سجاد میر



خدمت خلق کے ادارے


جب بھی رمضان آتا ہے‘ مجھے ہمیشہ یہ خیال آتا ہے کہ اس عبادت کا ذکر کروں جو ان دنوں سب عبادتوں سے افضل ہے۔ چلئے یوں نہ کہیے۔ کوئی جمع تفریق نہ ہو جائے ویسے یہ میں اس لئے کہہ رہا تھا کہ اس میں حقوق العباد کا عنصر شامل ہے۔ ہمارے اشفاق صاحب نے ایک بابا جی کے حوالے سے یہ سنہری جملہ کہہ رکھا ہے کہ نماز کی قضا ہے‘ خدمت کی قضا نہیں۔ مرے منہ سے یہ جملہ جانے کیوں اس طرح نکلتاہے کہ عبادت کی قضا ہے‘ خدمت کی قضا نہیں۔ شاید اس لئے کہ
پیر 20 مئی 2019ء

جمیل نقش کا نقشِ جمیل

هفته 18 مئی 2019ء
سجاد میر
چلیے آج اس نقشِ جمیل کی بات کریں جس کا نام جمیل نقش تھا۔ اور اس حوالے سے اپنے دیس کی اس تخلیقی روایت کو یاد کریں جو مرتی جا رہی ہے۔ جمیل نقش کی موت کی خبر نے مری کئی کیفیتیں تازہ کر دی ہیں۔ میں اپنی چھت سے اسے اپنی چھت پر سرگرم عمل دیکھ سکتا تھا۔ بارہ برس میں نے کراچی کے طارق روڈ پر تنہا گزارے ہیں‘ چند دوستوں کے ساتھ۔ اس گھر کا نمبر 120-u-2تھا۔ اس حوالے سے وہ نوجوان ادبی حلقوںمیں یو ٹو کے نام سے مشہور تھا۔ می ٹو کی طرح نہیں شاید اس
مزید پڑھیے


مسئلہ سلامتی کا ہے!

جمعرات 16 مئی 2019ء
سجاد میر
میں نے پروگرام کا آغاز کیا اور پوچھا‘ آج آپ سب اداس کیوں ہیں‘ پھر وضاحت کی سبھی کے چہروں پر ایک سی کیفیت ہے۔ گہری اور شدید اداسی کی۔ سب نے تصدیق کی۔ یہ وہ دن تھا جب حکومت پاکستان کی طرف سے مشیر خزانہ نے یہ اعلان کیا تھا کہ پاکستان کا آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو گیاہے۔ یہ کوئی ایسی بات نہ تھی جو انہونی ہو۔ کافی عرصے سے اس گھڑی کا انتظار تھا۔ سب جانتے تھے یہ ہونے والا ہے۔ اچانک مجھے وہ دن یاد آیا جب میں نے ریڈیو پاکستان سے سقوط ڈھاکہ
مزید پڑھیے


داتا دربار کا سانحہ۔ پس منظر

پیر 13 مئی 2019ء
سجاد میر
داتا دربار پر حملہ ہوا تو میں سوچ میں پڑ گیا۔ یہ کون لوگ ہیں جو بزرگوں کے مزارات کو بھی نہیں بخشتے۔ بلکہ شاید اسے اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیںیہ کوئی مسلکی بحث نہیں ہے بلکہ ایک مزاج کا رونا ہے جو ہمارے ہاں تشکیل پاتا جا رہا ہے۔ یہاںمیں اس سے ہٹ کر ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔ شاید اس سے مری بات زیادہ واضح ہو جائے۔ پروفیسر سراج پنجاب یونیورسٹی مرے انگریزی ادبیات کے استاد تھے۔ بلا شبہ ایک لیجنڈری شخصیت تھے۔ بعد میں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوںنے ایک انگریزی اخبار
مزید پڑھیے


اکنامک ہٹ مین آ گئے

جمعرات 09 مئی 2019ء
سجاد میر
پنبہ کجا کجا نہم۔ ایک زخم ہو تو اس کی مرہم پٹی کر لیں۔ یہاں تو سارے کا سارا بدن زخموں سے چور ہے۔ رات گئے تک ٹی وی پر نواز شریف کی ریلی دیکھتا رہا چند دنوں سے مسلم لیگ نے اپنی تنظیم نو کی تھی۔ کئی سوال سر اٹھا رہے تھے‘ لیکن ہمارے مسخرے پن کی نذر ہو رہے تھے۔ مجھے اس پر بھی اعتراض نہیں۔ شیکسپئر کے ہاں ایک Clownمسخرے کا کردار ہوتا ہے جس کے بارے میں ہمیں بتایا جاتا ہے کہ اس کی حماقتوں سے بھی عقل کی باتیں جھلکتی ہیں۔ حماقتوں کی عقل
مزید پڑھیے




