BN

سجاد میر


اخوت کا ماڈل


میں ہمیشہ ان کا مداح رہا ہوں۔ کل شہر سے باہر ان کے اخوت کالج میں جا کر تو بھی ان کی خوبیوں کا معترف ہوا۔ میں ڈاکٹر امجد ثاقب کے کام کی صرف اس لیے تعریف نہیں کرتا کہ وہ ان انتہائی دیانتداری کے ساتھ خدمت کا کام کر رہے ہیں بلکہ اس لیے خاص طور پر ان کا معتقد ہوں کہ انہوں نے دنیا میں خدمت کے ایک نئے تصور کو جنم دیا ہے۔ میں نے بہت سے لوگوں کو خدمت کا کام کرتے دیکھتا ہوں اور اس کی داد بھی دی ہے۔ عبدالستار ایدھی کو ایک چھوٹے
پیر 27  ستمبر 2021ء مزید پڑھیے

وقت گزرتا جا رہا ہے

هفته 25  ستمبر 2021ء
سجاد میر
چین‘قطر اور ترکی تین ممالک ایسے تھے جنہیں ہماری موجودہ حکومت نے نواز شریف کا دوست سمجھ رکھا تھا۔اس بات کا خیال مجھے آج ایک ایسی خبر سے آیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان نے یہ بات تسلیم کر لی ہے کہ وہ جو بار بار یہ کہہ رہا تھا کہ چینی حکومت نے پاکستان میں مہنگے بجلی کے منصوبے لگائے ہیں‘اس کا باب بند کر دیا گیا ہے۔یہ طے کر لیا گیا ہے کہ جو قیمت طے ہو چکی ہے‘اس میں تبدیلی نہ ہو گی۔مطلب اس کا یہ ہے کہ پاکستان اس بات کی کوشش کر رہا
مزید پڑھیے


تاریخ کی پکار

جمعرات 23  ستمبر 2021ء
سجاد میر
زمانے میں اور بھی دکھ ہیں‘مگر میں سب کو بھول بھال کر گزشتہ پانچ چھ کالموں میں ایک ہی بات دہرائے جا رہا ہوں۔خلاصہ ہر تحریر کا یہ ہوتا ہے کہ خبردار‘امریکہ آ رہاہے۔چلئے یوں کہہ لیجیے کہ پھر آ رہا ہے اور اس کی اس آمد کے اعلان کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں نوازنے آ رہا ہے بلکہ یہ ہوتا ہے کہ ہمیں لتارنے آ رہا ہے۔یہ بھی عرض کر چکا ہوں کہ ہمارے لئے افغان جنگ ختم نہیں ہوئی‘بلکہ ازسرنو شروع ہوئی ہے۔یہ بھی بتاتا رہا ہوں کہ امریکہ افغانستان میں اپنی 20سالہ جنگ ہار چکا ہے
مزید پڑھیے


نیوزی لینڈ اور ہمارا قبلہ

پیر 20  ستمبر 2021ء
سجاد میر
نیوزی لینڈ کے کرکٹ دورے کی آخری لمحوں میں اچانک منسوخی صرف کرکٹ کے لئے سانحہ نہیں ہے بلکہ اس کی کئی ایسی جہات ہیں جن پر غور کرنا بہت ضروری ہے۔کیا ہم نے سوچا کہ ایک قوم کی حیثیت سے ہمیں نفسیاتی طور پر کیا دھچکہ لگا ہے۔ہم اٹھارہ سال تک ایک طرح کی تنہائی کا شکار تھے۔یہ ختم ہو رہی تھی کہ اچانک ایک ایسا دھماکہ ہوا کہ ہمارے دل و دماغ پر ایک سناٹا سا چھا گیا۔سفارتی اور سیاسی سطح پر جو نقصان ہوا وہ ایک طرف مگر اس سے بحیثیت قوم ہم پر جو نفسیاتی اثرات
مزید پڑھیے


مرے عہد کے دو اجلے لوگ

هفته 18  ستمبر 2021ء
سجاد میر
ان دنوں اتنی تعزیتیں لکھی ہیں کہ اپنے ہونے پر شک گزرنے لگا ہے۔پھر بھی بہت سی اجلی روحوں کا تذکرہ رہ جاتا ہے۔ایسی روحیں جنہوںنے اس معاشرے کے گیسو سنوارنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔اس وقت میں ایسی دو عظیم المرتبت شخصیتوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جن سے میرا ایک طویل عرصہ رابطہ رہا۔ ان میں ایک ڈاکٹر صفدر محمود ہیں اور دوسرے عظیم سرور۔مرے لئے دونوں بہت محترم و مکرم تھے۔مگر اس سے زیادہ دونوں ایسے افراد تھے جنہوں نے معاشرے کو بہت سکھایا۔مثال کے طور پر ‘ہو سکتا ہے‘ادھر لاہور کے لوگ عظیم سرور کو
مزید پڑھیے



راز دار اوربھی ہیں!

