BN

سجاد میر



عہد بے وفا کا خوف


آج صبح سے عبیداللہ علیم کی ایک غزل کے دو شعر جانے کیوں یاد آ رہے ہیں۔ علیم ایک طرحدار شاعر ہی نہیں‘ بڑی جاندار شخصیت کا مالک بھی تھا۔ ٹوٹ کر محبتیں کیں اور ڈٹ کر دشمنیاں لیں۔ کیا مزے کی بات کی ہے ؎ عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے میں سوچ میں ہوں کہ آج اس شعر کا طاری ہونا کس کارن ہے۔ ٹھیک ہے ہم مشکل حالات سے گزر رہے ہیں۔ اس وقت ہمیں ضرورت ہے کہ کوئی حوصلہ دے۔ محبت اور شفقت
جمعرات 14 فروری 2019ء

سالگرہ مبارک۔ قصیدہ در مدح خود

پیر 11 فروری 2019ء
سجاد میر
کبھی کبھی اپنی شان میں بھی قصیدہ پڑھ لینا چاہیے۔ کوئی حرج نہیں ہوتا۔ اپنا کتھارسس ہی ہو جاتا ہے۔ اس وقت میڈیا کا جو چلن ہو گیا ہے‘ اس میں اس طرح کی کوشش شاید رفعِ شرکے لئے بھی کارآمد ہو سکتی ہیں ابھی دو چار دن پہلے 92نیوز نے اپنی سالگرہ منائی۔ یہ یوں تو ہمارے ٹی وی چینل کی سالگرہ تھی۔ اخبار کی نہیں۔ مگر یہ مجموعی طور پر اس ادارے کے لئے ایک سنگ میل تھا۔ میں نے نوائے وقت ‘ حریت ‘ جنگ بڑے بڑے اداروں میں کام کیا ہے اور لکھا ہے اور ہمیشہ
مزید پڑھیے


ریاست مدینہ اور کرپشن

هفته 09 فروری 2019ء
سجاد میر
ہر کوئی اپنے کام کی بات نکالتا ہے۔ ماسکو میں افغان مسئلے پر مذاکرات ہورہے تھے جہاں طالبان کے نمائندے بھی موجود تھے۔ ایک تو وہ طالبان کے نمائندے کے طور پر مذاکرات میں شامل نہیں ہوئے ہیں بلکہ انہیں امارات اسلامیہ افغانستان کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ یعنی افغانستان کی اس قانونی حکومت کا نمائندہ جو امریکی حملے سے پہلے وہاں قائم تھی اور جس کی رٹ افغانستان کے طول و عرض میں بڑی مضبوطی سے ہر جگہ پھیلی ہوئی تھی۔ دل تو چاہتا تھا کہ اس وفد کے سربراہ کی اس تقریر کا تجزیہ پیش کروں جوانہوں
مزید پڑھیے


سب سے بڑی اذیت

جمعرات 07 فروری 2019ء
سجاد میر
دوسرا اے ٹی ایم بھی بیکار ہو گیا ہے۔ شاید پارٹی کو اب ان کے مالی وسائل کی ضرورت بھی نہ رہی ہو۔ لیکن اس گرفتاری سے کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ جب سواری سوار کے بغیر واپس آتی ہے‘ تو ایک کہرام مچتا ہے۔ یہ شور تو اٹھتا رہے گا‘ مگر سوچنے کی باتیں بہت سی ہیں۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل چند نکتے قابل غور ہیں۔ 1۔ کیا حکومتیں بدلنے یا کمزور کرنے کے نئے ماورائے آئین طریقے موجود تھے جن کی اس سے پہلے خبر نہ تھی اب وہ طشت ازبام ہو گئے ہیں۔ 2۔ کیا ایک
مزید پڑھیے


ہمارے خریدار

پیر 04 فروری 2019ء
سجاد میر
آج کل ایک ویڈیو بڑی وائرل ہورہی ہے۔ انگریزی لفظ استعمال کرنے کی معذرت مگر جب ہی زبان رسم دنیا ہے تو کیا کروں۔ اس ویڈیو میں ایم آئی کا ایک نمائندہ وہاں پارلیمنٹ کی کمیٹی کے سامنے پیش ہے، یہ ایم آئی 6 اور ایم آئی 5 وہاں کی انٹیلی جنس ایجنسیاں ہیں۔ اس سے سوال پوچھا جارہا ہے کہ یہ جو برطانیہ نے پاکستان کو اتنے ملین پائونڈ اس لیے دیئے ہیں کہ اس سے فلاں رعایت حاصل کی جائے تو اس کا جواز کیا ہے۔ میں نے رعایت کا لفظ بھی احتیاطاً استعمال کیا ہے۔ اکثر
مزید پڑھیے




