BN

سجاد میر


کیا ہمیں پاکستان سے محبت نہیں!


کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کن فیکون۔ مجھے تو آج معلوم ہوا کہ یہ کائنات بھی ابھی ناتمام تھی۔ پوری قوم ایک عجیب مخمصے میں ہے کسی کو گمان بھی نہ تھا کہ ہمارے قانون اور آئین میں یہ طے ہی نہیں ہے کہ ہمارے ملک کا سب سے مضبوط منصب دار کتنے سال کے لئے ہوتا ہے۔ عملی طور پر تو یہ درست ہے کہ ایک بار جو آ گیا‘ اس کا جانا اس کی مرضی اور حالات کی منشا کے مطابق ہوتا ہے۔ ایوب خاں ہمارے پہلے آرمی چیف تھے وہ تب تک رہے جب تک حالات
جمعرات 28 نومبر 2019ء

ہماری نئی تزوینی جنگ

پیر 25 نومبر 2019ء
سجاد میر
اللہ کرے ہمیں عقل آ چکی ہو اور ہم نے اس بات کا احساس کر لیا ہو کہ ہم سی پیک کے حوالے سے ایک بڑے مغالطے میں مبتلا کیے جا رہے تھے۔ میں نے یہ گفتگو عمران خان کی حکومت آنے کے بعد شروع نہیں کی تھی۔ اس سے پہلے ہی حکمرانی کے بعض قرینے دیکھ کر کہنا شروع کر دیا تھا کہ ہمیں آئی ایم ایف کی طرف ہانکا جا رہا ہے اور اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہم سی پیک سے منہ موڑ لیں۔ یہ گویا ایک پیکج تھا جس پر ہم سے
مزید پڑھیے


کتوں سے پیار

هفته 23 نومبر 2019ء
سجاد میر
وہ بتا رہی تھیں کہ وہ ایک ماہر نفسیات ہیں۔ انہوں نے کوئی پانچ ہزار کتوں کی زندگیاں بچائی ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ ہم انسانوں کا رویہ کتوں کے ساتھ اچھا نہیں ہوتا۔ ہم کیوں انہیں پتھر مارتے ہیں۔ ہم پتھر مارتے ہیں تو وہ ہمیں کاٹتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کیوں خوا ہمخواہ ہم انسانوں سے راہ چلتے الجھتے ہیں۔ ہمیں بھی تو اپنے دفاع کا حق ہے۔ ان کا جواب تھا وہ بے زبان ہیں‘ نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ شاید ان کا مطلب یہ تھا کہ ان کی
مزید پڑھیے


کوئی کسر رہ گئی ہے

جمعرات 21 نومبر 2019ء
سجاد میر
کوئی کسر باقی رہ گئی ہے کہ ہمارے چیف جسٹس کو عدلیہ کی صفائی میں بولنا پڑ رہا ہے۔ ملک کے حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ ہر ادارہ اپنے دفاع میں نکلا ہوا ہے ہمارے ملک میں یہ تو ہوتا آیا ہے کہ جب مورخ کو اس ملک کی مختصر سی تاریخ لکھنا پڑتی ہے تو ہماری خرابیوں کی جڑ اس مقدمے کو بتایا جاتا ہے جو جسٹس منیر نے صادر کیا تھا۔ آغاز اس بات سے ہوتا ہے کہ اگرچہ ہمارے ملک میں عدالتوں کا ریکارڈ کوئی اچھا نہیں رہا مگر ایک نہیں کئی مقدمات کے فیصلے یاد
مزید پڑھیے


جب سب نیکیاں غارت ہو جاتی ہیں

بدھ 20 نومبر 2019ء
سجاد میر
ڈر لگتا تھا کہیں اس بات پر اس کی پکڑ نہ ہو جائے۔ دل نہیں چاہتا تھا کہ ایسا ہو۔ وہ ہمارا ہیرو تھا، اس نسل کا ہیرو تھا، وہ دنیا کا سب سے بڑا سپورٹسمین گنا گیا اور عالم اسلام تو اس کے ذکر سے پھولے نہ سماتا تھا۔ اس کی کتاب شائع ہوئی تو نئی نسل میں خاص طور پر اتنی مقبول ہوئی کہ اس زمانے میں کم از کم ہر پڑھنے لکھنے والا طالب علم اس کا مطالعہ ناگزیر سمجھتا تھا۔ محمد علی کلے ایک زندہ لیجنڈ تھا، ایک رول ماڈل بن گیا تھا۔ اس نے باکسنگ
مزید پڑھیے