جمعرات 16  ستمبر 2021ء
سجاد میر
پتا نہیں مجھے کیوں یہ احساس ہو رہا ہے کہ ہم امریکہ کے بلاک میں ہیں اور اس کی بے لوث خدمت کر رہے ہیں۔خطے کی صورت حال نئے روپ دھار رہی ہے‘مگر ہم نے جو اول روز سے امریکی غلامی کا دم بھرا تھا اس پر قائم رہنے کے جتن کر رہے ہیں۔خدا ہمارے حال پر رحم کرے۔ہم بڑی ڈھٹائی سے اپنی پرانے روش پر ڈٹے رہنے پر تلے ہوئے ہیں۔ایسا کیوں ہے اس کی وضاحت میں گزشتہ دو کالموں میں کر چکا ہوں۔ خطے کی صورت حال کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایران جیسا ملک
مزید پڑھیے


کیا کرتا ہے!

پیر 13  ستمبر 2021ء
سجاد میر
یہ جسے ریاست پاکستان نے نشان امتیاز سے نوازا ہے اور جسے میں اپنا مرشد کہتا آیا ہوں اس مجید امجد کے ایک نظم کی چند سطریں مجھے جانے کیوں بار بار یاد آ رہی ہیں سنگین فیصلوں کے گنبد سے پہرے دار پکارتے ہیں کیا کرتا ہے دل ڈرتا ہے ان کالی اکیلی راتوں سے دل ڈرتا ہے۔ میں تو خیر ساری نظم ہی بار بار ان دنوں پڑھتا جاتا ہوں۔شاید یہی وجہ تھی کہ میں نے ابھی کل پرسوں ہی یہ کالم لکھا تھا کہ مجھے ڈرلگتا ہے اور مرے ڈر میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس لئے کہ ہم بلا شبہ
مزید پڑھیے


مجھے ڈر لگتاہے!

هفته 11  ستمبر 2021ء
سجاد میر
ڈر لگتا ہے۔ مجھے ڈر لگتاہے۔ ڈر اس لئے لگتا ہے کہ پاکستان خطے کا اہم ملک بننے جا رہا ہے، بلکہ بن گیا ہے۔تو خوشی کی بات ہونا چاہیے اور مجھے شیخ رشید کی طرح لڈیاں ڈالنا چاہیے اور اپنے سیاسی مخالفوں کو ڈرانا چاہیے کہ سمجھ جائو کہ ہم کتنے اہم ہو گئے ہیں۔تم کیا چھوٹی چھوٹی سیاست میں پڑے ہوئے ہو۔ اسی لئے ڈر لگتا ہے۔ یعنی یہ کہ اس اہم صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمارے ہاں کوئی مستحکم حکومت نہیں ہے۔میں نے مستحکم کا لفظ سوچ سمجھ کر استعمال کیا ہے‘میں نالائق یا نااہل کا لفظ بھی
مزید پڑھیے


تین مقدس روحیں

پیر 06  ستمبر 2021ء
سجاد میر
ظلم یہ ہوا کہ سید علی گیلانی کی شہادت پر ابھی میں لکھ نہ پایا تھا کہ دو اور بری خبریں آ گئیں۔ جی ہاں ‘میں اسے شہادت ہی کہوں گا۔یہ شخص سامراجیوںکی قیدمیں حق و صداقت کا علم بلند کرتے ہوئے اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔جب کبھی کوئی کشمیر کی تاریخ لکھے گا تو اسے اندازہ ہو گا کہ بہت بڑے بڑے مجاہدوں کے درمیان بھی یہ کتنا بڑا مجاہد تھا۔کشمیر میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جنہوں نے نیلسن منڈیلا سے سخت قید کاٹی ہے اور ظلم سہے ہیں مگر انہیں اس لئے عالمی سطح پر
مزید پڑھیے


سنہری موقع یا امتحاں کی گھڑی

جمعرات 02  ستمبر 2021ء
سجاد میر
ڈر اس بات کا ہے کہ ہماری زندگیوں میں ایک سنہری موقع پھر آ رہا ہے جو ہمارے پیارے وطن کی قسمت بدل سکتا ہے۔مگر سوچتا ہوں آیا ہمارے پاس وہ صلاحیتیں ہیں جو اس سنہری موقع سے کماحقہ‘فائدہ اٹھا سکیں۔جب پاکستان بنا تھا تو تب بھی عالمی حالات ایسے تھے جہاں ہم کھیل سکتے تھے۔ہم نے بساط بچھائی۔دوسری جنگ عظم کے بعد امریکہ اور روس میں برتری کی جنگ جاری تھی۔ ہم نے امریکی بلاک میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔اس معاملے میں کہا جاتا ہے کہ لیاقت علی خاں پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہتے تھے۔اس زمانے
مزید پڑھیے








اہم خبریں