قیامت آنے والی ہے…

جمعرات 31 جنوری 2019ء
سجاد میر
کوئی کسوٹی، کوئی پیمانہ، کوئی معیار مقرر کرلیجیے اور اس پر ان دعوئوں کو پرکھ لیجئے جو کسی بھی بات کے بارے میں کئے جاتے ہیں۔ میں گزشتہ چھ سات ماہ سے شور مچا رہا ہوں کہ ملک کی معیشت زوال پذیر ہے۔ بہت سے اشاریے گناتا جارہا ہوں اور دہائی دیتا ہوں کہ خدا کے واسطے کچھ کیجئے، بات بگڑتی نظر آتی ہے۔ آج سٹیٹ بینک نے جو رپورٹ پہلی سہ ماہی کے حوالے سے جاری کی ہے، اس نے بھی اس پریشانی کو شدید کردیا ہے۔ جواب میں دونوں طرف سے سیاست کی جائے گی۔ یہ مسئلے
مزید پڑھیے


سینہ پھیلانے کی ضرورت نہیں

پیر 28 جنوری 2019ء
سجاد میر
احتیاط تھوڑی سی احتیاط۔ ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ خارجہ معاملات داخلی سیاست کی طرح نہیں ہوتے۔ ہمیں آپے سے باہر نہیں ہونا چاہیے۔ ڈینگیں نہیں مارنا چاہئیں کہ ہم نے طالبان اور امریکہ کو ایک میز پر بٹھا دیا ہے اور مشرق وسطیٰ میں بھی مصالحت کنندہ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے تعاون کے بغیر کم از کم افغانستان کی صورت حال نارمل نہیں ہو سکتی۔ مگر ہم نے یہ کیا شور مچا رکھا ہے کہ کوریا امریکہ خوشامدیں کرتا ہوا ہمارے پاس آیا ہے کہ
مزید پڑھیے


ذرا زبان سنبھال کر!

هفته 26 جنوری 2019ء
سجاد میر
زبان اور لہجہ بدل جائے تو سمجھ جائیے کہ اگر کوئی خرابی نہیں بھی ہے تو اب پیدا ہو جائے گی۔ ہم سب حدود پھلانگ چکے ہیں۔ دل نہیں چاہتا کہ اس گند میں الجھوں، وگرنہ کیا کچھ نہیں کہا جا رہا۔ تاہم ایک بات پر مجھے تشویش ہے۔ ایک ہی صوبہ وفاق کی براہ راست قلمرو میں نہیں ہے۔ اور وہ ہے سندھ۔ یہاں پیپلزپارٹی کی ایک مضبوط حکومت قائم ہے جو وفاقی حکومت کو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ چنانچہ اسے صوبے اور وفاق کا مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔ مراد علی شاہ کو میں ذاتی طور پر جانتا
مزید پڑھیے


سب مجرم ہیں

جمعرات 24 جنوری 2019ء
سجاد میر
ایک زمانے میں یہ سوال میں ایک تسلسل کے ساتھ پوچھا کرتا تھا کہ جن لوگوں نے تاریخ کے ایک اہم موڑ پر قوم کی پیٹھ میں چھری گھونپی ہو، ان سے قیامت کے روز کیا اس کے بارے میں بازپرس نہیں ہوگی۔ مرا یہ سوال عموماً سلیم احمد سے ہوا کرتا تھا اور اس کا پس منظر تحریک پاکستان کے دوران علماء کا کردار تھا۔ وہ علماء جنہیںان دنوں ہم کانگرسی علماء کہا کرتے تھے۔ میں یہ بات اسی تناظر میں پوچھتا تھا کہ نیک نامی، پارسائی، دین کا علم سب اپنی جگہ، مگر تاریخ میں ان کے
مزید پڑھیے


یہ کس کا خون تھا‘ کون تھا

پیر 21 جنوری 2019ء
سجاد میر
میں آج تک اس منظر کو بھول نہیں پایا جو کراچی کلفٹن بینظیر بھٹو پارک میںچند برس پہلے پیش آیا تھا۔ پاکستان کے مسلح دستوں کا ایک باوردی اہل کار ایک ہاتھ جوڑتے‘ گھٹنوں کے بل جھکے شخص کی منت سماجت کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے چند قدم کے فاصلے سے گولی کا نشانہ بنا رہا تھا۔ کیا کسی ملک میں ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ جن کے سپرد قوم کی سلامتی کا فریضہ ہو وہ اس طرح شقاوت قلبی کا مظاہرہ کریں۔ کیمرے کی آنکھ نے وہ منظر محفوظ کر لیا تھا۔ نتیجہ ظاہر ہے‘ اس
مزید پڑھیے