سجاد میر



الطاف حسن قریشی اور چھ ستمبر


ان کا ایک قرض مجھ پر ایک عرصے سے واجب الادا چلا آ رہا ہے۔ بہت دنوں سے ان پر لکھنے کا وعدہ ہے۔ مگر لکھ نہیں پا رہا۔ رہی یہ قوم تو اس کے لیے یہ قرض ادا کرنا آسان نہ ہو گا۔ الطاف حسن قریشی کے بارے میں شامی صاحب کا یہ فقرہ ہی سب کچھ کہہ جاتا ہے کہ اگر وہ نہ ہوتے تو ہم میں سے کوئی نہ ہوتا۔ مجھے قسم ہے اس قلم کی جو لوح ابد کی حقیقتوں کی امین ہے کہ میں صدق دل سے اس بات کی تائید و تصدیق کرتا
بدھ 26  ستمبر 2018ء

فیصلے کی معطلی اور تاریخ کا سفر

جمعرات 20  ستمبر 2018ء
سجاد میر
بالآخر وہ فیصلہ آ گیا جس کا انتظار عام طور پر جب نچلی عدالتیں قید کی سزا سناتی ہیں تو اعلیٰ عدالت فوراً ریلیف دیتی ہے تاکہ انصاف کا خون نہ ہو۔ اگر سزا پانے والا مجرم نہیں اور اسے اپیل کا حق ہے تو حتمی فیصلے سے پہلے وہ خواہ مخواہ اپنی آزادی کا بلیدان کیوں دے۔ انصاف اور انسانی حقوق کا تقاضا یہی ہے مگر نیب کا قانون ’’وکھری ٹائپ‘‘ کا ہے۔ وہاں ایک طرف بار ثبوت اس پر ہے جس پر الزام لگایا جائے، دوسری طرف اس کی سزا پر اپیل تو ہوسکتی ہے ضمانت نہیں۔
مزید پڑھیے


کالا باغ ڈیم اور غداری کا مقدمہ

پیر 17  ستمبر 2018ء
سجاد میر
آج ہمارے چیف جسٹس نے ایک بڑی اہم بات کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ جو لوگ ڈیم کے مخالف ہیں‘ ان پر غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے۔ غداری بھی آئین کی اس شہرہ آفاق دفعہ 6 کے تحت جو پرویز مشرف کا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔ اب اگر سچ پوچھئے تو ڈیم کی مخالفت بھاشا کی مخالفت نہیں‘ کالا باغ کی مخالفت ہے۔ ہم بھاشا تک اس لیے پہنچے ہیں کہ ہم کالا باغ ڈیم بنا نہیں پائے۔ ہم نے ہتھیار ڈال دیئے اور ایک مفاہمانہ رویہ اختیار کر کے اعلان کیا کہ کالا باغ نہیں بنتا تو بھاشا
مزید پڑھیے


یہ ملک ہم سب کا ہے!

هفته 15  ستمبر 2018ء
سجاد میر
میں کچھ پیچھے رہ گیا ہوں۔ عمران خان نے اپنی تقریرمیں آج ایک دو باتیں ایسی کی ہیں جو خاصی اچھی لگی ہیں۔ اعتراضات و تحفظات تو ہو سکتے ہیں مگر سفر شروع ہونا چاہیے۔ ہم کب تک الیکشن کی فضا میں جیتے رہیں گے۔ پیچھے رہ جانے کی بات میں نے اس لیے کی کہ دو دن سے ایسے اعلانات، بیانات و فرمودات آ رہے تھے کہ سوچنا پڑتا تھا کہ یہ حکومت کدھر جا رہی ہے۔ میں اس پر گرفت نہ کرسکا۔ ہم تو دعا گو ہیں کہ حکومت چلے تاکہ پاکستان بھی چلے۔ میں نے کہا، پرانی
مزید پڑھیے


کلثوم نواز پر ایک کالم جو لکھا نہ جا سکا

جمعرات 13  ستمبر 2018ء
سجاد میر
میں آج یہ کالم لکھنا نہیں چاہتا۔ اس لیے کہ اس وقت طبیعت میں اتنی تلخی ہے کہ ایسی شفیق شخصیت پر اس کیفیت میں لکھنا زیب نہیں دیتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کا سیاسی قد کاٹھ بھی اتنا بڑا تھا کہ اس حوالے سے بھی ان پر تفصیلی گفتگو ہو سکتی ہے۔ وہ خواتین میں ہماری مشرقی روایات و وضعداری کی ایسی علامت تھی کہ اب یہ نسل ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ہم سیاست میں مادر ملت کے عادی تھے۔ اس لیے جب ولی خاں کی پارٹی پر پابندی لگی
مزید پڑھیے




