BN

سجاد میر



محمد مرسی شہید کا مصر


میں نہیں جانتا کہ مصر کی عظیم تہذیب کا نوحہ لکھوں یا صرف اس اعلان پر اکتفا کروں کہ ’’عرب بہاراں‘‘ منوں مٹی تلے دفن کر دیا گیا ہے۔ فراعنہ کے دیس پر اللہ نے بڑے کرم کئے ہیں۔ موسیٰ کو نبی بنا کر بھیجا‘ عمروبن عاص سا فاتح عنایت کیا اور اس قرن آخر میں بھی عرب بہاراں کا عروج دریائے نیل کی اس سرزمین پر ہوا۔ قاہرہ کے التحریر سکویر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ پوری دنیا اور عالم عرب پر اس کے جو اثرات بھی پڑے‘ وہ اپنی جگہ‘ مگر مصر میں جمہوریت کا ڈول
جمعرات 20 جون 2019ء

…تو آبروئے امت مرحوم ہے

پیر 17 جون 2019ء
سجاد میر
اس سے خوبصورت بندوبست کبھی نہیں دیکھا۔ آج صبح ناشتے کی میز پر ان سے ملاقات ہوئی۔ عبدالقادر خاں مرے بچپن کے دوست ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقادر خاں جن کا تعارف میں نے ان کے طلبہ کے سامنے بھرے ہال میں یوں کرایا تھا کہ یہ اور میں ایک دوسرے کو تب سے جانتے ہیں جب ہم نیکریں پہنا کرتے تھے۔ شاید لنگوٹیے کا لفظ بھی کسی نے ایسے ہی ایجاد کیا ہو گا۔ یوں سمجھیے لاہور سے باہر بحریہ آرچرڈ میں ایک نئی دنیا ہے۔ انہوں نے یہاں یہ کہہ کر طلب کیا کہ وہ میری ایک شاندار جوڑے سے
مزید پڑھیے


اے عافیت کوش انسانو!

هفته 15 جون 2019ء
سجاد میر
پوچھنا یہ ہے کہ گھر کیسے لٹا۔ اچھا خاصا ملک ترقی کی راہ پر چل رہا تھا‘ پھر کیا حادثہ ہوا کہ بھکاری بن کر رہ گیا۔ حکومت کی طرف سے جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں وہ ساری کہانی بتا رہے ہیں۔ ہم کوئی بھی ہدف حاصل نہیں کر پائے۔ یہ کہیں گے۔ یہ اعداد و شمار پرانی حکومت نے طے کئے تھے‘ وہ جانتے تھے کہ یہ پورے نہیں ہو سکتے‘ آنے والے خود سے نپٹیں گے۔ بھئی دو بار آپ نے بجٹ کی اصلاح کی اس میں ترمیم کی‘ ترقیاتی بجٹ کو کم کیا پھر کیا ہوا
مزید پڑھیے


استعارے کی موت

پیر 10 جون 2019ء
سجاد میر
میں کوئی تعزیت نامہ لکھنے نہیں بیٹھا۔ اگر یہ تعزیت نامہ ہے بھی تو کسی فرد کا نہیں‘ گزری ہوئی تہذیبی قدروں کا نوحہ کہہ لیجیے ۔وہ بھی کیا زمانہ تھا جب مجھ جیسوں نے ادب کی دنیا میں قدم رکھا تھا وہ ویسے بھی وقت کے کروٹ لینے کا سمے تھا۔ مگر ادبی طور پر تو ایک طوفان برپا تھا۔ لاہور بالخصوص ایک نئی ادبی تحریک کا مرکز تھا۔ افتخارجالب اور ان کے ساتھیوں کا طوطی بولتا تھا۔ ایک لحاظ سے جیلانی کامران بھی ‘ انیس ناگی‘ زاہد ڈار ‘ تبسم کشمیری ‘ گوہر نوشاہی ‘ عباس اطہر‘ ذوالفقار
مزید پڑھیے


ادریس بختیار کی یاد میں

پیر 03 جون 2019ء
سجاد میر
بس بیٹھے بیٹھے درمیان سے اٹھ کر چل دیا۔ میں نے کسی سے اس کی تعزیت بھی نہیں کی۔ ایک چپ سی لگ گئی ہے ویسے میں اس کی تعزیت کیوں کروں اور کس سے کروں دوسروں کو تو اس کی تعزیت مجھ سے کرنا چاہیے تھی۔ بعض لوگوں سے ایسے ہی تعلقات ہوتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب صلاح الدین صاحب شہید ہوئے۔ جونہی خبر ملی ان کے گھر پہنچے تو پروفیسر غفور احمد صاحب موجود تھے وہ سب کو چھوڑ چھاڑ کر سیدھا میری طرف آئے اور مجھے گلے سے لگا کر دلاسا دینے لگے۔ جیسے کہہ رہے
مزید پڑھیے




