BN

سجاد میر



کہ جانے کون کہاں راستہ بدل جائے


جس طرح لوگ پوچھتے ہیں فضل الرحمن دھرنا دینے کیوں آ رہے ہیں‘ اس طرح یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ عمران خاں ایران اور سعودی عرب کیا لینے جا رہے ہیں۔ ہے کسی کے پاس کوئی جواب ۔کیا سچ مچ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان عرب و عجم کے درمیان بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔ ماضی میں تو یہ لوگ ‘دونوں ملک ہی‘ ٹھینگا دکھا دیا کرتے تھے‘ کسی سفارتی مصلحت کا مظاہرہ تک نہ کرتے تھے۔ کیا اب حالات بدل چکے ہیں یا اس کی آڑ میں کچھ اور معاملہ ہے۔ چین نے ایران میں ایک
پیر 14 اکتوبر 2019ء

کسی کی خیر نہیں

هفته 12 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
ہو سکتا ہے کہ آج کا پورا کالم جملہ معترضہ کی نظر ہو جائے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج کے سب نمایاں سیاست داں ساتھ کیوں نہیں چل پا رہے جب کہ وہ اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ موجودہ حکومت ملک کی بقا سلامتی اور ترقی کے لئے خطرہ ہے۔ میں نہیں کہتا یہ تجزیہ درست ہے۔ مگر اس کی خبر ضرور دیتا ہوں کہ تینوں سرگرم عمل پارٹیوں کے سنجیدہ لوگ اپنے دل کی گہرائیوں سے نہایت دیانتداری سے یہی سمجھتے ہیں۔ ان کی دیگر غرض مندیاں بھی ہوں گی‘ ان سے انکار نہیں‘ مگر
مزید پڑھیے


اک ذرا صبر…

جمعرات 10 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
لیجئے یہ تو محاورۂ عصر حاضر بن گیا ہے۔ صبر کیجیے ۔ پہلے تو یہ بات ہمارے وزیر اعظم فرمایا کرتے تھے۔ چین جانے سے پہلے سیلانی لنگر والوں کے اجتماع میں شریک ہوئے تو وہاں بھی اصرار کیا۔ صرف 13ماہ تو ہوئے ہیں‘ لوگ پوچھتے ہیں کہاں ہے وہ نیا پاکستان۔ ان سے صبر نہیں ہوتا۔ یہاں تو بس بات چل رہی تھی۔ اب یہ تکیہ کلام ہی بن گیا ہے۔ گویا ایک قومی بیانیہ۔ یہاں اب کہ شاید وزیر داخلہ نے بھی متوقع اسلام آباد مارچ کے حوالے سے یہی بات کی ہے۔ مگر مزہ مجھے تب
مزید پڑھیے


عارف علوی کے سیمینار سے آگرے تک

پیر 07 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
یہ ان سے میری پہلی ملاقات تھی۔ ملاقات نہیں آمنا سامنا تھا یہ بھی غلط ‘ یوں کہہ لیجیے میں بھی پہلی بار وہاں موجود تھا جہاں وہ مہمان خصوصی تھے۔ البتہ انہوں نے اس کی رسید کھلے عام دے دی تھی۔ ڈاکٹر عارف علوی کے صدر بننے پر میں نے ببانگ دہل ایک کالم میں اس بات کا اعلان کیا تھا کہ ان سے دوستی بہت پرانی ہے۔ دو چار برس بعد اسے نصف صدی ہو جائے گی۔ ہم نے چند معاملات پر اکٹھے کام بھی کیا ہے۔ انہوں نے ایک آدھ انٹرویو میں اور وفود سے ملاقات میں
مزید پڑھیے


چلتے ہو تو چین کو چلئے

هفته 05 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
سنا ہے وزیر اعظم چین جا رہے ہیں۔ میں ان کے اس دورے کو ان کے دورہ امریکہ سے بھی اہم سمجھتا ہوں۔ امریکی دورے کی سمت کا ہمیں اندازہ تھا۔ وائٹ ہائوس میں ٹرمپ سے عمران خاں کی ملاقات اسی سمت کا ایک کلائمکس تھا۔ دوسرا کلائمکس ہمارے آرمی چیف کو پینٹا گون میں 21توپوں کی سلامی ملنا۔ بات طے تھی کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔ اس کے لئے آئی ایم ایف نے ہم سے مناسب قیمت وصول کر لی تھی۔ چین کے دورے کے بارے میں البتہ طے نہیں کہ اس کی سمت کیا ہے اور
مزید پڑھیے




