BN

سجاد میر



اے کشتہ سلطانی و ملائی وپیری (2)


میں نے انہیں مسلمانوں کی تہذیب و تقدیر کے معمار کہا ہے۔ جو ان شخصیات اور ان اداروں کا مطالعہ اس نظر سے کرے گا‘ انہیں سمجھ آئے گا کہ ہم اپنے بادشاہوں‘ صوفیا اور علماء کے بغیر وہ نہ ہوتے جو ہم ہیں اور ہم اللہ کے فضل سے بہت کچھ ہیں ‘مبادا کوئی اسے منفی معنوں میں لے کر پھبتی کسنے بیٹھ جائے۔ یہ سب ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں جس طرح تسبیح کے دانے۔ رومی اقبال کو جب سیرِافلاک پر لے جاتے ہیں تو ایک جگہ آ کر کہتے ہیں تم نے ہم درویشوں
هفته 20 جولائی 2019ء

اے کشتۂ سلطانی و ملائی و پیری

جمعرات 18 جولائی 2019ء
سجاد میر
فتح محمد ملک کا شمار ان دانشوروں اور ادیبوں میں ہوتا ہے جن کا میں نے ہمیشہ احترام کیا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد کمیونزم تو ایک گالی تھی ہی‘ ترقی پسندی کو بھی بعض لوگ ان حدوں تک لے جاتے تھے جن سے مفاہمت کرنا خاصا مشکل تھا تاہم اس بائیں بازو میں ایک گروہ ایسا تھا جنہیں ان دنوں پیٹراٹک لیفٹ یا محب وطن بایاں بازو کہا جاتا تھا۔ احمد ندیم قاسمی‘ فتح محمد ملک کا شمار انہی لوگوں میں ہوتا تھا۔ ملک صاحب آج کل بھی بڑے تسلسل سے ایسے خیالات قلم بند کرتے رہتے ہیں۔ ان
مزید پڑھیے


انصاف کی مچان

هفته 13 جولائی 2019ء
سجاد میر
یہ تو طلسم ہوش ربا ہے۔ ایک کے اندر سے دوسری پرت نکلتی آ رہی ہے۔ اس وقت سامنے ٹی وی کی سکرین پر کہانی چل رہی ہے۔ چلئے وزیر قانون کو تو اپنی رونمائی کرنی چاہیے تھی کہ عدالت عالیہ نے فیصلہ وزارت قانون کو بھیج دیاہے مگر شہزاد اکبر یہاں کیاکر رہے اور کیوں مقدمے کو مزید الجھا رہے ہیں۔ اس ملک میں بڑے بڑے مقدمے چلے ہیں۔ چند ایسے ہیں جنہیں اخبارات میں بڑی ڈرامائی اہمیت حاصل ہوتی تھی۔ مثال کے طور پر ایک نواب کالا باغ کے قتل کا مقدمہ تھا۔ کہا جاتا تھا کہ انہیں
مزید پڑھیے


مادر ملت کی یاد میں ۔پاکستان کی تلاش میں

جمعرات 11 جولائی 2019ء
سجاد میر
9جولائی کا دن آپ کو یاد ہے۔ کہاں یاد ہو گا۔ اس دن میں مادر ملت پر کالم لکھنا چاہتا تھا۔کون مادر ملت ؟ہو سکتا ہیںکوئی مجھ سے یہ بھی پوچھ لے۔ ہماری جو شہرہ آفاق یونیورسٹیاں ہیںان میں تعلیم دینے کی سعادت مجھے حاصل ہوئی ہے۔ ایک بار پرچہ امتحان تیار کر کے میں نے ایک استادکے سپرد کیا کہ وہ اس کے مختلف پرنٹ تیار کرا سکے۔ اس نے مجھے سکتے میں ڈال دیا جب فون پر یہ استفسار کیا کہ یہاں آپ نے کسی شہید سہروردی کا ذکر کیا ہے یہ کون ہیں۔ شاید چار شخصیات پر
مزید پڑھیے


5جولائی کی یاد میں

هفته 06 جولائی 2019ء
سجاد میر
ضیاء الحق کے ساتھ بہت زیادتی ہوتی ہے۔ اس کا مقدمہ لڑنے والا کوئی نہیں۔ میں بھی نہیں۔ ایک تو اس لئے کہ میں بھی جمہوریت کے نام لیوائوں سے ڈرتا ہوں اور دوسرا اس لئے کہ میں ضیاء الحق کا ایسا حامی نہیں رہا جیسے مرے دوست رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ گروپ باز آدمی ہوں‘ دوستوں کے کہے لکھے کو اپنا کہا لکھا ہی سمجھتا ہوں اور اس پر ڈٹ جاتا ہوں مگر اللہ کو جواب دینا ہے۔ ہم ضیاء الحق سے زیادتی کر رہے ہیں۔ گستاخی نہ ہو تو عرض کروں کہ یہ اس سے
مزید پڑھیے




