے کی گنجائش نہیں دیتے۔ ان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی کہی گئی کسی بھی بات پر قائم نہیں رہتے۔ ان کی اسی کمزوری کے سبب ان کے مخالفین نے ان کا نام ’’یوٹرن خان‘‘ بھی رکھدیا ہے جو اس لحاظ سے بہت بڑا گناہ بھی ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قران مجید میں واضح حکم کے ذریعے کسی کا نام بگاڑنے یا الٹا
مزید پڑھیے


’’قلم کی سولی‘‘

منگل 31 جولائی 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
الیکشن 2018ء آیا، ہوا اور گزر گیا۔2011ء سے میری رائے تھی کہ پی ٹی آئی ملک کے لیے سود مند ثابت نہیں ہوسکتی۔۔ 2018ء میں تحریک انصاف نے ملک بھر کے الیکٹ ایبلز کو اپنی جماعت میں جمع کردیا۔ یوں پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے الیکٹ ایبلز پی ٹی آئی میں جمع ہوئے اور امکان ہے کہ یہی ہم پر حکومت کریں گے۔ اب جبکہ اس جماعت کی حکومت بننے جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی سپورٹ کی جائے۔ آنے والی پارلیمان پر ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوئی ہے کہ وہ غور کرے کہ الیکشن میں ذمہ
مزید پڑھیے