BN

سجاد میر


عشق رسول ؐ اور اقبال


ہفتہ کو یوم اقبال اوراتوار کو عید میلادالنبیؐ تھی۔ گزشتہ برس بھی یوم اقبال ربیع الاول کے مہینے میں آیا تھا مگر اس بار تو بالکل یوم ولادت نبیؐ سے متصل ہے۔ اس بار بھی حسب روایت ایوان اقبال میں یوم اقبال کی تقریب تھی۔ جس میں ہمیشہ بات کرنے کی سعادت ملتی ہے۔ پہلے تو یہ اہتمام نہ ہوتا تھا مگر میں سوچ رہا تھا کہ میں ہمیشہ اس بات کا اہتمام کرتا ہوں کہ اقبال کا جو تعلق قرآن اور عشق رسولؐ سے ہے اس پر ضرور گفتگو کروں۔ اس بار تو گویا موضوع ہی یہی تھا۔
بدھ 13 نومبر 2019ء

یہ ایک راہداری ہی نہیں

هفته 09 نومبر 2019ء
سجاد میر
مرے سامنے ایک دعوت نامہ کھلا پڑا ہے۔ یہ کرتار پور راہداری کے افتتاح میں شمولیت کا پروانہ ہے۔ مگر میں نہیں جا پائوں گا۔ اس کی وجہ کوئی سیاسی‘ مذہبی یا قومی نہیں‘ بلکہ یوں کہہ لیجیے اس سفر کی ہمت نہیں کر پائوں گا۔ پھر مرے شہر میں یوم اقبال کی مجلس سجنا ہے اور اس میں شمولیت ہر سال مجھے بہت عزیز رہتی ہے۔ ایک عجیب اتفاق ہے کہ دو دن مرے نبی آقارسولؐ کا یوم ولادت بھی ہے۔ شہر میں خوب روحانیت ہو گی۔ کرتار پور کے بارے میں مری عجیب کیفیت ہے اور مختلف سوال ہیں۔ایک
مزید پڑھیے


کب کی بات کب یاد آئی

جمعرات 07 نومبر 2019ء
سجاد میر
میں جب ٹیلی ویژن پر صبح کا پروگرام بریک فاسٹ ود سجاد میر کیا کرتا تھا۔ تو حالات کے مطابق اپنی آسانی کی کوئی تدبیر اختیار کرتا رہتا تھا۔ میں پروگرام کے ایک حصے میں اسی دن تیرہ چودہ اخبارات میں چھپے کالموں میں سے پانچ چھ کا انتخاب کر کے ان کا خلاصہ بیان کرتا‘ پھر ان کے بعض نکات پر تبصرہ کرتا۔ یہ کام مجھے خود ہی کرنا ہوتا تھا۔ اس میں کوئی میرا مددگار نہیں ہوتا تھا۔ صبح صبح کم وقت میں اپنے لئے ایک بار میں نے یہ سہولت تیار کی کہ اخبارات کے ان کالموں
مزید پڑھیے


جمہوریت بڑے کام کی چیز ہے…

بدھ 06 نومبر 2019ء
سجاد میر
آخر وہ ہمارے حکمران رہے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سلطنت برطانیہ میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا۔ ہم نے ان کی آن بان دیکھی ہے۔ مہذب دنیا کی بہت سی اقدار اور انسانی ترقی کی ابتدا کا سفر بھی اسی سرزمین سے وابستہ تھا۔ سب سے بڑی قدر جمہوریت سے اور برطانیہ کو آج بھی جمہوریت کی ماں کہا جاتا ہے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ برطانیہ نے جمہوریت کی خاطر بڑی قربانیاں دی ہیں۔ اس نے ہٹلر سے ٹکڑا کر خود اپنے وجود کو خطرے میں ڈال دیا اور یہ سب
مزید پڑھیے


تاریخ کا پہیہ

پیر 04 نومبر 2019ء
سجاد میر
مرے ذہن میں یہ سوال کھد بد کر رہا ہے کہ یہ جو دھرنا ورنا ہے یہ درست ہے یا غلط۔ سچ پوچھئے تو اب تک کی جو سرگرمی تھی‘ میں نے بھی اس کا خوب مزہ اٹھایا ہے۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی سیاسی بے بسی کا نظارہ بھی کیا ہے اور حکمرانوں کو تلملاتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ یہ بات طے ہے کہ حکومت نے سمجھ لیا تھا کہ طاقت کا استعمال ممکن نہیں‘ کچھ صلح صفائی سے راستہ نکالنے کی کوشش کی جائے۔ یہ بات حکمرانوں کے موجودہ سالار کے لئے بہت مشکل تھی مگر لگتا
مزید پڑھیے



یہ قیامتیں جو گزر گئیں!

