BN

سجاد میر


کشمیر اور بے اعتباری کا موسم


کوئی ہے جو یہ کہہ سکے کہ ہم کشمیر کے تنازعے پر آخری حد تک جانے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ کوئی ہے‘ میں پھر پوچھتا ہوں۔ کوئی ہے! اللہ کا خوف کرو‘ یوں لگتا ہے کہ کشمیر کے مسئلے سے فرار چاہتے ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر جھڑپیں تو کشمیر کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ تو ہم خود بتاتے ہیں ہمیشہ ہوتی رہتی ہیں۔ کسی نے تعداد بھی بتائی ہے۔ 2018ء میں کتنی ہوئی تھیں اور اب کتنی ہوئی ہیں۔ کیا نتیجہ نکالتے ہیں ہم اس سے کل بھی ہم نے بتایا تھا ایک کوّا مارا گیا۔ آج بھی
جمعرات 24 اکتوبر 2019ء

این جی او کی سواری آ رہی ہے

بدھ 23 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
فیض احمد فیض ایک این جی او کا نام ہے۔ کیا مطلب ہے اچھے بھلے شاعر کو این جی او بنا دیا۔ ان کے مداح یہی کر رہے ہیں۔ اسے سول سوسائٹی بھی کہتے ہیں۔ کسی جگہ لکھا دیکھا ہے کہ یہ سول سوسائٹی وہی ہے جو فرانسیسی معاشرت میں سوسائٹی کہلاتی تھی۔ ذرا فرانسیسی ادب پڑھئے،بالزاک، فلابیئرکوئی بھی دیکھ لیجئے حتیٰ کہ روسو اور والٹیئر کی زندگیوں کا مطالعہ کر لیجئے آپ کو اس سوسائٹی کی جان ایک مادام نظر آئے گی۔ ہمارے ہیرو کو معاشرے میں پذیرائی تب ملتی ہے جب وہ اس مادام کے حلقہ میں رسوخ
مزید پڑھیے


پاکستان کے صنعتی دارالخلافہ سے

پیر 21 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
میں کراچی میں ہوں بلکہ سٹیل ٹائون میں ہوں۔ ایک عجب کرب سے دوچار ہوں۔ ایک تو بھائی کے انتقال کا دکھ، دوسرا سٹیل ملز کے حالات پر تبصرے سن سن کر پریشان ہو رہا ہوں۔ میرا یہ بھائی مجھ سے 11سال چھوٹا تھا۔ لاکھ کہیں ماموں زاد تھا مگر سب جانتے ہیں کہ وہ بھائی ہی تھا۔ برسوں میرے پاس رہا، میرے ساتھ رہا۔ شادی ہو گئی تو بھی کراچی میں اس کا اصل ٹھکانا ہمارا گھر ہی تھا۔ اب میں نے میرا کی بجائے ہمارا کا لفظ استعمال کیا اس لیے کہ اب یہ مجھ سے زیادہ اس
مزید پڑھیے


سرسید احمد خاں پر ایک زور دار سیمینار

هفته 19 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
پہلے تو میں افضال ریحان کا تعارف کرا دوں۔ وہ جو میں جانتا ہوں۔ اس کی ایک کتاب کی تقریب رونمائی میں ایک پرانا واقعہ سنایا تھا۔ مرے پاس ایک نوجوان آیا کرتا تھا۔ بہت ہی پرانی بات ہے۔ وہ نوجوان کبھی ایک نکتہ نظر سے متاثر ہوتا کبھی دوسرے سے۔ مگر سچائی کی تلاش میں رہتا۔ ان دنوں وہ سو فسطائی تھا۔ کہنے لگا معلوم ہے‘ میں یہاں تک کیسے پہنچا۔ پھر بتایا کہ میں کراچی میں سو فسطائی کی ہال تک گیا تو اس کے دروازے پر لکھا ہوا تھاNo Religion is Higher Than truth یعنی کوئی مذہب سچائی
مزید پڑھیے


داتا صاحب سے شیخ مجدد تک۔ اور شرح بخاری شریف

جمعرات 17 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
اللہ کی عنایت ہے جب کتابوں کی بھر مار ہو جائے اور اس سے بڑی سعادت یہ ہے کہ یہ ایسی کتابیں ہوں جو روح اور باطن کی تسکین کرنے والی ہوں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے میں ان میں چند ایک کا بالخصوص تذکرہ کرنا چاہتا ہوں ‘ مگر موقع ہی میسر نہیں آ رہا۔ ایک تو استاد کے کہنے پر کتابوں کے تبصرے سے اجتناب کرتا آیا ہوں کہ ایک اچھی کتاب پر تبصرہ کردوگے تو بہت سی بری کتابوں پر بھی مروت دکھانا پڑے گی جس سے طبیعت بڑی منقبض ہوتی ہے۔ بہرحال آج ایک کتاب کا تذکرہ
مزید پڑھیے



