BN

سجاد میر



کلچر کے محاذ پر


رمضان آ رہا ہے‘ چلئے اس قضیے کو تو نپٹاتے چلیں۔ یہ کون لوگ ہیں علی ظفر اور میشا شفیع جن کا میڈیا ڈھول بجا بجا کر تذکرہ کر رہا ہے اور چسکے پہ چسکا لئے جا رہا ہے۔ غلط نہیں کہہ رہا‘ میں سچ مچ ان کی عظمت اور اہمیت سے باخبر نہ تھا کہ قومی خبرنامے میں انہیں اس ٹھاٹھ باٹ سے براجمان دیکھوں۔ غضب خدا کا‘ ملک کو کیا کیا مسئلے درپیش ہیں اس دن بھی ایک سے ایک بڑا معاملہ تھا۔ سی پیک ‘ آئی ایم ایف ‘ نواز شریف ‘ زرداری‘ عمران خاں سب آسمانوں
پیر 06 مئی 2019ء

خلافت کی دینے لگا میں دہائی

جمعرات 02 مئی 2019ء
سجاد میر
شاید میری قسمت میں رب ذوالجلال نے یہ لکھ رکھا ہے کہ میں اہل ایمان سے مباحثہ کرتا رہوں۔ اوریا مقبول جان کے حوالے سے میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ اس میں اور مجھ میں فرق یہ ہے کہ وہ قوت ایمانی میں مجھ سے بہت آگے ہے‘ مگر کیا کروں جو کام مرے رب نے مجھے سونپ رکھا ہے‘ مجھے وہ تو کرنا ہی ہے۔ آج اوریا نے خلافت کا نقشہ کھینچا ہے اور بتایا ہے کہ جمہوریت میں اور خلافت میں کیا فرق ہے وہ ان اہل دانش میں ہیں جو جمہوریت کو نظام کفر کہتے
مزید پڑھیے


الوداع‘ نصرت نصراللہ‘الوداع

پیر 29 اپریل 2019ء
سجاد میر
مرا یار نصرت نصراللہ بھی چل بسا اور مجھے لاہور میں اس کی خبر تک نہ ہوئی۔ ایسے ہی لمحوں میں کراچی چھوڑنا مجھے کھلتا ہے۔ پھر لاہوریے پوچھیں گے یہ نصرت نصراللہ کون ہے‘ اس پر مجھے بعد بھی رونا آئے گا۔ میں نے اچانک فیس بک کھولی تو عافیہ اسلام اس اندوہ ناک واقعے کی خبر دے رہی تھیں۔ شاید آپ کو یہ بھی اندازہ نہ ہو کہ عافیہ سلام کون ہیں۔ انتہائی نفیس‘ شستہ شاندار خاتون صحافی جو مرے حافظے میں پاکستان کی پہلی سپورٹس صحافی تھیں۔ کیا لوگ تھے یہ سب۔ مجھے کراچی اور زیادہ
مزید پڑھیے


چین کا حال۔ کھرے کھوٹے کا احوال

هفته 27 اپریل 2019ء
سجاد میر
چین سے مرا رومانس بہت پرانا ہے۔ غالباً سال دوئم کا امتحان دے کر میں گرمیوں کی چھٹیاں منا رہا تھا کہ مرے ایک سینئر دوست اشرف قدسی نے مجھے بیجنگ سے چھپنے والا ایک جریدہ تھما دیا۔ اس میں چیئرمین مائوذے تنگ کی دس نظمیں چھپی ہوئی تھیں۔ جب میں نے انہیں پڑھا اور ان کی تعریف کی تو کہنے لگے‘ اس کا ترجمہ کیوں نہیں کر دیتے۔ وہ اسے ایک پرچے میں چھاپنا چاہتے تھے جسے وہ ایڈٹ کرتے تھے۔ چھٹیوں کے دن تھے۔ فراغت کا زمانہ تھا۔ امتحان کا بوجھ بھی سر سے اتر چکا تھا۔ ایک
مزید پڑھیے


مشرق سے ابھرتا ہوا سورج

جمعرات 25 اپریل 2019ء
سجاد میر
اسد عمر کے سانحے پر تو مجھے ضرور لکھنا چاہیے، کیونکہ یہ ایک واقعہ نہیں ہے، تاریخ کا ایک تیکھا، ٹیڑھا اور نازک موڑ ہے، اس وقت ایک اور مرحلہ درپیش ہے جو اسی کا تسلسل ہے اور وہ ہے وزیر اعظم کا دورۂ ایران اور اس کے بعد چین کا سفر مجھے گمان ہے، ہم باگیں موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ اسد عمر پر تفصیلی تجزیہ رہ گیا تو اس کا سبب صرف واقعات کی تیز رفتاری نہیں، بلکہ الیکٹرانک میڈیا کی لپک جھپک ہے، اسی بار کھل کر بات کی ہے کہ لکھتے
مزید پڑھیے




