سجاد میر



عارف علوی کے سیمینار سے آگرے تک


یہ ان سے میری پہلی ملاقات تھی۔ ملاقات نہیں آمنا سامنا تھا یہ بھی غلط ‘ یوں کہہ لیجیے میں بھی پہلی بار وہاں موجود تھا جہاں وہ مہمان خصوصی تھے۔ البتہ انہوں نے اس کی رسید کھلے عام دے دی تھی۔ ڈاکٹر عارف علوی کے صدر بننے پر میں نے ببانگ دہل ایک کالم میں اس بات کا اعلان کیا تھا کہ ان سے دوستی بہت پرانی ہے۔ دو چار برس بعد اسے نصف صدی ہو جائے گی۔ ہم نے چند معاملات پر اکٹھے کام بھی کیا ہے۔ انہوں نے ایک آدھ انٹرویو میں اور وفود سے ملاقات میں
پیر 07 اکتوبر 2019ء

چلتے ہو تو چین کو چلئے

هفته 05 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
سنا ہے وزیر اعظم چین جا رہے ہیں۔ میں ان کے اس دورے کو ان کے دورہ امریکہ سے بھی اہم سمجھتا ہوں۔ امریکی دورے کی سمت کا ہمیں اندازہ تھا۔ وائٹ ہائوس میں ٹرمپ سے عمران خاں کی ملاقات اسی سمت کا ایک کلائمکس تھا۔ دوسرا کلائمکس ہمارے آرمی چیف کو پینٹا گون میں 21توپوں کی سلامی ملنا۔ بات طے تھی کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔ اس کے لئے آئی ایم ایف نے ہم سے مناسب قیمت وصول کر لی تھی۔ چین کے دورے کے بارے میں البتہ طے نہیں کہ اس کی سمت کیا ہے اور
مزید پڑھیے


چند فکری سوالات۔ تازہ بہ تازہ

جمعرات 03 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
صرف کشمیر کا مسئلہ ہی زندہ نہیں ہوا‘ اس کے ساتھ بعض بنیادی اصولی سوال بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ اس کا یوں تو مجھے کئی دن سے خیال تھا کہ کہیں ہمارا تہذیبی پیراذئم شفٹ تو نہیں ہو رہا‘ تاہم ان دنوں اس خیال میں شدت آ گئی ہے۔ مثال کے طور پر اوریا مقبول جان نے یہ کہہ کر بنیادی سوال اٹھا دیا ہے کہ ہم کہتے رہتے ہیں کہ جہاد اس وقت فرض ہوتا جب ریاست اس کا باضابطہ اعلان کرے تو اب ہمارے وزیر اعظم نے جہاد کا اعلان کر دیا ہے‘ اس لئے میدان میں
مزید پڑھیے


آزادی، صرف آزادی

پیر 30  ستمبر 2019ء
سجاد میر
وزیر اعظم وطن واپس پہنچ چکے ہیں، میں آپ کو کل کی بات بتا دیتا ہوں جو میں نے ایک تقریب میں عرض کی تھی۔ سید فخر امام اس تقریب کے صدر تھے۔ میں نے دو ٹوک لفظوں میں عرض کیا کہ جب سے عمران خان برسراقتدار آئے ہیں میں ان کے کسی اقدام کی تعریف کرنے کی سعادت حاصل نہیں کر سکا۔ یہ نہیں کہ مجھے ان سے کوئی کد ہے، بلکہ ذاتی طور پر تو میں ان کا مداح بھی تھا، تا ہم جب قلم ہاتھ میں ہوتا ہے یا زبان کو اذن گفتار دینا ہوتا ہے تو
مزید پڑھیے


ظالم سے پوچھ کر انصاف

هفته 28  ستمبر 2019ء
سجاد میر
آجکل کشمیر کا محاذ گرم ہے۔ جو کچھ مقبوضہ کشمیر میں ہو رہا ہے یا لائن آف کنٹرول کی صورت حال ہے‘ وہ اپنی جگہ مگر یوں لگتا ہے کہ صبح شام ہم نے بحث کا ایک بازار گرم کر رکھا ہے کل پنجاب یونیورسٹی میں بڑا ذی شان سیمینار تھا۔ تو آج یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی(یو ایم ٹی) میں ایک شاندار نشست تھی اور جب آپ یہ سطریں پڑھ رہے ہوں گے ہم لوگ یونیورسٹی آف سیالکوٹ سے لوٹ چکے ہوں گے۔ اس کے علاوہ بھی سیمینار‘ اجلاس ‘ نشین‘ جلسے شیڈول ہیں۔ جس میں ہم نے جانا
مزید پڑھیے




