BN

سجاد میر



مری بات سمجھ گئے نا!


یہ سر پر کلغی سجانے کا شوق ہمارے سب اہل سیاست کو ہے‘ اس میں کوئی استثنیٰ نہیں۔ ہمارے اہل سیاست ہی کیا دنیا بھر کے سیاست دان ایسا ہی کرتے ہوں گے۔ ہمارے سیاستدانوں کا البتہ یہ کمال ہے کہ وہ دوسروں کا کریڈٹ بھی چھیننے کی کوشش کرتے ہیں یا اس بات کی سعی کرتے ہیں کہ کہیں ان کے کسی اچھے کام کے ڈانڈے دوسروں سے نہ جا ملیں۔ بے شمار باتیں ہیں جن کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ اس لئے جب کوئی نئی تختی لگاتا ہے تو مجھے یقین ہوتا ہے کہ کوئی پرانا
پیر 01 اپریل 2019ء

کون جیتا ہے…

جمعرات 28 مارچ 2019ء
سجاد میر
سیاست سے صرف نظر کر کے میں آج کل ایک ہی بات پر زور دے رہا ہوں کہ خدا کے لئے ملکی معیشت کو سنبھالئے۔ یہ میں اس دن سے کہہ رہا ہوں جب سے ہمارے ہاں سیاسی تبدیلی آئی ہے۔ میں اس کا الزام سراسر موجودہ حکومت پر بھی نہیں لگاتا۔ بلکہ ان سیاسی حالات پر لگتا ہوں جن کا اس ملک پر دو ڈھائی سال سے راج رہا ہے۔ آج میں پاکستان سٹیٹ بنک کے ایک سابق گورنر اور پاکستان کے ایک ممتاز معیشت دان شاہد کاردار کا انٹرویو پڑھ کر ایک بار پھر ذہنی ہیجان و خلفشار
مزید پڑھیے


تھوڑا سا گلہ

پیر 25 مارچ 2019ء
سجاد میر
چند باتیں ایسی ہوتی ہیں جن پر گفتگو کرنا میں مصلحت دینی کے منافی سمجھتا ہوں اور خاموش رہتا ہوں اگرچہ دل میں یہ خلش بھی باقی رہتی ہے کہ کہیں یہ خاموشی مجرمانہ نوعیت کی تو نہیں۔ مثال کے طور پر اپنے بھائی اوریا مقبول جان کے بہت سے دعاوی کے بارے میں صمیم قلب سے یہ محسوس کرتا ہوں کہ ان میں اختلاف کی گنجائش ہے، تاہم چپ اس لیے رہتا ہوں مبادا اس سے دشمنان دین فائدہ اٹھانے بیٹھ جائیں۔ تاہم ذاتی گفتگوئوں میں اس کا اظہار کر دیتا ہوں اور اس سے وہ بھی واقف
مزید پڑھیے


ہمیں سیکھنا ہوگا

هفته 23 مارچ 2019ء
سجاد میر
اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان، مہاتیر محمد کے پرانے مداح ہیں۔ مجھے وہ تقریب اچھی طرح یاد ہے جس میں مہاتیر محمد کو عمران خان کی پارٹی نے اسلام آباد مدعو کیا تھا۔ اس وقت مہاتیر اقتدار سے الگ ہو چکے تھے اور عمران کو ابھی اقتدار کی ہوا تک چھو کر نہیں گزری تھی، ان دنوں سنگاپور کے لی کیوآن کا بھی بڑا چرچا تھا جس نے ملائیشیا سے الگ ہو کر اپنے چھوٹے سے جزیرے کی قسمت بدل دی تھی۔ نوازشریف اس سنگاپوری ماڈل کے مداح تھے۔ یہ درست بات ہے کہ ان ممالک
مزید پڑھیے


اندر کا لاوا

پیر 18 مارچ 2019ء
سجاد میر
ہم بھی عجیب لوگ ہیں اس بحث میں الجھ گئے ہیں کہ کیا اب بھی یہ ثابت ہوا کہ نہیں کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ ہمارے اس فقرے میں بھی ہمارے اندر کی ایک آواز بولتی ہے جو ایک طعنہ سے پیدا ہوئی ہے۔ وہ طعنہ یہ ہے کہ دہشت گردی صرف مسلمانوں کا شیوہ ہے۔ ہم مطمئن ہورہے ہیں کہ صرف ہم ہی نہیں ہیں، اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔ ثابت ہو گیا کہ سفید فام انتہا پسند بھی شقاوت قلبی کی اس انتہا تک جا سکتے ہیں جس کا مظاہرہ نیوزی لینڈ میں ایک
مزید پڑھیے