نئی سیاست کے خدوخال

جمعرات 04 جولائی 2019ء
سجاد میر
نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہ بات دوچار روز پہلے شیخ رشید نے بتائی تھی کہ کل سے عمران کی سیاست کا آغاز ہو گا تو اب تک جو کچھ ہو رہا تھا کیا وہ سیاست نہ تھی یا وہ کس بات کو سیاست کہہ رہے ہیں۔ مجھے تو اس کا اندازہ جن باتوں سے ہو رہا ہے۔ وہ تو کوئی خوشگوار نہیں ہیں۔ سب سے نمایاں بات تو رانا ثناء اللہ کا دھر لیا جانا ہے۔ میں نے عرض کیا میں رانا ثناء اللہ کا مقدمہ لے کر نہیں بیٹھا۔ میں تو اس سوچ میں گم ہوں کہ
مزید پڑھیے


اور بات بن جائے

هفته 29 جون 2019ء
سجاد میر
یہ سامنے ٹی وی پر شور مچاہے کہ آرمی چیف نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ملک مشکل معاشی حالات سے گزر رہا ہے اور معاشی استحکام کے بغیر قومی خود مختاری ممکن نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک بہت بنیادی بات ہے۔ اقتصادیات اس وقت ہماری قومی خود مختاری کا مسئلہ ہے‘ بلکہ زیادہ وضاحت کے ساتھ کہوں تو قومی سلامتی کا بھی۔ روس کی بڑی سلطنت تھی‘ ہم سے کہیں بڑی عسکری اور ایٹمی طاقت تھی۔ کیسے جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔ ایسی بیٹھی کہ ہمارے ملک تک میں اس
مزید پڑھیے


ہم زندہ قوم ہیں!

جمعرات 27 جون 2019ء
سجاد میر
ادب کے ایک طالب علم کے طور پر میرا یہ فرض بنتا ہے کہ میں کھیلوں میں دلچسپی لوں۔ یہ کیا بات ہوئی۔ انگریزی ادب کے سر کے تاج شیکسپئر نے بڑے مزے سے کہا تھا‘ وہ دبلا پتلا ہے‘ اسے موسیقی سے دلچسپی نہیں۔ وہ کھیلوں کا دلدادہ نہیں(اس لئے) وہ خطرناک آدمی ہے۔ اقبال نے ایسے ہی تو نہیں کہا تھا ؎ حفظ اسرار کا فطرت کو ہے سودا ایسا راز داں پھر نہ کرے گی کوئی پیدا ایسا کیا خوبصورت تجزیہ ہے کسی شخصیت کا۔ کھیلوں اور موسیقی سے دور رہنے والوں کے اندر ایک
مزید پڑھیے


مریم نواز کی سولو فلائٹ

پیر 24 جون 2019ء
سجاد میر
مریم نواز رکنے کے موڈ میں نہ تھیں تو ہم کیوں رکیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ پریس کانفرنس کس لئے کی گئی اس کا مقصد کیا تھا اور کیاتھا اور ہدف کیا۔ دونوں چیزوں کا ہونا اہم ہے اور یہ دونوں الگ الگ امر ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مریم نے سب کو چت کر دیا۔ مگر کیا حرج ہے کہ اس کا اچھی طرح تجزیہ کر لیا جائے۔ یہ بھی تو جاننا ضروری ہے کہ اس سے حاصل کیا ہو گا۔ دو تین ایشو ہیں جن پر الگ سے بات کی جا سکتی ہے۔ سب سے پہلے
مزید پڑھیے


فیلڈ مارشل ان پارلیمنٹ

هفته 22 جون 2019ء
سجاد میر
مرے تو تن بدن میں آگ لگ گئی۔ یقین نہیں آتا تھا‘ یہ میں کیا سن رہا ہوں۔ فیلڈ مارشل ایوب خاں کی مدح سرائی‘ پاکستان کی جمہوری پارلیمنٹ میں۔ شاید مرا ایک ذہنی پس منظر ہے کہ جب ایک طالب علم کے طور پر سیاسی شعور پیدا ہونے لگا تو سب سے پہلا ٹاکڑا ایوب خاں سے ہوا۔ مادر ملت کی قیادت میں گائوں گائوں پھر کر ہم نے اس آمر کے کرتوتوں کے پول کھولے تھے۔ پھر جب 68ء کا زمانہ آیا تو پاکستان بھی ان ملکوں میں شامل تھا جہاں طلبہ میدان میں اترے ہوئے تھے۔ بالکل
مزید پڑھیے