BN

سجا د جہانیہ


رانا صاحب


علم کیا ہوتا ہے اور دانش کش چڑیا کا نام ہے، ان معاملات سے اب بھی اس کالم نگار کا کچھ لینا دینا نہیں لیکن جن دنوں کا یہ ذکر ہے تب تو پھولوں اور رنگوں اور تتلیوں کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہ تھا۔ قوتِ شامہ ہواؤں میں وہ خوشبوئیں ڈھونڈ لیتی تھی جو بیک وقت اجنبی تھیں اور شناسا۔ تپتی دوپہروں پر رومان کے خواب سایہ کرتے تھے اور ٹھٹھرتی رْتیں خیال کی آنچ سے آسودہ رہتیں۔ مطالعہ بھی دیو، پری، ٹارزن، عمران سیریز سے ہوتا ڈائجسٹ کی "اعلیٰ" سطح تک پہنچ چکا تھا۔ تب ہی ایک دن
هفته 04 جولائی 2020ء

بے یقینی

هفته 27 جون 2020ء
سجا د جہانیہ
بہت دنوں کی بات ہے‘ اتنے بہت دنوں کی کہ اب شمار کرنا چاہوں تو نہ کرسکوں۔ تب بڑا ہی سکون تھا، اطمینان اور یکسوئی۔ تب مجھے یہ بھی پتہ نہ تھا کہ شمار کرنا کیا ہوتا ہے، گنتی کسے کہتے ہیں۔ دنوں کا تعلق وقت سے ہے نا‘ جب وقت کا ہی نہ ہو تو دنوں اور ان کے شمار کا کیا سوال۔۔؟ وہ وقت سے خالی جگہ تھی۔ نہ صبح تھی‘ نہ شام‘ رات اور دوپہر۔ نہ سورج‘ چاند‘ تارے‘ نہ ان کے طلوع وغروب کا جھنجٹ۔ یہ زمین بھی تو نہ تھی جس کی پیٹھ پر ہمیں
مزید پڑھیے


’’عثمان بزدار اور ملتانی صحافی‘‘

هفته 20 جون 2020ء
سجا د جہانیہ
شب کا تیسرا پہر شروع ہوتا تھا کہ پیغام موصول ہوا ’’صبح 11 بجے ایوان وزیراعلیٰ پہنچئے۔ ملتان کی صحافی کالونی کے جو بقایا جات ایک مدت سے معلق تھے، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار کے ہاتھوں وہ ملتان ترقیاتی ادارہ کے حوالے کئے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر آپ کو خصوصی طور مدعو کیا گیا ہے‘‘۔ سچی بات ہے میرے منہ سے بے اختیار نکلا کہ ’’ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کند‘‘ یہ کام سردار عثمان بزدار ہی کر سکتے تھے اور ملتانی صحافیوں کو سردار صاحب کے ہاتھوں ہی ریلیف
مزید پڑھیے


اصلی گل محمد بخشا، وچوں گئی اے مْک

جمعه 12 جون 2020ء
سجا د جہانیہ
اب کے بار گرمی کو تاخیر ہوئی. ملتان کا روائتی موسم جون کے دوسرے ہفتے یہاں پہنچا. چمکیلی دوپہریں، بھاپ کی سی ہوائیں، سلگتی سہ پہریں، بجھ چکی آگ کی بچی کھچی چنگاریوں پر چڑھی راکھ کی سی حدت چھوڑتی شامیں اور نرم گرم ٹکور کرتی فضا والی راتیں. یہی تو حسن ہے ہمارے خطے کا اور اس شہرِ قدیم کا. ان دوپہروں، سہ پہروں، شاموں اور راتوں سے شناسائی بہت پرانی ہے. تب سے ہی جب سے ہوش کی آنکھ کھولی. یہی شہرِ قدیم تھا، جس کی پہچان میں گرد، گدا اور گورستان کے ساتھ ساتھ امیر خسرو نے
مزید پڑھیے


ایویں مار نہ شاکر قسطاں وچ

جمعه 05 جون 2020ء
سجا د جہانیہ
عجیب زمانہ ملا ہے ہمیں جینے کو۔ اطلاعات ہیں کہ مینہ کی طرح برستی ہیں۔ اب کس کس خبر کی تحقیق کی جائے کہ سچ ہے یا جھوٹ۔ سچ یہ ہے کہ جھوٹ بھی جب کانوں سے ٹکراتا ہے تو سننے والے پر اثرات بہرحال مرتب کرتا ہے۔ بہرحال انفرمیشن کا یہ برستا پانی جب خوف اور اندیشوں کی آنچ پر کھولتا ہے تو عجیب عجیب خیالوں کی بھاپ اٹھ کر حواس کو گھیرنے لگتی ہے۔ کیا بنی آدم کا سفر اب ختم ہوجانے کو ہے؟ اختتام قریب آن لگا ہے کیا؟ کیسی ویراں زمیں ملی تھی ہمیں، صحرا،
مزید پڑھیے



