BN

رعایت اللہ فاروقی



’’بے بسی کا سبب‘‘


صرف دو ماہ قبل اس ملک میں ایک ایسی حکومت تھی جس کے خلاف سیاسی کیا غیر سیاسی لوگ بھی دھرنا دے دیتے ہر دھرنا گروپ لاہور سے یوں چل کر اسلام آباد آتا جیسے محمود غزنوی ہندوستان جایا کرتا۔ بالشت بھر قائدین مٹھی بھر لوگ لے کر سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرکے اسلام آباد پہنچ جاتے اور حکومت بے بسی سے تماشا دیکھتی۔ دھرنا شروع ہوتا تو ملک کے تمام نجی ٹی وی چینلز اس کے لئے وقف ہوجاتے۔ گھنٹوں طویل تقاریر بھی دکھائی جاتیں، دھرنا قائدین کے خصوصی انٹرویوز بھی چلائے جاتے۔ شرکائے دھرنا کے تاثرات الگ
منگل 17 جولائی 2018ء

’’منفرد قیدی‘‘

هفته 14 جولائی 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
ماں باپ اور بیوی بچے کسی بھی انسان کی وہ کل کائنات ہوتی ہے جس سے اس کی جذباتی وابستگی اٹوٹ ہوتی ہے۔ ان رشتوں میں سے کوئی بھی اس موڑ پر آپہنچے جہاں اس کی جدائی کا کرب امتحان لینے کو تیار کھڑا ہوتا ہے تو یہ زندگی کے مشکل ترین مواقع میں سے ایک بے رحم موقع ہوتا ہے۔ اس امتحان سے کارل مارکس کو بھی اپنے نوعمر بیٹے کی موت کی صورت گزرنا پڑا۔ اس کے اس امتحان کا ذکر دو خطوط میں ملتا ہے۔ ایک وہ خط جو خود مارکس نے اپنے دوست جرمن فلاسفر فریڈرک
مزید پڑھیے


’’13 جولائی کا انتظار‘‘

بدھ 11 جولائی 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
جمہوری نظام اور اس کا لازمی جزو یعنی سیاسی جماعتیں برٹش راج کی دین ہیں۔ یوں تو برٹش راج کے آخری سالوں میں کئی سیاسی جماعتیں وجود میں آچکی تھیں لیکن جو اپنے پورے تاریخی تسلسل کے ساتھ آج بھی پورے قد کے ساتھ موجود ہیں وہ بھارت کی کانگریس اور پاکستان کی مسلم لیگ ہیں۔ ہر چند کہ مسلم لیگ کا قیام غیر منقسم ہندوستان میں عمل میں آیا تھا لیکن ظاہر ہے کہ تحریک پاکستان کی کامیابی کے ساتھ یہ آل انڈیا مسلم لیگ سے پاکستان مسلم لیگ بن گئی۔ پاکستان کے سیاسی مستقبل نے کشمکش کی جو
مزید پڑھیے


’’نواز شریف کا خوف‘‘

هفته 07 جولائی 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
چلئے مڑ کر ایک نظر 2013ء کے انتخابات سے عین قبل کے ماحول پر ڈالتے ہیں اور کچھ سوالات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سپریم کورٹ جوڈیشل ایکٹو ازم دکھا رہی تھی مگر سوال یہ ہے کہ اس جوڈیشل ایکٹوازم کا انتخابات سے کوئی تعلق تھا ؟ اس جوڈیشل ایکٹو ازم کا انتخابات سے کوئی لینا دینا نہیں تھا بلکہ مشرف کے قید کئے گئے ججز رہائی اور بحالی کے بعد سے مسلسل ایسے پرجوش سگنلز دے رہے تھے جیسے وہ اپنے خلاف کسی مزید ممکنہ اقدام
مزید پڑھیے


کچھ باتیں زراعت کے بارے میں

منگل 03 جولائی 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
اپنے وطن سے متعلق جو بات بہت کم عمری سے بکثرت پڑھ رکھی ہے وہ یہی ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ ہونے کو امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین بھی کسی زمانے میں زرعی ملک تھے مگر اپنی زرعی ملک والی حیثیت برقرار رکھنے میں بالکل ناکام ہوگئے، یوں اب یہ صنعتی ملک شمار ہوتے ہیں کیونکہ ان کا ’’محکمہ زراعت‘‘ نکما ثابت ہوا،جس سے صنعت و حرفت زراعت سے آگے نکل گئی۔ نتیجہ یہ کہ یہ ممالک اب دنیا کے طاقتور ترین ممالک میں گنے جاتے ہیں کہ عالمی بالادستی سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی سے
مزید پڑھیے




’’بچے غیر سیاسی نہیں ہوتے‘‘

هفته 30 جون 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
پچھلے آٹھ سال سے میری رہائش این اے 59 میں ہے جو 2013ء کے انتخابات میں این اے 52 تھا۔ ظاہر ہے ووٹ بھی اسی حلقے میں ہے۔ یہ ویسے بھی ملک کے اہم حلقوں میں شمار ہوتا ہے۔یہاں چوہدری نثار علی خان کا راج آ رہا ہے۔اس حلقے سے ان کا تعلق اتنا ہی رہا ہے کہ ہر الیکشن سے قبل وہ یہاں تشریف لاکر پوچھتے ہیں ’’آپ کی اہم ترقیاتی ضروریات کیا کیا ہیں ؟‘‘ لوگ کام بتا دیتے ہیں، وہ کام الیکشن سے قبل کروا کر اگلے پانچ سال کے لئے چلے جاتے ہیں اور مڑ کر
مزید پڑھیے


’’دانائی کے ٹیکے !‘‘

هفته 23 جون 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
انسان پر بیتتا ہر لمحہ اسے کچھ نہ کچھ سکھا رہا ہوتا ہے۔ جو سمجھدار ہوتے ہیں وہ ان لمحوں سے سیکھتے چلے جاتے ہیں جبکہ دیگر اپنی غلطیوں کے نتائج کو بھی قسمت کے کھاتے میں ڈال کر اس خیال کے ساتھ ان غلطیوں کو دہراتے چلے جاتے ہیں کہ ’’قسمت تاحال خراب ہے‘‘ یوں تو ہر لمحہ ایک سیکھ ہے لیکن مشکلات کے لمحات جو کچھ سکھا جاتے ہیں وہ انمول ہوتا ہے۔ مشکل دور کی مشکلات اپنی جگہ لیکن اس دور کے اس احسان کا کوئی بدل نہیں کہ یہ اپنے اور پرائے کی تمیز کے ساتھ
مزید پڑھیے


’’خان صاحب ! وقت بہت کم ہے‘‘

منگل 19 جون 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
پچھلے آٹھ سال میں پہلی بار عمران خان کے لئے ہمدردی محسوس کر رہا ہوں۔ اس ہمدردی کا یہ مطلب نہیں کہ میں خدا نخواستہ ان کی جماعت کو ووٹ دینے کے بارے میں سوچنے لگا ہوں ۔ ووٹ توا نہیں نہیں دیا جاسکتا کیونکہ جس طرح کسی پل کی تعمیر کے لئے ڈاکٹر اور کسی مریض کے آپریشن کے لئے انجینئر کو ذمہ داری نہیں سونپی جا سکتی بالکل اسی طرح کسی کھلاڑی کو وزارت عظمیٰ بھی سپرد نہیں کی جاسکتی۔ کرکٹ کے مایہ ناز کھلاڑی عمران خان کو ہاکی پکڑا کر کسی ہاکی میچ میںاتارنا جتنی بڑی حماقت
مزید پڑھیے


’’تعریف خالص نہ تنقید خالص‘‘

هفته 16 جون 2018ء
رعایت اللہ فاروقی

نواز لیگ کی حکومت اپنی مدت مکمل کرکے جا چکی اور ملک پر اس نگراں حکومت کی عملداری ہے جس نے انتخابات کرا کر اقتدار ان کے سپرد کرنا ہے جنہیں اس بار چنا جائے گا۔ یہ ابھی واضح نہیں کہ چنے گا کون ؟ عوام یا کوئی اور ؟۔ ہر چند کہ نگراں وزیر اعظم کا بیان آیا ہے کہ ’’انتخابات صاف و شفاف‘‘ ہوں گے مگر جس نے کسی مستور ایمپائر کے اشارے پر عمران خان کا مچایا چار سالہ ہنگامہ اور پھر بالخصوص پچھلے ایک ڈیڑھ سال کی وہ سرگرمیاں دیکھ رکھی ہوں جنہیں پراسرار بھی نہیں
مزید پڑھیے


تحریک انصاف کی ٹکٹوں کی سیاست

منگل 12 جون 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
لیجئے پی ٹی آئی کے انتخابی امیدواروں کی فہرست جاری ہوگئی۔ ایسے ایسے نوجوان اس فہرست کا حصہ ہیں کہ سبحان اللہ ! بات 70 سے 80 برس کے مابین والے ’’نوجوانوں‘‘ تک رہتی تو کیا کم تھا، لطف تو یہ ہے کہ بعض ان میں سے ’’نوخیز لڑکے‘‘ بھی ہیں۔ مثلاً مظفر گڑھ سے 80 سالہ غلام مصطفیٰ کھر، نارووال سے 81 سالہ نعمت علی جاوید اور شیخوپورہ سے 82 سالہ راحت امان اللہ جیسے نوخیز امیدواروں کے نام دیکھ کر ہمیں تو یقین ہوچلا کہ خان صاحب نے سوچا ہے کہ پاکستانی پارلیمنٹ کو ’’نوجوان قیادت‘‘ سے رونق
مزید پڑھیے