رعایت اللہ فاروقی



’’پاک افغان تعلقات کے تین ادوار‘‘


پاکستان قائم ہوا تو افغانستان اس کے اس صوبہ سرحد پر ڈیورنڈ لائن معاہدے کی بنیاد پر دعویدار کے طور پر سامنے آگیا جس کے شہریوں نے ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان سے اپنی وابستگی کا فیصلہ سنایا تھا۔ بات فقط اتنی نہیں تھی کہ پختونوں نے پاکستان کے حق میں بہت ہی بڑی تعداد میں ووٹ دیئے بلکہ اس ووٹ کے ذریعے سرحدی گاندھی اور ان کی سیاست بھی مسترد ہوگئی تھی اور افغانستان کا یہ دعویٰ بھی کہ یہ علاقہ اب بھی اس کا حصہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ باچاخانی پکوڑے جب تک افغان تیل میں تلتے
هفته 17 نومبر 2018ء

’ ’آزادی اظہار اور دوہرا معیار‘‘

منگل 13 نومبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
چلئے کچھ دوٹوک بات کرتے ہیں۔ وہ بات جو یکطرفہ نہیں دو طرفہ ہو اور جو تصویر کے ایک رخ پر ہی ساری توجہ مبذول نہ کرتی ہو بلکہ تصویر کے اس رخ کا بھی احاطہ کرتی ہو جو ہمارے نام نہاد لبرل ڈیموکریٹس کی حقیقت پسندی کا پول کھولتی ہو۔یہ ایک حقیقت ہے کہ کبھی کم تو کبھی زیادہ لیکن اس ملک میں سنسر شپ ہر دور میں رہی ہے۔ اور صرف ہمارے ملک میں ہی نہیں دنیا کے ہرملک میں ہر دور میں موجود رہی ہے۔ آزادی کا سب سے بڑا علمبردار امریکہ ہی ہے نا؟ کیا کوئی
مزید پڑھیے


’’بچہ اور تعلیم‘‘

هفته 10 نومبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
میں تو اپنے حساب سے بچوں کی تربیت والا موضوع نمٹا چکا تھا اور خیال یہی تھا کہ اس بار ’’خطابی وزیراعظم‘‘ اور ان کے ہنی مون پیریڈ کے حوالے سے ہی کچھ ہلکا پھلکا لکھا جائے کہ بعض قارئین نے اس جانب متوجہ کیا کہ بچوں کے تعلیمی پہلو پر تو سرے سے بات ہی نہیں ہوئی۔ سچ پوچھئے تو خود مجھے بھی حیرت ہوئی کہ یہ اس قدر اہم پہلو نظر انداز کیسے ہوگیا ؟ اس حوالے سے میرا مشاہدہ یہ کہتا ہے کہ بچے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو تعلیمی ہوتے ہیں اور
مزید پڑھیے


’’بچہ اور چاچے مامے‘‘

بدھ 07 نومبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
جناب عمران خان کے حکومت سنبھالنے کا مجھے اور میرے قارئین کو یہ بڑا فائدہ ہوگیا کہ ان کے ہنی مون پیریڈ کو بدمزہ نہ کرنے کی خاطر سیاسی موضوعات سے کنارہ کشی اختیار کرکے بچوں کی تربیت کے حوالے سے ایک پوری سیریز چلانے کا موقع میسر آگیا۔ قارئین کے زبردست رسپانس سے اس موضوع میں ان کی بے پناہ دلچسپی کا اندازہ ہوتا رہا جس سے مجھے لکھنے میں بھی لطف آیا۔ اور یہ لطف اس قدر بھرپور رہا کہ اب تو جی کرنے لگا ہے کہ اگلے چند ماہ میں ایک بار پھر کوئی نیا وزیر اعظم
مزید پڑھیے


’’ذمہ داریاں اور درکار عمر‘‘

هفته 03 نومبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
اگر انسانی نفسیات کا مناسب سا شعور میسر ہو تو بچوں کی تربیت ذرا بھی مشکل کام نہیں، بلکہ یہ وہ دلچسپ ترین مشغلہ ہے جس کا لطف آپ ہی نہیں آپ کے بچے بھی لے سکتے ہیں۔ مثلاً یہی دیکھ لیجئے کہ عربی زبان کا مقولہ ہے ’’ الانسان حریص فی ما منع‘‘ یعنی انسان اس چیز کا حریص ہوتا ہے جس سے اسے روک دیا جائے۔ یہ مقولہ انسانی نفسیات کی ایک اہم حقیقت کو بہت سادگی کے ساتھ عیاں کر رہا ہے۔ اسی نفسیاتی اصول کا استعمال کرتے ہوئے سالوں قبل ایک روز میں گھر میں داخل
مزید پڑھیے




