BN

سجاد میر


خدمت کے کارخیر


اس کارخیر میں قدرے تاخیر ہو گئی۔ ملکی اور ذاتی معاملات میں الجھا رہا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں خیر کے بہت سے کام ایسے ہوتے ہیں جن کی بنا پر تعلیم‘صحت کے معاملات خصوصی طور پر ضروریات زندگی کے دوسرے امور ایک سلیقے سے چل رہے ہیں۔ اس ملک میں جب زلزلہ یا سیلاب آیا تو یہ فلاحی تنظیمیں تھیں جو سب سے پہلے بروئے کار آئیں۔ایک تنظیم کا تو اب نام لینا بھی جرم قرار پایا ہے مگر ایسے موقع پر حافظ سعید کے مجاہدوں نے سچ مچ خدمت کا حق ادا کیا۔ الخدمت ہی کے نام
جمعرات 13 مئی 2021ء

مشین بڑی یا انسان

هفته 08 مئی 2021ء
سجاد میر
یہ وہ زمانہ تھا جب پی آئی اے کے عروج کے دن تھے۔ ہماری قومی ایئرلائن اپنے پر پھیلا رہی تھی۔ ایئرلائن نے ایک چھوٹا سا جہاز خریدا جس کا نام غالباً ٹوائن اوٹر تھے۔ اس میں 12مسافروں کے بیٹھنے کے گنجائش تھی۔ مقصد یہ تھا کہ ان شہروں کو بھی پی آئی اے کا سنٹر بنایا جایا جہاں عام طور پر ہوائی سفر نہ ہوتا تھا۔ اس کام کے لیے پہلی پرواز لاہور سے سرگودھا طے پائی۔ ان دنوں موٹروے ابھی بنی نہ تھی۔ اس لیے خیال کیا گیا کہ شاید یہ ایک کامیاب پرواز ہوگی۔ یہ ٹوائن اوٹر کی
مزید پڑھیے


اے نگار وطن تو سلامت رہے

پیر 03 مئی 2021ء
سجاد میر
گو میں رہا رہین ستم ہائے روزگار لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا وہی گھسی پٹی بات مگر آج کیفیت ایسی لگتی ہے کہ یہی دل کے قریب لگتی ہے۔ اے نگار وطن تو سلامت رہے۔ان دنوں مرے وطن پر یہ وقت بھی آنا تھا کہ ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے ملازمت چھوڑنے سے پہلے ملک کے سربراہ کے خلاف شدید الزامات لگانا تھا۔ پھر موقع ملنے پر ان کی تائید کرنا تھی۔یہی نہیں بلکہ صاف کہنا تھا کہ مجھے کار سرکار میں من مانی کرنے کے لئے کہا جاتا رہا ہے۔ بشیر میمن کے انکشافات معمولی نہیں ہے۔ جب وہ
مزید پڑھیے


درست رائے

جمعرات 22 اپریل 2021ء
سجاد میر
ایک بات ہمارے نئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے بڑے پتے کی کہی ہے اور وہ یہ کہ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی آپش نہیں ہے کہ ہم اپنی سالانہ ترقی کی رفتار کم از کم چھ سات فیصد تک لے جائیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ کیسے حاصل ہو گی۔ پرانی حکومت نے قرضے لئے‘ سی پیک کے منصوبے کا آغاز کیا۔ کچھ بھی کیا ترقی کی رفتار کو کھینچ تان کر ساڑھے پانچ فیصد سے اوپر تک لے آئے اور ان کی منصوبہ بندی کے تحت پچھلے سال چھ سے اوپر اور اس برس اس شرح نمو
مزید پڑھیے


ہمارے فیصلے

پیر 19 اپریل 2021ء
سجاد میر
چند ذاتی اور ذہنی مصروفیات کی وجہ سے قارئین سے رابطہ قدرے تعطل کا شکار رہا۔ تاہم اس عرصے میں بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے بہہ چکا ہے۔ تحریک لبیک پر پابندی کوئی معمولی فیصلہ نہیں ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم فیصلے کا وقت پر احساس نہیں کر پاتے۔ اکثر اوقات ہم بہت خلوص کے ساتھ ایک حکمت عملی طے کرتے ہیں‘ پھر اسی کے شکنجوں میں آ جاتے ہیں۔ میں نے کراچی میں ایم کیو ایم بنتے دیکھی ہے۔ اسے ایک ایسی حکمت عملی کہا گیا جسے ضیاء الحق کی اشیر باد حاصل تھی۔ کہا
مزید پڑھیے



