سجا د جہانیہ


’’تمام دکھ ہے‘‘


کسی بادشاہ نے ایک عالم سے کہا کہ میرے لئے دنیا کی تاریخ لکھئے، شروع سے اب تک۔ عالم نے دس سال رات دن ایک کردیے اور بہت زیادہ کتابیں تصنیف کیں۔ وہ دس اونٹوں پر لاد کر اپنی کتابیں بادشاہ کے دربار میں لے گیا۔ بادشاہ نے اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میرے پاس یہ ساری کتابیں پڑھنے کا وقت نہیں ہے۔ اگر ممکن ہو تو ان کا خلاصہ کردیجئے۔ عالم نے مزید پانچ سال لگائے اور خلاصے کے مسودے ایک گدھے پر لاد کر شاہی دربار میں حاضر ہوا۔ بادشاہ نے مسودے دیکھ کر کہا: اس
جمعه 11  ستمبر 2020ء

فطرت کی گود

جمعه 28  اگست 2020ء
سجا د جہانیہ
کائنات کی ہر وہ شے جو انسان کو بنی بنائی مل گئی، نیچر یا فطرت کہلاتی ہے۔ جمادات، نباتات، حیوانات سبھی۔ جھرنے، پہاڑ، وادیاں، دریا، درخت، ہوائیں، موسم اور ان سب سے مل کر بننے نظارے، سب فطرت ہے۔ انسان خود بھی فطرت ہی کا حصہ ہے کہ اس کا خمیر بھی تو دھرتی سے اٹھتا ہے۔ آسمانوں سے تو فقط روح اترتی ہے۔ فطرت کے یہ مظاہر یوں تو اک دوجے کے درپے رہا کرتے ہیں مگر کبھی نگہبانی بھی کرتے ہیں۔ ایک واقعہ سنئے۔ کرہ ارض کے گیارہ فی صد رقبے پر محیط‘ دنیا کے سب سے بڑے ملک
مزید پڑھیے


بے برکتی

جمعه 21  اگست 2020ء
سجا د جہانیہ
سیانے کہتے ہیں، میاں بیوی گھر کی گاڑی کے دو پہئے ہوتے ہیں۔ ہمارے گھر کی گاڑی کے دونوں پہئے سرکار دربار کی ملازمت میں ہیں لہذا ہفتے بھر کا سبزی گوشت چھٹی والے دن اکٹھا خرید لاتے ہیں۔ اس مہم میں میرا کام فقط ڈرائیور کا ہوتا ہے۔ دکان سے اشیا خریدنا بیگم کی ذمہ داری ہے۔ گلگشت کالونی میں ایک جگہ ہے جہاں سبزی اور چکن کی پانچ سات بڑی بڑی دکانیں پہلو بہ پہلو آراستہ ہیں۔ یہ کوئی باقاعدہ دکانیں نہیں۔ ایک پارک کی دیوار ہے جس کے ساتھ ساتھ پنجرے اور پھٹے لگے ہیں۔ ساری کی
مزید پڑھیے


عشق ہندا ہیریاں دے ورگا

جمعه 07  اگست 2020ء
سجا د جہانیہ
مجھے آپ کو ایک قصہ سنانا ہے، سو بات کچھ لمبی ہوجائے گی، شاید دو تین اقساط میں چلی جائے۔ بہرحال یہ ایک تکون کی کہانی ہے، انسانی تکون جس کے تینوں اضلاع اب بکھر چکے۔ تاہم چوں کہ وہ سب حیات ہیں اور اپنے جوان بچوں کے ساتھ اپنی اپنی زندگی میں مصروف، سو میں کوئی نام نہ لکھوں گا اور مقامات کے نام بھی سب فرضی ہوں گے۔ ان کے نام ہم الف، بے اور جیم فرض کر لیتے ہیں۔ جیم چونکہ مؤنث ہوتی ہے، سو ہماری کہانی میں بھی یہ نسائی کردار ہے جبکہ باقی دونوں مذکر
مزید پڑھیے


آؤ اک سجدہ کریں…

جمعه 31 جولائی 2020ء
سجا د جہانیہ

پتہ نہیں آپ کا تقدیر پر یقین ہے کہ نہیں؟ کسی ایسی لوح سے واقف ہیں یا نہیں جس پر نصیب کے واقعات تحریر ہوچکے ہیں۔ اگر آپ مانتے ہیں تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اور اگر نہیں مانتے تب بھی میری صحت پہ کوئی مضر اثرات مرتب نہیں ہوتے۔ میں نہ تقدیر کے ماننے والوں کا وکیل ہوں، نہ ان کے مخالفوں کا۔ اس ضمن میں اپنی ایک رائے ضرور رکھتا ہوں مگر اس کو دوسروں پر نافذ کرنے کا ظاہر ہے مجھے کوئی حق نہیں۔ خیر! آپ یہ اقتباس پڑھئے۔ یہ کسی کتاب سے نہیں لیا گیا
مزید پڑھیے



