BN

سجاد میر


ضرور راستہ نکلے گا


کئی دن سے ایک عجیب حالت ہے۔یہ کیفیت اس کیفیت سے مختلف ہے جو قلم اور زبان کے محاذ پر تجزیہ کر کے طاری ہوتی ہے۔جس محفل میں جائو ایک ہی بحث ہے اور عام طور پر ایک بٹا ہوا اجتماع ہوتا ہے۔ ہر ایک عجیب جذباتی ہیجان کا شکار نظر آتا ہے۔میرے لئے یہ بہت آسان ہے کہ میں یہ کہہ کر مطمئن ہو جائوں کہ اسلام آباد پر چڑھائی کی کیفیت ختم ہو گئی ہے اور یہ بات بھی قابل اطمینان ہے کہ عمران خان کی زبان میں قدرے ٹھہرائو آیا ہے مگر یہ سوچنا ہے کہ جو
جمعرات 02 جون 2022ء مزید پڑھیے

میری کوئی پارٹی نہیں

جمعرات 19 مئی 2022ء
سجاد میر
پاکستان کی تاریخ میں بنیاد قائم کرنے والا خطاب خطبہ الہ آباد کہلاتا ہے۔یہ مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں علامہ اقبال کی صدارتی تقریر تھی۔اس تقریر میں حکیم الامت نے ان خیالات کا بیج بویا تھا جو بعدمیں تصور پاکستان کا تناور درخت بنا۔اس خطے میں انہوں نے بہت سی اصولی باتیں کی تھیں۔پہلی جو بات انہوں نے وضاحت سے کی وہ یہ تھی کہ میں کسی پارٹی کی قیادت کر رہا ہوںنہ کسی لیڈر کا اتباع I lead no Party I Fallow no Leader. یہ ایک سیاسی پارٹی کے اجلاس کا خطبہ صدارت تھا۔پھر بھی وہ ایسی
مزید پڑھیے


لندن کی بیٹھک

جمعه 13 مئی 2022ء
سجاد میر
معاملہ گنجلک ہوتا جا رہا ہے۔کل تک یہ سوال تھا کہ نواز شریف نے لندن میں ایمرجنسی اجلاس کیوں طلب کیا ہے۔اس کا ہم حسب استطاعت جواب دئیے جا رہے تھے۔آج صبح خواجہ آصف نے بی بی سی کو ایک ایسا انٹرویو دیا ہے جس نے معاملے کو مزید نازک بنا دیا ہے۔ان کے جواب کا مطلب ہے کہ نئے آرمی چیف کے تقرر کا مسئلہ زیر بحث ہے اور وہ بھی اس انداز میں ہے کہ ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ کل تک جو صورت حال زیر غور تھی‘اس میں بنیادی حیثیت ایک طرح سے معیشت
مزید پڑھیے


ملک خطرے میں ہے!

جمعرات 28 اپریل 2022ء
سجاد میر
ہو کیا رہا ہے۔ریاست پاکستان کس سمت جا رہی ہے۔طرح طرح کے شکوک پیدا ہوتے ہیں اور میں بار بار اس کا اظہار بھی کئے دیتا ہوں۔ مثال کے طور پر یہ جو کچھ پنجاب میں ہو رہا ہے کس کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔پرویز الٰہی کی مدد ہو رہی ہے یا عمران خاں کو مواقع دیے جا رہے ہیں۔کوئی نہیں جانتا۔ایک ماہ ہونے کو آئے کہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بغیر حکمران کے ہے۔معاملات پھر بھی کوئی نہ کوئی چلا رہا ہے۔جو کچھ ہوا‘ ناقابل فہم ہے۔کیا حمزہ شریف کا حلف اٹھانا بھاری پڑ رہا ہے۔جس طرح گورنری
مزید پڑھیے


جو کچھ ہونے والا ہے

پیر 18 اپریل 2022ء
سجاد میر
پہلے تو صرف گمانوں کے لشکر تھے اب یقین کا ثبات بھی ہوتا جارہا ہے کہ ہم بہت مشکل صورت حال سے دوچار ہیں۔ معیشت کے علاوہ دو ایسے چیلنج ہیں جن کے بارے میں پہلے صرف اندازہ تھا‘ اب وہ ایک حقیقت بنتے جا رہے ہیں۔ مخالف کہا کرتے تھے کہ بھان متی کا کنبہ کیسے چلے گا۔ اس بات پر بھی شک کا اظہار کیا جاتا تھا کہ مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی ایک ہی گھاٹ سے پانی نہیں پی سکتے۔ زرداری صاحب کی سیاست کے بارے میں ہمیشہ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے قد سے کہیں
مزید پڑھیے



