BN

سجاد میر



انسان ذلیل ہے خدایا!


یہ کوئی امبانی ہیں، بھارت کے سب سے امیر شخص اور دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک۔ خیر ہمیں ان کی امارت سے کیا لینا دینا، امیر ہو گا تو اپنے گھر میں ہوگا۔ اس وقت ہمارا جھگڑا وہ بھی نہیں ہے کہ ؎ اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق اس لیے کہ ہم تو اس کا مذاق اڑانا چاہتے ہیں۔ اس نے اپنی بیٹی کی شادی کی ہے، پتا نہیں بیٹے کی نہ ہو مگر اصل بات یہ ہے کہ اس شادی پر اس نے بے
هفته 15 دسمبر 2018ء

ان کے لئے جن کا تذکرہ نہیں کیا

جمعرات 13 دسمبر 2018ء
سجاد میر
اب تو معاملات آگے بڑھنا چاہئیں۔ اس لئے نہیں کہ سو دن گزر چکے ہیں اور مزید چھ ماہ کی مدت شروع ہو چکی ہے۔ بلکہ اس لئے کہ ملک مزید تاخیری متحمل نہیں ہو سکتا۔ حکومت تو مل جائے گی‘ معاف کیجئے حکومت کی نہیں چلے گی۔ جلد ہی پوچھا جانے لگے گا کہ ملک میں کس کی حکومت ہے۔کوئی حکومت ہے بھی یا نہیں۔ اس وقت حالات قدرے پرسکون نظر آتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم کارشبریاراںشروع کر سکتے ہیں۔ اتنا عرصہ گزرگیا‘ قانون سازی کا کوئی کام نہیں ہوا۔ آج پارلیمنٹ میں بھی پوچھا گیا کہ
مزید پڑھیے


پنجاب یونیورسٹی المینائی

پیر 10 دسمبر 2018ء
سجاد میر
یہ ایک تاریخی دن تھا۔ اس لحاظ سے کہ پاکستان کی اولین اور قدیم ترین یونیورسٹی کے سابق طلبہ اپنی تنظیم کا اعلان کر رہے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی المینائی برسوں پہلے وجود میں آ جانا چاہیے تھی۔ مگر یہ اعزاز موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد اختر کے زمانے میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔ مجھے حفیظ خاں کا فون آیا چھوٹتے ہی سوال کیا‘ کب پاکستان آئے ہو؟ اس کے ساتھ ہی یادوں کا ایک سلسلہ چل پڑا۔ معلوم ہوا پنجاب یونیورسٹی کے اس شہرہ آفاق صدر نے اب یونیورسٹی المینائی کی صدارت سنبھال لی ہے اور وہ اسے
مزید پڑھیے


ان کی بات سنو!

هفته 08 دسمبر 2018ء
سجاد میر
یہ نہیں کہ اس میں کوئی بات قابل اعتراض ہے‘ مگر مرے ذہن میں یہ سوال اس وقت سے کلبلا رہا ہے کہ آخر مسلح افواج کے ترجمان نے یہ پریس کانفرنس کی ہی کیوں۔ وہ کیا حالات ہیں یا صورت حال ہے جس نے انہیں اس پریس کانفرنس پر اکسایا یا اس پر مجبور کیا۔ اس میں اتنی اہم باتیں ہیں کہ ایک ایک غور طلب ہے۔ ایسی باتیں اس وقت ہی کہی جاتی ہیں جب ان کی شدت سے ضرورت محسوس ہو۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری طرح ادب و زباں کے ہر طالب علم کا
مزید پڑھیے


آگ لگانے والا آگ بجھانے آیا

جمعرات 06 دسمبر 2018ء
سجاد میر
وہ مزار شریف میں پیدا ہوا کابل میں پروان چڑھا۔ کیا کیا باتیں یاد آ رہی ہیں۔ آج وہ امریکہ کی طرف سے اپنے آبائی وطن میں امن کا پیام لے کر آیا ہے۔ یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ اس اپنی ہی سرزمین کو جنگ کی بھٹی میں جھونکنے میں اس کا بھی ہاتھ تھا۔ یہ ایک سچی کہانی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ میں نے اسے افغانستان کا حسین حقانی کا کہا تھا۔ میں اسے ایک کامیاب حسین حقانی بھی کہہ سکتا ہوں‘ کیونکہ حقانی تو ابھی ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے۔ مگر یہ شخص اپنے
مزید پڑھیے




