BN

سجاد میر



ظہور الحسن بھوپالی


آج ہمدم دیرینہ ضیا زبیری نے یاد دلایا ہے کہ ظہورالحسن بھوپالی کو ہم سے رخصت ہوئے 37برس بیت چکے ہیں۔ اس عرصے میں سیاست نے اتنی کروٹیں لی ہیں کہ اب کم لوگوں کو ان کا نام بھی یاد ہو گا۔ کہا جاتا ہے کہ اگر وہ شہید نہ کر دیا جاتا تو کراچی میں الطاف حسین پیدا نہ ہوتا‘ وہ کراچی کا اصلی لیڈر ہوتا۔ ایسا لیڈر جو پاکستان سے محبت کے جذبے سے سرشار تھا۔ آپ مری بات سمجھ گئے ہوں گے۔ میں یہ کہہ رہا ہوں بھوپالی کی شہادت نے اس فتنے کی راہ کھول دی
هفته 14  ستمبر 2019ء

افراد‘ الفاظ ‘ تصورات

جمعرات 12  ستمبر 2019ء
سجاد میر
بعض اوقات آدمی اپنے آپ کا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے۔ آج 11ستمبر ہے۔ مجھے آج اس پر بات کرنا چاہیے تھی مگر گزشتہ شب سے مری سوئی بھی ایک خیال پر اٹکی ہوئی ہے۔ اس لئے نائن الیون یا قائد اعظم پر بات کرنے کے بجائے میں اسی پر گفتگو کرنا چاہوں گا۔ اصل میں ٹی وی پر مصباح الحق کی تقرری پر بات ہو رہی تھی ۔ کسی نے کہا کہ وہ میانوالی کا ہے اور نیازی بھی ہے اس لئے اس پر ایسی نوازشات کی بوچھاڑ ہو رہی ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔
مزید پڑھیے


بچوں سے باتیں‘ یوم دفاع پاکستان

هفته 07  ستمبر 2019ء
سجاد میر
گزشتہ روز میں لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی میں مہمان تھا۔ یوم دفاع پاکستان کی تقریب تھی۔ اس بار اس میں ایک جہت کا اور اضافہ تھااور وہ یہ کہ آج کا دن یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جا رہا تھا۔ پھر کسی نے خوب کہا کہ یہ وہ دن بھی ہے جب ہم شہید ائے کربلا کو یاد کرتے ہیں۔ ذرا غور کیجیے کہ اس دن کی کتنی اہمیت کتنی جہتوں سے ہو جاتی ہے۔ مجھے اچانک خیال آیا ہم اپنی تاریخ بھولتے جاتے ہیں۔ سامنے یونیورسٹی کی طالبات تھیں ‘ مگر مجھے یقین تھا کہ ان
مزید پڑھیے


اسلامی جمہوریہ اور ہندوتوا

جمعرات 05  ستمبر 2019ء
سجاد میر
یہ ایک انتہائی خطرناک مغالطہ ہے جو پیدا کیا جا رہاہے۔ ہمارا دانشور کہتا ہے کہ بھارت اگر ہندو ریاست ہے تو اس میں خرابی کیا ہے۔ ہم بھی تو آخر ایک مسلم ریاست ہونے کے دعویدار ہیں۔ اگر وہ فاشٹ ہیں تو پھر ہمیں بھی خودکو فاشٹ ڈکلیئر کر دینا چاہیے۔ یہ بات کئی مغاطوںکا ملغوبہ ہے اور اس ملک میں ایک خاص ذہنیت پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ بات کی وضاحت یوں کی جاتی ہے کہ جناح نے تو 11اگست کو جس نظام کا اعلان کیا تھا وہ ان کے مطابق ایک سیکولر ریاست تھی جبکہ ان کی
مزید پڑھیے


فطرت لہو ترنگ ہے غافل نہ جل ترنگ

پیر 02  ستمبر 2019ء
سجاد میر
برادرم ارشاد احمد عارف کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کے بارے میں تاثر ہے کہ وہ موجودہ حکومتی قیادت کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ اس میں حرج بھی نہیں ہے‘ تاہم آج ان کی رگ حمیت نے وہ ساز چھیڑاہے جس سے میں قومی یکجہتی کے نام پر احتراز کر رہا تھا۔ میں یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ یہ تاثر ملے کہ میں حکمراں مقتدرہ کی ہر بات میں کیڑے نکالتا ہوں۔ جنگ کا طبل بجے تو اس پر ہزار اختلاف قربان کئے جا سکتے ہیں۔ میں نے اتنا تو عرض کیا تھا کہ
مزید پڑھیے




