BN

سجاد میر


مرے عہد کے دو اجلے لوگ


ان دنوں اتنی تعزیتیں لکھی ہیں کہ اپنے ہونے پر شک گزرنے لگا ہے۔پھر بھی بہت سی اجلی روحوں کا تذکرہ رہ جاتا ہے۔ایسی روحیں جنہوںنے اس معاشرے کے گیسو سنوارنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔اس وقت میں ایسی دو عظیم المرتبت شخصیتوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جن سے میرا ایک طویل عرصہ رابطہ رہا۔ ان میں ایک ڈاکٹر صفدر محمود ہیں اور دوسرے عظیم سرور۔مرے لئے دونوں بہت محترم و مکرم تھے۔مگر اس سے زیادہ دونوں ایسے افراد تھے جنہوں نے معاشرے کو بہت سکھایا۔مثال کے طور پر ‘ہو سکتا ہے‘ادھر لاہور کے لوگ عظیم سرور کو
هفته 18  ستمبر 2021ء مزید پڑھیے

راز دار اوربھی ہیں!

جمعرات 16  ستمبر 2021ء
سجاد میر
پتا نہیں مجھے کیوں یہ احساس ہو رہا ہے کہ ہم امریکہ کے بلاک میں ہیں اور اس کی بے لوث خدمت کر رہے ہیں۔خطے کی صورت حال نئے روپ دھار رہی ہے‘مگر ہم نے جو اول روز سے امریکی غلامی کا دم بھرا تھا اس پر قائم رہنے کے جتن کر رہے ہیں۔خدا ہمارے حال پر رحم کرے۔ہم بڑی ڈھٹائی سے اپنی پرانے روش پر ڈٹے رہنے پر تلے ہوئے ہیں۔ایسا کیوں ہے اس کی وضاحت میں گزشتہ دو کالموں میں کر چکا ہوں۔ خطے کی صورت حال کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایران جیسا ملک
مزید پڑھیے


کیا کرتا ہے!

پیر 13  ستمبر 2021ء
سجاد میر
یہ جسے ریاست پاکستان نے نشان امتیاز سے نوازا ہے اور جسے میں اپنا مرشد کہتا آیا ہوں اس مجید امجد کے ایک نظم کی چند سطریں مجھے جانے کیوں بار بار یاد آ رہی ہیں سنگین فیصلوں کے گنبد سے پہرے دار پکارتے ہیں کیا کرتا ہے دل ڈرتا ہے ان کالی اکیلی راتوں سے دل ڈرتا ہے۔ میں تو خیر ساری نظم ہی بار بار ان دنوں پڑھتا جاتا ہوں۔شاید یہی وجہ تھی کہ میں نے ابھی کل پرسوں ہی یہ کالم لکھا تھا کہ مجھے ڈرلگتا ہے اور مرے ڈر میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس لئے کہ ہم بلا شبہ
مزید پڑھیے


مجھے ڈر لگتاہے!

هفته 11  ستمبر 2021ء
سجاد میر
ڈر لگتا ہے۔ مجھے ڈر لگتاہے۔ ڈر اس لئے لگتا ہے کہ پاکستان خطے کا اہم ملک بننے جا رہا ہے، بلکہ بن گیا ہے۔تو خوشی کی بات ہونا چاہیے اور مجھے شیخ رشید کی طرح لڈیاں ڈالنا چاہیے اور اپنے سیاسی مخالفوں کو ڈرانا چاہیے کہ سمجھ جائو کہ ہم کتنے اہم ہو گئے ہیں۔تم کیا چھوٹی چھوٹی سیاست میں پڑے ہوئے ہو۔ اسی لئے ڈر لگتا ہے۔ یعنی یہ کہ اس اہم صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمارے ہاں کوئی مستحکم حکومت نہیں ہے۔میں نے مستحکم کا لفظ سوچ سمجھ کر استعمال کیا ہے‘میں نالائق یا نااہل کا لفظ بھی
مزید پڑھیے


تین مقدس روحیں

پیر 06  ستمبر 2021ء
سجاد میر
ظلم یہ ہوا کہ سید علی گیلانی کی شہادت پر ابھی میں لکھ نہ پایا تھا کہ دو اور بری خبریں آ گئیں۔ جی ہاں ‘میں اسے شہادت ہی کہوں گا۔یہ شخص سامراجیوںکی قیدمیں حق و صداقت کا علم بلند کرتے ہوئے اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔جب کبھی کوئی کشمیر کی تاریخ لکھے گا تو اسے اندازہ ہو گا کہ بہت بڑے بڑے مجاہدوں کے درمیان بھی یہ کتنا بڑا مجاہد تھا۔کشمیر میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جنہوں نے نیلسن منڈیلا سے سخت قید کاٹی ہے اور ظلم سہے ہیں مگر انہیں اس لئے عالمی سطح پر
مزید پڑھیے



