BN

سجاد میر


سید منور حسن


میں یہ کالم نہیں لکھ پائوں گا‘ مگر مجھے لکھنا ہے‘ ہر صورت لکھنا ہے۔ زندگی میں یہ دن بھی آنا تھا کہ اپنے منور صاحب کی رحلت پر کالم لکھنا پڑ رہا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ مرا ان کا ذاتی تعلق تھا اور بہت گہرا تھا۔ تحریک اسلامی کی تاریخ میں انہیں ایک غیر معمولی حیثیت حاصل رہے گی۔ انہوں نے اپنی امارت کے دوران ایسے سوال اٹھا دیے جن کے جواب اسلامیان پاکستان ہی نہیں پورے عالم اسلام کے سر ہے۔ اپنے بھی ناراض ہوئے۔ سیاست مصلحت کیش ہوتی ہے۔ کہنے والے یہ بھی کہتے تھے کہ
هفته 27 جون 2020ء

ڈاکٹر مغیث الدین شیخ

جمعرات 25 جون 2020ء
سجاد میر
ڈاکٹر مغیث الدین شیخ بھی ہمیں چھوڑ کر چل دیئے۔ان دنوں اتنے لوگوں کے جانے کا دکھ سہا ہے کہ ہمارے دوست ڈاکٹر عبدالقادر نے دل گرفتہ ہو کر یہ شعر ارسال کیا ہے: کسے نماند کہ دیگر بہ تیغ ناز کشی مگر کہ زندہ کنی خلق راو بازکشی لگتا ہے سبھی رخت سفر باندھے بیٹھے ہیں۔ایک دن دوست محمد فیضی دوسرے روز طارق عزیز پر لکھا کہ مفتی نعیم اور طالب جوہری کی رحلت کی خبر آ گئی میں ہر دو پر لکھنا چاہتا تھا مگر ایسا اداس تھا کہ چپ کر کے رہ گیا۔ اب ڈاکٹر مغیث کی خبر آئی تو
مزید پڑھیے


حسن عسکری‘سلیم احمد اور فتح محمد ملک

پیر 22 جون 2020ء
سجاد میر
فتح محمد ملک کا میں بہت احترام کرتا ہوں جس کی کچھ وجوہ بھی ہیں۔ میں انہیں ان لوگوں میں شمار کرتا ہوں جنہیں پیٹریاٹک لیفٹ کا نام دیتا رہا ہوںجیسے مثال کے طور پر احمد ندیم قاسمی۔ یہ بھی خیر پرانی بحث ہے‘ لیفٹ نے ہم پاکستانیوں کو بہت تنگ کیا۔بالآخر انہیں بھٹو ازم میں پناہ مل گئی۔ فتح محمد ملک کا مجھے علم نہیں کہ ان کی پیپلز پارٹی میں کیا حیثیت تھی۔ اتنا جانتا ہوں وہ حنیف رامے کی وزارت اعلیٰ میں ان کے مشیر یا معاون خصوصی تھے اور وہی کام کرتے رہے ہیں جو ان
مزید پڑھیے


بعض روایات کا مفہوم

هفته 20 جون 2020ء
سجاد میر
گرامی قدر مفتی منیب الرحمن نے ان دنوں ایک بہت عمدہ تحریر لکھی ہے۔ وہ اس سے پہلے بھی ان امور پر اظہار رائے کرنے کی جرأت کر چکے ہیں۔ اس تحریر میں انہوں نے حوالہ تو اگرچہ موجودہ صورت حال کا دیا ہے‘ تاہم ایک بنیادی نکتے کی وضاحت کی ہے۔ ایک طرح سے انہوں نے منع کیا ہے کہ علم دین کو سمجھے بغیر ایسی باتیں نہ کریں جس پر بعد میں خفت اٹھانا پڑے۔ آغاز انہوں نے اس بات سے کیا ہے کہ بعض لوگ یہ کہتے تھے کہ 12مئی کو ستارہ ثریا طلوع ہونے والا ہے‘
مزید پڑھیے


ایک اور پاکستانی

جمعرات 18 جون 2020ء
سجاد میر
ایک اور پاکستانی چل بسا۔ وہ پیدائش سے پہلے بھی پاکستانی تھا۔ اس کا گھر ساہیوال میں کربلا روڈ پر تھا جو میرے گھر سے گویا بالکل متصل تھی۔ وہاں ایک بورڈ لگا ہوا تھا۔ عزیز پاکستانی، ان عزیز پاکستانی کی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے پاکستان بننے سے بہت پہلے اپنے ساتھ پاکستانی لکھنا شروع کر دیا تھا۔ طارق عزیز اسی پاکستانی کا بیٹا تھا۔ جی ہاں، یہی طارق عزیز جو پاکستان ٹی وی کا پہلا اینکر تھا اور جس کے پروگرام نیلام گھر نے برسوں کامیابی کے جھنڈے گاڑے رکھے۔ وہ مجھ سے بہت سینئر تھا۔ کالج
مزید پڑھیے