خدارا بات کو سمجھ جائیے

جمعرات 30 مئی 2019ء
سجاد میر
میں نے وزیری اور محسود کا ذکر پہلی بار اقبال کے ہاں پڑھا۔ وہ بھی شیر شاہ سوری کے حوالے سے۔ سوری ہندوستان کا وہ حکمراں تھا جس نے حکومت مغلوں کے ہاتھ سے چھینی تھی اور اپنے مختصر دور حکومت میں ایسے کارنامے انجام دیے اور حکمرانی کا ایسا طریق اپنایا کہ آج بھی اس کا نام ہماری تاریخ میں روشن ہے۔ یہ برصغیر کے طول و عرض کو ملاتی ہوئی شاہراہ شیر شاہ سوری اسی کی یادگار ہے۔ انگریز نے اسی تصورکو جی ٹی روڈ میں بدل کر ہندوستان کو متحد کرنے کا راستہ نکالا۔ سوری کے
مزید پڑھیے


ترجیحات درست کیجیے

پیر 27 مئی 2019ء
سجاد میر
ہو سکتا ہے‘ آپ سوچیں‘ یہ سیدھی بات نہیں کرتا‘ ہمیشہ الٹی ہی سوچتاہے۔ کیا کروں‘ سچ تو بولنا ہی ہے۔ اسے مری مجبوری سمجھیں۔ یہ جو چیف آف نیب کا سکینڈل بنا ہے‘ اس پر بہت سی باتیں ہو رہی ہیں ممکن ہے۔ مرے پاس بھی بہت سی معلومات ہوں کہانی میں چسکا خاصا ہے۔ بہت کچھ بیان کیا جا سکتا ہے۔ میں تو اس ادارے کے بانی ارکان میں سے ہوں جس نے یہ خبر نشر کی ہے۔ میں اس ٹی وی چینل کا ایگزیکٹوڈائریکٹر رہ چکا ہوں۔ایک قومی اخبار کی ایڈیٹر شپ چھوڑ کر اس کے آغاز
مزید پڑھیے


بچا لو، بچا لو، مری روح کو بچا لو!

هفته 25 مئی 2019ء
سجاد میر
آج کل جنگیں میدان جنگ میں نہیں ہاری جاتیں، معیشت کے میدان میں ہاری جاتی ہیں۔ ساری کی ساری فوجیں دھری رہ جاتی ہیں اور قوم جنگ ہار جاتی ہے۔ سامنے کی بات ہے، روس سے بڑی عسکری طاقت تو کم ہی ہوا کرتی ہے۔ ایٹمی اسلحے میں بھی وہ ایک سپر پاور تھا۔آدھی دنیا پر اس کا راج تھا، اس کے نظریے اور اس کے سامراجی جاہ و جلال کی ہیبت تھی۔ کیا ہوا، سب کچھ دھرے کا دھرا رہ گیا۔ اتنی بڑی سلطنت دھڑام سے ایسے گری کہ کئی ٹکڑے ہو گئے۔ روسی ٹینک صرف اپنی پارلیمنٹ
مزید پڑھیے


خدمت خلق کے ادارے

پیر 20 مئی 2019ء
سجاد میر
جب بھی رمضان آتا ہے‘ مجھے ہمیشہ یہ خیال آتا ہے کہ اس عبادت کا ذکر کروں جو ان دنوں سب عبادتوں سے افضل ہے۔ چلئے یوں نہ کہیے۔ کوئی جمع تفریق نہ ہو جائے ویسے یہ میں اس لئے کہہ رہا تھا کہ اس میں حقوق العباد کا عنصر شامل ہے۔ ہمارے اشفاق صاحب نے ایک بابا جی کے حوالے سے یہ سنہری جملہ کہہ رکھا ہے کہ نماز کی قضا ہے‘ خدمت کی قضا نہیں۔ مرے منہ سے یہ جملہ جانے کیوں اس طرح نکلتاہے کہ عبادت کی قضا ہے‘ خدمت کی قضا نہیں۔ شاید اس لئے کہ
مزید پڑھیے


جمیل نقش کا نقشِ جمیل

هفته 18 مئی 2019ء
سجاد میر
چلیے آج اس نقشِ جمیل کی بات کریں جس کا نام جمیل نقش تھا۔ اور اس حوالے سے اپنے دیس کی اس تخلیقی روایت کو یاد کریں جو مرتی جا رہی ہے۔ جمیل نقش کی موت کی خبر نے مری کئی کیفیتیں تازہ کر دی ہیں۔ میں اپنی چھت سے اسے اپنی چھت پر سرگرم عمل دیکھ سکتا تھا۔ بارہ برس میں نے کراچی کے طارق روڈ پر تنہا گزارے ہیں‘ چند دوستوں کے ساتھ۔ اس گھر کا نمبر 120-u-2تھا۔ اس حوالے سے وہ نوجوان ادبی حلقوںمیں یو ٹو کے نام سے مشہور تھا۔ می ٹو کی طرح نہیں شاید اس
مزید پڑھیے