BN

سجاد میر



ملک کا کیا بنے گا


دکھ یہ نہیں کہ ایسے واقعات ہو رہے ہیں بلکہ تکلیف کا سبب یہ ہے کہ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہو تا کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ایک وفاقی وزیر نے اخلاق سے گری ہوئی حرکت کی‘ بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ کہتا ہے میں نے کچھ بھی نہیں کہا‘ وہ بڑی ڈھٹائی‘ ہٹ دھرمی اور تعلّی سے اپنے اس اقدام کا دفاع کر رہا ہے کہ میں لوگوں کو سمجھانے کا فریضہ ادا کر رہا تھا اور کرتا رہوں گا۔ چھوڑیے یہ کتنا بڑا جرم ہے‘ صرف اس پر غور کیجیے کہ
هفته 18 جنوری 2020ء

تاریخ کا جبر

جمعرات 16 جنوری 2020ء
سجاد میر
آج صبح اخبارات کے مطالعے کا آغاز ایک خوشگوار حیرت سے ہوا۔ بعض کالم تو میں پڑھتاہی اس نظر سے ہوں کہ کالم نگار نے اس پر کوئی سنجیدہ معاملے پر بات کر رکھی ہو گی۔ کہیں وہ مجھ سے چوک نہ جائے۔ لکھنے والے کی شہرت ہی ایسی ہوتی ہے۔ لیکن بعض دوسرے لکھنے والوں سے میں ذرا دوسری طرح کی بصیرت حاصل کرنے کا متمنی ہوتا ہوں۔ ملک اور خطے کے جو حالات ہیں بلکہ عالمی سطح پر جو معاملات ہیں ان کے پس منظر میں میرا خیال تھا کہ بہت جلے بھنے خیالات پڑھنے کو ملیں گے۔
مزید پڑھیے


اسلامی نظریاتی کونسل

هفته 11 جنوری 2020ء
سجاد میر
آج کل اسلامی نظریاتی کونسل پر نظر کرم ہے۔ اس آئینی اور دستوری کونسل نے نیب کے حوالے سے چند سفارشات کر دی ہیں‘ موقع غنیمت جان کر دل والے دل کھول کر برس پڑے ہیں کہ اس عہد نو میں ایسے ادارے پر کروڑوں اربوں خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ ایسی ہی فضول خرچی کی شکایت انہیں رویت ہلال کمیٹی کے بارے میں بھی ہوئی تھی۔ حالانکہ عوام کو تو اس امر پر بھی شکایت ہو سکتی ہے کہ وزیروں مشیروں کی فوج ظفر موج رکھنے کی عیاشی کی اس بھولی بھالی قوم کو کیا حاجت ہو سکتی
مزید پڑھیے


آنکھیں بدلنے کی دیر

جمعرات 09 جنوری 2020ء
سجاد میر
ابھی کل تک ہم ابوبکر بغدادی کی بہت تعریف کیا کرتے تھے۔ ثابت کیا کرتے تھے کہ ہماری کتابوں میں جس کا تذکرہ ہے‘ وہ لمحہ آ گیا ہے۔ بتایا کرتے تھے کہ یورپ کی دوشیزائیں اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مشرق وسطیٰ کا رخ کر رہی ہیں اور ہمارے ان عرب مجاہدوں پر مری جا رہی ہیں۔لگتا تھا نسیم حجازی کے ناولوں کے کردار اس مقدس سرزمین پر پھر گھومنا شروع ہو گئے ہیں۔اعلان ہو رہا تھا کہ خلافت اسلامیہ قائم ہو گئی ہے‘ اب گویا بیعت فرض ہے۔ رہے ملا عمر تو انہوں نے خلیفہ المسلمین ہونے
مزید پڑھیے


حفاظت کا حصار

پیر 06 جنوری 2020ء
سجاد میر
کیا ہم سچ مچ اتنے پھوہڑ ہیں کہ دو اکھرنہیں لکھ سکتے۔ مرا ایک طویل عرصے سے یہ خیال ہے کہ ہم قانون سازی میں پھٹیچر ہیں۔ یہ میں کوئی اسلامی تاریخ نہیں بتا رہا۔ بہت سی تحریری قانون سازی کی ابتدا مسلمانوں کے ہاں ہوئی ہے حتیٰ کہ بقول ڈاکٹر حمیداللہ کے میثاق مدینہ دنیا کا پہلا تحریری دستور ہے۔ خلافت راشدہ ہی کے زمانے میں ہم نے اس میدان میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیے ہیں۔ ہماری فقہ کے سارے دبستاں یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ ہم اس فن میں کیسے ماہر رہے ہیں۔ یہ بیانیہ
مزید پڑھیے