ڈرائونے خواب

هفته 01 دسمبر 2018ء
سجاد میر
دو باتیں میں وضاحت سے بیان کردینا چاہتا ہوں تاکہ کوئی ابہام نہ رہے۔ پہلی بات تو یہ کہ موجودہ اقتصادی بحران اس وقت شروع ہوا جب ملک میں سیاسی عدم استحکام کا آغاز کیا گیا۔ یہ 2016ء کا اختتام یا 2017ء کا آغاز تھا جب بظاہر نوازشریف کے خلاف کارروائی کی ابتدا ہوئی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب ملک کی معیشت ٹیک آف کے مرحلے تک پہنچی تھی۔ انرجی، انفراسٹرکچر اور امن و امان کی صورتحال اس حد کو چھو رہی تھی اور ہماری ریٹنگ بھی ایسی مثبت آ رہی تھی کہ سرمایہ داروں نے ادھر کا
مزید پڑھیے


کفایت شعاری کا سلیقہ

جمعرات 29 نومبر 2018ء
سجاد میر
یہ جو کفایت شکاری ہے نا‘ کفایت شعاری‘ اس سے اللہ کی پناہ۔ جی ہاں‘ میں یہی کہہ رہا ہوں آج کل اس کا بڑا چرچا ہے۔ ہم حکومت کے اخراجات کم کرنا چاہتے ہیں‘ سادگی اپنانا چاہتے ہیں۔ بڑی اچھی بات ہے‘ مگر اس کا نتیجہ یہ نکلے کہ ملک کی معیشت بیٹھ جائے‘ منڈی میں مندی کا زور ہو جائے‘کاروباری طبقہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہو اور یہ کہا جانے لگے کہ یہی حال رہا تو آئندہ تین چار ماہ میں آدھا ملک بے روزگار ہو جائے گا تو آدمی کو سوچنا پڑتا ہے یہ کون
مزید پڑھیے


یہی چراغ جلے گا تو روشنی ہوگی

پیر 26 نومبر 2018ء
سجاد میر
تو گویا یہ بات طے ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم ابھی تک جیت نہیں سکے۔ ہم تو ہم اس دنیا نے اس صدی کے آغاز میں جس کروفر سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تھا‘ اس کے بارے میں چار چھ برس پہلے یہ یہ اعتراف کر لیا ہے کہ ہم نے دہشت گردوں کو تو بہت مارا ہے۔ مگر دہشت گردی کو شکست نہیں دے سکے۔ پتا یہ چلا کہ دہشت گردی کا خاتمہ صرف دہشت گردوں کے خاتمے کے ساتھ مشروط نہیں ہے یا اس کا صرف یہ حتمی طریقہ نہیں ہے۔
مزید پڑھیے


فہمیدہ ریاض

هفته 24 نومبر 2018ء
سجاد میر
عمر بھر اس سے اختلاف رہا۔ چخ چخ بھی بہت رہی مگر آج جب اس کے مرنے کی خبر سنی تو روح میں ایک سناٹا سا چھا گیا۔ مجھے کہنے دیجئے‘ وہ اس عہد کی خواتین میں تخلیقی لحاظ سے بڑا ہی زرخیز ذہن رکھتی تھی۔ یہ اعتراف میں اس لیے کر رہا ہوں کہ بعض اوقات اختلاف کے معنی یہ لیے جاتے ہیں کہ جس سے اختلاف کیا جارہا ہو‘ اس کی مکمل نفی کی جاتی ہے۔ میں فیض صاحب تک پر فقرے لگاتا رہتا ہوں۔ کبھی کہتا ہوں کہ اپنے کمزور لمحوں میں مجھے فیض بھی اچھے لگتے
مزید پڑھیے


سوچنے کی چند باتیں

پیر 19 نومبر 2018ء
سجاد میر
بابا ذہین شاہ تاجی ایک بہت زیرک مزاج رکھنے والے صوفی دانشور تھے جو کراچی کی علمی اور روحانی زندگی کی جان تھے۔ طریقت میں وہ بابا تاج الدین ناگوری کے سلسلے سے منسوب گنے جاتے ہیں۔ بابا تاج الدین ناگوری ہند کے قرن آخر کی ایک بے مثل قلندر شخصیت تھی۔ بابا ذہین تاجی کے دربار میں اس عہد کے بڑے بڑے فلسفی، ادیب و دانشور اور صوفی حاضر رہتے تھے۔ اتنا لمبا تعارف میں نے ان کی صرف ایک بات بتانے کے لیے کیا ہے۔ ورنہ ان کی اصل شان وحدت الوجود بالخصوص شیخ اکبر ابن عربی
مزید پڑھیے