سرگودھا سے ساہیوال تک

هفته 16 اپریل 2022ء
سجاد میر
ویسے تو فوج کے ترجمان جنرل افتخار بابر نے ایسی پریس کانفرنس کی ہے کہ اس پر درجنوں مضمون باندھے جا سکتے ہیں۔خیر اب روز ہی خبریں آیا کریں گی جو دلوں کو گرماتی اور رلاتی رہیں گی تاہم بعض باتیں ان کہی رہ جاتی ہیں جن کا بیان ضروری ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ دنوں 4دن کے اندر میں نے دو سفر کئے جن کا الگ الگ سے تذکرہ اس لئے رہ گیا کہ ملک کی سیاست نے کچھ سوچنے سمجھنے سے بھی قاصر کر رکھا تھا۔ایسے اعصاب شکن حالات تو بقول ایک مرد دانا کے سقوط
مزید پڑھیے


لیڈر اور ریاست

جمعرات 14 اپریل 2022ء
سجاد میر
کہانی ختم نہیں ہوئی کہانی شروع ہوئی ہے۔عدم اعتماد کی ابتدائی تاریخ سے ایک آدھ دن پہلے میںنے ایک منظر نامہ لکھا تھا جسے میں نے مابعد عدم اعتماد کی گویا صورت حال کہا تھا۔بعض احباب کا خیال تھا کہ میں نے اسے پوسٹ عمران منظر نامہ کیوں نہیں کہا۔اب مرے خیال میں بات واضح ہو جانا چاہیے کہ ابھی ہم جس دور میں جی رہے ہیں وہ عمران کے دور ہی کا تسلسل ہے۔ مطلب یہ کہ اگر فیوض و برکات ہیں تووہ اس قوم پر ختم نہیں ہوئے اور اگر بربادیاں ہیں تووہ جاری ہیں۔ میں ان لوگوں میں
مزید پڑھیے


لاسٹ بال

پیر 11 اپریل 2022ء
سجاد میر
شروع اللہ کے نام سے جو قادر مطلق ہے۔اس کے سوا کوئی نہیں جو اس کا دعویٰ کر سکتا ہو۔اس لئے اللہ کو جو چیز سب سے زیادہ ناپسند ہے وہ غالباً کبر اور تکبر ہے۔کبریائی صرف اللہ کو زیب دیتی ہے۔جو اس سے انکار کرتا ہے وہ گویا شرک کرتا ہے۔میںاکثر کہا کرتا ہوں کہ کبر کفر ہے۔خاص کر علم کا کبر اور پارسائی کا کبر تو نری ابلیسیت ہے۔جدید نفسیات میں بھی جو شخص خود مرکزیت کا شکار ہو جائے وہ خود کو بھی تباہ کر لیتا ہے اور دوسروں کے لئے بھی خود کو ناقابل قبول بنا
مزید پڑھیے


منظر نامہ۔بعداز عدم اعتماد

هفته 02 اپریل 2022ء
سجاد میر
صورت حال ایسی پیدا ہو گئی ہے کہ لوگ پوسٹ عمران صورت حال پر گفتگو کرنے لگے ہیں۔ گویا وہ یہ طے کر چکے ہیں کہ عمران خان کی رخصتی یقینی ہے۔ اس کے بعد کے پاکستان پر کیا بیتے گی‘ میں ذرا احتیاط کر رہا ہوں‘ اس بات کو یوں بیان کر رہا ہوں کہ عدم اعتماد کامیاب ہو یا ناکام پاکستان کو کن کن چیلنجوں کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ ہر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس وقت اتنی گرد اٹھ چکی ہے کہ کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ کون وزیراعظم نہیں بننا چاہے گا مگر یہ بات
مزید پڑھیے


23مارچ

جمعرات 24 مارچ 2022ء
سجاد میر
صبح چھ بجے گھر سے روانہ ہونا پڑا کہ ایک چینل پر 23مارچ کے حوالے سے ایک پروگرام میں شرکت کرنا تھی۔ایسی ایسی باتیں ہوئیں اور ایسی ایسی باتیں کہیں کہ یوں لگا کہ خوابوں کی یاد آ گئی کہ جو ہنوز تشنہ تکمیل ہیں۔اس لئے اہل نظر کہتے ہیں تحریک پاکستان ابھی ختم نہیں ہوئی۔اس محفل میں کون کون تھا‘اس کا تذکرہ تو بعد میں کرتا ہوں مگر یہ بتائے دیتا ہوں کہ کوئی جذباتی بات نہیں ہوئی جو اس دن کے حوالے سے ہماری گفتگوئوں کا وطیرہ ہوا کرتا ہے۔مجھے تو ایسے موقع پر ایک ہی بات یاد
مزید پڑھیے








اہم خبریں