کہ جانے کون کہاں راستہ بدل جائے

پیر 14 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
جس طرح لوگ پوچھتے ہیں فضل الرحمن دھرنا دینے کیوں آ رہے ہیں‘ اس طرح یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ عمران خاں ایران اور سعودی عرب کیا لینے جا رہے ہیں۔ ہے کسی کے پاس کوئی جواب ۔کیا سچ مچ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان عرب و عجم کے درمیان بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔ ماضی میں تو یہ لوگ ‘دونوں ملک ہی‘ ٹھینگا دکھا دیا کرتے تھے‘ کسی سفارتی مصلحت کا مظاہرہ تک نہ کرتے تھے۔ کیا اب حالات بدل چکے ہیں یا اس کی آڑ میں کچھ اور معاملہ ہے۔ چین نے ایران میں ایک
مزید پڑھیے


کسی کی خیر نہیں

هفته 12 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
ہو سکتا ہے کہ آج کا پورا کالم جملہ معترضہ کی نظر ہو جائے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج کے سب نمایاں سیاست داں ساتھ کیوں نہیں چل پا رہے جب کہ وہ اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ موجودہ حکومت ملک کی بقا سلامتی اور ترقی کے لئے خطرہ ہے۔ میں نہیں کہتا یہ تجزیہ درست ہے۔ مگر اس کی خبر ضرور دیتا ہوں کہ تینوں سرگرم عمل پارٹیوں کے سنجیدہ لوگ اپنے دل کی گہرائیوں سے نہایت دیانتداری سے یہی سمجھتے ہیں۔ ان کی دیگر غرض مندیاں بھی ہوں گی‘ ان سے انکار نہیں‘ مگر
مزید پڑھیے


اک ذرا صبر…

جمعرات 10 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
لیجئے یہ تو محاورۂ عصر حاضر بن گیا ہے۔ صبر کیجیے ۔ پہلے تو یہ بات ہمارے وزیر اعظم فرمایا کرتے تھے۔ چین جانے سے پہلے سیلانی لنگر والوں کے اجتماع میں شریک ہوئے تو وہاں بھی اصرار کیا۔ صرف 13ماہ تو ہوئے ہیں‘ لوگ پوچھتے ہیں کہاں ہے وہ نیا پاکستان۔ ان سے صبر نہیں ہوتا۔ یہاں تو بس بات چل رہی تھی۔ اب یہ تکیہ کلام ہی بن گیا ہے۔ گویا ایک قومی بیانیہ۔ یہاں اب کہ شاید وزیر داخلہ نے بھی متوقع اسلام آباد مارچ کے حوالے سے یہی بات کی ہے۔ مگر مزہ مجھے تب
مزید پڑھیے


عارف علوی کے سیمینار سے آگرے تک

پیر 07 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
یہ ان سے میری پہلی ملاقات تھی۔ ملاقات نہیں آمنا سامنا تھا یہ بھی غلط ‘ یوں کہہ لیجیے میں بھی پہلی بار وہاں موجود تھا جہاں وہ مہمان خصوصی تھے۔ البتہ انہوں نے اس کی رسید کھلے عام دے دی تھی۔ ڈاکٹر عارف علوی کے صدر بننے پر میں نے ببانگ دہل ایک کالم میں اس بات کا اعلان کیا تھا کہ ان سے دوستی بہت پرانی ہے۔ دو چار برس بعد اسے نصف صدی ہو جائے گی۔ ہم نے چند معاملات پر اکٹھے کام بھی کیا ہے۔ انہوں نے ایک آدھ انٹرویو میں اور وفود سے ملاقات میں
مزید پڑھیے


چلتے ہو تو چین کو چلئے

هفته 05 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
سنا ہے وزیر اعظم چین جا رہے ہیں۔ میں ان کے اس دورے کو ان کے دورہ امریکہ سے بھی اہم سمجھتا ہوں۔ امریکی دورے کی سمت کا ہمیں اندازہ تھا۔ وائٹ ہائوس میں ٹرمپ سے عمران خاں کی ملاقات اسی سمت کا ایک کلائمکس تھا۔ دوسرا کلائمکس ہمارے آرمی چیف کو پینٹا گون میں 21توپوں کی سلامی ملنا۔ بات طے تھی کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔ اس کے لئے آئی ایم ایف نے ہم سے مناسب قیمت وصول کر لی تھی۔ چین کے دورے کے بارے میں البتہ طے نہیں کہ اس کی سمت کیا ہے اور
مزید پڑھیے