BN

سجاد میر



خسارے کا سودا


اے مرے دوست‘ مرے ریا کار قاری‘ مرے بھائی! جب سے بزرگوں نے بودیلیئرکی ان لائنوں سے متعارف کرایا ہے‘ اکثر اوقات دن رات ان کی گردان کرتے رہتے ہیں۔ اچھے دن تھے‘ اب بھی کہاں کے سیانے ہیں ‘ پھر بھی نادانی کے زمانوں میں اس سوال پر غور کرتے عمر گزر گئی کہ آدمی ریا کار کیوں بنتا ہے۔ ویسے استادوں نے تو یہ بتا رکھا تھا کہ زر نہاد معاشرے میں جو شخص ریا کاری سے کام لیتا ہے‘ وہ کم ازکم اعلیٰ تر اقدار کو خراج تحسین پیش کرنا نہیں بھولتا اور یہ مان لیتا ہے
پیر 05  اگست 2019ء

اک تیر میرے سینے پہ مارا کہ ہائے ہائے

جمعرات 01  اگست 2019ء
سجاد میر
آج مجھے کراچی بہت یاد آ رہا ہے۔ جب سے بارش کی تباہ کاریوں کی خبریں آ رہی ہیں۔ مجھے اس کے گلی‘ کوچے‘ سڑکیں ‘ بازار‘ مقامات ‘ ندی نالے سب کی یاد ستا رہی ہے۔ ایک عجیب تقابل مرے ذہن میں ابھرا ہے۔ جب غالب منزلوں سے منزلیں مارتے دلی سے کلکتے پہنچے تھے تو واپسی پر ان کا جانے کیا حال ہو گا جو وہ پکار اٹھے: کلکتہ کا جو ذکر کیا تونے ہم نشیں اک تیر میرے سینے پہ مارا کہ ہائے ہائے جب ہم اپنے عہد کے کلکتہ کا ذکر سنتے ہیں جہاں لاکھوں انسان فٹ پاتھ پر
مزید پڑھیے


عرفان صدیقی۔ ایسا بھی ہوتا ہے باہم

پیر 29 جولائی 2019ء
سجاد میر
میں اعلان کر چکا تھا کہ مجھے آج اپنے گزشتہ کالم کی اگلی قسط لکھنا ہے اور وزیر اعظم کے دورہ امریکہ کے احوال و کوائف کا تجزیہ کرنا ہے۔ مگر میں اپنے ارادے سے احتراز کرنے پر مجبور ہوں۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ عرفان صدیقی کی مضحکہ خیز انداز سے گرفتاری پرخاموش رہوں۔ میں خاموش رہا تو میرا ضمیر مجھے ملامت کرے گا۔ فرانس دوسری جنگ عظیم میں ایک بڑے کربناک تجربے سے گزرا۔ اس پر جرمنی نے پہلے ہی ہلے میں قبضہ کر لیا تھا جو شخص مزاحمت کی اس جنگ کا ہیرو بنا اور بعد میں
مزید پڑھیے


دورہ امریکہ۔ایک منزل

اتوار 28 جولائی 2019ء
سجاد میر
اس پر اللہ کی مار جو یہ سمجھے کہ وزیر اعظم کا دورہ امریکہ ناکام رہا ہے۔ ایسا شخص بہت شقی القلب ہو گا۔تاہم یہ تو ایک قوم کی حیثیت سے ہمارا حق بتائیے کہ ہم تجزیہ کریں کہ اس کامیاب دورے کے اثرات ہم پر کیا مرتب ہوں گے۔ آج برادرم رئوف طاہر نے ہمارے سربراہان کے وہ دورے گنوائے ہیں جو انہوں نے اب تک امریکہ کے کئے ہیں اور یہ بھی بتایا ہے کہ ان کی سفارتی زبان میں حیثیت کیا رہی ہے۔ تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خاں کے اس دورے نے صدر
مزید پڑھیے


حمایت بھائی

جمعرات 25 جولائی 2019ء
سجاد میر
یہ ایک صدی کی کہانی ہے ایک دور کا تذکرہ ہے‘ ایک نسل کی داستان ہے۔ حمایت علی شاعر ہمارے بزرگوں میں وہ آخری آدمی تھے۔ جنہیں ہم بھائی کہہ کر پکارتے تھے۔ خدا سلامت رکھے ہمارے سینئرز میں ایک سحر انصاری باقی ہیں جنہیں میں اپنی طرح نوجوان سمجھتا ہوں۔ جب کینیڈا سے اطلاع آئی کہ حمایت بھائی کا انتقال ہو گیا ہے تو یادوں کے دریچے پر ایک فلم سی چل گئی۔ صرف ذاتی حوالوں سے نہیں۔ تہذیبی حوالوں سے بھی۔ کس طرح ایک شخص حیدر آباد دکن سے نکلا اور پاکستان والے حیدر آباد اور کراچی سے
مزید پڑھیے




