رعایت اللہ فاروقی



’’کلبھوشن کی خیر نہیں !‘‘


پی ٹی آئی کے سربراہ جناب عمران خان جلد وزیر اعظم پاکستان کا منصب سنبھالیں گے۔ ان کے دور کا پاکستان کیسا ہوگا اس حوالے سے کچھ باتوں کا تو یقین ہے جبکہ کچھ کے حوالے سے سوالات کا سامنا ہے۔ ان کے ابتدائی اقدامات ہی واضح کر دیں گے کہ یہ ملک ’’نیا پاکستان‘‘ بننے جا رہا ہے یا یہ بطور ’’پرانا پاکستان‘‘ ہی چلتا رہے گا۔ پرانے پاکستان میں تو بائیسویں گریڈ کا سرکاری افسر وزیر اعظم کو سلیوٹ کرتا تو اس سلیوٹ کے مناظر ٹی وی چینلز کے ذریعے قوم کو دکھانے کی اجازت نہ ہوتی۔ صرف
هفته 28 جولائی 2018ء

’’کٹھ پتلیاں یا عوامی نمائندے؟‘‘

منگل 24 جولائی 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
الیکشن مہم تمام ہوئی، اب کل وہ دن طلوع ہوگا جس کی شام یہ خبر لائے گی کہ کون جیتا، امپائر جو 2014ء سے اس دن کی تاک میں تھا۔ اس ملک میں امپائر اور عوام کا کبھی آمنا سامنا نہ ہوا۔ اور ایسا اس لئے نہ ہوپایا کہ ہاتھی کی طرح امپائر کے بھی دکھانے والے دانت الگ اور کھانے والے الگ ہیں۔ جب بھی عوام اس کے کھانے والے دانتوں کی جانب متوجہ ہوئے اس نے فورا دکھانے والے دانتوں کی نمائش شروع کردی۔ اور لوگ ان دانتوں کو دیکھ کر قدیم افریقی قبائل کی طرح سجدے میں
مزید پڑھیے


’’ہوا اکھڑ گئی ہے‘‘

هفته 21 جولائی 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
الیکشن سے عین بارہ روز قبل تو حد ہی ہوگئی۔ جیل نواز شریف گیا اور قید پی ٹی آئی کے سپورٹر ہوگئے۔ ایک کے بعد ایک اس کے لگاتار چھ جلسے یوں بری طرح ناکام ہوگئے جیسے کسی نے پی ٹی آئی کے جلسوں میں آنے والوں کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دی ہوں۔ جہلم کے جلسے پر تو چہلم کا گمان ہو رہا تھا۔ اپنے اپنے وقت کے آٹھ طاقتور ترین لوگوں کی آٹھ سالہ محنت تو جیسے ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے۔ غبارے میں اپنے اپنے حصے کی ہوا بھرنے والے فرماتے ہیں ’’پی ٹی
مزید پڑھیے


’’بے بسی کا سبب‘‘

منگل 17 جولائی 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
صرف دو ماہ قبل اس ملک میں ایک ایسی حکومت تھی جس کے خلاف سیاسی کیا غیر سیاسی لوگ بھی دھرنا دے دیتے ہر دھرنا گروپ لاہور سے یوں چل کر اسلام آباد آتا جیسے محمود غزنوی ہندوستان جایا کرتا۔ بالشت بھر قائدین مٹھی بھر لوگ لے کر سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرکے اسلام آباد پہنچ جاتے اور حکومت بے بسی سے تماشا دیکھتی۔ دھرنا شروع ہوتا تو ملک کے تمام نجی ٹی وی چینلز اس کے لئے وقف ہوجاتے۔ گھنٹوں طویل تقاریر بھی دکھائی جاتیں، دھرنا قائدین کے خصوصی انٹرویوز بھی چلائے جاتے۔ شرکائے دھرنا کے تاثرات الگ
مزید پڑھیے


’’منفرد قیدی‘‘

هفته 14 جولائی 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
ماں باپ اور بیوی بچے کسی بھی انسان کی وہ کل کائنات ہوتی ہے جس سے اس کی جذباتی وابستگی اٹوٹ ہوتی ہے۔ ان رشتوں میں سے کوئی بھی اس موڑ پر آپہنچے جہاں اس کی جدائی کا کرب امتحان لینے کو تیار کھڑا ہوتا ہے تو یہ زندگی کے مشکل ترین مواقع میں سے ایک بے رحم موقع ہوتا ہے۔ اس امتحان سے کارل مارکس کو بھی اپنے نوعمر بیٹے کی موت کی صورت گزرنا پڑا۔ اس کے اس امتحان کا ذکر دو خطوط میں ملتا ہے۔ ایک وہ خط جو خود مارکس نے اپنے دوست جرمن فلاسفر فریڈرک
مزید پڑھیے




