سجاد میر



بزدار پلس


عمران خاںکی کپتانی کے طفیل کرکٹ نے سیاست کو کئی اصطلاحیں عطا کی ہیں مگر جو کامرانی وسیم اکرم پلس کو ملی ہے‘ اس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ اب لگتا ہے یہ قرض چکانے کا وقت آ گیا ہے۔ آسٹریلیا سے ہماری ٹیم لوٹی ہے اور اپنے ساتھ ایک اور کردار لے کر آئی ہے۔ کیا خیال ہے مصباح الحق کی ڈسکوری بزدار پلس کی دریافت کے مترادف نہیں ہے۔ ساری دنیا چیخ رہی ہے کہ ایک ہی شخص کی جھولی میں سب کچھ نہ ڈالتے جائو۔ نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا۔ مگر کپتان ہے کہ مان کر نہیں
هفته 07 دسمبر 2019ء

ہم تیار ہیں!

جمعرات 05 دسمبر 2019ء
سجاد میر
یار برا نہ ماننا کیا یہ طلبہ یونینوں کی بحالی کی تحریک ہے۔ ایسا ہے تو میں ایمان لایا، مگر بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ پوچھنا تو بنتا ہے اگر یہ طلبہ یونینوں کی بحالی کی تحریک ہے تو مجھے تو بہت خوش ہونا چاہیے کہ میں تو ان تحریکوں کا پروردہ ہوں۔ پاکستان میں جب طلبہ تحریک کا ذکر آتا ہے تو کراچی والوں کا حوالہ دوسرا ہوتا ہے، لاہور کا دوسرا۔ کراچی والے 53 سے آغاز کرتے ہیں۔ اس وقت یہ تحریک بائیں بازو کی تحریک تھی۔ 12 طلبہ شہر بدر ہوئے تھے۔ وہ ساری زندگی اسی
مزید پڑھیے


کلچر کی جنگ

پیر 02 دسمبر 2019ء
سجاد میر
گزشتہ دنوں ایک کالم لکھا تھا کہ این جی او کی سواری آ رہی ہے۔ آغاز اس فقرے سے کیا تھا کہ فیض احمد فیض ایک این جی او کا نام ہے۔ وجہ اس کی عاصمہ جہانگیر پر ایک تین روزہ عالمی کانفرنس بنی تھی جس میں دنیا بھر سے لوگوں کے پَرّے کے پَرّے شریک ہوئے تھے۔ اس کا تازہ ترین مظاہرہ طلبہ یونین کی بحالی کے نام پر ایک کلچر کی ریلی ہے۔ اس ریلی کی ریہرسیل درمیان میں ایک فیض میلے میں نمودار ہوئی تھی۔ یہ سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں جن پر ایک لمبے
مزید پڑھیے


خطرے کی گھنٹی

هفته 30 نومبر 2019ء
سجاد میر
کیا یہ صرف نا اہلی کا معاملہ ہے۔ ایسا ہے تو اللہ کا شکر ہے ہم صرف نا اہل ہی ہیں۔ کوئی اور معاملہ نہیں ہے۔ کوئی سازش نہیں ہے۔ یہ خیال اس لیے پیدا ہو رہا تھا کہ ہم نے دو تین ماہ سے طرح طرح کی سازشی افواہیں پھیلا رکھی تھیں۔ اس میں نازک بات یہ ہے کہ ان میں کوئی ایک بات ایسی نہیں ہے جسے کھلے دل سے بیان کیا جا سکے اور اس سے بھی نازک تر معاملہ یہ ہے کہ ہر بات کی طرف کھلم کھلا اشارے ہو رہے تھے۔ اگر ان باتوں پر
مزید پڑھیے


کیا ہمیں پاکستان سے محبت نہیں!

جمعرات 28 نومبر 2019ء
سجاد میر
کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کن فیکون۔ مجھے تو آج معلوم ہوا کہ یہ کائنات بھی ابھی ناتمام تھی۔ پوری قوم ایک عجیب مخمصے میں ہے کسی کو گمان بھی نہ تھا کہ ہمارے قانون اور آئین میں یہ طے ہی نہیں ہے کہ ہمارے ملک کا سب سے مضبوط منصب دار کتنے سال کے لئے ہوتا ہے۔ عملی طور پر تو یہ درست ہے کہ ایک بار جو آ گیا‘ اس کا جانا اس کی مرضی اور حالات کی منشا کے مطابق ہوتا ہے۔ ایوب خاں ہمارے پہلے آرمی چیف تھے وہ تب تک رہے جب تک حالات
مزید پڑھیے




