BN

سجاد میر



راستہ دے دو یا راستہ بنا دو


سچ پوچھئے تو مجھے اس دھرنے سے بھی اتنی دلچسپی نہیں تھی۔ شاید اس کی وجہ اس میں طاہرالقادری کی غیر سنجیدہ شمولیت تھی یا اس کا اچانک ابھر آنا تھا۔ کچھ بھی ہو اس لئے اگر میں یہ کہوں کہ مجھے اس دھرنے سے بھی ایسی دلچسپی نہیں ہے تو یہ غیر معقول بات نہ ہو گی۔ پر کیا کروں یہ اب سر پر آن پہنچا ہے۔ اس وقت لاہور میں اپنے وجود کے پورے احساس کے ساتھ موجود ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس کی اٹھان 2014ء والے دھرنے سے کہیں زیادہ ہے۔ آگے خدا
جمعرات 31 اکتوبر 2019ء

ٹک ٹاک لائف سٹائل

بدھ 30 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
یہ ٹک ٹاک کیا ہے۔ اللہ رکھے اب تو قومی سطح پر ٹک ٹاک سٹار کے چرچے بھی ہونے لگے ہیں۔ ضرور کوئی بڑی چیز ہو گی جس کے سٹار بھی بن گئے ہیں اور آسمان شہرت پر جگمگا رہے ہیں۔ میں ان باتوں کو سرسری نہیں لیتا۔ نظرانداز کر کے دیکھ لیا ہے۔ یہ تو سر پر ہی چڑھتے جا رہے ہیں پہلی بار جب میں نے یہ لفظ سنا تو اس کے صوتی آہنگ سے اس کا ایک تصور باندھ لیا، مگر زیادہ توجہ نہ دی، بلکہ اہمیت نہ دی۔ ہمارے ہاں ایک ڈش ہے جو پہلی بار
مزید پڑھیے


خدا کا خوف کرو‘عقل کے ناخن لو

پیر 28 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
یہ تو حد ہو گئی نا! کہتے ہیں حمد اللہ نام کا یہ شخص پاکستانی نہیں ہے۔ غیر ملکی ہے۔ جو سینیٹر ہے۔ وزیر رہ چکا ہے ۔ پاکستان کے عوام نے اسے اپنے ووٹوں سے منتخب کیا ہے اور منتخب لوگوں نے بھی اسے اپنی نمائندگی کا سزا وار سمجھا ہے۔ ہمارے تمام اداروں نے اس کی سکروٹنی کی ہے۔ صرف الیکشن کمشن ہی نے نہیں‘ اس ادارے نے بھی جو پاکستانی شہریوں کو شناختی کارڈ جاری کرتا ہے انہیں پاکستانی ہونے کی شناخت دیتا ہے اور کیسا ہوتا ہے پاکستانی۔ ذرا یہ بھی بتائو وہ غیر ملکی ہے تو
مزید پڑھیے


بیمار کے لئے چند پھول

هفته 26 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
دل دکھی ہے۔ پہلی بار خواہش پیدا ہو رہی ہے کہ کاش میں ایک کہنہ شخص ہوتا۔ بیہودہ ‘ گھٹیا‘ منہ پھٹ اور ذلت کی حد تک پہنچا ہوا ناہنجار شخص۔ کم از کم اس زبان میں بات کر کے دل کی بھڑاس تو نکال لیتا جیسی زبان آج کل بعض سیاسی بقراطوں نے اختیار کر رکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر آدمی کے اندر ایک کمینگی ہوتی ہے۔ اس کے خلاف لڑنا ہی جہاد ہے۔ آج میں اس جہاد سے گزر رہا ہوں۔ دکھ اس بات کا نہیں کہ یہ نواز شریف کے خلاف ایسی زبان استعمال کر رہے
مزید پڑھیے


کشمیر اور بے اعتباری کا موسم

جمعرات 24 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
کوئی ہے جو یہ کہہ سکے کہ ہم کشمیر کے تنازعے پر آخری حد تک جانے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ کوئی ہے‘ میں پھر پوچھتا ہوں۔ کوئی ہے! اللہ کا خوف کرو‘ یوں لگتا ہے کہ کشمیر کے مسئلے سے فرار چاہتے ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر جھڑپیں تو کشمیر کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ تو ہم خود بتاتے ہیں ہمیشہ ہوتی رہتی ہیں۔ کسی نے تعداد بھی بتائی ہے۔ 2018ء میں کتنی ہوئی تھیں اور اب کتنی ہوئی ہیں۔ کیا نتیجہ نکالتے ہیں ہم اس سے کل بھی ہم نے بتایا تھا ایک کوّا مارا گیا۔ آج بھی
مزید پڑھیے