سنہری موقع یا امتحاں کی گھڑی

جمعرات 02  ستمبر 2021ء
سجاد میر
ڈر اس بات کا ہے کہ ہماری زندگیوں میں ایک سنہری موقع پھر آ رہا ہے جو ہمارے پیارے وطن کی قسمت بدل سکتا ہے۔مگر سوچتا ہوں آیا ہمارے پاس وہ صلاحیتیں ہیں جو اس سنہری موقع سے کماحقہ‘فائدہ اٹھا سکیں۔جب پاکستان بنا تھا تو تب بھی عالمی حالات ایسے تھے جہاں ہم کھیل سکتے تھے۔ہم نے بساط بچھائی۔دوسری جنگ عظم کے بعد امریکہ اور روس میں برتری کی جنگ جاری تھی۔ ہم نے امریکی بلاک میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔اس معاملے میں کہا جاتا ہے کہ لیاقت علی خاں پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہتے تھے۔اس زمانے
مزید پڑھیے


نشان امتیاز

پیر 30  اگست 2021ء
سجاد میر
اس حکومت سے ایک اچھا کام سرزد ہوا ہے‘اس کی تعریف میں نہیں کروں گا تو اور کون کرے گا۔یہ ایسا کام ہے جس پر کہا جا سکتا ہے کہ پہلے یہ کام نصف صدی میں نہ کر پائے۔ٹی وی پر یہ خبر دیکھ کر میں ہکا بکا رہ گیا کہ ن م راشد کے ساتھ مجید امجد کو بھی نشان امتیاز سے نوازا گیا۔حیران کن بات یہ تھی کہ ن م راشد کے تو پھر طرف دار موجود تھے۔ایک تو وہ گورنمنٹ کالج لاہور کے پڑھے ہوئے تھے‘دوسرے ریڈیو پاکستان سے لے کر عالمی اداروں میں ملازم رہے۔ان کا
مزید پڑھیے


اپنی خودی پہچان

هفته 28  اگست 2021ء
سجاد میر
چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جس کے جواب ہمیں نہیں مل رہے۔مثال کے دور پر جوبائیڈن یہ سمجھ نہیں پا رہے کہ انہوں نے اربوں ڈالر خرچ کر کے ایک فوج بنائی۔اسے بہترین تربیت دی‘اعلیٰ ترین اسلحہ سے لیس کیا‘مگر یہ ساڑھے تین لاکھ سپاہی چند دن بھی نہ نکال سکے۔وہ کہتا ہے میں نے افغانستان کے صدر اشرف غنی کو بھی مشورہ دیا تھا کہ وہ طالبان سے مذاکرات کرے، تاہم اس کا کہنا تھا کہ اس کی فوج دفاع کرنا جانتی ہے۔جوبائیڈن یا اشرف غنی اس معاملے میں اکیلے نہ تھے جو یہ سمجھتے تھے کہ یہ فوج کم
مزید پڑھیے


بڑی جماعتوں کا امتحان

هفته 14  اگست 2021ء
سجاد میر
میں نے عرض کیا تھا کہ پی ڈی ایم ختم نہیں ہوئی‘پی ڈی ایم کا زمانہ ختم ہو گیا ہے۔ایک وقت آتا ہے جب کسی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے لانگ مارچ‘دھرنا‘ استعفے یہ سب ہتھ کنڈے کارگر ہوتے ہیں۔کارگر نہ ہوں تو بامعنی ہوتے ہیں۔ زرداری کی صدارت کے زمانے میں لگتاہے کہ حکومت آج رخصت ہوئی کہ کل۔زرداری ملک سے باہر گئے تو کہا گیا واپس نہیں آئیں گے۔میمو گیٹ نے تو گویا چولیں ہلا کر رکھ دیں۔پھر کہا گیا کہ اسے پانچ سال پورے کر لینے دو۔یہی بہتر ہے وگرنہ خوامخواہ ہیرو بنے گا۔گستاخی معاف‘ ایسے
مزید پڑھیے


بہت کھیل ہو رہے ہیں

جمعرات 12  اگست 2021ء
سجاد میر
ہم کیا کر رہے ہیں۔تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں۔بربادیاں نہ سہی‘امتحان کی ایک اور گھڑی سر پر ہے۔جھٹ پٹ میں پریس کانفرنس کرنے والے شیخ رشید کے منہ سے بھی ایک اہم بات نکلی ہے۔کیسا الیکشن کون سی سیاست‘علاقے کی صورت حال اور عالمی حالات میں سب کچھ بدل سکتا ہے۔چھ ماہ میں جانے کیا سے کیا ہو جائے۔دراصل اس ساری صورت حال کا تعلق افغانستان کے حالات سے ہے جن کی طرف شیخ رشید اشارہ کر رہے ہیں۔مگر اس سے جڑی وہ حقیقت ہے جس کا ہم اعتراف نہیں کر پا رہے ہیں۔ میںان لوگوں میں سے
مزید پڑھیے








اہم خبریں