پردے کے پردے میں

پیر 23  ستمبر 2019ء
سجاد میر
بہت سے دینی طبقے ایسے ہیں جن کی فکر میں اساسی کجی سے ایک ایسی ٹیڑھی عمارت کھڑی ہو جاتی ہے جو تاریخ میں پیسا کے منار کی طرح زندہ تو نہیں رہے گی مگر ہم جیسے کم علموں کے لئے بے شمار مغالطے چھوڑ جائے گی۔ ماحول ایسا ہو گیا ہے کہ جو شخص بھی دین کا نام لیتا ہے اس کی کوتاہیوں سے صرف نظر کرنا پڑتا ہے۔ یا کم از کم میں نے اسے عادت بنا لیا ہے۔ اسے میری مصلحت دینی کہہ لیجیے یا حد سے بڑھی ہوئی احتیاط۔ میرے بعض دوست یہ سمجھتے ہیں کہ
مزید پڑھیے


پنجاب میں بے چینی

هفته 21  ستمبر 2019ء
سجاد میر
کراچی کے ادبی حلقوں میں ایک بات لطیفے کے طور پر بیان کی جاتی تھی۔ قمر جمیل ایک عجب طبیعت کے مضطرب شاعر تھے۔ انہیں نثری نظم کا امام بھی کہا جاتا ہے کہیں کلیم میں ان کے حصے میں تھوڑی بہت زمین آ گئی تھی جو سندھ کے ایک چھوٹے سے قصبے ماتلی میں الاٹ ہو گئی تھی۔ تھے وہ دلچسپ آدمی سب دوست رات گئے آوارہ گردی کر رہے تھے‘ مزار قائد کے اردگرد اس وقت چھوٹی سی دیوار ہو گی ۔ کسی نے پوچھا اگر آپ کو ایک دن کی حکومت دے دی جائے تو سب سے
مزید پڑھیے


حجاب کی آڑ میں

جمعرات 19  ستمبر 2019ء
سجاد میر
قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ اب مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس طرح کی بحثیں جھڑ رہی ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ خلق خدا اسے خاموشی سے سن رہی ہے اور اہل دانش گم سم ہیں۔ یہاں میں پردے کی اہمیت اور فضیلت پر گفتگو نہیں کرنا چاہتا۔ یہ مرا مقصد نہیں ہے ‘صرف یہ اشارہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارا رخ کس طرف ہے۔ خیبر پختونخواہ میں پہلے ایک ضلع میں میں غالباً سارے صوبے میں طالبات کے لئے سکول میں حجاب‘ عبایا یا چادر کے استعمال کے احکام جاری ہوئے‘ ایک طوفان
مزید پڑھیے


ظہور الحسن بھوپالی

هفته 14  ستمبر 2019ء
سجاد میر
آج ہمدم دیرینہ ضیا زبیری نے یاد دلایا ہے کہ ظہورالحسن بھوپالی کو ہم سے رخصت ہوئے 37برس بیت چکے ہیں۔ اس عرصے میں سیاست نے اتنی کروٹیں لی ہیں کہ اب کم لوگوں کو ان کا نام بھی یاد ہو گا۔ کہا جاتا ہے کہ اگر وہ شہید نہ کر دیا جاتا تو کراچی میں الطاف حسین پیدا نہ ہوتا‘ وہ کراچی کا اصلی لیڈر ہوتا۔ ایسا لیڈر جو پاکستان سے محبت کے جذبے سے سرشار تھا۔ آپ مری بات سمجھ گئے ہوں گے۔ میں یہ کہہ رہا ہوں بھوپالی کی شہادت نے اس فتنے کی راہ کھول دی
مزید پڑھیے


افراد‘ الفاظ ‘ تصورات

جمعرات 12  ستمبر 2019ء
سجاد میر
بعض اوقات آدمی اپنے آپ کا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے۔ آج 11ستمبر ہے۔ مجھے آج اس پر بات کرنا چاہیے تھی مگر گزشتہ شب سے مری سوئی بھی ایک خیال پر اٹکی ہوئی ہے۔ اس لئے نائن الیون یا قائد اعظم پر بات کرنے کے بجائے میں اسی پر گفتگو کرنا چاہوں گا۔ اصل میں ٹی وی پر مصباح الحق کی تقرری پر بات ہو رہی تھی ۔ کسی نے کہا کہ وہ میانوالی کا ہے اور نیازی بھی ہے اس لئے اس پر ایسی نوازشات کی بوچھاڑ ہو رہی ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔
مزید پڑھیے