BN

سجاد میر



ایک نیا خواب!


برخوردار حسین حقانی نے ایک دن بڑے مزے کی بات کی۔ جانے وہ نواز شریف کا دور تھا یا آصف زرداری کا۔ یہ سانحہ ان کے ساتھ دونوں زمانوں میں ہوا تھا کہ انہیں اہم مناصب سے ہٹا کر ذرا کم اہم جگہوں پر لگا دیا گیا۔ ایسی ہی کسی صورت میں ان سے ملاقات ہوئی تو ازخود ایسا تبصرہ کیا جو ایسے ذہنوں کا بہترین عکاس ہے۔ کہنے لگا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ ملا دو پیازہ ہیں یا بیربل‘ آپ کو بہرصورت دربار میں ہونا چاہیے۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ دربارمیں موجود
جمعرات 10 جنوری 2019ء

ولی عہد کا دورہ

پیر 07 جنوری 2019ء
سجاد میر
مجھے یہ منظر اچھا لگا کہ ہمارے وزیراعظم عمران خان پہلی بار کسی غیر ملکی مہمان کو لینے ایئرپورٹ پہنچے اور اسے خود ڈرائیو کرتے ہوئے اس وزیراعظم ہائوس میں لائے جسے عارضی طور پر اس تقریب کے لیے کھولا گیا ہے۔ اب کوئی لاکھ فقرہ بازی کرے کہ کشکول جو بھروانا تھا، اس لیے راہوں میں بچھے جا رہے ہیں مگر یہ ایک ایسا اقدام ہے جسے قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ کاش ہم نے پہلے اس طرح کی غلطی نہ کی ہوتی۔ نئی حکومت کے آتے ہی سب سے پہلے ہمارے ہاں چین کے وزیر خارجہ
مزید پڑھیے


اسلامیان ہند اور18ویں ترمیم

هفته 05 جنوری 2019ء
سجاد میر
وہ لوگ جو اٹھارہویں ترمیم کے خلاف بول رہے ہیں‘ ان کا دکھڑا کچھ اور ہے۔ تاہم میں نے اس وقت ہی اپنے تحفظات کا اظہار کردیا تھا جب یہ ترمیم کی جارہی تھی۔ ہم دونوں میں کیا فرق ہے‘ اس کاذکر تومیں بعد میں کردوں گا‘ اس وقت میں پہلے چند دوسری باتیںکرنا چاہتا ہوں۔ میرے بھائی اوریا مقبول جان نے اس مسئلے کو چھیڑا ہے تو دل میں گئے دنوں کے کئی سوال تازہ ہوگئے ہیں۔ اوریا کے بارے میں کہا کرتا ہوں کہ وہ قوت ایمانی میں مجھ سے بہت آگے ہیں۔ اگروہ ثابت کرنا چاہیں
مزید پڑھیے


نیا سال آیا…

جمعرات 03 جنوری 2019ء
سجاد میر
نیا سال آ گیا۔ میں نہ گزشتہ سال کا کچا چھٹا چھانٹنے کے لیے بیٹھا ہوں نہ آنے والے سال کے بارے میں کوئی پشین گوئی کا ارادہ ہے۔ اس بار میں نے پہلی بار اپنے ٹی وی پروگرام میں یہ حرکت کی کہ ان افراد کو اکٹھا کیا جن کا دعویٰ ہے کہ وہ مستقبل کے اندھیروں میں نظر ڈال کر بتا سکتے ہیں کہ انہیں کیا ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ بقول شیکسپیئر وہ جو مستقبل کی ’’تخم خوانی‘‘ کرسکتے ہیں۔ ان میں کوئی ستارہ شناس ہوتا ہے تو کوئی علم الاعداد کا ماہر، کسی کا دعویٰ ہوتا
مزید پڑھیے


رب کے ارادے یہ نہیں ہیں

هفته 29 دسمبر 2018ء
سجاد میر
میں کوئی ن لیگ تو ہوں نہیں کہ مرا ان دنوں پیپلز پارٹی سے اتحاد ہو اور مجھے ان کے خلاف لگائے جانے والے الزامات پر ہر حال میں ان کا ساتھ دینا ہو۔ مجھے یاد ہے کہ جب آصف زرداری جیل میں تھے اور ان کے خلاف یکے بعد دیگرے ایک ایک مقدمہ ختم ہوتا گیا اور آخر میں مجید نظامی نے بھی انہیں مرد حر قرار دے دیا تو میں نے ایک کالم لکھا کہ ساری عمر پیپلز پارٹی کی مخالفت کرنے کا میں نے ٹھیکہ نہیں اٹھا رکھا‘ جب تم کوئی الزام ثابت ہی نہیں کر پا
مزید پڑھیے