چار برس

هفته 10 اپریل 2021ء
سجاد میر
چار سال بیت گئے ۔پلک جھپکتے ہی گزر گئے۔ یہ چار برس میں نے اسی ادارے سے وابستگی میں گزارے ہیں، یہیں پر کالم لکھا ہے، نوائے وقت کے بعد یہ میرا سب سے طویل دورانیہ ہے، جو میں نے ایک کالم نویس کے طور پر کسی اخبا میں گزارا۔جنگ میں کوئی ایک سال‘ خبریں میں اس سے بھی کم اور نئی بات میں ذرا زیادہ عرصہ،جنون کی حکایت خونچکاں لکھتا رہا۔ روزنامہ حریت کا ایڈیٹر تھا مگر وہاں میں نے کالم نویسی نہیں کی تھی۔ یہ جو چار سال کا عرصہ ہے، یہ میری زندگی ہی کا بہت اہم موڑ
مزید پڑھیے


دنیا دار تدبیر کرنے والے

جمعرات 08 اپریل 2021ء
سجاد میر
گستاخی معاف دنیا کا خاتمہ نہیں ہو گیا۔ ابھی تک کچھ پردہ ظہور میں ہے۔ جو لوگ سمجھتے تھے کہ ملک میں سیاسی جماعتوں کا حزب اختلاف کی صورت میں اتحاد ضرور رنگ لائے گا اور ان کے خیال میں موجودہ حکومت کی شکل میں ان پر جو عذاب نازل ہوا ہے نہ صرف وہ ٹل جائے گا بلکہ قوم کی زندگی میں خوشیوں کی بہار آئے گی، وہ شاید مایوس ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب یہ اتحاد بنا تھا تو بعض سیانے پوچھتے تھے یہ کیسے چل پائے گا۔ آگ اور پانی کا ملاپ کیسے ہو پائے گا۔
مزید پڑھیے


آگ ‘عذاب اور زہر

هفته 03 اپریل 2021ء
سجاد میر
آج ہماری کابینہ یہ فیصلہ کرنے بیٹھی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کیسے ہونے چاہئیں۔ یہ وہ سوال ہے جو اس دن پیدا ہوا تھا جب پہلے مسلمان نے اس سرزمین پر قدم رکھا تھا۔ویسے تو ہمارے قائد اعظم نے بڑے مدبرانہ استدلال کے ساتھ فرمایا تھا کہ جب برصغیر میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا تو پاکستان کی بنیاد رکھ دی گئی تھی۔ میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ اس میں مسلمان ہونے کی بات ہے۔ یہ نہیں کہ جب پہلے مسلمان نے اس سرزمین پر قدم رکھا تھا۔ یہ تسخیر ارضی کا مسئلہ نہ تھا، دلوں
مزید پڑھیے


ہزمیجسٹی لائل اپوزیشن

جمعرات 01 اپریل 2021ء
سجاد میر
برطانیہ جمہوریت کی ماں کہلاتا ہے۔یہاں حزب اختلاف کو شہنشاہ معظم(یا ملکہ معظمہ) کی وفادار اپوزیشن کہا جاتا ہے۔ہزمیجسٹی ز لائل اپوزیشن۔مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ حکومت کی مخالفت کرتے ہوئے ریاست کے باغی نہیں بن جاتے۔ہمارے ہاں اسلام کی تاریخ میں ایسے بہت سے گروہ پیدا ہوئے جنہوں نے ریاست و خلافت کے ہوتے ہوئے عوام کے حقوق کے لئے اختلاف کی آواز اٹھائی۔انہوں نے اسے مصلحت دینی کے منافی سمجھا کہ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ ان کی کئی شکلیں ہیں۔ دوسری طرف ایسے بھی لوگ تھے جن میں بڑے بڑے جلیل القدر اور صائب النسل
مزید پڑھیے


امپیریل بنک آف پاکستان

هفته 27 مارچ 2021ء
سجاد میر
جب میں نے پہلا کالم لکھا تو مجھے یاد ہے کہ اس کی بنیاد کیا تھی۔ یہ میں اس کالم کی بات نہیں کر رہا جو ایک پیشہ ور صحافی کے طور پر میں نے لکھنا شروع کیا‘ بلکہ اس شوقیہ کالم کی بات کر رہا ہوں جو ایک درجہ دوم(سکینڈ ایئر) کے طالب علم نے اپنے شہر کے ایک مقامی اخبار میں لکھا تھا ۔ہوا یوں کہ ضلعی ہیڈ کوارٹر پر نیشنل بنک کا وہی درجہ ہوتا تھا جو ملک میں سٹیٹ بنک کا ہوتا ہے۔ گویا بڑا مقام تھا۔ یہ بنک ضلع کچہری کے اندر اسی بلڈنگ میں
مزید پڑھیے








اہم خبریں