BN

سجاد میر



زخم تازہ نہ کیجئے!


ہوسکتا ہے، اسے چھوٹی سی بات سمجھا جائے، مگر میں اسے قومی کردار کا المیہ سمجھتا ہوں۔ یہ جو پنجاب کے تین شہروں میں ٹرانسپورٹ کی سہولتوں سے زرتلافی واپس لیا جارہا ہے، یہ ہمارے ایک پرانے مرض کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ ظاہری طور پر یہ مرض صرف اتنا ہے کہ جانے والی حکومت نے جو احکامات کئے ہوں، وہ اچھے بھی ہوں تو ان کی مذمت کرنا ضروری ہے۔ وجہ یہ ہوا کرتی ہے مبادا اس کا کریڈٹ جانے والوں کے کھاتے میں چلا جائے۔ نتیجہ مگر اس کا یہ نکلتا ہے کہ اس قوم نے جو
هفته 20 اکتوبر 2018ء

اصل سوال یہی ہے!

جمعرات 18 اکتوبر 2018ء
سجاد میر
صبح اٹھا تو اس خیال سے دوچار تھا کہ چند دن سیاست پر لکھنا بند کر دوں۔ دوست احباب بھی مشورے دیتے رہتے ہیں کہ سیاست کے چکر میں ان بہت سے معاملات کو بھول جائو گے جو تمہیں جان سے زیادہ عزیز رہے ہیں۔ شاید کل کا اثر تھا۔ زندگی میں بے شمار بار مقدمات کی کارروائی دیکھنے عدالتوں میں حاضری دی ہے۔ کل مگر شہباز شریف کی پیشی پر جو خواری ہوئی اس سے اندازہ ہوا کہ شاید ہم کسی اور زمانے میں جی رہے ہیں۔ قطار اندر قطار کندھے سے کندھا ملائے‘ جگہ جگہ پر‘ آگے
مزید پڑھیے


میرے خواب…

پیر 15 اکتوبر 2018ء
سجاد میر
میں نے اپنے ٹی وی پروگرام کی ریکارڈنگ شروع کی تو ملک میں کوئی اور حکومت تھی۔ ریکارڈنگ ختم ہوئی تو حکومت بدل چکی تھی۔ ان دنوں ایک ہی ٹی وی چینل ہوا کرتا تھا‘ ابھی نجی ٹی وی کا آغاز نہیں ہوا تھا۔ پی ٹی وی کا یہ بڑا ہائی پروفائل پروگرام تھا۔ کراچی کے ٹی وی سٹیشن پر اس کی میزبانی کے لیے پہنچا‘ تو سکرین پر یہ خبر چلتی نظر آئی کہ وزیر اعظم نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو برطرف کر کے جنرل ضیاء الدین کو نیا آرمی چیف مقرر کر دیا ہے۔ ہم
مزید پڑھیے


خدا کے عذاب کو دعوت

هفته 13 اکتوبر 2018ء
سجاد میر
لکھا ہے، ان ’’بے ادبوں‘‘ کی قوم پر اژدر برسے تھے۔ کیا کسی قوم پر اس سے برا وقت آ سکتا ہے کہ وہ اپنے اساتذہ کی توہین، تذلیل پر اتر آئے۔ اللہ ہمارے حال پر رحم کرے۔ ایسی قوم پر آسمانوں سے جتنا عذاب بھی نازل ہو وہ کم ہے۔ عدیم ہاشمی کا یہ شعر یاد آ رہا ہے: ان موذیوں پر قہر الٰہی کی شکل میں نمرود سا بھی خانہ خراب آئے تو ہے کم اس رویے پر شدید احتجاج کر رہا ہوں۔ ہتھکڑی شاید اس لیے ایجاد کی گئی تھی کہ خطرناک مجرموں کو بھاگ جانے سے روکا جا
مزید پڑھیے


افسوس، میں غلطی پر تھا

جمعرات 11 اکتوبر 2018ء
سجاد میر
آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ ہم آئی ایم ایف کی دہلیز پر جا پہنچے ہیں اور سجدہ ریز ہو کر ملتجی ہیں کہ ہماری خالی جھولی بھر دی جائے کہ ہم کوڑی کوڑی کے محتاج ہو گئے ہیں۔ میرا معاشیات سے کوئی تعلق نہیں رہا ہے مگر یہ بات میں بھی سمجھ گیا تھا کہ ہمارے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے۔ چھ ماہ سے چیخ رہا تھا کہ ہماری اقتصادی اسٹیبلشمنٹ کیا کرنے جا رہی ہے۔ میں سارا الزام موجودہ حکومت پر نہیں لگا رہا۔ ہمارے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے۔ بقول کسے ہاتھیوں کی لڑائی
مزید پڑھیے