ہمارے دوست محمد فیضی

بدھ 17 جون 2020ء
سجاد میر
جب میں لاہور سے کراچی منتقل ہوا۔ یہ جولائی 1973ء کی بات ہے تو مرے کیسے میں صرف تین سکّے تھے جن کے بارے میں مجھے معلوم تھا کہ یہ کراچی کی مارکیٹ میں چل سکتے ہیں۔ تین افراد کے حوالے مرے ساتھ تھے کہ کراچی جا کر ان سے رابطہ کروں گا اور آئندہ کی حکمت عملی طے کروں گا۔ ایک منور حسن‘ دوسرے ڈاکٹر عارف علوی اور تیسرے دوست محمد فیضی۔ منور صاحب کو فون کیا تو کہنے لگے ابھی رکشا پکڑوں اور اسے بتائو فیڈرل بی ایریا جانا ہے۔ پل پار کر کے فلاں سمت مڑو‘ پھر
مزید پڑھیے


خدا کے سہارے

هفته 13 جون 2020ء
سجاد میر
کوئی کل بھی سیدھی نہیں ہے۔ نحوست کے سائے ہیں کہ پھیلتے ہی جا رہے ہیں۔ ایک طرف تو جو آفتیں نازل ہوئی ہیں ان کا غم ہے ‘ دوسری طرف روز کوئی نہ کوئی درفنطنی دل چھلنی کر جاتی ہے۔ دل کرتا ہے کہ چیخ چیخ کر کہا جائے کہ بھلے ہمارے دکھوں کا مداوا نہ کر سکو‘کم از کم اپنی زبان پر ہی قابو رکھو۔ ہم اخلاق کی آخری حدیں بھی پھلانگتے جا رہے ہیں۔اللہ رحم فرمائے اور بے بس عوام کو اس صبر کا اجر دے۔ اگر یہ کہوں کہ ملک کے سب ادارے ناکام ہو چکے ہیں
مزید پڑھیے


کیا مدبرانہ شان ہے ہماری

جمعرات 11 جون 2020ء
سجاد میر
اس وقت تین بلائیں ہیں جو پاکستان کو گھیرے میں لئے ہوئے ہیں۔1۔ایک تو کورونا جس کے بارے میں عالمی ادارے کہتے ہیں کہ ہم اس کا بندوبست کرنے میں پھسڈی نکلے ہیں۔ ایشیا پیسفک میں وطن عزیز خطرناک ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے اور ہم نے جس طرح اس بیماری کا مقابلہ کیا اس میں جو چاہیں ہم کہیں وگرنہ اس معاملے میں ہمارا نمبر بہت پیچھے ہے۔ سو سے بھی پیچھے۔ غالباً 137واں ۔بنگلہ دیش ‘ بھارت سب کے حالات ہم سے بہتر ہیں۔ اب صورت حال یہ آن پہنچی ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے ہمارے
مزید پڑھیے


بس کرو‘ اب بس

پیر 08 جون 2020ء
سجاد میر
ایک اشتہار کبھی کبھی اب بھی چلتا ہے۔ سیاست دانوں کے دوچار لڑائی جھگڑے کے بیانات دکھا کر ایک بچہ آتا ہے جو ہاتھ سامنے کر کے کہتا ہے۔ بس کرو اب بس۔ ان دنوں یہ کیفیت ہے کہ سچ مچ اپنی ساری متانت طاق میں رکھ کر اسی طرح یہ کہنے کو دل کرتا ہے کہ بس کرو اب بس ۔فرض کرو آپ کسی پارٹی کے ساتھ نہیں ہیں ۔مگر غور کیجیے آپ ان میں کسی کا بیان سن سکتے ہیں۔وفاقی حکومت کے ترجمانوں پر تو رونا آتا تھا۔ اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک جاتا ہے
مزید پڑھیے


کراچی اور ڈاکٹر سلیم حیدر

جمعرات 04 جون 2020ء
سجاد میر
چلئے آج میں آپ کو ایک نئی شخصیت سے متعارف کراتا ہوں۔اگر آپ اسے جانتے بھی ہوں گے تو اب تک بھول چکے ہوں گے۔ ایک زمانہ تھا کہ اس کا نام الطاف حسین کے ساتھ ساتھ لیا جاتا تھا۔ طے یہ ہو نا تھا کہ سندھ میں غیر سندھیوں خصوصاً مہاجروں کی قیادت کون سنبھالتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ناگزیر ہو گیا تھا۔ سندھی قوم پرستوں نے اس طرح فضا گرم کر رکھی تھی کہ لگتا تھا وہ سب سے پہلے اپنی اسمبلی میں پاکستان کی قرار داد پاس کرنے والے صوبے کو کہیں دور نہ لے
مزید پڑھیے