’’لال خان مالی‘‘

جمعه 29 مئی 2020ء
سجا د جہانیہ
اس سلگتی سہ پہر میں سب کچھ وہیں تھا۔پیڑ، پودے، گھاس، مٹی، کیاریاں۔کچھ نہیں تھا تو زندگی کا احساس۔ایک مْردنی سی تھی، جیسے کوئی نزاع کے عالم میں نڈھال ہچکیاں لیتے ہانپتا ہو۔انجیر، جامن، انار، آم کے تینوں پیڑ اور وہ دو بڑے سے درخت جو دن بھر ہری ہری نبولیاں سی اپنے نیچے بچھی گھاس پر گرایا کرتے ہیں، یہ آٹھوں تو خیر ہوش و حواس میں تھے کہ ان کی جڑیں دور زمین کے اندر سے نمی تلاش لاتی ہیں مگر دھنیا، پودینہ، ہری مرچوں، بینگن، ٹماٹر اور کئی قسم کے آرائشی پھولوں کے نازک نازک پودے
مزید پڑھیے


کچھ ُدور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا

اتوار 24 مئی 2020ء
سجا د جہانیہ
جتنے منہ ہیں، اگر گنے جاسکیں تواتنی ہی باتیں. سوشل میڈیا کی والز پر وہ بھی طیارہ گرنے کے اسباب پر تکنیکی آراء دے رہے ہیں جنہوں نے کبھی جہاز چھو کر نہیں دیکھا. پائلٹ کی غلطی تھی، اڑان کی اجازت دینے سے قبل، سینتالیس ہزار ایک سو آٹھ گھنٹے پرواز کر چکنے والے طیارے کی مناسب پڑتال نہیں کی گئی، پرندے وجہ بنے یا کوئی دیگر معاملہ تھا، ان سب امور پر تحقیقات ہونی چاہئیں اور تادیب کی کارروائیاں بھی مگر ایک اور پہلو بھی بڑا اہم ہے۔ اس کا ذکر کریں تو اسباب و علل اور سائنس و
مزید پڑھیے


وبا کے دنوں کا رمضان

هفته 23 مئی 2020ء
سجا د جہانیہ
ایک زمانہ ہونے کو ہے آوارہ گردی اور بیٹھکوں کا شوق موقوف ہوئے۔اب گھر میں سِوا قرار ملتا ہے اور آسودگی۔وگرنہ کوئی دن تھے کہ ملتان نامی اس شہرِ قدیم کی شب کا دوسرا، تیسرا پہر ہمیں شہر کی راہوں، شاہ راہوں کا سینہ روندتے پاتا یا پھر کسی شب زندہ دار چائے خانے کی نیم شکستہ کرسیوں اور بنچوں کی پشت پر۔دو تین وجوہات ہیں اس کایا پلٹ کی۔ایک تو وہ جو ندیم ہائے دیرینہ تھے اور راز دارانِ شب و روزینہ، پتہ نہیں انہیں کیا جلدی تھی کہ قریباً سب کے سب ہی موت کا جام چڑھا گئے۔اب
مزید پڑھیے


مکالمہ

هفته 16 مئی 2020ء
سجا د جہانیہ
انسان جب موت کو لبیک کہتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ وہ کہاں چلا جاتا ہے؟ یہ ایسے سوال ہیں جن کے جواب انسانی عقل و دانش ایک مدت سے تلاش کررہی ہے۔ اتنے طویل علمی سفر کے بعد تین چار بڑے بڑے نظریات سامنے آئے ہیں۔ ایک تو مذہبی ہے جو زرتشت سے لے کر ادیان ابراہیمی تک مماثل چلا آتا ہے کہ دنیا دارالامتحان ہے، یہاں اپنے عمل سے جو لکھا اس کے نتائج ایک خاص دن کو نکلیں گے جب پھر سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا اور پھر جنت یا جہنم کی مکانیت میں ایک
مزید پڑھیے


گر قبول افتد…

جمعه 08 مئی 2020ء
سجا د جہانیہ
یہ سطریں آپ کی نظروں کا التفات پاتی ہیں تو رمضان اپنا نصف سفر مکمل کرچکنے کو ہے۔ ایک اور رمضان بیت جانے کو ہے اور میں اپنا گریبان کھولے اندر جھانکتا ہوں۔ یہ سینہ کبھی بے بال تھا‘ پھر اس کے مساموں سے بال پھوٹے اور اب تو ان بالوں کو وقت کی دھوپ سہتے اتنی مدت ہوگئی کہ ان میں سے اکثر کا رنگ زائل ہوکر سفید پڑگیا ہے مگر اس ڈھیر سارے دورانیے میں آنے والے اتنے سارے رمضان ہائے کی وہ قدر مجھ سے نہ ہوسکی جو ان کا حق تھا۔ میں تو بی بی رابعہ
مزید پڑھیے