ہماری نئی تزوینی جنگ

پیر 25 نومبر 2019ء
سجاد میر
اللہ کرے ہمیں عقل آ چکی ہو اور ہم نے اس بات کا احساس کر لیا ہو کہ ہم سی پیک کے حوالے سے ایک بڑے مغالطے میں مبتلا کیے جا رہے تھے۔ میں نے یہ گفتگو عمران خان کی حکومت آنے کے بعد شروع نہیں کی تھی۔ اس سے پہلے ہی حکمرانی کے بعض قرینے دیکھ کر کہنا شروع کر دیا تھا کہ ہمیں آئی ایم ایف کی طرف ہانکا جا رہا ہے اور اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہم سی پیک سے منہ موڑ لیں۔ یہ گویا ایک پیکج تھا جس پر ہم سے
مزید پڑھیے


کتوں سے پیار

هفته 23 نومبر 2019ء
سجاد میر
وہ بتا رہی تھیں کہ وہ ایک ماہر نفسیات ہیں۔ انہوں نے کوئی پانچ ہزار کتوں کی زندگیاں بچائی ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ ہم انسانوں کا رویہ کتوں کے ساتھ اچھا نہیں ہوتا۔ ہم کیوں انہیں پتھر مارتے ہیں۔ ہم پتھر مارتے ہیں تو وہ ہمیں کاٹتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کیوں خوا ہمخواہ ہم انسانوں سے راہ چلتے الجھتے ہیں۔ ہمیں بھی تو اپنے دفاع کا حق ہے۔ ان کا جواب تھا وہ بے زبان ہیں‘ نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ شاید ان کا مطلب یہ تھا کہ ان کی
مزید پڑھیے


کوئی کسر رہ گئی ہے

جمعرات 21 نومبر 2019ء
سجاد میر
کوئی کسر باقی رہ گئی ہے کہ ہمارے چیف جسٹس کو عدلیہ کی صفائی میں بولنا پڑ رہا ہے۔ ملک کے حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ ہر ادارہ اپنے دفاع میں نکلا ہوا ہے ہمارے ملک میں یہ تو ہوتا آیا ہے کہ جب مورخ کو اس ملک کی مختصر سی تاریخ لکھنا پڑتی ہے تو ہماری خرابیوں کی جڑ اس مقدمے کو بتایا جاتا ہے جو جسٹس منیر نے صادر کیا تھا۔ آغاز اس بات سے ہوتا ہے کہ اگرچہ ہمارے ملک میں عدالتوں کا ریکارڈ کوئی اچھا نہیں رہا مگر ایک نہیں کئی مقدمات کے فیصلے یاد
مزید پڑھیے


جب سب نیکیاں غارت ہو جاتی ہیں

بدھ 20 نومبر 2019ء
سجاد میر
ڈر لگتا تھا کہیں اس بات پر اس کی پکڑ نہ ہو جائے۔ دل نہیں چاہتا تھا کہ ایسا ہو۔ وہ ہمارا ہیرو تھا، اس نسل کا ہیرو تھا، وہ دنیا کا سب سے بڑا سپورٹسمین گنا گیا اور عالم اسلام تو اس کے ذکر سے پھولے نہ سماتا تھا۔ اس کی کتاب شائع ہوئی تو نئی نسل میں خاص طور پر اتنی مقبول ہوئی کہ اس زمانے میں کم از کم ہر پڑھنے لکھنے والا طالب علم اس کا مطالعہ ناگزیر سمجھتا تھا۔ محمد علی کلے ایک زندہ لیجنڈ تھا، ایک رول ماڈل بن گیا تھا۔ اس نے باکسنگ
مزید پڑھیے


خدا پاکستان کی حفاظت کرے

پیر 18 نومبر 2019ء
سجاد میر
یہ خبر بہت حیرت اور دلچسپی سے سنی گئی کہ وزیر اعظم پاکستان دو دن کی چھٹی پر جا رہے ہیں۔ ملک کے جو حالات ہیں ان کے پس منظر میں طرح طرح کی چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔ ہمارے ہاں تو دیکھتے دیکھتے خبر سازش بن جاتی ہے اور اسے مرضی کے معنی پہنا دیے جاتے ہیں۔ سیاست کے دو اہم ارکان آپس میں معمول کی ملاقات بھی کریں تو پوچھا جاتا ہے کہ اس کا پس منظر کیا ہو سکتا ہے۔ باڈی لینگوئج جسے اب بدن بولی کہا جانے لگا ہے‘ اس کا جائزہ شروع ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھیے