BN

رعایت اللہ فاروقی



دوست اور دشمن کی تمیز !


افغان طالبان کے حوالے سے میرا معاملہ بہت دلچسپ رہا۔ جب یہ 1994ء میں سامنے آئے تو میں ان کا 3 سال تک مخالف رہا۔ مجھے پتہ تھا کہ راتوں رات بڑی لہر بن کر اٹھنے والوں کے پیچھے لازماً کوئی ریاستی طاقت ہوتی ہے۔ اس کے بغیر ایسی لہریں صرف انقلاب میں نظر آتی ہیں اور انقلاب میں پوری قوم اٹھتی ہے جبکہ افغانستان میں قوم نہیں ایک گروپ اٹھا تھا لہٰذا ان کے پیچھے کسی ریاستی قوت کا ہونا تو سو فیصد طے تھا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ میں اس زمانے میں حرکت الانصار کا ناظم اطلاعات
منگل 28 مئی 2019ء

قومی اطمینان !

اتوار 26 مئی 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
کہتے ہیں کہ ایک شہر دو حصوں میں منقسم تھا۔ آدھا دریا کے اس پار اور آدھا اس پار۔ دونوں حصوں کے مکین آر پار آنے جانے کے لئے کشتیوں کا استعمال کرتے۔ آبادی میں اضافے سے صبح اور شام کے اوقات میں کشتیوں پر بے تحاشا رش رہنے لگا۔ ایک دن بادشاہ سلامت نے سوچا کہ کوئی "میگا پروجیکٹ" بنانا چاہئے جس سے عوام کو سہولت ہوجائے۔ اس کی کابینہ میں ایک ایسا وزیر تھا جو سب پر بھاری تھا۔ اسے آگاہ کرتے ہوئے بادشاہ سلامت نے فرمایا "میں چاہتا ہوں, دریا پر پل تعمیر کروادوں تاکہ لوگوں کو آنے
مزید پڑھیے


میری زندگی میرا اختیار

منگل 21 مئی 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
آج کل کے بچوں کو "میری زندگی میرا اختیار" کا نعرہ بلند کر کے فیملی سے بغاوت کا چسکا تو لگ گیا ہے مگر اپنی ناتجربہ کاری کے سبب وہ یہ نہیں جانتے کہ ہمارے سماج میں یہ عملًا ممکن نہیں۔ کیونکہ ہماری سماجی رویات اسے سپورٹ کرتی ہیں اور نہ ہی ملکی قانون۔ اس کا اندازہ آپ اس مثال سے لگا لیجئے کہ ہمارے ہاں کوئی شخص جرم کرکے بھاگ جائے تو پولیس اس کی فیملی کے کچھ اہم افراد کو اٹھا لیتی ہے۔ وجہ اس کی یہ نہیں ہوتی کہ وہ ان فیملی ممبران کو شریک جرم سمجھتی
مزید پڑھیے


مشرقِ وسطیٰ: ماضی، حال اور مستقبل !

منگل 14 مئی 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
پچاس کی دہائی وہ دورانیہ ہے جب سمٹتے ہوئے برطانیہ سے عالمی دادا گیر کا کردار امریکہ کو منتقل ہو رہا تھا۔ مشرقِ وسطیٰ میں تیل نکل آیا تھا جسے نکالنے کے اوزار و ہنر مسلمانوں کے پاس نہیں تھے۔ امریکہ آگے بڑھا جہاں معاہدے سے بات بنی وہاں معاہدہ کیا اور جہاں لات مارنی پڑی وہاں لات مار کر اپنے مقاصد حاصل کئے۔ سعودیوں سے معاہدہ ہوا جبکہ ایران میں نوبت لاتوں تک جا پہنچی۔ اور یہی وہ پوائنٹ ہے جس پر مشرقِ وسطیٰ کی سیاست آج بھی اٹکی ہوئی ہے۔ مصدق سے شاہ ایران اور شاہ ایران سے
مزید پڑھیے


خواتین، پختون سماج اور پی ٹی ایم

هفته 11 مئی 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
یوں تو پاکستان کی تمام قوموں اور قبیلوں میں خواتین کے حوالے سے حساسیت پائی جاتی ہے اور اسی حساسیت کے نتیجے میں غیرت کے نام پر قتل جیسے وہ سنگین واقعات بھی رونما ہوتے ہیں جن کے تدارک کی کوئی مؤثر سبیل تاحال نظر نہیں آتی۔ لیکن پختون سماج میں اس حوالے سے یہ حساسیت کئی گنا زیادہ ہے۔ یہ اسی حساسیت کا نتیجہ ہے کہ پشاور جیسے صوبائی دارالحکومت کے بازاروں میں خواتین کی تعداد بیحد قلیل نظر آتی ہے۔ پشاور صدر یا خیبر بازار میں جو اکا دکا خواتین نظر بھی آتی ہیں تو بڑی چادر اوڑھے
مزید پڑھیے