این جی او کی سواری آ رہی ہے

بدھ 23 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
فیض احمد فیض ایک این جی او کا نام ہے۔ کیا مطلب ہے اچھے بھلے شاعر کو این جی او بنا دیا۔ ان کے مداح یہی کر رہے ہیں۔ اسے سول سوسائٹی بھی کہتے ہیں۔ کسی جگہ لکھا دیکھا ہے کہ یہ سول سوسائٹی وہی ہے جو فرانسیسی معاشرت میں سوسائٹی کہلاتی تھی۔ ذرا فرانسیسی ادب پڑھئے،بالزاک، فلابیئرکوئی بھی دیکھ لیجئے حتیٰ کہ روسو اور والٹیئر کی زندگیوں کا مطالعہ کر لیجئے آپ کو اس سوسائٹی کی جان ایک مادام نظر آئے گی۔ ہمارے ہیرو کو معاشرے میں پذیرائی تب ملتی ہے جب وہ اس مادام کے حلقہ میں رسوخ
مزید پڑھیے


پاکستان کے صنعتی دارالخلافہ سے

پیر 21 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
میں کراچی میں ہوں بلکہ سٹیل ٹائون میں ہوں۔ ایک عجب کرب سے دوچار ہوں۔ ایک تو بھائی کے انتقال کا دکھ، دوسرا سٹیل ملز کے حالات پر تبصرے سن سن کر پریشان ہو رہا ہوں۔ میرا یہ بھائی مجھ سے 11سال چھوٹا تھا۔ لاکھ کہیں ماموں زاد تھا مگر سب جانتے ہیں کہ وہ بھائی ہی تھا۔ برسوں میرے پاس رہا، میرے ساتھ رہا۔ شادی ہو گئی تو بھی کراچی میں اس کا اصل ٹھکانا ہمارا گھر ہی تھا۔ اب میں نے میرا کی بجائے ہمارا کا لفظ استعمال کیا اس لیے کہ اب یہ مجھ سے زیادہ اس
مزید پڑھیے


سرسید احمد خاں پر ایک زور دار سیمینار

هفته 19 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
پہلے تو میں افضال ریحان کا تعارف کرا دوں۔ وہ جو میں جانتا ہوں۔ اس کی ایک کتاب کی تقریب رونمائی میں ایک پرانا واقعہ سنایا تھا۔ مرے پاس ایک نوجوان آیا کرتا تھا۔ بہت ہی پرانی بات ہے۔ وہ نوجوان کبھی ایک نکتہ نظر سے متاثر ہوتا کبھی دوسرے سے۔ مگر سچائی کی تلاش میں رہتا۔ ان دنوں وہ سو فسطائی تھا۔ کہنے لگا معلوم ہے‘ میں یہاں تک کیسے پہنچا۔ پھر بتایا کہ میں کراچی میں سو فسطائی کی ہال تک گیا تو اس کے دروازے پر لکھا ہوا تھاNo Religion is Higher Than truth یعنی کوئی مذہب سچائی
مزید پڑھیے


داتا صاحب سے شیخ مجدد تک۔ اور شرح بخاری شریف

جمعرات 17 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
اللہ کی عنایت ہے جب کتابوں کی بھر مار ہو جائے اور اس سے بڑی سعادت یہ ہے کہ یہ ایسی کتابیں ہوں جو روح اور باطن کی تسکین کرنے والی ہوں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے میں ان میں چند ایک کا بالخصوص تذکرہ کرنا چاہتا ہوں ‘ مگر موقع ہی میسر نہیں آ رہا۔ ایک تو استاد کے کہنے پر کتابوں کے تبصرے سے اجتناب کرتا آیا ہوں کہ ایک اچھی کتاب پر تبصرہ کردوگے تو بہت سی بری کتابوں پر بھی مروت دکھانا پڑے گی جس سے طبیعت بڑی منقبض ہوتی ہے۔ بہرحال آج ایک کتاب کا تذکرہ
مزید پڑھیے


کہ جانے کون کہاں راستہ بدل جائے

پیر 14 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
جس طرح لوگ پوچھتے ہیں فضل الرحمن دھرنا دینے کیوں آ رہے ہیں‘ اس طرح یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ عمران خاں ایران اور سعودی عرب کیا لینے جا رہے ہیں۔ ہے کسی کے پاس کوئی جواب ۔کیا سچ مچ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان عرب و عجم کے درمیان بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔ ماضی میں تو یہ لوگ ‘دونوں ملک ہی‘ ٹھینگا دکھا دیا کرتے تھے‘ کسی سفارتی مصلحت کا مظاہرہ تک نہ کرتے تھے۔ کیا اب حالات بدل چکے ہیں یا اس کی آڑ میں کچھ اور معاملہ ہے۔ چین نے ایران میں ایک
مزید پڑھیے