خدا پاکستان کی حفاظت کرے

پیر 18 نومبر 2019ء
سجاد میر
یہ خبر بہت حیرت اور دلچسپی سے سنی گئی کہ وزیر اعظم پاکستان دو دن کی چھٹی پر جا رہے ہیں۔ ملک کے جو حالات ہیں ان کے پس منظر میں طرح طرح کی چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔ ہمارے ہاں تو دیکھتے دیکھتے خبر سازش بن جاتی ہے اور اسے مرضی کے معنی پہنا دیے جاتے ہیں۔ سیاست کے دو اہم ارکان آپس میں معمول کی ملاقات بھی کریں تو پوچھا جاتا ہے کہ اس کا پس منظر کیا ہو سکتا ہے۔ باڈی لینگوئج جسے اب بدن بولی کہا جانے لگا ہے‘ اس کا جائزہ شروع ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھیے


روشِ بندہ پروری

هفته 16 نومبر 2019ء
سجاد میر
تاریخ کی ایک فیصلہ کن جنگ اپنے عروج پر تھی۔ ایک طرف صلیبیوں کے بڑھتے ہوئے لشکر تھے اور دوسری طرف مسلمان سپاہ۔ غازی صلاح الدین کو اطلاع ملی کہ دشمن کا نامور جرنیل جسے مسلمان تاریخ دان بھی شیر دل کے لقب سے پکارتے ہیں۔ شدید علیل ہے۔ حکایت بیان کی جاتی ہے کہ صلاح الدین ایوبی نے نہ صرف جنگ روک دی بلکہ اپنا شاہی طبیب بھجوانے کی پیشکش کی تاکہ رچرڈ شیردل کا علاج ہو سکے۔ ایک روایت ہے طبیب کو بھجوا دیا اور ایک خبر ہے کہ طبیب کے بھیس میں خود جا پہنچا کہ اس
مزید پڑھیے


کوئی کل سیدھی نہیں

جمعرات 14 نومبر 2019ء
سجاد میر
کوئی ہے جو بتائے اس وقت قوم کا بڑا مسئلہ کیا ہے یا حکومت کی طرح سب کا یہ خیال ہے کہ راوی چین لکھتا ہے‘ کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔ سب کچھ قانون اوردستور کے مطابق چل رہا ہے اور چلتا رہے گا۔ کیا کر لیں گے مولانا فضل الرحمن بیٹھے رہیں اسلام آباد کے مضافات میں ‘خود ہی تنگ آ کر واپس لوٹ جائیں گے اور یہ کہ نواز شریف تو ہمارے رحم و کرم پر ہیں۔ درست ان کی طبیعت خراب ہے‘ مگر اس سے حکومت پر کیا فرق پڑتا ہے اور تیسری بات پیاز ‘ٹماٹر کے
مزید پڑھیے


عشق رسول ؐ اور اقبال

بدھ 13 نومبر 2019ء
سجاد میر
ہفتہ کو یوم اقبال اوراتوار کو عید میلادالنبیؐ تھی۔ گزشتہ برس بھی یوم اقبال ربیع الاول کے مہینے میں آیا تھا مگر اس بار تو بالکل یوم ولادت نبیؐ سے متصل ہے۔ اس بار بھی حسب روایت ایوان اقبال میں یوم اقبال کی تقریب تھی۔ جس میں ہمیشہ بات کرنے کی سعادت ملتی ہے۔ پہلے تو یہ اہتمام نہ ہوتا تھا مگر میں سوچ رہا تھا کہ میں ہمیشہ اس بات کا اہتمام کرتا ہوں کہ اقبال کا جو تعلق قرآن اور عشق رسولؐ سے ہے اس پر ضرور گفتگو کروں۔ اس بار تو گویا موضوع ہی یہی تھا۔
مزید پڑھیے


یہ ایک راہداری ہی نہیں

هفته 09 نومبر 2019ء
سجاد میر
مرے سامنے ایک دعوت نامہ کھلا پڑا ہے۔ یہ کرتار پور راہداری کے افتتاح میں شمولیت کا پروانہ ہے۔ مگر میں نہیں جا پائوں گا۔ اس کی وجہ کوئی سیاسی‘ مذہبی یا قومی نہیں‘ بلکہ یوں کہہ لیجیے اس سفر کی ہمت نہیں کر پائوں گا۔ پھر مرے شہر میں یوم اقبال کی مجلس سجنا ہے اور اس میں شمولیت ہر سال مجھے بہت عزیز رہتی ہے۔ ایک عجیب اتفاق ہے کہ دو دن مرے نبی آقارسولؐ کا یوم ولادت بھی ہے۔ شہر میں خوب روحانیت ہو گی۔ کرتار پور کے بارے میں مری عجیب کیفیت ہے اور مختلف سوال ہیں۔ایک
مزید پڑھیے