BN

سجا د جہانیہ



بندہ ‘ بندے دا دارو


دل کی نگری اداسی کے جھکڑوں کی زد میں ہے اور اکیلے پن کے احساس سے بوجھل گرد یہاں سے وہاں اُڑتی ہے۔ جیسے کسی بھرے پُرے تھیٹر میں تماشا ختم ہوجانے کے بعد بھائیں بھائیں کرتے اندھیرے ہال میں خالی کرسیوں کے درمیان آپ تنہا رہ گئے ہوں۔ سچی بات یہ ہے کہ اِس گئے گزرے زمانے میں بھی کہ جس میں روایت و احساس کی موت کا ہمہ وقت رو نا رویا جاتا ہے‘ انسان انسان کے قریب رہنا چاہتا ہے۔ اپنے ہم جنسوں کا قرب اور اجتماع اسے خوشی اور آسودگی فراہم کرتا ہے۔ پچھلے چار پانچ
جمعرات 23 جنوری 2020ء

ڈپریشن

جمعرات 16 جنوری 2020ء
سجا د جہانیہ
کچھ لوگ ڈپریشن کا گٹھڑ ہر وقت کمر پر لادے اس تلاش میں رہتے ہیں کہ کہاں کوئی ملے اور وہ اپنی گانٹھ اس کے سر رکھیں۔ میرے جاننے والوں میں بھی کچھ ایسے ہیں۔ انہی میں سے ایک کا فون میں دو تین دن سے اٹینڈ نہیں کر رہا تھا۔ آج سویرے تیار ہوکر دفتر کو نکلنے لگا تو ڈور بیل بجی۔ دروازہ جو کھولا تو آگے وہی صاحب کھڑے تھے۔چہرے پر پریشانی کی بھوت ناچتے تھے۔ نہ سلام نہ دعا، نہ حال نہ احوال۔ چھوٹتے ہی بولے ’’یار وہ الو کا پٹھا مزارع پیسے نہیں بھیج رہا۔ اب
مزید پڑھیے


آج پیمانے ہٹا دو یارو

جمعرات 09 جنوری 2020ء
سجا د جہانیہ
یہ انتہائیں مل کیوں جاتی ہیں؟ مجاز اور حقیقت کی تلواریں کبھی ایک ہی میان میں کیونکر سما جاتی ہیں؟ کیا سبھی راستے ایک ہے سمت کو جاتے ہیں؟ اور شَش جہت کسی افسانوی مجموعے کا نام ہے کیا؟ انسان کے پھسلانے کو، بہکانے کو گھمن گھیریاں ہیں سب؟ انالحق کا نعرہ مستانہ دہن سے نکلوا کر‘ دار تک لے جانے کے بہانے۔۔؟ وہ الجھا ہوا تھا، پریشان اور کنفیوز سا۔ کہنے لگا ’’یار یہ گناہ کے عمل کا آئینہ، نیت کی شعاعوں کو نیکی کی سمت کیسے موڑ دیتا ہے؟ ‘‘کچھ دیر میز کی سطح پر نظریں گاڑے وہ دائیں
مزید پڑھیے


ننکانہ کی شامِ مزاح

جمعرات 02 جنوری 2020ء
سجا د جہانیہ
نئے سال کا پہلا کالم ہے مگر ہم باتیں پچھلے برس کی ہی کریں گے۔نئے سال میں نیا کچھ ہے بھی تو نہیں کہ جس پر بات کی جائے۔ موسم کی وہی شدت اور وہی گیس کی تعطیل۔ انرجی سیور سے بھی کم واٹ کے ایل ای ڈی بلب اور بجلی کا بل پھر بھی آٹھ سے دس ہزار۔ اکتیس دسمبر کی شب جو کمینگی، خباثت اور دوسرے کی گردن پر پیر رکھ کر آگے اور آگے جانے کے جذبات دل میں لے کر سویا تھا، جنوری کی پہلی سویر اٹھا ہوں تو ہنوز میری فکر و سوچ انہی
مزید پڑھیے


وقت کا متبادل

جمعرات 19 دسمبر 2019ء
سجا د جہانیہ
آپ نے کبھی سوچا کہ یہ سردیاں اور بہ طورِخاص دسمبر ایسا ملال آمیزرومان لئے ہوئے کیوں ہوتا ہے۔ خاص طور پر حْزن پرست تو اس مہینے بڑا ہی حظ اٹھایا کرتے ہیں۔ یہ رْت جہاں دلوں میں میٹھے جذبات پیدا کرتی ہے وہاں پرانی یادوں کو‘ گزرے لمحات کو اور بچھڑے لوگوں کے لمس کو وقت کی قبروں سے نکال کر سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔ یادوں کا المیہ یہ ہے کہ جب یہ بن رہی ہوتی ہیں تو ان کی قدروقیمت کا احساس نہیں ہوتا لیکن جب ان کی فلم شوٹ ہو کر ڈبے میں بند ہوجاتی ہے
مزید پڑھیے




ذکر ایم فور موٹروے کا

جمعرات 12 دسمبر 2019ء
سجا د جہانیہ
ابھی کچھ عرصہ پہلے تک یہ سوچنا محال تھا کہ کوئی ملتانی رات کو اپنے گھر میں آرام سے سوئے، صبح اٹھ کے فجرکی نماز پڑھے اور دس ساڑھے دس بجے لاہور کے اپنے صدر دفتر میں ہونے والی میٹنگ میں موجود ہووگرنہ ہوا یہی کرتا تھا کہ صبح 10بجے اگر میٹنگ یا پیشی ہے تو نصف شب کو ملتان سے رختِ سفر باندھا جائے۔کچھ مجھ ایسے سہل پسند اُس سے بھی پہلے سہہ پہر کو نکل کھڑے ہوتے کہ کسی سرائے میں شب بسری کر کے صبح سہولت سے دفتر پہنچا جاسکے۔ پتہ نہیں اب یہ دعا سی پیک
مزید پڑھیے


پیار کا پہلا خط

جمعرات 05 دسمبر 2019ء
سجا د جہانیہ
پہلی ملاقات کی ایک جھجھک ہوتی ہے اوراگر ملاقات ایسی ہو کہ جس میں شوق و نیاز کی کرم فرمائی بھی ہو تو انسان کچھ سِوا ہی تیاری کرتا ہے۔ یہ تو رہی روبہ رو ملاقات، آدھی ملاقات بھی اگر پہلی ہو تو اس کا اہتمام بھی کچھ کم نہیں ہوتا۔ میری عمر کے لوگ وہ زمانہ جانتے ہیں کہ جب خط کو آدھی ملاقات کہا جاتا تھا۔ احباب کو، اقرباء کو‘ اپنے پیاروں کو خط لکھے جاتے اور نامۂ شوق کا تو خیر اہتمام ہی کچھ جدا ہوتا۔ شاعر نے کہا تھا۔ پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو
مزید پڑھیے