’’13 جولائی کا انتظار‘‘

بدھ 11 جولائی 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
جمہوری نظام اور اس کا لازمی جزو یعنی سیاسی جماعتیں برٹش راج کی دین ہیں۔ یوں تو برٹش راج کے آخری سالوں میں کئی سیاسی جماعتیں وجود میں آچکی تھیں لیکن جو اپنے پورے تاریخی تسلسل کے ساتھ آج بھی پورے قد کے ساتھ موجود ہیں وہ بھارت کی کانگریس اور پاکستان کی مسلم لیگ ہیں۔ ہر چند کہ مسلم لیگ کا قیام غیر منقسم ہندوستان میں عمل میں آیا تھا لیکن ظاہر ہے کہ تحریک پاکستان کی کامیابی کے ساتھ یہ آل انڈیا مسلم لیگ سے پاکستان مسلم لیگ بن گئی۔ پاکستان کے سیاسی مستقبل نے کشمکش کی جو
مزید پڑھیے


’’نواز شریف کا خوف‘‘

هفته 07 جولائی 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
چلئے مڑ کر ایک نظر 2013ء کے انتخابات سے عین قبل کے ماحول پر ڈالتے ہیں اور کچھ سوالات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سپریم کورٹ جوڈیشل ایکٹو ازم دکھا رہی تھی مگر سوال یہ ہے کہ اس جوڈیشل ایکٹوازم کا انتخابات سے کوئی تعلق تھا ؟ اس جوڈیشل ایکٹو ازم کا انتخابات سے کوئی لینا دینا نہیں تھا بلکہ مشرف کے قید کئے گئے ججز رہائی اور بحالی کے بعد سے مسلسل ایسے پرجوش سگنلز دے رہے تھے جیسے وہ اپنے خلاف کسی مزید ممکنہ اقدام
مزید پڑھیے


کچھ باتیں زراعت کے بارے میں

منگل 03 جولائی 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
اپنے وطن سے متعلق جو بات بہت کم عمری سے بکثرت پڑھ رکھی ہے وہ یہی ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ ہونے کو امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین بھی کسی زمانے میں زرعی ملک تھے مگر اپنی زرعی ملک والی حیثیت برقرار رکھنے میں بالکل ناکام ہوگئے، یوں اب یہ صنعتی ملک شمار ہوتے ہیں کیونکہ ان کا ’’محکمہ زراعت‘‘ نکما ثابت ہوا،جس سے صنعت و حرفت زراعت سے آگے نکل گئی۔ نتیجہ یہ کہ یہ ممالک اب دنیا کے طاقتور ترین ممالک میں گنے جاتے ہیں کہ عالمی بالادستی سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی سے
مزید پڑھیے


’’بچے غیر سیاسی نہیں ہوتے‘‘

هفته 30 جون 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
پچھلے آٹھ سال سے میری رہائش این اے 59 میں ہے جو 2013ء کے انتخابات میں این اے 52 تھا۔ ظاہر ہے ووٹ بھی اسی حلقے میں ہے۔ یہ ویسے بھی ملک کے اہم حلقوں میں شمار ہوتا ہے۔یہاں چوہدری نثار علی خان کا راج آ رہا ہے۔اس حلقے سے ان کا تعلق اتنا ہی رہا ہے کہ ہر الیکشن سے قبل وہ یہاں تشریف لاکر پوچھتے ہیں ’’آپ کی اہم ترقیاتی ضروریات کیا کیا ہیں ؟‘‘ لوگ کام بتا دیتے ہیں، وہ کام الیکشن سے قبل کروا کر اگلے پانچ سال کے لئے چلے جاتے ہیں اور مڑ کر
مزید پڑھیے


’’دانائی کے ٹیکے !‘‘

هفته 23 جون 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
انسان پر بیتتا ہر لمحہ اسے کچھ نہ کچھ سکھا رہا ہوتا ہے۔ جو سمجھدار ہوتے ہیں وہ ان لمحوں سے سیکھتے چلے جاتے ہیں جبکہ دیگر اپنی غلطیوں کے نتائج کو بھی قسمت کے کھاتے میں ڈال کر اس خیال کے ساتھ ان غلطیوں کو دہراتے چلے جاتے ہیں کہ ’’قسمت تاحال خراب ہے‘‘ یوں تو ہر لمحہ ایک سیکھ ہے لیکن مشکلات کے لمحات جو کچھ سکھا جاتے ہیں وہ انمول ہوتا ہے۔ مشکل دور کی مشکلات اپنی جگہ لیکن اس دور کے اس احسان کا کوئی بدل نہیں کہ یہ اپنے اور پرائے کی تمیز کے ساتھ
مزید پڑھیے