BN

سجاد میر

راستہ دشوار ہے

پیر 20  اگست 2018ء
سوچا تھا کہ کڑا دل کر کے نئی حکومت کے بطن سے پھوٹنے والے ممکنہ امکانات پر بات کروں گا‘ مگر لگتا ہے ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔ ہو سکتا ہے‘عمران کی تقریر کے بعد روشنی کی کوئی کرن پھوٹے۔ یہ کام کرنے کے لیے میں نے جو دل کڑا کرنے کی بات کی ہے تو اس کا مطلب یقینا یہ نہیں کہ مجھے اس نئی حکومت سے کوئی بنیادی قسم کے اختلافات رہے ہیں۔ہاں ‘ البتہ میں نہ نواز شریف کے خلاف ہونے والی کارروائی کے حق میں تھا ‘اور نہ تحریک انصاف کے عملی طریقہ کار
مزید پڑھیے


آزمائش کا مرحلہ

هفته 18  اگست 2018ء
پیپلزپارٹی ایسا پہلی بار نہیں کر رہی۔ اس سے پہلے 2007ء میں بھی انہوں نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا۔ اپوزیشن جماعتیں کسی طرح سے ایسے اقدامات کرنا چاہتی تھیں کہ صدر مشرف کے دوبارہ اسی اسمبلی سے منتخب ہونے کے امکانات ختم ہو جائیں۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب ایم ایم اے میں دراڑ پڑی، فضل الرحمن کا کردار ایسا مشکوک ہوا کہ دوبارہ سنبھل نہ سکا۔ دوسری طرف پیپلزپارٹی نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ مخالفت نہیں کرے گی، مگر رائے شماری میں حصہ نہیں لے گی۔ نتیجہ ظاہر ہے، حصہ نہ لینے کا
مزید پڑھیے


مشکل ہی مشکل ہے!

جمعرات 16  اگست 2018ء
میں صبح سے دیکھ رہا ہوں کہ جمہوریت پارلیمنٹ کے اندر کیسے پروان چڑھ رہی ہے۔ سپریم کورٹ‘ احتساب عدالت اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی خبریں آ رہی ہیں۔ ایک نہیں کئی باتیں ایسی ہیں جو اشارے کرتی دکھاتی دیتی ہیں کہ ملک کس سمت جا سکتا ہے۔ دل چاہتاہے کہ ان سب اشاروں پر تبصرہ کروں کہ یاروں نے بہت کچھ کہنا شروع کر دیاہے۔ مگر دل ڈرتا ہے۔ دل ڈرتا ہے‘ ان کالی اندھیری راتوں سے دل ڈرتا ہے۔ مثال کے طور پر میں ایک اندیشے کا تجزیہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا جو ایسا آسان
مزید پڑھیے


ہم سربکف ہیں!

هفته 11  اگست 2018ء
نک سک کچھ کچھ دکھائی دینے لگے ہیں، بلکہ سدھرنے لگے ہیں۔ پنجاب کی حد تک تصویر خاصی واضح ہو چکی ہے۔ وزیراعلیٰ جو بھی ہوگا، دیکھا جائے گا مگر دو بنیادی عہدوں پر دو جہاندید سیاستدانوں کی تقرری بہت معنی خیز ہے۔ ایک تو اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ عمران پنجاب کو رواداری میں نہیں لے رہے، وہ اس بڑے صوبے کو تجربات کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہتے۔ یہ دو چوہدریوں کے درمیان ایک مضبوط حصار میں ہوگا۔ پرویزالٰہی کا سپیکر بننا اس بات کا اعلان تھا کہ پنجاب کے گھاگ سیاستدانوں سے معاملات کرنے کا
مزید پڑھیے


اور کوئی حل نہیں ہے

جمعرات 09  اگست 2018ء
فکر نہ کیجئے میں سیاست پر ہی بات کروں گا۔ انداز یا آغاز مختلف ہو تو اس لیے گھبرائیے نہیں۔ آج اس کے سوا چارہ ہی نہیں کوئی اور ڈھنگ کی بات کرنا تو مشکل ہو گیا ہے۔ اصل میں مجھے ایک چینی ادیب کی ایک بات یاد آ گئی ہے جسے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ اس نے کمیونسٹ چائنا میں اپنی زندگی گزار دی۔ ثقافتی انقلاب کے دوران ذہنی تطہیر کے لیے اسے ایک تربیتی کیمپ کی سختیوں سے بھی گزرنا پڑا۔ بعد میں وہ پیرس جا کر وہیں سیاسی پناہ لے کر بس گیا۔ اس کو
مزید پڑھیے


اصل مسئلہ یہ ہے!