ذرا غور کیجیے

پیر 08 اکتوبر 2018ء
سجاد میر
میں اندازہ نہیں کر رہا کہ دونوں میں سے کون سا واقعہ زیادہ توجہ طلب ہے۔ عمران خان کا یہ اعلان کہ ہم سی پیک کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں یا یہ خبر کہ شہباز شریف کو بالآخر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ میرے لیے دونوں خبریں تشویشناک تو ہیں ہی ‘ مگر ان کے پس منظر میں ایک سوال اور ابھرا ہے جسے میں اس خوف سے دل میں نہیں رکھنا چاہتا کہ کہیں مجھ پر تعصب کا الزام نہ لگ جائے۔ وہ سوال یہ ہے کہ آیا پنجاب کا اس وقت کوئی والی وارث ہے یا نہیں۔
مزید پڑھیے


مجھے ڈر لگتا ہے

هفته 06 اکتوبر 2018ء
سجاد میر
میں ملک کی معیشت کے بارے میں متفکر ہوں۔ وگرنہ رانا مشہود کے مسئلے پر ضرور لکھتا۔ اس میں ایسی کون سی بات ہے جس کے بارے میں یہ کہا جائے کہ اس سے ملک کا استحکام متزلزل ہو جائے گا۔ اس ملک میں بہت سے ایسے واقعات ہو چکے ہیں جن کے حوالے سے ذرا شدید ردعمل ظاہر کیا گیا۔ ڈان لیکس اور اس سے پہلے وہ بیان جس پر مشاہد اللہ خاں کو مستعفی ہونا پڑا۔ بعد میں رائے بنتی ہے کہ پہلے تو ایسی کوئی بات ہی نہ تھی کہ اس پر شور پڑتا‘ دوسرا یہ کہ
مزید پڑھیے


وزیر خارجہ کی تقریر

پیر 01 اکتوبر 2018ء
سجاد میر
برا نہ مانئے‘ میرا خیال ہے کہ ہمارے وزیر خارجہ کی اقوام متحدہ میں تقریر عالمی برادری کے لیے کم اور پاکستانی عوام کے لیے زیادہ تھی اور اس بات کا موقع انہیں بھارت نے خود فراہم کیا۔ اس تقریر سے دو چار گھنٹے پہلے ایک ٹی وی پروگرام میں سوال رکھا گیا کہ آج ہمارے وزیر خارجہ اپنی تقریر میں کیا فرمائیں گے۔ عرض کیا پاکستان میں بڑے بڑے وزرائے خارجہ پیدا ہوئے ہیں جنہیں وژنری کہا جا سکتا ہے۔ ان میں وہ بھی شامل ہیں جن کا میں ویسے قائل نہیں ہوں۔ مثلاً ذوالفقار علی بھٹو‘ سر ظفر
مزید پڑھیے


مرضی میرے صیاد کی

هفته 29  ستمبر 2018ء
سجاد میر
تشویش کی بات تو ہے، اگر آپ کو یہ خبر دی جائے کہ آپ کی سالانہ شرح نمو 5.8 سے کم ہو کر 4.8 فیصد رہ جائے گی۔ یعنی اس میں پورے ایک فیصد کمی ہو جائے گی، جبکہ ہم اس میں اضافے کے اندازے لگا رہے تھے۔ اس سال کے بجٹ میں اسے 6.2 فیصد دکھایا گیا تھا اور آئندہ سال اسے سات فیصد کے قرب و جوار میں ہونا تھا۔ یہ وہ حد تھی جہاں پہنچ کر ہم بڑھتی ہوئی غربت کو روک سکتے تھے اور اگر ہم دو ایک سال میں آٹھ فیصد تک جا پہنچتے
مزید پڑھیے


کچھ ’’افسر شاہی‘‘ کی حمایت میں

جمعرات 27  ستمبر 2018ء
سجاد میر
اللہ معاف کرے، ہم سے بڑا گناہ سرزد ہوا کہ ہم پاکستان کی سول سروس کو کوستے رہے۔ قدرت اللہ شہاب نے کسی گوالے کے کندھے پر رکھ کر ٹھیک بندوق چلائی تھی کہ اردو میں سول سروس کا کوئی مترادف نہیں ہے۔ اس لیے ہم افسران ہی یا نوکر شاہی کہہ کر طعن و تشنیع کرتے رہتے ہیں۔ اسے گورا صاحب کہا اور کیا کچھ نہیں کہا۔ اب جا کر انکشاف ہورہا ہے کہ ہماری سول سروس تیسری دنیا میں بہترین سرول سروس تھی۔ اس کے ساتھ مزید اصرار اس بات پر ہے کہ بیوروکریسی کسی ملک کی
مزید پڑھیے