مناسب درجے کا مسلمان

منگل 07 مئی 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
فرض کیجئے کہ آپ ایک ایسے علاقے میں جاتے ہیں جہاں ہر شخص کی جلد کھردری اور بالکل ہی بے رونق ہے۔ اور اس کے اسباب پیدائشی یا قدرتی نہیں بلکہ اختیاری ہیں، یعنی ان کی اپنی کسی بے احتیاطی کے نتائج ان کی جلد پر مرتب ہوئے ہیں جبکہ آپ کی جلد بہترین صحتمند حالت میں ہے۔ چہرے کی سرخ و سفید رنگت اس علاقے کے ہر شخص پر ایک سحر سا طاری کر رہی ہے، کیونکہ جلد کی ایسی خوبصورتی کا انہوں نے کبھی تصور ہی نہ کیا تھا۔ تو ذرا سوچئے ان کے دل و دماغ میں
مزید پڑھیے


منظور پشتین کا امتحان

هفته 04 مئی 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
دسمبر 2017ء کے ابتدائی ایام میں وزیرستان سے یہ سنگین شکایت سامنے آئی کہ سکیورٹی ادارے کی گاڑی پر ہونے والے ایک دہشت گرد حملے کے بعد جائے وقوعہ کے قریب واقع گاؤں پر نصف شب کے دوران چھاپہ مارا گیا اور اس گاؤں کے لوگوں کو تنگ کیا گیا۔ اس مسئلے کو وزیرستان سے تعلق رکھنے والے جے یو آئی کے سرگرم کارکن خالد داوڑ سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے لائے تھے۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ کنفلکٹ زون کی خبریں مبالغہ آرائی پر مبنی ہونے کے سبب پہلے اعتبار اور پھر توجہ کھو دیتی ہیں۔ مبالغہ اور عسکریت
مزید پڑھیے


"والدین کی بدنامی"

هفته 27 اپریل 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
24 اپریل کو اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں کامسیٹس یونیورسٹی کا کانوکیشن تھا۔ اس کانوکیشن میں جن طلبہ کو کو ڈگری ملنی تھی۔ سو میں اور میری اہلیہ نے بھی کراچی سے آکر بہت سے دیگر والدین کے ہمراہ اس میں شریک ہونا تھا. میرے بھائی یعقوب عالم نے بھی کانوکیشن میں شرکت کی خواہش ظاہر کی تو میں نے شعبہ تعلیم سے وابستہ ایک دوست کے ذریعے اس کے لئے پاس حاصل کرنے کی سعی کی جو ناکام ثابت ہوئی۔ یہ بات حیران کن تھی کیونکہ عام طور پر کانوکیشن میں صدر پاکستان یا وزیراعظم کی آمد کی
مزید پڑھیے


قصوروار کون ؟

منگل 23 اپریل 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
آج کے نوجوان نوے کی دہائی میں بچپن کے مرحلے میں تھے۔ اس لئے انہیں اندازہ ہی نہیں کہ سیاسی طور پر وہ دہائی بغض اور نفرت کا کیسا نمونہ تھی۔ 80 کی دہائی تو اس سے بھی گئی گزری تھی کہ ملک ایک ایسے مارشل لاء سے گزر رہا تھا جو سرعام کوڑوں اور پھانسیوں والا مارشل لاء تھا۔ اس سے پیچھے چلے جائیں تو ستر کی وہ دہائی آجاتی ہے جو پاکستان کی تاریخ کی سب سے بدترین دہائی ہے۔ اس دہائی کو میں نے بچپن کی آنکھ سے دیکھا لیکن وہ بچپن کی یادیں بھی ایسی
مزید پڑھیے


کپتان

هفته 20 اپریل 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
وزیر اعظم کی ٹیم میں ردوبدل دیکھ کر ان کا بطور کرکٹ کپتان وہ دورہ بھارت یاد آگیا جو 1987ء میں ہوا تھا۔ اس دورے کے پہلے دو ٹیسٹ ڈرا ہوئے تو انہوں نے ٹیم میں ردوبدل کے لئے اقبال قاسم، یونس احمد اور اعجاز فقیہ کو پاکستان سے طلب کرلیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تینوں کھلاڑی کرکٹ کی اصطلاح کے مطابق "بوڑھے" تھے۔ ان میں سے اقبال قاسم تھے تو اہم باؤلر مگر غیر علانیہ ریٹائرڈ تصور کئے جا رہے تھے۔ جبکہ باقی دونوں میں سے اعجاز فقیہ نے کل 4 ٹیسٹ میچ کھیل کر
مزید پڑھیے