جمیل جالبی اور پاکستانی کلچر

هفته 20 اپریل 2019ء
سجاد میر
آج تو بنا بنایا کالم تھا‘ اسد عمر کی رخصتی اور ساتھ ہی بعض وزارتوں کا بوریا بستر اک جھپا کے کے ساتھ گول ہونا ایک ایسی خبر تھی جس کا گویا صدیوں سے انتظار تھا۔ ساتھ ہی عبدالحفیظ شیخ کی آمد پر مجھے بہت سی بھولی بسری باتیں یاد آنے لگی ہیں۔ آخر میں نے کراچی میں عمر گزاری ہے مگر یہ سب باتیں پھر کبھی سہی۔ کراچی ہی سے ایک اور خبر آئی ہے جسے میں کسی صورت نظر انداز نہیں کر سکتا۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کی رخصتی اخباروں اور ٹی وی چینلز کی بہت بڑی خبر
مزید پڑھیے


آ گئے اقتصادی ہٹ میں

جمعرات 18 اپریل 2019ء
سجاد میر
میری بات کا آپ کو اعتبار نہیں تھا تو ذرا ان کی سن لیجیے۔ میں تو ادب کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوں جو الفاظ کے ہیر پھیر سے اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سجا کر اپنی بات سنانے کی کوشش کرتا تھا۔ یہ تو پاکستان کے ایک مستند معیشت دان ہیں۔ شوکت عزیز اور ڈاکٹر سلمان شاہ کے ساتھ مشرف کی اقتصادی ٹیم کا حصہ بھی رہے ہیں۔ ہمارے چیف اکانومسٹ تھے۔ آج کل نسٹ میں سپیشل سائنسز اور ہیومینٹیز کے ڈین ہیں۔ یہ پاکستان میں جتنی نیشنل یونیورسٹیاں ہیں‘ یہ دراصل فوج کا کارنامہ ہیں۔نسٹ یعنی
مزید پڑھیے


بلدیاتی انتخابات کا ڈھول

هفته 13 اپریل 2019ء
سجاد میر
مجھے نہیں معلوم کہ پنجاب میں آئندہ بلدیاتی نظام کے خدو خال کیا ہوں گے۔ البتہ اتنا اندیشہ ضرور ہے کہ اس کا نہ صرف ملک کی سیاست پر اثر پڑے گا بلکہ بیورو کریسی کا ڈھانچہ بھی اس سے متاثر ہو گا۔ ہمارے ہاں جب بھی بلدیاتی سطح پر کوئی نظام نافذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے‘ تو اس میں اس وقت کے حکمرانوں کی بدنیتی شامل ہوتی ہے۔ شاید اسی بدیشی کی وجہ سے یہ نظام کبھی آئیڈیل شکل میں نافذ نہیں ہوپایا۔ موجودہ حکمرانوں کی نیت کا اندازہ صرف اس بات سے کیا جا سکتا ہے
مزید پڑھیے


تھر میں تبدیلی

جمعرات 11 اپریل 2019ء
سجاد میر
ان کو خوش ہونے کا حق ہے‘ بالکل اس طرح جس طرح ساہیوال ہلوکی ‘ بکی وغیرہ کے منصوبوں پر شہباز شریف خوش ہوا کرتے تھے تاہم یہ ایک لمبی کہانی ہے کہ ہم تھر کے کوئلے سے ابھی تک فائدہ کیوں نہیں اٹھا سکے تھے۔ سیاستدان اپنی سی کہتے رہتے ہیں۔ مگر ہمارے پاس تو وہ تجزیاتی ادارے بھی نہیں ہیں۔ جو حساب کتاب لگا کر بتا سکیں کہ اصل نقشہ کیا ہے۔ میں نے کراچی میں کوئی ربع صدی تک دو قومی اخبارات کی ادارت کی ہے اس کے علاوہ بھی اس شہر میں آٹھ دس سال قومی
مزید پڑھیے


الطاف صحافت

پیر 08 اپریل 2019ء
سجاد میر
یہ کتاب بہت اچھی ہے۔ یہ اور بھی اچھی ہوتی اگر اس میں وہ مضمون بھی شامل ہوتا جو میں لکھ نہ پایا۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ اس مضمون کے انتظار میں اس کتاب کی اشاعت میں کم از کم ایک برس کی تاخیر تو ہوئی ہو گی۔ زندگی کے گناہوں میں ایک اور گناہ کا اضافہ اور یہ گناہگار اس کا اعتراف کرتا ہے۔ مرا یہ مضمون لکھنا بہت ضروری تھا۔ برادرم طاہر مسعود نے مرے ذمے جو کام لگایا تھا۔ وہ مرے لئے آسان بھی تھا اور مشکل بھی۔ اور ایک لحاظ سے ضروری بھی۔ ان کا
مزید پڑھیے