اے کشتہ سلطانی و ملائی وپیری (2)

هفته 20 جولائی 2019ء
سجاد میر
میں نے انہیں مسلمانوں کی تہذیب و تقدیر کے معمار کہا ہے۔ جو ان شخصیات اور ان اداروں کا مطالعہ اس نظر سے کرے گا‘ انہیں سمجھ آئے گا کہ ہم اپنے بادشاہوں‘ صوفیا اور علماء کے بغیر وہ نہ ہوتے جو ہم ہیں اور ہم اللہ کے فضل سے بہت کچھ ہیں ‘مبادا کوئی اسے منفی معنوں میں لے کر پھبتی کسنے بیٹھ جائے۔ یہ سب ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں جس طرح تسبیح کے دانے۔ رومی اقبال کو جب سیرِافلاک پر لے جاتے ہیں تو ایک جگہ آ کر کہتے ہیں تم نے ہم درویشوں
مزید پڑھیے


اے کشتۂ سلطانی و ملائی و پیری

جمعرات 18 جولائی 2019ء
سجاد میر
فتح محمد ملک کا شمار ان دانشوروں اور ادیبوں میں ہوتا ہے جن کا میں نے ہمیشہ احترام کیا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد کمیونزم تو ایک گالی تھی ہی‘ ترقی پسندی کو بھی بعض لوگ ان حدوں تک لے جاتے تھے جن سے مفاہمت کرنا خاصا مشکل تھا تاہم اس بائیں بازو میں ایک گروہ ایسا تھا جنہیں ان دنوں پیٹراٹک لیفٹ یا محب وطن بایاں بازو کہا جاتا تھا۔ احمد ندیم قاسمی‘ فتح محمد ملک کا شمار انہی لوگوں میں ہوتا تھا۔ ملک صاحب آج کل بھی بڑے تسلسل سے ایسے خیالات قلم بند کرتے رہتے ہیں۔ ان
مزید پڑھیے


انصاف کی مچان

هفته 13 جولائی 2019ء
سجاد میر
یہ تو طلسم ہوش ربا ہے۔ ایک کے اندر سے دوسری پرت نکلتی آ رہی ہے۔ اس وقت سامنے ٹی وی کی سکرین پر کہانی چل رہی ہے۔ چلئے وزیر قانون کو تو اپنی رونمائی کرنی چاہیے تھی کہ عدالت عالیہ نے فیصلہ وزارت قانون کو بھیج دیاہے مگر شہزاد اکبر یہاں کیاکر رہے اور کیوں مقدمے کو مزید الجھا رہے ہیں۔ اس ملک میں بڑے بڑے مقدمے چلے ہیں۔ چند ایسے ہیں جنہیں اخبارات میں بڑی ڈرامائی اہمیت حاصل ہوتی تھی۔ مثال کے طور پر ایک نواب کالا باغ کے قتل کا مقدمہ تھا۔ کہا جاتا تھا کہ انہیں
مزید پڑھیے


مادر ملت کی یاد میں ۔پاکستان کی تلاش میں

جمعرات 11 جولائی 2019ء
سجاد میر
9جولائی کا دن آپ کو یاد ہے۔ کہاں یاد ہو گا۔ اس دن میں مادر ملت پر کالم لکھنا چاہتا تھا۔کون مادر ملت ؟ہو سکتا ہیںکوئی مجھ سے یہ بھی پوچھ لے۔ ہماری جو شہرہ آفاق یونیورسٹیاں ہیںان میں تعلیم دینے کی سعادت مجھے حاصل ہوئی ہے۔ ایک بار پرچہ امتحان تیار کر کے میں نے ایک استادکے سپرد کیا کہ وہ اس کے مختلف پرنٹ تیار کرا سکے۔ اس نے مجھے سکتے میں ڈال دیا جب فون پر یہ استفسار کیا کہ یہاں آپ نے کسی شہید سہروردی کا ذکر کیا ہے یہ کون ہیں۔ شاید چار شخصیات پر
مزید پڑھیے


5جولائی کی یاد میں

هفته 06 جولائی 2019ء
سجاد میر
ضیاء الحق کے ساتھ بہت زیادتی ہوتی ہے۔ اس کا مقدمہ لڑنے والا کوئی نہیں۔ میں بھی نہیں۔ ایک تو اس لئے کہ میں بھی جمہوریت کے نام لیوائوں سے ڈرتا ہوں اور دوسرا اس لئے کہ میں ضیاء الحق کا ایسا حامی نہیں رہا جیسے مرے دوست رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ گروپ باز آدمی ہوں‘ دوستوں کے کہے لکھے کو اپنا کہا لکھا ہی سمجھتا ہوں اور اس پر ڈٹ جاتا ہوں مگر اللہ کو جواب دینا ہے۔ ہم ضیاء الحق سے زیادتی کر رہے ہیں۔ گستاخی نہ ہو تو عرض کروں کہ یہ اس سے
مزید پڑھیے