اصل میں تینوں ایک ہیں

پیر 10  ستمبر 2018ء
سجاد میر
اخبارات پر نظر ڈالیں‘ خصوصاً ان کالموں پر جو ’’ہم‘‘ دانشوروں نے لکھے ہوتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ پاکستان کے بہت سے مسائل میں سے تین ذرا ’’آئوٹ سٹینڈنگ‘‘ قسم کے ہیں۔ ایک تو بھاشا ڈیم کا مسئلہ جسے عدالتی پشت پناہی کے ساتھ اب سیاسی تائید بھی حاصل ہو چکی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اس کے بارے میں کوئی بات توہین عدالت کی ذیل میں بھی آ سکتی ہے۔ اس وقت اس پر صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں‘ یہ آج کا نیا ایجنڈا نہیںہے‘ یہ ضیاء الحق کے زمانے کا قصہ ہے اسے کالا باغ
مزید پڑھیے


جو چاہے کیجیے ‘مگر…

هفته 08  ستمبر 2018ء
سجاد میر
اچھا کیا کہ آپ نے اس کی چھٹی کرا دی۔ اس سے ایک تو یہ پتا چلا کہ حکومت حساس معاملات کے حوالے سے بے حس نہیں ہے۔ دوسرا اس سے ایک سبق اور بھی حکومت کو ملا ہو گا وہ یہ کہ ہر فیصلے پر عرش پر چڑھ کر بات کرنے کی عادت ترک کر دی جائے۔ جب میڈیا نے اس پر اعتراض کئے تو وزیر اطلاعات کا جواب اور انداز سن کر ہی مجھے اندازہ گیا تھا کہ یہ مشیر نہیں چلنے والا۔ میں عاطف میاں سے قطعاً واقف نہیں ہوں۔ مجھے نہیں معلوم ان کی عالمی
مزید پڑھیے


صدر پاکستان ۔ڈاکٹر عارف علوی

جمعرات 06  ستمبر 2018ء
سجاد میر
میری سیاسی وابستگی کچھ بھی رہی ہو‘ ڈاکٹر عارف علوی کے صدر منتخب ہونے پر میں مبارکبادیں وصول کر رہا ہوں۔ یقینا یہ ایک دوست اور ہم سفر کی جیت ہے۔ عارف علوی کو میں تب سے جانتا ہوں جب وہ طالب علم تھے۔ لاہور میں داندان سازی کا واحد کالج تھا جو پورے ملک کی ضروریات پوری کرتا تھا۔ عارف علوی اس کالج کے طالب علم اور صدر تھے۔ مجھ سے دو سال چھوٹے ہیں‘ اس لیے ان کا عہد صدارت وہ تھا جب میں عملی صحافت کا آغاز کر چکا تھا۔ اس کالج میں ایک گروپ بہت زور
مزید پڑھیے


خود پر قابو پائیے

پیر 03  ستمبر 2018ء
سجاد میر
بہت ہو گئی‘ اب آگے چلیں یہ کسی کے باپ کا پاکستان نہیں ہے۔ یہ قوم تحریک انصاف‘ مسلم لیگ یا پیپلز پارٹی کی حکومتوں کا تقابل کرنے کے لیے نہیں بیٹھی ہے۔ وہ اپنے مستقبل کو سنوارتا دیکھنا چاہتی ہے۔ چند اعلانات ایسے ہوئے ہیں جن سے یہ لگتا ہے کہ حکومت کچھ کرنا چاہتی ہے۔ کیا کرنا چاہتی ہے یہ اسے ابھی خود بھی نہیں پتا۔ یہ کوئی منفی بات نہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہر کام سوچ سمجھ ک کیا جائے گا۔ ٹاسک فورسز بھی بن رہی ہیں‘ منصوبہ بندیاں بھی ہو رہی
مزید پڑھیے


دو اقلیموں کی کہانی

هفته 01  ستمبر 2018ء
سجاد میر
یہ دو الگ الگ اقلیمیں ہیں۔ ان میں دخل اندازی کی جائے تو نظام کائنات بگڑ جاتا ہے۔ یہاں دونوں پر سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ خاور مانیکا کے مقدمے میں میری فکر کا محور یہی نکتہ ہے۔ دنیاوی ولایت میں تو معاملہ یہ ہے کہ نظم حکومت میں کیوں کھنڈت ڈالی گئی۔ نصف شب کو ایک غیر متعلقہ شخص کی دخل اندازی پر کیوں تبادلے کے احکام جاری کیے گئے۔ اس پر عدالت عظمیٰ نے ازخود نوٹس کا اپنا شہرہ آفاق طریقہ استعمال کیا ہے۔ یعنی یہ سمجھا ہے کہ یہ ایسا قومی اہمیت کا مسئلہ ہے کہ
مزید پڑھیے