هفته 02 نومبر 2019ء
سجاد میر
کہتے ہیں سوچ سمجھ کر دعا مانگنا چاہیے۔ بار بار سوچتا تھا کہ یہ دھرنے کا مرحلہ ختم ہو تو کچھ اور بات کروں اور نہیں تو دو چار ایسے موضوعات پر ہی گفتگو کر لوں جن کاتعلق براہ راست اس سیاست اور اس کے فریقین سے ہے۔ کچھ تو ہٹ کر بہت دنوں سے سوئی اسی پر اٹکی ہوئی ہے اور کوئی بات سوجھ ہی نہیں رہی۔ یہ عجیب اذیت کا مرحلہ ہوتا ہے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے قومی زندگی ایک بھنور یا گرداب میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ یہ دعا تو قبول ہوئی مگر اس سے
مزید پڑھیے


راستہ دے دو یا راستہ بنا دو

جمعرات 31 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
سچ پوچھئے تو مجھے اس دھرنے سے بھی اتنی دلچسپی نہیں تھی۔ شاید اس کی وجہ اس میں طاہرالقادری کی غیر سنجیدہ شمولیت تھی یا اس کا اچانک ابھر آنا تھا۔ کچھ بھی ہو اس لئے اگر میں یہ کہوں کہ مجھے اس دھرنے سے بھی ایسی دلچسپی نہیں ہے تو یہ غیر معقول بات نہ ہو گی۔ پر کیا کروں یہ اب سر پر آن پہنچا ہے۔ اس وقت لاہور میں اپنے وجود کے پورے احساس کے ساتھ موجود ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس کی اٹھان 2014ء والے دھرنے سے کہیں زیادہ ہے۔ آگے خدا
مزید پڑھیے


ٹک ٹاک لائف سٹائل

بدھ 30 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
یہ ٹک ٹاک کیا ہے۔ اللہ رکھے اب تو قومی سطح پر ٹک ٹاک سٹار کے چرچے بھی ہونے لگے ہیں۔ ضرور کوئی بڑی چیز ہو گی جس کے سٹار بھی بن گئے ہیں اور آسمان شہرت پر جگمگا رہے ہیں۔ میں ان باتوں کو سرسری نہیں لیتا۔ نظرانداز کر کے دیکھ لیا ہے۔ یہ تو سر پر ہی چڑھتے جا رہے ہیں پہلی بار جب میں نے یہ لفظ سنا تو اس کے صوتی آہنگ سے اس کا ایک تصور باندھ لیا، مگر زیادہ توجہ نہ دی، بلکہ اہمیت نہ دی۔ ہمارے ہاں ایک ڈش ہے جو پہلی بار
مزید پڑھیے


خدا کا خوف کرو‘عقل کے ناخن لو

پیر 28 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
یہ تو حد ہو گئی نا! کہتے ہیں حمد اللہ نام کا یہ شخص پاکستانی نہیں ہے۔ غیر ملکی ہے۔ جو سینیٹر ہے۔ وزیر رہ چکا ہے ۔ پاکستان کے عوام نے اسے اپنے ووٹوں سے منتخب کیا ہے اور منتخب لوگوں نے بھی اسے اپنی نمائندگی کا سزا وار سمجھا ہے۔ ہمارے تمام اداروں نے اس کی سکروٹنی کی ہے۔ صرف الیکشن کمشن ہی نے نہیں‘ اس ادارے نے بھی جو پاکستانی شہریوں کو شناختی کارڈ جاری کرتا ہے انہیں پاکستانی ہونے کی شناخت دیتا ہے اور کیسا ہوتا ہے پاکستانی۔ ذرا یہ بھی بتائو وہ غیر ملکی ہے تو
مزید پڑھیے


بیمار کے لئے چند پھول

هفته 26 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
دل دکھی ہے۔ پہلی بار خواہش پیدا ہو رہی ہے کہ کاش میں ایک کہنہ شخص ہوتا۔ بیہودہ ‘ گھٹیا‘ منہ پھٹ اور ذلت کی حد تک پہنچا ہوا ناہنجار شخص۔ کم از کم اس زبان میں بات کر کے دل کی بھڑاس تو نکال لیتا جیسی زبان آج کل بعض سیاسی بقراطوں نے اختیار کر رکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر آدمی کے اندر ایک کمینگی ہوتی ہے۔ اس کے خلاف لڑنا ہی جہاد ہے۔ آج میں اس جہاد سے گزر رہا ہوں۔ دکھ اس بات کا نہیں کہ یہ نواز شریف کے خلاف ایسی زبان استعمال کر رہے
مزید پڑھیے