BN

سجاد میر


کئی چاند تھے سمر آسماں


آج میں ادھر ادھر کی چند یادیں تازہ کرنا چاہتا ہوں۔ بعض لوگوں کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جو بڑے لوگ تھے اور ان سے یادیں وابستہ ہیں۔ منیر نیازی‘ پروین شاکر‘ شمس الرحمن فاروقی اور بے نظیر بھٹو۔ چاہوں تو 25دسمبر کے حوالے سے اپنے قائد اعظم کو بھی یاد کر لوں۔ ایسے ہی آج کے حالات سے منہ چھپانے کو دل چاہتا ہے۔ لیکن ان یادداشتوں میں بہت سی خوبصورت دنیائیں چھپی ہوئی ہیں۔ تازہ ترین خبر تو شمس الرحمن فاروقی کی ہے جن کا ان دنوں ہی انتقال ہوا ہے۔ ان کے مرنے کی خبر سن
پیر 28 دسمبر 2020ء مزید پڑھیے

میرے خواب بکھرتے جاتے ہیں

جمعرات 24 دسمبر 2020ء
سجاد میر
ہمارے عسکری صاحب نے کہیں فراق گورکھپوری کا ایک قول نقل کر رکھا ہے کہ جس شخص کو سولہ سال کی عمر سے پہلے اکبر الہ آبادی کے شعر پسند آنے لگیں اس میں ضرور کوئی خرابی پیدا ہو گئی ہے۔ بدقسمتی سے میرا شمار ایسے ہی خراب قسمت لوگوں میں ہوتا ہے۔ یہ نہیں کہ میں اکبر آلہ آبادی کے شعر سولہ سال کی عمر سے پہلے پسند کرنے لگا تھا بلکہ ایسی ساری’’ خرافات ‘‘مجھے عزیز تھیں نہیں۔ اس سِن میں قطعات قریب پھٹکنے نہیں دینا چاہیے۔ پارسائی کے گنبد میں بند ایک پوری نسل ہے جو اس
مزید پڑھیے


ایک تازہ زخم

هفته 19 دسمبر 2020ء
سجاد میر
یہ ابھی دو ڈھائی دن پہلے سقوط ڈھاکہ کے سانحے کی یادیں دل کو چیر کے کھا گئی ہیں۔ اسی دن کئی برس بعد دشمن نے پھر وار کیا اور آرمی پبلک سکول کو نشانہ بنایا۔ نشانہ اب بھی پرانے والا تھا۔ایسے میں بحث چھڑ پڑی کہ یہ جو بلوچستانی گاندھی عبدالصمد خاں کا بیٹا ہے۔ اس نے لاہور کے جلسے میں زندہ دلان لاہور پر کچھ اوچھے وار کئے ہیں۔ دل پھر چھلنی ہو گیا۔ لاہور کے جلسے کے اپنے طنطنے تھے۔ دونوں طرف سے بحث جاری تھی۔ لگتا تھا جمہوریت لوٹ آئی ہے۔ کیا دن تھے جب ایسے
مزید پڑھیے


مریم نواز کا امتحان

پیر 14 دسمبر 2020ء
سجاد میر
ابھی دو چار دن پہلے کی بات ہے کہ کامران خان نے ایک سوال پوچھا۔ میں نے اس پر پہلے کوئی خاص گہرائی میں غور نہ کیا تھا‘ تاہم بڑی روانی سے دوچار باتیں کہہ دیں۔ اب ان پر غور کرتا ہوں تو دل چاہتا ہے کہ اس بات کا گہرائی میں تجزیہ ہونا چاہیے۔ وہ سوال یہ تھا کہ مریم نواز کی مقبولیت کا سبب کیا ہے۔ ان کی نظر میں گویا اس وقت مسلم لیگ ہی کی مسلمہ لیڈر نہیںبن چکی ہیں بلکہ پاکستان کی سب سے مقبول اور موثر قائد ہیں۔ ایک سبب تو یقینا یہ
مزید پڑھیے


قومی فلاح کی راہ

جمعرات 10 دسمبر 2020ء
سجاد میر
جلسہ کیسا ہو گا‘ ہو گا بھی کہ نہیں ہو گا‘ کتنے لوگ آئیں گے‘ کیا لائحہ عمل طے ہو گا۔ یوں سمجھ لیجیے کہ میں قطعاً نہیں جانتا‘ مگر اتنا جانتا ہوں کہ اس احساس ہی نے کہ کچھ ہو رہا ہے‘ دلوں کو ایک طرح سے گرفت میں لے رکھا ہے۔طبیعتوں میں ایک طرح کا کھچائو سا ہے۔ ایک عجیب نشہ ہے جس کا سرور تو شاید معلوم نہیں کہ ہے‘ البتہ پائوںضرورلڑکھڑا رہے ہیں۔ ہماری زندگیوںمیں یہ دن بار بار آتا رہا ہے‘ مگر اس وقت عجیب انداز میں آیا ہے کہ نہیں معلوم اس کے اثرات
مزید پڑھیے



