BN

سجاد میر



جمیل جالبی اور پاکستانی کلچر


آج تو بنا بنایا کالم تھا‘ اسد عمر کی رخصتی اور ساتھ ہی بعض وزارتوں کا بوریا بستر اک جھپا کے کے ساتھ گول ہونا ایک ایسی خبر تھی جس کا گویا صدیوں سے انتظار تھا۔ ساتھ ہی عبدالحفیظ شیخ کی آمد پر مجھے بہت سی بھولی بسری باتیں یاد آنے لگی ہیں۔ آخر میں نے کراچی میں عمر گزاری ہے مگر یہ سب باتیں پھر کبھی سہی۔ کراچی ہی سے ایک اور خبر آئی ہے جسے میں کسی صورت نظر انداز نہیں کر سکتا۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کی رخصتی اخباروں اور ٹی وی چینلز کی بہت بڑی خبر
هفته 20 اپریل 2019ء

آ گئے اقتصادی ہٹ میں

جمعرات 18 اپریل 2019ء
سجاد میر
میری بات کا آپ کو اعتبار نہیں تھا تو ذرا ان کی سن لیجیے۔ میں تو ادب کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوں جو الفاظ کے ہیر پھیر سے اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سجا کر اپنی بات سنانے کی کوشش کرتا تھا۔ یہ تو پاکستان کے ایک مستند معیشت دان ہیں۔ شوکت عزیز اور ڈاکٹر سلمان شاہ کے ساتھ مشرف کی اقتصادی ٹیم کا حصہ بھی رہے ہیں۔ ہمارے چیف اکانومسٹ تھے۔ آج کل نسٹ میں سپیشل سائنسز اور ہیومینٹیز کے ڈین ہیں۔ یہ پاکستان میں جتنی نیشنل یونیورسٹیاں ہیں‘ یہ دراصل فوج کا کارنامہ ہیں۔نسٹ یعنی
مزید پڑھیے


بلدیاتی انتخابات کا ڈھول

هفته 13 اپریل 2019ء
سجاد میر
مجھے نہیں معلوم کہ پنجاب میں آئندہ بلدیاتی نظام کے خدو خال کیا ہوں گے۔ البتہ اتنا اندیشہ ضرور ہے کہ اس کا نہ صرف ملک کی سیاست پر اثر پڑے گا بلکہ بیورو کریسی کا ڈھانچہ بھی اس سے متاثر ہو گا۔ ہمارے ہاں جب بھی بلدیاتی سطح پر کوئی نظام نافذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے‘ تو اس میں اس وقت کے حکمرانوں کی بدنیتی شامل ہوتی ہے۔ شاید اسی بدیشی کی وجہ سے یہ نظام کبھی آئیڈیل شکل میں نافذ نہیں ہوپایا۔ موجودہ حکمرانوں کی نیت کا اندازہ صرف اس بات سے کیا جا سکتا ہے
مزید پڑھیے


تھر میں تبدیلی

جمعرات 11 اپریل 2019ء
سجاد میر
ان کو خوش ہونے کا حق ہے‘ بالکل اس طرح جس طرح ساہیوال ہلوکی ‘ بکی وغیرہ کے منصوبوں پر شہباز شریف خوش ہوا کرتے تھے تاہم یہ ایک لمبی کہانی ہے کہ ہم تھر کے کوئلے سے ابھی تک فائدہ کیوں نہیں اٹھا سکے تھے۔ سیاستدان اپنی سی کہتے رہتے ہیں۔ مگر ہمارے پاس تو وہ تجزیاتی ادارے بھی نہیں ہیں۔ جو حساب کتاب لگا کر بتا سکیں کہ اصل نقشہ کیا ہے۔ میں نے کراچی میں کوئی ربع صدی تک دو قومی اخبارات کی ادارت کی ہے اس کے علاوہ بھی اس شہر میں آٹھ دس سال قومی
مزید پڑھیے


الطاف صحافت

پیر 08 اپریل 2019ء
سجاد میر
یہ کتاب بہت اچھی ہے۔ یہ اور بھی اچھی ہوتی اگر اس میں وہ مضمون بھی شامل ہوتا جو میں لکھ نہ پایا۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ اس مضمون کے انتظار میں اس کتاب کی اشاعت میں کم از کم ایک برس کی تاخیر تو ہوئی ہو گی۔ زندگی کے گناہوں میں ایک اور گناہ کا اضافہ اور یہ گناہگار اس کا اعتراف کرتا ہے۔ مرا یہ مضمون لکھنا بہت ضروری تھا۔ برادرم طاہر مسعود نے مرے ذمے جو کام لگایا تھا۔ وہ مرے لئے آسان بھی تھا اور مشکل بھی۔ اور ایک لحاظ سے ضروری بھی۔ ان کا
مزید پڑھیے