ابونصرمولانا منظور احمد شاہ

جمعرات 29  اگست 2019ء
سجاد میر
ان کی عظمتوں کی داستان سنائوں یا اپنے ماضی کا وہ ورق الٹائوں جو آج مرے بہت سے ساتھیوں سے پوشیدہ ہے۔ میں کئی دن سے سوچ رہا تھا کہ خاص طور پر ساہیوال جا کر ان سے ملاقات کروں۔ ان سے ملے ہوئے نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہو گا مگر ان دنوں کی داستان ذہن میں ایسے تازہ ہے جیسے کل کی بات ہو۔ یہ دن مری اپنی شخصی تشکیل میں بھی بہت اہم رہے ہیں۔ آج برادرم ڈاکٹر عبدالقادر نے ان کے انتقال کی خبر دی توپہروں ان کی باتیں کرتے رہے۔ منظورشاہ صاحب
مزید پڑھیے


میں بھی بزدل ہوں

پیر 26  اگست 2019ء
سجاد میر
ایسے ہی یہ خیال نہیں آیا ‘میں برسوں اس پر سوچتا رہا ہوںحتمی جواب اب بھی مرے پاس نہیں ہے۔ یا شاید دل یکسو ہے مگر اس جواب کو دو ٹوک انداز میں زبان دینے کا ابھی سلیقہ اپنے میں نہیں پاتا۔ اس بات کا مجھے اچھی طرح اندازہ ہے کہ اہل مغرب ایک طویل عرصے سے جس بات سے خوفزدہ ہیں اسے مشہور برطانوی مورخ ٹانن بی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ اسلام نے مسلمانوں کے دل سے موت کا خوف نکال دیا ہے۔ خلافت عثمانیہ اور سلطنت مغلیہ کے خلاف لڑتے ہوئے یہ سوال بڑی
مزید پڑھیے


لفظوں کی جنگ یا خیالات کی جنگ

هفته 24  اگست 2019ء
سجاد میر
آج انگریزی کے ایک مضمون پر نظر پڑی تو ایک خواہش دوبارہ جاگ اٹھی۔ یہ مضمون تو خیر قومیت یا نیشنلزم کے بارے میں تھا۔ مگر جو خواہش جاگی وہ اردو میں چند قاعدے مرتب کرنے کا شوق تھا۔ یہ شوق حسن عسکری صاحب کی خاص طور پر اس تحریر سے پیدا ہوا تھا جو انہوں نے دینی مدارس کے طلبہ کو علم جدید کی گمراہیاں بتانے کے لئے ایک خاکے کی شکل میں تیار کی تھی۔ مگر اس میں اتنے سوال پیدا کر دیے تھے کہ آدمی ان کے سادہ فہم جواب تلاش کرے تواس کا سارا زاویہ نگاہ
مزید پڑھیے


خلا میں بے وزنی کی کیفیت

جمعرات 22  اگست 2019ء
سجاد میر
کشمیر فتح ہو چکا۔ جشن ترقی و کمال منایا جا چکا۔ چن چن کر سارے مخالف جیل میں ڈال دیے گئے اور آخری مرحلے کے طور پر سول اینڈ ملٹری تعلقات ایسے عروج پر پہنچ چکے‘ آرمی چیف کومدت ملازمت میں توسیع دی جاچکی۔ اب کیا باقی ہے اخبارات پر نظر ڈالئے۔ یا ٹی وی کے روبرو پل بہ پل بیٹھنے سے یہی تاثر ملتا ہے۔ ایسے میں گزشتہ دو تین روز سے میں نے یہ حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے کہ ٹی وی صرف خبروں کے لئے دیکھتا سنتا ہوں۔ تجزیوں اور تبصروں سے پرہیزکرتا ہوں۔ اخبارات کی
مزید پڑھیے


آن پہنچی ہے امتحان کی گھڑی

هفته 17  اگست 2019ء
سجاد میر
جب آپ یہ سطریں پڑھ رہے ہوں گے سلامتی کونسل کے ارکان کا نیو یارک میں اکٹھ ہو چکا ہو گا جس میں وہ اس بات پر غور کریں گے کہ پاکستان نے جو کشمیر کے مسئلے کو دوبارہ اٹھایا ہے اس کا کیا کیا جائے‘ اجلاس بلایا جائے یا بس غیر رسمی بات چیت پر اکتفا کیا جائے۔ اجلاس میں کیا ہوتا ہے یہ دوسری بات ہے۔ دیکھے کیا گزرے ہے قطرے پہ گوہر ہونے تک۔ تاہم اس وقت بڑے اعتماد سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ فوری طور پر کسی غیر معمولی پیش رفت کی توقع نہیں
مزید پڑھیے