شیر باز مزاری

پیر 07 دسمبر 2020ء
سجاد میر
ایک اور مہربان رخصت ہو گیا۔ وہ سیاستدانوں کی اس نسل کا آخری نمائندہ تھا جنہوں نے پاکستان میں اصولوں کی خاطر جمہوریت کی شمع کو روشن رکھا۔شیر باز مزاری ایک بے مثال شخص تھے اور مرے بہت ہی مہربان۔ ان کی دیانت اور شرافت کے بارے میں میری یہ رائے رہی ہے کہ وہ پاکستانی سیاست کی اس عہد کی دو ڈھائی ایماندار شخصیتوں میں سے تھے۔ میری ان سے شناسائی اس وقت ہوئی جب وہ ٹوٹے ہوئے پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی کے رکن کے طور پر اسلام آباد آئے۔ مجھے بھی پہلی بار اسمبلی کے اجلاس کو
مزید پڑھیے


پاکستان سٹیل ملز

هفته 05 دسمبر 2020ء
سجاد میر
دوادارے جو ہمارا مان تھے۔ہم سے رخصت ہو رہے ہیں۔ پی آئی اے اور سٹیل ملز۔ آج کل خاص کر سٹیل ملز کا بہت چرچا ہے جس کے ملازمین نے نیشنل ہائی وے پر اور ملک کے اہم ترین ریلوے ٹریک پر دھرنا دے کر زندگی مفلوج کر دی۔میرا یہ پختہ یقین ہے کہ ان اداروں کی تباہی میں کراچی کی سیاست کا بنیادی کردار ہے اور اب ہم جو کشکول لے کر نکلے ہوئے ہیں تو ہمیں آج کی عالمی ایسٹ انڈیا کمپنی المعروف آئی ایم ایف نے بتا رکھا ہے کہ ہمیں ان اداروں سے دستبردار ہونا پڑے
مزید پڑھیے


عبدالقادر حسن

جمعرات 03 دسمبر 2020ء
سجاد میر
بہت دل گرفتگی کے ساتھ میں یہ چند سطریں لکھ رہا ہوں۔ آج ایک قلم اور خاموش ہو گیا۔ عبدالقادر حسن بھی رخصت ہو گئے۔ وہ بلاشبہ جدید اردو کالم نویسی کے بانی تصور کئے جاتے ہیں۔ ان سے پہلے ایک خاص طرح سے چٹکیاں لیتے ہوئے مزاح کے ساتھ کالم لکھے جاتے تھے اور یہ کام ہمارے بڑے بڑے ادیبوں نے انجام دیا مگر کالم نویسی کو حالات حاضرہ کے تناظر میں نیا روپ دینے کا کام عبدالقادر حسن سے شروع ہوا۔ وہ بلاشبہ اس قبیلے کے سردار تھے۔ یہی نہیں وہ صحافیوں کی اس کھیپ سے تھے
مزید پڑھیے


کیا ہم چھوٹے لوگ ہیں

هفته 28 نومبر 2020ء
سجاد میر
شاید ہم چھوٹے لوگ ہیں‘ وہ کام کر جاتے ہیں جو ہمارے بس میں نہیں ہوتے۔ بعد میں ہم سے سنبھالے نہیں جاتے۔ اچھی بات صرف اتنی ہے کہ ہم جب قدم اٹھا لیتے ہیں تو کسی یوٹرن کی خاطر الٹے نہیں مڑتے۔ یہ بات مجھے ایک حالیہ صورت حال سے ذہن میں آئی ہے۔ ایک نہیں تین تین حوالے یک لخت یاد آئے۔ پہلے وہ بات جس نے فکر کو اس ڈگر پر ڈالنے میں مہمیزکا کام کیا۔ یہ جو اسرائیل کا مسئلہ ہے‘ جو آج کل ہمارے ہاں پھر تازہ ہو گیا ہے۔ ہم نے کہیں بہت پہلے
مزید پڑھیے


عاشق رسولؐ کا جنازہ

پیر 23 نومبر 2020ء
سجاد میر
میرے منہ سے بے ساختہ نکلا یہ ایک عاشق رسولؐ کا جنازہ تھا۔ اسے محض مسلمانوں کا اجتماع نہ سمجھو‘یہ عاشقان رسولؐ کا اجتماع تھا۔ اس بنیادی سے نکتے پر ذرا گہرائی سے غور کرو تو اس راز کو پا سکو گے کہ اسلام کس چیز کا نام ہے۔ کہتے ہیں یہ لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ صرف جنازہ ہی نہیں‘ایسا اجتماع بھی چشم فلک نے کبھی نہیں دیکھا۔مجھے احمد بن حنبل کا ایک قول یاد دلایا گیا کہ کسی عالم کی دربار حق میں قبولیت کا اندازہ لگانا ہو تو اس کی نماز جنازہ سے
مزید پڑھیے








اہم خبریں