چند فکری سوالات۔ تازہ بہ تازہ

جمعرات 03 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
صرف کشمیر کا مسئلہ ہی زندہ نہیں ہوا‘ اس کے ساتھ بعض بنیادی اصولی سوال بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ اس کا یوں تو مجھے کئی دن سے خیال تھا کہ کہیں ہمارا تہذیبی پیراذئم شفٹ تو نہیں ہو رہا‘ تاہم ان دنوں اس خیال میں شدت آ گئی ہے۔ مثال کے طور پر اوریا مقبول جان نے یہ کہہ کر بنیادی سوال اٹھا دیا ہے کہ ہم کہتے رہتے ہیں کہ جہاد اس وقت فرض ہوتا جب ریاست اس کا باضابطہ اعلان کرے تو اب ہمارے وزیر اعظم نے جہاد کا اعلان کر دیا ہے‘ اس لئے میدان میں
مزید پڑھیے


آزادی، صرف آزادی

پیر 30  ستمبر 2019ء
سجاد میر
وزیر اعظم وطن واپس پہنچ چکے ہیں، میں آپ کو کل کی بات بتا دیتا ہوں جو میں نے ایک تقریب میں عرض کی تھی۔ سید فخر امام اس تقریب کے صدر تھے۔ میں نے دو ٹوک لفظوں میں عرض کیا کہ جب سے عمران خان برسراقتدار آئے ہیں میں ان کے کسی اقدام کی تعریف کرنے کی سعادت حاصل نہیں کر سکا۔ یہ نہیں کہ مجھے ان سے کوئی کد ہے، بلکہ ذاتی طور پر تو میں ان کا مداح بھی تھا، تا ہم جب قلم ہاتھ میں ہوتا ہے یا زبان کو اذن گفتار دینا ہوتا ہے تو
مزید پڑھیے


ظالم سے پوچھ کر انصاف

هفته 28  ستمبر 2019ء
سجاد میر
آجکل کشمیر کا محاذ گرم ہے۔ جو کچھ مقبوضہ کشمیر میں ہو رہا ہے یا لائن آف کنٹرول کی صورت حال ہے‘ وہ اپنی جگہ مگر یوں لگتا ہے کہ صبح شام ہم نے بحث کا ایک بازار گرم کر رکھا ہے کل پنجاب یونیورسٹی میں بڑا ذی شان سیمینار تھا۔ تو آج یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی(یو ایم ٹی) میں ایک شاندار نشست تھی اور جب آپ یہ سطریں پڑھ رہے ہوں گے ہم لوگ یونیورسٹی آف سیالکوٹ سے لوٹ چکے ہوں گے۔ اس کے علاوہ بھی سیمینار‘ اجلاس ‘ نشین‘ جلسے شیڈول ہیں۔ جس میں ہم نے جانا
مزید پڑھیے


پردے کے پردے میں

پیر 23  ستمبر 2019ء
سجاد میر
بہت سے دینی طبقے ایسے ہیں جن کی فکر میں اساسی کجی سے ایک ایسی ٹیڑھی عمارت کھڑی ہو جاتی ہے جو تاریخ میں پیسا کے منار کی طرح زندہ تو نہیں رہے گی مگر ہم جیسے کم علموں کے لئے بے شمار مغالطے چھوڑ جائے گی۔ ماحول ایسا ہو گیا ہے کہ جو شخص بھی دین کا نام لیتا ہے اس کی کوتاہیوں سے صرف نظر کرنا پڑتا ہے۔ یا کم از کم میں نے اسے عادت بنا لیا ہے۔ اسے میری مصلحت دینی کہہ لیجیے یا حد سے بڑھی ہوئی احتیاط۔ میرے بعض دوست یہ سمجھتے ہیں کہ
مزید پڑھیے


پنجاب میں بے چینی

هفته 21  ستمبر 2019ء
سجاد میر
کراچی کے ادبی حلقوں میں ایک بات لطیفے کے طور پر بیان کی جاتی تھی۔ قمر جمیل ایک عجب طبیعت کے مضطرب شاعر تھے۔ انہیں نثری نظم کا امام بھی کہا جاتا ہے کہیں کلیم میں ان کے حصے میں تھوڑی بہت زمین آ گئی تھی جو سندھ کے ایک چھوٹے سے قصبے ماتلی میں الاٹ ہو گئی تھی۔ تھے وہ دلچسپ آدمی سب دوست رات گئے آوارہ گردی کر رہے تھے‘ مزار قائد کے اردگرد اس وقت چھوٹی سی دیوار ہو گی ۔ کسی نے پوچھا اگر آپ کو ایک دن کی حکومت دے دی جائے تو سب سے
مزید پڑھیے