’’سب رنگ کہانیاں اور ڈائجسٹ‘‘

جمعه 24 جولائی 2020ء
سجا د جہانیہ
کتنی ساری دوپہریں تھیں اور کتنی ہی بھیگتی راتیں جو ڈائجسٹوں کے ساتھ بسر ہوئیں. الیاس سیتا پوری، محی الدین نواب، عبدالقیوم شاد اور کیسے کیسے نام تھے جو پڑھنے والے کو اس کے محلِ وقوع سے اغوا کرکے اپنے قلم کے اعجاز سے پیدا کردہ دنیاؤں میں لے جاتے. یہ وہ زمانہ ہے جب رشید آباد والی اختر لائبریری اور شاہ شمس روڈ والے سہیل بک سنٹر سے کرائے پر ملنے والی ٹارزن، آنگلو بانگلو، چلوسک ملوسک، عمرو عیار وغیرہ کی تمام کتابیں پڑھ ڈالی تھیں. پھر عمران سیریز کی باری آئی، وہ بھی ختم ہوئیں تو مظہر کلیم
مزید پڑھیے


بے مکاں حروف

جمعه 17 جولائی 2020ء
سجا د جہانیہ
قاری اور لکھنے والے کا رشتہ بھی عجب ہے۔ اِک دوجے سے دْور ہونے کے باوصف بھی کوئی لمس ہے کہ محسوسات کی ترسیل کیا کرتا ہے۔ کسی مضمون کا خیال میں آنا، پھر اس کا لفظوں میں اور جملوں میں ڈھل کر قرطاس پر اْترنا۔ اس کا کاتب یا کی بورڈ پر اْنگلیوں کی پوروں کی لطیف ضربات لگاتے کمپوزر کے ہاتھوں بارِ دگر لکھا جانا اور پھر کاغذ پر چھپ کر اخبار، رسالے یا کتاب کی صورت قاری تک پہنچنا۔ روشنائی اور کاغذ کی خوش بْو میں بسے حرف کتاب یا اخبار کی صورت تھام کر جب قاری
مزید پڑھیے


آخری ملاقات

هفته 11 جولائی 2020ء
سجا د جہانیہ
سوموار کے دن کا دوسرا پہر تمام ہوتا تھا جب ہم بہاولپور کے سرکٹ ہاؤس سے ملحقہ اس گھر میں پہنچے جس کے ایک کمرے میں رانا صاحب اس پلنگ پر لیٹے تھے جس کے بالیں جانب آکسیجن کے تین بڑے بڑے سلنڈر دھرے تھے۔ الٹے ہاتھ کی انگشتِ شہادت اس چھوٹے سے میٹر کے جبڑے میں تھی جو جسم میں آکسیجن کی سطح بتایا کرتا ہے۔ ہمارے بیٹھنے کے تھوڑی دیر بعد ہی میٹر نے واویلا کیا کہ آکسیجن کی سطح چوراسی فی صد ہوگئی ہے، سو رانا صاحب کے اٹینڈنٹ نے ایک پتلی سی پائپ نتھنوں کے نیچے
مزید پڑھیے


رانا صاحب

هفته 04 جولائی 2020ء
سجا د جہانیہ
علم کیا ہوتا ہے اور دانش کش چڑیا کا نام ہے، ان معاملات سے اب بھی اس کالم نگار کا کچھ لینا دینا نہیں لیکن جن دنوں کا یہ ذکر ہے تب تو پھولوں اور رنگوں اور تتلیوں کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہ تھا۔ قوتِ شامہ ہواؤں میں وہ خوشبوئیں ڈھونڈ لیتی تھی جو بیک وقت اجنبی تھیں اور شناسا۔ تپتی دوپہروں پر رومان کے خواب سایہ کرتے تھے اور ٹھٹھرتی رْتیں خیال کی آنچ سے آسودہ رہتیں۔ مطالعہ بھی دیو، پری، ٹارزن، عمران سیریز سے ہوتا ڈائجسٹ کی "اعلیٰ" سطح تک پہنچ چکا تھا۔ تب ہی ایک دن
مزید پڑھیے


بے یقینی

هفته 27 جون 2020ء
سجا د جہانیہ
بہت دنوں کی بات ہے‘ اتنے بہت دنوں کی کہ اب شمار کرنا چاہوں تو نہ کرسکوں۔ تب بڑا ہی سکون تھا، اطمینان اور یکسوئی۔ تب مجھے یہ بھی پتہ نہ تھا کہ شمار کرنا کیا ہوتا ہے، گنتی کسے کہتے ہیں۔ دنوں کا تعلق وقت سے ہے نا‘ جب وقت کا ہی نہ ہو تو دنوں اور ان کے شمار کا کیا سوال۔۔؟ وہ وقت سے خالی جگہ تھی۔ نہ صبح تھی‘ نہ شام‘ رات اور دوپہر۔ نہ سورج‘ چاند‘ تارے‘ نہ ان کے طلوع وغروب کا جھنجٹ۔ یہ زمین بھی تو نہ تھی جس کی پیٹھ پر ہمیں
مزید پڑھیے