پیر 06  اگست 2018ء
اگر کوئی اس خوش فہمی میں ہے کہ اس بار ملک میں اتنی جاندار حزب اختلاف بنی ہے کہ حکومت کو نکیل ڈال کر رکھے گی تو وہ غلطی پر ہے۔ یہ میں نے حزب اختلاف کا پہلے ذکر اس لیے کیا کہ حکومت بننے سے پہلے ہی اس کا وجود عمل میں آ چکا ہے اور اس میں میدان سیاست کے بڑے بڑے نابغہ روزگار لوگ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس بار اس ملک میں ایسی حکومت آئی ہے جو نہ صرف اپنے آئیڈیلز کی وجہ سے لاجواب ہے بلکہ
مزید پڑھیے


عمل خیر کا تسلسل

هفته 04  اگست 2018ء
ایسی صورت میں کہا جائے گا کہ نوازشریف جیت گئے ہیں۔ رُکیے، فوراً ہی کسی نتیجے تک نہ پہنچئے۔ میں ایک پاکستانی کی حیثیت سے پورے شرح صدر کے ساتھ یہ محسوس کرتا ہوں کہ موجودہ حالات میں عمران خان کا کامیاب ہونا بہت ضروری ہے۔ یہ میں اسی خیال اور نیت کے تسلسل میں کہہ رہا ہوں جس کے تحت میں یہ کہتا رہا ہوں کہ نوازشریف کو نہ چھیڑو، اسے اپنی مدت پوری کرلینے دو۔ میرا خیال تھا اور ہے کہ قدرت نے ہمارے لیے جو بندوبست کر رکھا ہے، اس میں تعطل پیدا کیا گیا تو
مزید پڑھیے


پہلا چیلنج

جمعرات 02  اگست 2018ء
چل میرے خامہ بسم اللہ۔ آپ کہیں گے‘ حکومت بنی نہیں اور ممکنہ پالیسوں پر اعتراضات اب سے شروع ہو گئے۔‘‘ پینڈوسیا نی اچکے پہلے‘‘ لیکن ایسا بھی نہیں ہے ۔یہ آنے والی حکومت کی پالیسیوں کا رونا نہیں بلکہ اس پالیسی پر اعتراض ہے جو ناگزیر بنا دی گئی ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ یہ کام اس چڑیا نے کیا ہے جس کا نام انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ ہے۔ میں تو گزشتہ کئی دنوں سے چیخ رہا تھا کہ نگران حکومت ہمیں آئی ایم ایف کے دروازے پر سجدہ ریز ہونے کے لیے تیار کر رہی ہے۔ نگران وزیر خزانہ
مزید پڑھیے


کپتانی کا امتحان

اتوار 29 جولائی 2018ء
عمران خان کے سامنے بھی وہی مسئلہ ہے جو نوازشریف کے سامنے تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب 2013ء کے انتخابات ہو چکے تھے اور حلف اٹھانے کا مرحلہ ابھی نہیں آیا تھا۔ درمیان میں خاصا وقفہ تھا۔ عرض کیا تھا کہ جس طرح ایک شخص اپنے ساتھیوں سے پہچانا جاتا ہے، اس طرح ایک حکمران کی صلاحیتوں کا اندازہ اس ٹیم سے ہوتا ہے جو وہ اپنے لیے منتخب کرتا ہے۔ نوازشریف کی بساط سیاست کے بہت سے مہرے تو پہچانے جا رہے تھے مگر عمران خان کے سامنے امکانات کی اتنی لمبی چوڑی بساط
مزید پڑھیے


بڑا مزہ آئے گا

هفته 28 جولائی 2018ء
جنگ جیتنے کی بہترین حکمت عملی اعصاب پر قابو پانا ہے۔ یہ میں اس لیے بتا رہا ہوں کہ میں اعلان کر چکا ہوں کہ مجھے ابھی لڑنا ہے اور لڑتے رہنا ہے۔ اگر مجھے کوئی غلط فہمی تھی کہ میری جنگ ختم ہو چکی ہے تو وہ میری خوش فہمی کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس کی تفصیل کے ساتھ وضاحت کر چکا ہوں۔ میں نے یہ اعلان الیکشن سے پہلے کیا تھا اور وضاحت کی تھی کہ کوئی بھی جیتے یا ہارے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میری جنگ جاری رہے گی۔ یہ بھی عرض کر دیا
مزید پڑھیے