’’نازک اندام مرد‘‘

منگل 30 اکتوبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
یہ 25 جنوری 1981ء کی شام تھی جب میں پی اے ایف بیس مسرور کراچی میں اپنے گھر سے پانچ چھ فرلانگ کے فاصلے پر واقع فٹبال گراؤنڈ میں گول کیپنگ کر رہا تھا۔ اس گراؤنڈ اور ہمارے گھر کے مابین ایک وسیع خالی رقبہ تھا جس پر کوئی آبادی وغیرہ نہیں تھی۔ ہمارا گھر درختوں کے جھنڈ کے بیچوں بیچ واقع تنہا مکان تھا۔ میں نے اچانک درختوں کے اس جھنڈ میں سے اپنی والدہ کو نمودار ہوکر بہت بیقرار انداز سے اپنا دپٹہ لہراتے دیکھا۔ میں دوڑتا ہوا ان کے پاس پہنچا تو انہوں گھبرائے ہوئے لہجے میں
مزید پڑھیے


’’پھر اطمینان سے فوت ہونا ہے‘‘

هفته 27 اکتوبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
میرا ایک بچہ تین اور دوسرا ایک برس کا تھا جب میں نے خود کو اس سوال کے روبرو پایا کہ مجھے اپنی ساری زندگی ان بچوں کے لئے سرمایہ کمانے میں لگانی چاہئے یا خود انہیں سرمایہ بنانے کے لئے اپنی زندگی وقف کردینی چاہئے ؟ اس کا سادہ سا مطلب یہ تھا کہ اگر ان سے متعلق میری ذمہ داری یہ ہے کہ مجھے ان کے لئے کمائی کرنی ہے تو پھر پیسہ میری ترجیح ہونا چاہئے۔ اور ترجیح بھی ایسی کہ اس کی راہ میں اگر یہ بچے بھی حائل ہوں تو میں ان کی بھی پروا
مزید پڑھیے


’’بچہ، سپانسر اور باپ‘‘

منگل 23 اکتوبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
گزشتہ کالم کے حوالے سے خیال یہ تھا کہ سمندر پار پاکستانی اسے تنقید کا نشانہ بنائیں گے کہ ہم اپنے بچوں کے لئے ہی نہیں بلکہ وطن کے لئے بھی خطیر زرمبادلہ کما رہے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ ایسی آسودگی کو آگ لگے جس کے حصول کے لئے اپنے بچوں سے دور رہنا پڑے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ سوشل میڈیا اور ای میلز کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے اس کالم کو اپنے دل کی آواز بتایا۔ اکثریت کا کہنا تھا کہ بچوں سے دوری کے جو نقصانات خود
مزید پڑھیے


’’رشتوں کی حرارت‘‘

هفته 20 اکتوبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
ہمارے ذاتی تجربات سے بڑی سیکھ شاید ہی کوئی چیز مہیا کرتی ہو۔ اور عملی تجربہ ایسی چیز ہے جو پڑھے لکھے اور ان پڑھ کا ایک جیسا اہم ہے۔ فرق بس شاید اتنا ہی ہو کہ پڑھا لکھا شخص اپنے تجربات کا تجزیہ علمی بنیاد پر کرنے کی سہولت سے بھی آراستہ ہوتا ہے ورنہ نتائج دونوں ہی کے تجربات کے شاید ایک جیسے ہوں۔ میرے لئے زندگی کے بعض موڑ اس لحاظ سے بہت اہم ثابت ہوئے کہ ان کے متعلق کتابی تصورات کچھ اور تھے جبکہ عملا کچھ اور ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ ممکن ہے
مزید پڑھیے


ضمنی انتخاب ،کیا کھویا کیا پایا

منگل 16 اکتوبر 2018ء
رعایت اللہ فاروقی
عام انتخابات کے موقع پر کئی قومی و صوبائی حلقے ایسے ہوتے ہیں جہاں کسی نہ کسی وجہ سے انتخاب ملتوی ہوجاتا ہے۔ کسی امیدوار کی ناگہانی موت، کسی امیدوار کے خلاف آنے والا عدالتی فیصلہ، الیکشن کے موقع پر متعلقہ حلقے میں کسی بڑے فساد یا پھر دھاندلی کی کسی بڑی شکایت سمیت کوئی بھی وجہ کسی بھی حلقے میں الیکشن کے التوا کا باعث بن جایا کرتی ہے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں ایسے حلقوں کی تعداد 41تھی جہاں عام انتخابات والے روز پولنگ نہیں ہوپائی تھی۔ ان حلقوں میں 22 اگست 2013ء کو ملکی تاریخ کا سب
مزید پڑھیے