BN

رعایت اللہ فاروقی



عسکری تنظیمیں تاریخ کے آئینے میں…3


قیام پاکستان کے وقت ایک اہم مسئلہ اس وقت کے این ڈبلیو ایف پی (خیبر پختون خواہ) صوبے کا تھا افغانستان اسے ڈیورنڈ لائن معاہدے کے تحت اپنا حصہ مانتا تھا لیکن خود اس صوبے کے لوگوں میں افغانستان کے ساتھ شمولیت کا سوال ہی زیر بحث نہ تھا بلکہ سوال یہ تھا کہ اس صوبے بھارت کا حصہ بننا ہے یا پاکستان کا ؟ چنانچہ یہاں اسی سوال پر 2 جولائی 1947ء کو ریفرینڈم کرا لیا گیا. اس ریفرنڈم میں 572798 رجسٹرڈ ووٹوں میں سے 289244 ووٹ جو کاسٹ ہونے والے ووٹوں کا 99.2 بنتے ہیں پاکستان کے حق
منگل 12 مارچ 2019ء

عسکری تنظیمیں تاریخ کے آئینے میں… (2)

پیر 11 مارچ 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
امریکی صدر آئزن ہاؤر کاسترو کا تختہ الٹنے کی منظوری دے چکے تھے اور سی آئی اے امریکہ میں کیوبا کے 2506 مہاجرین کو مسلح کرکے بغاوت کی تیاری کا آغاز کر چکی تھی کہ 1961ء میں جان ایف کینیڈی اقتدار میں آگئے۔ کینیڈی نے اس آپریشن پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا عندیہ دیا تو سی آئی اے نے یہ کہہ کر انہیں رام کر لیا کہ 2506 افراد کے جس لشکر کو ہم نے تربیت دی ہے، اسے آپریشن کی منسوخی کا کہیں گے تو وہ ہم پر ہی چڑھ دوڑے گا، لہٰذا
مزید پڑھیے


عسکری تنظیمیں تاریخ کے آئینے میں…(1)

هفته 09 مارچ 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
عسکری تنظیموں کا ایشو اتنا سادہ نہیں کہ یہ لشکر طیبہ سے شروع ہوکر جیش محمد پر ختم ہوجاتا ہو۔ یہ جدید دنیا کی طاقتور انٹیلی جنس ایجنسیز کا زیر زمین رائج کلچر ہے جس کے ذریعے خارجہ پالیسی کے محاذ پر اپنے اہداف حاصل کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ یہ خارجہ پالیسی کی ان کہی حقیقت ہے کہ جارحانہ خارجہ پالیسی چلانے والا یا اس کا سامنا کرنے والے ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی لازما عسکری تنظیموں کی تخلیق میں ملوث نظر آئے گی۔ اور جس خطے میں عسکری تنظیمیں وجود میں آئیں گی وہاں ڈرگ مافیا اور
مزید پڑھیے


مقصد کیا تھا ؟

منگل 05 مارچ 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
جنگیں شطرنج کی طرح ہوتی ہیں۔ اس میں اپنی موو سے ظاہر کچھ کیا جاتا ہے اور ہدف کچھ اور ہوتا ہے۔ اس میں طیاروں کی پہلی فارمیشن لاہور کی جانب بڑھتی ہے تو دوسری بہاولپور کی جانب مگر ٹارگٹ بالاکوٹ کے قریب ہوتا ہے۔ جس طرح 26 فروری کی بھارتی موو میں ہدف ان کا بالاکوٹ کے قریب تھا مگر تاثر یہ دیا گیا جیسے لاہور یا بہاولپور کو نشانہ بنانے کا ارادہ ہے اسی طرح اس پورے ایونٹ کا ہدف بھی کچھ اور تھا۔ بھارت اور اس کے درپردہ اتحادی تو اپنے ہدف کو چھپائے رکھنے پر مجبور
مزید پڑھیے


جنگوں پر سوشل میڈیا کے اثرات

هفته 02 مارچ 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
26 فروری کی صبح جب انڈین طیاروں کی بالاکوٹ کے قریب بم گرانے کی خبر دیکھی تو ذہن فورا بیس پچیس سال پیچھے چلا گیا۔ میری افغان اور کشمیر جہاد سے 1987ء سے لے کر 12 اکتوبر 1997ء تک وابستگی رہی ہے۔ ایسے پرانے جہادی دوستوں سے رابطہ کیا جن سے میری 1987ء سے 1997ء تک تنظیمی زندگی میں ذاتی یاری بھی رہی۔ ان دوستوں سے علم ہوا کہ اس علاقے میں کوئی ٹریننگ سینٹر نہیں، جو تھا وہ نائن الیون کے بعد کی صورتحال میں کئی سال قبل ختم ہوچکا۔ میں چاہتا تو حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر
مزید پڑھیے




ایشیا کی صدی !