سول سروس اکیڈمی

جمعرات 27 دسمبر 2018ء
سجاد میر
ان مقدمات میں رکھا ہی کیا ہے کہ روز ان پر لکھا جائے۔ بس ایک بار کہہ دیا کہ ہماری تاریخ میں ایک اور نازک موڑ آن پہنچا ہے کافی ہے۔ کسی کی جیت یا شکست کا سوال نہیں ہے‘ بلکہ ان ممکنات کا خوف ہے جو اس سیاست بازی سے جنم لے سکتے ہیں۔ اس لئے خیال تھا کہ آج
مزید پڑھیے


خطرناک موڑ

پیر 24 دسمبر 2018ء
سجاد میر
چاہے عدلیہ کتنی بھی آزاد کیوں نہ ہو‘ مگر جب فیصلہ آئے گا تو اس پر جو تبصرے ہوناہیں ان کا تعلق احتساب عدالت کے آزاد یا غیر آزاد ہونے پر نہیں ہو گا۔ فیصلہ نواز شریف کے خلاف آ گیا تو خلق خدا بھی کہے گی کہ حکومت انتقام پر اتر آئی ہے اور اس نے آمرانہ انداز اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اگر فیصلہ نواز شریف کے حق میں آ گیا تو کوئی نہیں کہے گا انصاف ہوا ہے‘ یہی کہا جائے گا کہ مک مکا ہو گیا ہے۔ مخالف تو کہیں ہی گے
مزید پڑھیے


کچھ ہونے والا ہے

جمعرات 20 دسمبر 2018ء
سجاد میر
جتنی باتیں سامنے آ رہی ہیں‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وقت ایک کروٹ لینے والا ہے۔ جنرل آصف غفور نے ایک چونکا دینے والی بات کی تھی جس کی پرتیں کھلتی دکھائی دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم ہمیشہ ہی بحران کا شکار رہتے ہیں۔ اب یہ بحران یا ختم ہو جائے گا یا مزید شدت اختیار کر لے گا۔ اس کے لئے انہوں نے چھ ماہ کی مدت مانگی تھی کہ میڈیا اس عرصے میں پاکستان کا مثبت نقطہ ہی دکھائے۔ اس پر طرح طرح کے تبصرے آئے‘ کسی نے کچھ کہا کسی نے
مزید پڑھیے


کیا ترقی ہمیں راس نہیں آتی

بدھ 19 دسمبر 2018ء
سجاد میر
میں نے کہاں برطانیہ آنا جانا ہے‘ مگر ٹی وی پر یہ اعلان سن کر کہ برٹش ایئر ویز پاکستان کے لئے اپنی پروازیں شروع کر رہی ہے۔ ایک طرح کی مسرت ہوئی ہے۔ مجھے وہ دن یاد آ گئے جب کراچی کا ہوائی اڈہ اس علاقے میں فضائی پروازوں کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ ایئر پورٹ تو بس مناسب سا تھا‘ بلکہ آج کے ایئر پورٹ کے مقابلے میں تو انتہائی بے وقعت تھا۔ ہم نے بڑے چائو سے کراچی کا ایئر پورٹ تعمیر کرنا شروع کیا اور اسے جدید فن تعمیر کے مطابق بنایا۔ اس میں 16=8+8پروازوں کی
مزید پڑھیے


انسان ذلیل ہے خدایا!

هفته 15 دسمبر 2018ء
سجاد میر
یہ کوئی امبانی ہیں، بھارت کے سب سے امیر شخص اور دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک۔ خیر ہمیں ان کی امارت سے کیا لینا دینا، امیر ہو گا تو اپنے گھر میں ہوگا۔ اس وقت ہمارا جھگڑا وہ بھی نہیں ہے کہ ؎ اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق اس لیے کہ ہم تو اس کا مذاق اڑانا چاہتے ہیں۔ اس نے اپنی بیٹی کی شادی کی ہے، پتا نہیں بیٹے کی نہ ہو مگر اصل بات یہ ہے کہ اس شادی پر اس نے بے
مزید پڑھیے