BN

سجاد میر


وقت دعا ہے!


دفتر قائد اعظم کے مزار کے عین سامنے تھا۔یہ بند رروڈ کا ایک سرا ہے۔ یہاں سے ہر طرف سڑکیں نکلتی ہیں۔ بڑا ہی پررونق علاقہ ہے۔ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ سڑک پار کرنا اتنا مشکل تھا کہ لمبا انتظار کرنا پڑتا۔ پھر وہ زمانہ آیا جب کراچی میں روز ہڑتال ہونے لگی‘ کرفیو لگنے لگا۔ ہنستا بستا بلکہ چیختا چلاتا شہر سونا ہونے لگا۔ آپ آرام سے یہ سڑک بھی ایسے پار کر سکتے تھے جیسے اپنے گھر میں ٹہل رہے ہوں۔ یہ تجربہ بار بار ہونے لگا تو ایک دن دل میں ہوک سی اٹھی اور
جمعرات 26 مارچ 2020ء

کرونا اور انفعالی مدافعت

پیر 23 مارچ 2020ء
سجاد میر
ابھی ابھی اطلاع آئی ہے کہ وزیر اعظم عمران خاں چند منٹ کے بعد قوم سے خطاب کیا اور ایسا وہ اکثر کرتے رہیں گے۔ خود بھی روز کرونا پر بریفنگ لیا کریں گے تاکہ باخبر رہ کر درست فیصلے کر سکیں۔ حکومت پنجاب نے فوج طلب کر لی ہے۔ زیادہ سے زیادہ لاک ڈائون ہو سکتا ہے۔ وقت اتنی تیزی سے گزر رہا ہے کہ شہباز شریف بھی وطن واپس آ چکے ہیں حالانکہ بڑے بڑے ماہرین اس کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ سیاست پیچھے رہ گئی ہے۔ آسمانوں سے ایسی آفت نازل ہوئی ہے کہ دنیا کے
مزید پڑھیے


فتنۂ عہد جدید

جمعرات 19 مارچ 2020ء
سجاد میر
کئی باتیں اکٹھی ہو گئی ہیں جنہیں میں لکھنا چاہتا ہوں۔ کرونا وائرس کے خطرات، ملک کی معیشت اور سیاست کے اتار چڑھائو سے ہٹ کر بہت ساری باتیں اور ہیں جو کرنا چاہتا ہوں مگر یہاں سب سے پہلے اپنی ایک کوتاہی کا اعتراف کروں گا حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی۔ ڈاکٹر مبشر حسن پر لکھتے ہوئے میں نے ان کے مجید نظامی کے بارے میں نظریات کا تقابل کرتے ہوئے کرنل عابد حسین کا ذکر کیا تھا یہ کوئی ایسی بات نہ تھی جو مجھے غلط یاد رہی ہو، مگر روا روی اور روانی میں
مزید پڑھیے


ڈاکٹر مبشر حسن

پیر 16 مارچ 2020ء
سجاد میر
میں ان سے زیادہ ملا بھی نہیں اور نظریاتی طور پر تو کبھی ہم خیال بھی نہ تھا۔ مگر ان کے انتقال کی خبر سن کر ایک ایسا دکھ ہوا جو کسی اپنے کے کھو جانے کا ہوتا ہے۔ ان کی عمر بھی کافی تھی‘ ایک صدی کے قریب پہنچ رہے تھے۔ کسی وقت بھی خبر آ سکتی تھی‘ مگر یوں لگا اس عہد نے کچھ کھو دیا ہے۔ ڈاکٹر مبشر حسن سے مرا براہ راست رابطہ لاہور واپس آ کر ہی ہوا۔ اس سے پہلے میں نے انہیں ہمیشہ اس نظر ہی سے دیکھا تھا کہ بائیں بازو کے
مزید پڑھیے


اقبال کی دوشیزۂ مریخ

هفته 14 مارچ 2020ء
سجاد میر
گزشتہ دنوں حقوق نسواں کے حوالے سے اقبال کی ایک نظم کا حوالہ دیا تھا جس میں آزادی نسواں کے تصور پر بات کی گئی ہے۔ جاوید نامہ میں اقبال جب فلک مریخ تک پہنچتے ہیں تو وہاں ایک میدان میں انہیں عورتوں اور مردوں کا ایک ہجوم نظر آتا ہے۔ درمیان میں ایک بلند قامت خاتون کھڑی ہیں جس کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ اقبال نے اس کی کیا نقشہ کشی کی ہے آج کی ساری تحریک نسواں سمجھ آ جائے گی۔ سو سال پہلے اقبال کتنی دور کی
مزید پڑھیے