اپنا اپنا دین الٰہی

هفته 04 جنوری 2020ء
سجاد میر
نصیر سلیمی کراچی سے آئے ہوئے ہیں۔ ویسے تو انسائیکلو پیڈیا ہیں‘ مگر اس وقت انہوں نے ایک مزے کی بات یاد دلائی ہے ۔ملا واحدی ہماری تاریخ کا بے مثال کردار ہیں۔ خواجہ حسن نظامی کے لاڈلے تھے۔ ایک جگہ لکھ رکھا ہے کہ خواجہ صاحب کہا کرتے تھے ؛اللہ ہر شخص کے حصے کے بیوقوف پیدا کرتا ہے۔ تو اے مرے رب‘ مرے حصے کے ایک لاکھ بیوقوف مجھے بھی عطا کر۔ جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے مریدوں کی تعداد پورے ایک لاکھ تھی۔ غالباً ان دنوں مریدوں کے رجسٹرڈ کرنے کا رواج ہو چکا
مزید پڑھیے


تائب ہیں احتساب سے…سارے بادہ کش

جمعرات 02 جنوری 2020ء
سجاد میر
کس برہمن نے کہا تھا یہ سال اچھا ہے۔ جتنی مشکلیں وطن عزیز پر اس برس پڑی ہیں۔ اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ بات کو پھیلایا جائے تو پوری دنیا کے حالات ہی چند برس سے دگرگوں دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی سکھ کی خبر نہیں سننے کو ملتی۔ سال کے آخری دنوں میں تین واقعات ایسے ہوئے ہیں جنہیں عدالتی اور قانونی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہمارے ملک کی تاریخ میں یہ غیر معمولی واقعات ہیں۔ پہلا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ‘ دوسرا سابق صدر جنرل پرویز
مزید پڑھیے


چائنا کٹنگ

هفته 28 دسمبر 2019ء
سجاد میر
بھٹو صاحب کمال کی عملی ذہانت رکھتے تھے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ جام صادق بھی وزیر بلدیات تھے اور خاصے منظور نظر تھے۔ ان کی شہرت تھی کہ پلاٹوں کی بندربانٹ میں بڑے فیاض تھے۔ بلدیات ان کا محکمہ تھا۔ بھٹو صاحب نے ہنستے ہوئے بہت سوں کی موجودگی میں کہا‘ بھئی‘ جام صاحب ہر پلاٹ الاٹ کر دینا سوائے مزار قائد اعظم اور 70کلفٹن کے۔ ظاہر ہے 70کلفٹن بھٹو صاحب کا اپنا گھر تھا۔ آج میں نے جب ایک خبر دیکھی تو بھٹو صاحب بہت یاد آئے۔ ہمارے نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے نوٹس
مزید پڑھیے


ہماری قیادت ‘ ہماری طاقت

جمعرات 26 دسمبر 2019ء
سجاد میر
بھلا ہو ریاست مدینہ والوں کا‘ کم از کم اتنا تو ہوا کہ آج کل سیکولرازم کا فیشن ذرا کم ہوا ہے۔ کم از کم ہر سال یوم قائد اعظم کے موقع پر بڑے بڑے جغادری میدان میںنکل آتے ۔ ان کا کام ایک ہی ہوتا کہ ثابت کیا جائے قائد اعظم ایک سیکولر شخص تھے اور وہ پاکستان کو بھی ماشاء اللہ سیکولر دیکھنا چاہتے تھے۔ قائد اعظم کی 11اگست کی تقریر ہر بار زیر بحث آتی اور بتایا جاتا کہ ہم نے قائد اعظم کے نظریات کے ساتھ غداری کی ہے۔ ایک تو یہ بتایا جاتا کہ ہم
مزید پڑھیے


آئو تالیاں بجائیں

پیر 23 دسمبر 2019ء
سجاد میر
ابھی دو چار روز پہلے ہی میں نے شیخ عیسیٰ نور الدین کا ایک قول پڑھا ہے۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ جدید انسان کی غلطی یہ ہے کہ وہ عزم راسخ یا طاقت کے بغیر دنیا کی اصلاح کرنا چاہتا ہے۔ یہ شیخ عیسیٰ نور الدین وہی ہیں جنہیں فٹزشواں کہا جاتا ہے۔ شیخ عیسیٰ نور الدین‘ رینے گنوں(استاد عبدالواحد یحییٰ) مارٹن لنگز(ابوبکر سراج الدین) جیسی ہستیاں ہی ہیں جن پر ہمارے ہاں کمال درجے کی بحث شروع ہوئی تھی۔ اس تحریک کا آغاز فرانس سے ہوا تھا۔ بحیرہ روم کے اس پار کا علاقہ المغرب کہلاتا ہے
مزید پڑھیے