منگل 26 فروری 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
سوویت یونین کا خاتمہ جارج بش کے دور میں ہوا۔ بش سینئر سوویت یونین کے خاتمے سے اسقدر جذباتی ہوئے کہ "نیو ورلڈ آڈر" کا تصور پیش کردیا جس کے ساتھ ہی یہ دعویٰ کیا گیا کہ اکیسویں صدی "امریکہ کی صدی" ہوگی۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ پوری دنیا ایک ہی ورلڈ آڈر کے تحت چلے گی اور اس ورلڈ آڈر کے تحت امریکہ اکیسویں صدی میں پوری دنیا پر حکمرانی کرے گا۔ یہ وہ حسین خواب تھا جسے پہلا جھٹکا یورپ نے یوروکرنسی رائج کرکے دیا۔ یورو کے آنے سے عالمی مالیاتی نظام میں ڈالر کی اجارہ
مزید پڑھیے


لوگ دین بیزار کیوں ہو رہے ہیں ؟

هفته 23 فروری 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
علمائے دین اپنی فطرت، سرشت اور مزاج میں سر تا سر انسان ہی ہوتے ہیں۔ ان میں بھی بیوقوف اور سمجھدار پائے جاتے ہیں۔ وہ غلطیاں بھی ایک چھابڑی والے کی طرح ہی کرتے ہیں۔ اور ایک عام آدمی کی طرح ہی ان سے گناہ بھی سرزد ہوتے ہیں۔ اگر کچھ اعلیٰ ہے تو وہ ان کی ذمہ داریاں ہیں۔ جب ان میں سے کوئی یہ ذمہ داریاں پوری دیانت سے سر انجام دیتا ہے تو جو اجر اسے ملتا ہے وہ بھی اعلیٰ ہوتا ہے۔ اگر وہ اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت سے سر انجام دیتا ہے اور ساتھ
مزید پڑھیے


پلوامہ اور زاہدان حملوں کا بنفشری کون ؟

منگل 19 فروری 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
جس خطے میں ہمارا وطن بہت ہی کلیدی اہمیت والے مقام پر واقع ہے یہ ان دنوں ایک بہت بڑے تاریخی واقعے سے گزر رہا ہے۔ قسطوں میں رونما ہوتا یہ واقعہ امریکہ اور طالبان کے مابین جاری مذاکرات ہیں۔ یہ مذاکرات یوں ہی نہیں شروع ہوگئے بلکہ اس کے لئے امریکہ کو برسوں کی محنت کرنی پڑی ہے۔ ملکی و بین الاقوامی میڈیا کی آرکائیوز اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ لگ بھگ دس برس سے امریکہ طالبان سے بات چیت کی کوششیں کر رہا تھا۔ جب پہلی بار اس نے پاکستان سے اس سلسلے میں کردار ادا
مزید پڑھیے


مکتوب نگاری

هفته 16 فروری 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
نائی کی دکان میں اچانک داخل ہونے والا مجذوب گویا ہوا: ’’مجھے خط لکھوانا ہے !‘‘ بال تراشتے جاوید صاحب، بال رنگوائے بیٹھے پروفیسر انیس زیدی اور انتظاری نشست سنبھالے مجھ سمیت سب ہی کچھ دیر کے لئے سناٹے کے زیر اثر آگئے۔ شاید اس مجذوب نے ہم میں سے ہر شخص کو آن واحد میں اس زمانے کی جانب لوٹا دیا تھا جب اپنی بات کسی عزیز تک پہنچانے کے لئے خط اور تار والا فون ہی کل عوامی ذرائع اتصالات ہوا کرتے۔ تب ناخواندہ مرد و زن خط لکھوانے کو کسی پڑھے لکھے کے پاس جایا کرتے۔ وہ اپنے خط
مزید پڑھیے


سوشل میڈیا

منگل 12 فروری 2019ء
رعایت اللہ فاروقی
ہماری ماضی قریب کی تاریخ میں قیدوبند اور قربانیوں کا ذکر بکثرت ملتا ہے۔ قید و بند اور قربانیوں کا یہ سلسلہ تحریک آزادی سے شروع ہوکر مشرف دور تک آتا ہے۔ اس حوالے سے ایک قابل غور بات یہ ہے کہ تحریک آزادی کے کئی اہم رہنماء سیاسی جدوجہد کے ساتھ ساتھ صحافتی محاذ بھی سنبھالے رہے۔ ان میں مولانا محمد علی جوہر، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا ظفر علی خان اور آغا شورش کاشمیری خاص طور پر بہت نمایاں ہیں۔ یوں برصغیر کی صحافت اور سیاست کا باہمی ربط من تو شدم تو من شدی کی حد تک اپنی
مزید پڑھیے