بھٹو یاد آتا ہے

هفته 06 اپریل 2019ء
سجاد میر
مجھے وہ چار اپریل بھی یاد ہے جب ساری رات ہم نے آنکھوں میں گزاری۔ آخری اطلاع یہ آئی کہ بھٹو کو پھانسی ہو چکی ہے، ہمارے دوست سعودی ساحرجو پنڈی جیل کے اردگرد خبر کی تلاش میں منڈلا رہے تھے، گرفتار کرلیے گئے ہیں۔ گویا ہم اب باخبر ہو چکے تھے اور سو سکتے تھے۔ صبح اٹھ کر ذرا بازار نکلے، ایک چائے خانے پر چائے پی رہے تھے اور ریڈیو پاکستان سے یہ خبر نشر ہورہی تھی کہ بھٹو کو پھانسی لگا دی گئی اور ہم باہر سڑک پر دکھ سے دیکھ رہے تھے، کوئی ردعمل نہ
مزید پڑھیے


مری بات سمجھ گئے نا!

پیر 01 اپریل 2019ء
سجاد میر
یہ سر پر کلغی سجانے کا شوق ہمارے سب اہل سیاست کو ہے‘ اس میں کوئی استثنیٰ نہیں۔ ہمارے اہل سیاست ہی کیا دنیا بھر کے سیاست دان ایسا ہی کرتے ہوں گے۔ ہمارے سیاستدانوں کا البتہ یہ کمال ہے کہ وہ دوسروں کا کریڈٹ بھی چھیننے کی کوشش کرتے ہیں یا اس بات کی سعی کرتے ہیں کہ کہیں ان کے کسی اچھے کام کے ڈانڈے دوسروں سے نہ جا ملیں۔ بے شمار باتیں ہیں جن کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ اس لئے جب کوئی نئی تختی لگاتا ہے تو مجھے یقین ہوتا ہے کہ کوئی پرانا
مزید پڑھیے


کون جیتا ہے…

جمعرات 28 مارچ 2019ء
سجاد میر
سیاست سے صرف نظر کر کے میں آج کل ایک ہی بات پر زور دے رہا ہوں کہ خدا کے لئے ملکی معیشت کو سنبھالئے۔ یہ میں اس دن سے کہہ رہا ہوں جب سے ہمارے ہاں سیاسی تبدیلی آئی ہے۔ میں اس کا الزام سراسر موجودہ حکومت پر بھی نہیں لگاتا۔ بلکہ ان سیاسی حالات پر لگتا ہوں جن کا اس ملک پر دو ڈھائی سال سے راج رہا ہے۔ آج میں پاکستان سٹیٹ بنک کے ایک سابق گورنر اور پاکستان کے ایک ممتاز معیشت دان شاہد کاردار کا انٹرویو پڑھ کر ایک بار پھر ذہنی ہیجان و خلفشار
مزید پڑھیے


تھوڑا سا گلہ

پیر 25 مارچ 2019ء
سجاد میر
چند باتیں ایسی ہوتی ہیں جن پر گفتگو کرنا میں مصلحت دینی کے منافی سمجھتا ہوں اور خاموش رہتا ہوں اگرچہ دل میں یہ خلش بھی باقی رہتی ہے کہ کہیں یہ خاموشی مجرمانہ نوعیت کی تو نہیں۔ مثال کے طور پر اپنے بھائی اوریا مقبول جان کے بہت سے دعاوی کے بارے میں صمیم قلب سے یہ محسوس کرتا ہوں کہ ان میں اختلاف کی گنجائش ہے، تاہم چپ اس لیے رہتا ہوں مبادا اس سے دشمنان دین فائدہ اٹھانے بیٹھ جائیں۔ تاہم ذاتی گفتگوئوں میں اس کا اظہار کر دیتا ہوں اور اس سے وہ بھی واقف
مزید پڑھیے


ہمیں سیکھنا ہوگا

هفته 23 مارچ 2019ء
سجاد میر
اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان، مہاتیر محمد کے پرانے مداح ہیں۔ مجھے وہ تقریب اچھی طرح یاد ہے جس میں مہاتیر محمد کو عمران خان کی پارٹی نے اسلام آباد مدعو کیا تھا۔ اس وقت مہاتیر اقتدار سے الگ ہو چکے تھے اور عمران کو ابھی اقتدار کی ہوا تک چھو کر نہیں گزری تھی، ان دنوں سنگاپور کے لی کیوآن کا بھی بڑا چرچا تھا جس نے ملائیشیا سے الگ ہو کر اپنے چھوٹے سے جزیرے کی قسمت بدل دی تھی۔ نوازشریف اس سنگاپوری ماڈل کے مداح تھے۔ یہ درست بات ہے کہ ان ممالک
مزید پڑھیے