اقبالؒ ‘ابن عربی ؒاور پلے کارڈ

جمعرات 14 مارچ 2019ء
سجاد میر
اقبال آسمانوں کی سیرکو نکلے تو انہیں پاکستان کے شہروں کا نظارہ نظر آیا۔ عورتیں ہوں گی‘ ریلیاں ہوں گی اور شاید ان کے ہاتھوں میں پلے کارڈ بھی ہوں۔ شاید اتنے بیہودہ نہ ہوں جتنے آج بنائے گئے ہیں اور اٹھائے گئے ہیں۔ ان کے درمیان ایک دوشیزہ کھڑی تقریر کر رہی تھی۔ اقبال کو بتایا گیا کہ اس خاتون نے نبوت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔ اسے ابلیس مغرب سے لے کر آیا ہے‘ مگر یہ کہتی ہے کہ آسمانوں سے اتری ہوں۔ یہ خاتون نبی‘ جسے اقبال نے نبیویہ مریخ کا نام دیا ہے۔ مجمع سے خطاب
مزید پڑھیے


عشق رسولﷺکی روایت

پیر 11 مارچ 2019ء
سجاد میر
ہر سال مجھے یہ سعادت حاصل ہوتی ہے کہ شہر کے ایک بنیادی تعلیمی ادارے جامعہ نعیمیہ کے سالانہ اجلاس میں گفتگو کر پائوں۔ یہاں عام طور پر نواز شریف مہمان خصوصی ہوا کرتے ہیں۔ یہ محض کسی سیاسی یا مذہبی وابستگی کی بات نہیں ہے۔ بلکہ گڑھی شاہو میں قائم یہ مدرسہ خانوادہ شریف کے ساتھ دیرینہ مراسم رکھتا ہے کس طرح ہجرت کر کے ایک شخص چوک دالگراں میں علم کی شمع روشن کرنے پہنچا ہے وہ کس طرح اس علاقے کا ایک رہائشی اپنے نئے صنعتی اور کاروباری سفر کی ابتدا اسی علاقے سے کرتا ہے
مزید پڑھیے


ریاست مدینہ اور ایف بی آر

هفته 09 مارچ 2019ء
سجاد میر
میں چند روز پہلے بڑی صراحت کے ساتھ عرض کر چکا ہوں کہ کہیں مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست سے آپ کی مراد خدانخواستہ سکینڈے نیویائی ماڈل تو نہیں ہے۔ دنیا میں ان ریاستوں کو ویل فیئرسٹیٹ یا فلاحی ریاست کہا جاتا ہے۔ اب وہی ہوا ناکہ جناب وزیراعظم نے اس ماڈل کو آئیڈیل ماڈل کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ان ممالک نے چند قوانین ایسے اختیار کئے ہیں جنہیں یہ عمر لاء کہتے ہیں لیکن مدینے کی ریاست اور جدید فلاحی ریاست میں بہت بڑا بنیادی اور جوہری فرق ہے۔ یہ فرق بھی
مزید پڑھیے


اک اور دریا کا سامنا ہے

پیر 04 مارچ 2019ء
سجاد میر
تین باتیں عرض کرنا ہیں جنہیں میں ابتدا ہی میں بیان کئے دیتا ہوں۔ 1۔ ہم اس وقت بھارت کا الیکشن نہیں لڑ رہے ہیں کہ مودی کو جتانے یا ہرانے کی کوشش کریں۔ ہمارے بعض انداز سے ایسے ہی جھلک رہا ہے گویا ہم ہندوستان کا الیکشن لڑ رہے ہیں۔ 2۔ یہ جنگ کا زمانہ تو گزر جائے گا لیکن ایک زمانہ اس کے بعد آنا ہے۔ ہمارے اپنے اندر بھی ایک جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ یہ صورت حال خاصی خطرناک ہوتی ہے۔ ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ 3۔ اور سب سے آخری بات یہ کہ دنیا بالخصوص
مزید پڑھیے


تو یہ ملک کیوں بنتا

هفته 02 مارچ 2019ء
سجاد میر
جب سے سرحدوں کے حالات کشیدہ ہوئے ہیں، ہمارے اندر کی ایک اور جنگ بھی جاگ اٹھی ہے۔ یہ بہت پرانی جنگ ہے۔ اس سے ہمیں اپنے اندر کے تضادات کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔ یہ جو سرحدوں پر موم بتیاں جلانے والے ہیں، اس بات پر خوش ہیں کہ پاکستان امن کی بات کر رہا ہے بلکہ زیادہ وضاحت سے کہوں تو ان کی خوشی امن سے نہیں، بھارت کے ساتھ امن سے ہے اور زیادہ کھل کر کہوں تو بھارت سے دوستی سے ہے۔ مجھے سونیا گاندھی کا ایک فقرہ رہ رہ کر یاد آ رہا ہے
مزید پڑھیے