کلچر کے محاذ پر

پیر 06 مئی 2019ء
سجاد میر
رمضان آ رہا ہے‘ چلئے اس قضیے کو تو نپٹاتے چلیں۔ یہ کون لوگ ہیں علی ظفر اور میشا شفیع جن کا میڈیا ڈھول بجا بجا کر تذکرہ کر رہا ہے اور چسکے پہ چسکا لئے جا رہا ہے۔ غلط نہیں کہہ رہا‘ میں سچ مچ ان کی عظمت اور اہمیت سے باخبر نہ تھا کہ قومی خبرنامے میں انہیں اس ٹھاٹھ باٹ سے براجمان دیکھوں۔ غضب خدا کا‘ ملک کو کیا کیا مسئلے درپیش ہیں اس دن بھی ایک سے ایک بڑا معاملہ تھا۔ سی پیک ‘ آئی ایم ایف ‘ نواز شریف ‘ زرداری‘ عمران خاں سب آسمانوں
مزید پڑھیے


خلافت کی دینے لگا میں دہائی

جمعرات 02 مئی 2019ء
سجاد میر
شاید میری قسمت میں رب ذوالجلال نے یہ لکھ رکھا ہے کہ میں اہل ایمان سے مباحثہ کرتا رہوں۔ اوریا مقبول جان کے حوالے سے میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ اس میں اور مجھ میں فرق یہ ہے کہ وہ قوت ایمانی میں مجھ سے بہت آگے ہے‘ مگر کیا کروں جو کام مرے رب نے مجھے سونپ رکھا ہے‘ مجھے وہ تو کرنا ہی ہے۔ آج اوریا نے خلافت کا نقشہ کھینچا ہے اور بتایا ہے کہ جمہوریت میں اور خلافت میں کیا فرق ہے وہ ان اہل دانش میں ہیں جو جمہوریت کو نظام کفر کہتے
مزید پڑھیے


الوداع‘ نصرت نصراللہ‘الوداع

پیر 29 اپریل 2019ء
سجاد میر
مرا یار نصرت نصراللہ بھی چل بسا اور مجھے لاہور میں اس کی خبر تک نہ ہوئی۔ ایسے ہی لمحوں میں کراچی چھوڑنا مجھے کھلتا ہے۔ پھر لاہوریے پوچھیں گے یہ نصرت نصراللہ کون ہے‘ اس پر مجھے بعد بھی رونا آئے گا۔ میں نے اچانک فیس بک کھولی تو عافیہ اسلام اس اندوہ ناک واقعے کی خبر دے رہی تھیں۔ شاید آپ کو یہ بھی اندازہ نہ ہو کہ عافیہ سلام کون ہیں۔ انتہائی نفیس‘ شستہ شاندار خاتون صحافی جو مرے حافظے میں پاکستان کی پہلی سپورٹس صحافی تھیں۔ کیا لوگ تھے یہ سب۔ مجھے کراچی اور زیادہ
مزید پڑھیے


چین کا حال۔ کھرے کھوٹے کا احوال

هفته 27 اپریل 2019ء
سجاد میر
چین سے مرا رومانس بہت پرانا ہے۔ غالباً سال دوئم کا امتحان دے کر میں گرمیوں کی چھٹیاں منا رہا تھا کہ مرے ایک سینئر دوست اشرف قدسی نے مجھے بیجنگ سے چھپنے والا ایک جریدہ تھما دیا۔ اس میں چیئرمین مائوذے تنگ کی دس نظمیں چھپی ہوئی تھیں۔ جب میں نے انہیں پڑھا اور ان کی تعریف کی تو کہنے لگے‘ اس کا ترجمہ کیوں نہیں کر دیتے۔ وہ اسے ایک پرچے میں چھاپنا چاہتے تھے جسے وہ ایڈٹ کرتے تھے۔ چھٹیوں کے دن تھے۔ فراغت کا زمانہ تھا۔ امتحان کا بوجھ بھی سر سے اتر چکا تھا۔ ایک
مزید پڑھیے


مشرق سے ابھرتا ہوا سورج

جمعرات 25 اپریل 2019ء
سجاد میر
اسد عمر کے سانحے پر تو مجھے ضرور لکھنا چاہیے، کیونکہ یہ ایک واقعہ نہیں ہے، تاریخ کا ایک تیکھا، ٹیڑھا اور نازک موڑ ہے، اس وقت ایک اور مرحلہ درپیش ہے جو اسی کا تسلسل ہے اور وہ ہے وزیر اعظم کا دورۂ ایران اور اس کے بعد چین کا سفر مجھے گمان ہے، ہم باگیں موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ اسد عمر پر تفصیلی تجزیہ رہ گیا تو اس کا سبب صرف واقعات کی تیز رفتاری نہیں، بلکہ الیکٹرانک میڈیا کی لپک جھپک ہے، اسی بار کھل کر بات کی ہے کہ لکھتے
مزید پڑھیے