شرم کرو‘ حیا کرو

پیر 09 مارچ 2020ء
سجاد میر
کل ظفر علی خان ٹرسٹ میں ایک غیر معمولی اجتماع تھا۔ حکم ہوا حاضر ہونا ضروری ہے۔ایک دوست نے تو چپکے سے مسکراتے ہوئے کان میں کہا کہ کفر و اسلام کی جنگ ہے۔ خلیل الرحمن قمر یہاں مدعو تھے۔ یہ گزشتہ ایک ماہ میں ان سے میرا دوسرا پبلک آمنا سامنا تھا۔ ظاہر ہے بحث یہی عورت مارچ تھا۔خلیل الرحمن دبنگ آدمی ہیں اور لگی لپٹی نہیں رکھتے۔ مجھے بھی اذن اظہار ہوا۔ میں نے اپنی طرف سے بڑی معصومیت سے ایک بات کہہ ڈالی۔ جب میں نے ٹی وی پر ان کا ماروی سرمد سے ٹاکرا دیکھا تو
مزید پڑھیے


8مارچ کا ہنگامہ

هفته 07 مارچ 2020ء
سجاد میر
میں مدت سے اس بات کا قائل رہا ہوں کہ کسی تہذیب کی تشکیل اس مساوات پر ہوتی ہے جو اس معاشرے میں مردوزن کے درمیان قائم ہو اور مساوات علم حساب والی مساوات (equality)ہے اور اس کا تعلق کسی اور برابری والی مساوات سے نہیں ہے۔ انسانیت نے اس حوالے سے بہت جدوجہد کی ہے۔ مگر آج جو ہمارے ہاں اس کی شکل نظر آئی ہے وہ بہت ہی نچلی سطح کی ہے۔ میں بار بار کہتا ہوں کہ ہمارے ہاں سول سوسائٹی کے نام سے ایک ایسا کلچر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو قابل
مزید پڑھیے


نئی دنیائوں کی تخلیق

بدھ 04 مارچ 2020ء
سجاد میر
کہتے ہیں افغانستان کی جنگ ختم ہو گئی ہے۔ چالیس سال پہلے اس کا آغاز ہوا تھا۔ میری نسل تاریخ کے اس عظیم و طویل تجربے سے بڑے درد اور بڑی تمنائوں کے ساتھ گزری ہے۔ کیا میں اس تجربے کو گرفت میں لے سکا ہوں۔ میں کہا کرتا ہوں جب میں صرف اخبار نویس تھا، لے دے کر کالم لکھا کرتا تھا تو دانشور کہلاتا تھا اور جب ٹی وی کی چکا چوند نے آنکھیں چندھیا دیں تو میں تجزیہ نگار کہلانے لگا۔ میں اور میری نسل نے اس دوران بہت کچھ لکھا اور کہا مگر کیا ہم اس
مزید پڑھیے


نعمت اللہ خاں

جمعرات 27 فروری 2020ء
سجاد میر
میں نے انہیں بہت قریب سے دیکھا ہے اور ان سے ایک خاص رشتہ بھی تھا۔ کامیاب لوگ ایسے ہوتے ہیں جس شعبے میں جائیں اس کے سارے تقاضے پورے کریں۔ وہ جماعت اسلامی کراچی کے امیر رہے۔ یہ وہ عہدہ ہے جو ایک زمانے میں جماعت میں امیرجماعت پاکستان کے بعد سب سے اہم گنا جاتا تھا۔ وہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ناظم اعلیٰ رہے۔واحد بلدیہ تھی جس پر اس نظام کو مرتب کرنے والوں کو ناز تھا۔شاید اس نظام کے واحد لارڈ میئر جو کامیاب گنے گئے۔پھر الخدمت پاکستان کے سربراہ بنے جو پاکستان کی سب سے بڑی
مزید پڑھیے


کیا ہم کمّی بنا دیئے گئے

پیر 24 فروری 2020ء
سجاد میر
چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں گفتگو کرنا اچھا نہیں لگتا، اگرچہ اس میں مزہ بھی آتا ہے۔ وہی جو نظم اور غزل کا فرق ہے۔ آج مرے پیش نظر تین موضوع ہیں جن پر مختصر ہی سہی، بات کرنا چاہتا ہوں۔ -1عدلیہ میں اٹھنے والا طوفان جس نے ایک کی جان لے لی ہے اور باقی دو کے سر منتظر ہیں۔ اٹارنی جنرل مستعفی ہو گئے ہیں، باقی دو کے استعفوں کا انتظار ہے۔ -2بلاول کا بیان جو بہت کچھ کہہ رہا ہے، مگر آخر یہ نوجوان چاہتا کیا ہے۔ خاص طور پر کیا پارٹی پنجاب میں اپنے مستقبل سے مایوس ہو چکی
مزید پڑھیے