BN

سجا د جہانیہ


کچھ ُدور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا


جتنے منہ ہیں، اگر گنے جاسکیں تواتنی ہی باتیں. سوشل میڈیا کی والز پر وہ بھی طیارہ گرنے کے اسباب پر تکنیکی آراء دے رہے ہیں جنہوں نے کبھی جہاز چھو کر نہیں دیکھا. پائلٹ کی غلطی تھی، اڑان کی اجازت دینے سے قبل، سینتالیس ہزار ایک سو آٹھ گھنٹے پرواز کر چکنے والے طیارے کی مناسب پڑتال نہیں کی گئی، پرندے وجہ بنے یا کوئی دیگر معاملہ تھا، ان سب امور پر تحقیقات ہونی چاہئیں اور تادیب کی کارروائیاں بھی مگر ایک اور پہلو بھی بڑا اہم ہے۔ اس کا ذکر کریں تو اسباب و علل اور سائنس و
اتوار 24 مئی 2020ء

وبا کے دنوں کا رمضان

هفته 23 مئی 2020ء
سجا د جہانیہ
ایک زمانہ ہونے کو ہے آوارہ گردی اور بیٹھکوں کا شوق موقوف ہوئے۔اب گھر میں سِوا قرار ملتا ہے اور آسودگی۔وگرنہ کوئی دن تھے کہ ملتان نامی اس شہرِ قدیم کی شب کا دوسرا، تیسرا پہر ہمیں شہر کی راہوں، شاہ راہوں کا سینہ روندتے پاتا یا پھر کسی شب زندہ دار چائے خانے کی نیم شکستہ کرسیوں اور بنچوں کی پشت پر۔دو تین وجوہات ہیں اس کایا پلٹ کی۔ایک تو وہ جو ندیم ہائے دیرینہ تھے اور راز دارانِ شب و روزینہ، پتہ نہیں انہیں کیا جلدی تھی کہ قریباً سب کے سب ہی موت کا جام چڑھا گئے۔اب
مزید پڑھیے


مکالمہ

هفته 16 مئی 2020ء
سجا د جہانیہ
انسان جب موت کو لبیک کہتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ وہ کہاں چلا جاتا ہے؟ یہ ایسے سوال ہیں جن کے جواب انسانی عقل و دانش ایک مدت سے تلاش کررہی ہے۔ اتنے طویل علمی سفر کے بعد تین چار بڑے بڑے نظریات سامنے آئے ہیں۔ ایک تو مذہبی ہے جو زرتشت سے لے کر ادیان ابراہیمی تک مماثل چلا آتا ہے کہ دنیا دارالامتحان ہے، یہاں اپنے عمل سے جو لکھا اس کے نتائج ایک خاص دن کو نکلیں گے جب پھر سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا اور پھر جنت یا جہنم کی مکانیت میں ایک
مزید پڑھیے


گر قبول افتد…

جمعه 08 مئی 2020ء
سجا د جہانیہ
یہ سطریں آپ کی نظروں کا التفات پاتی ہیں تو رمضان اپنا نصف سفر مکمل کرچکنے کو ہے۔ ایک اور رمضان بیت جانے کو ہے اور میں اپنا گریبان کھولے اندر جھانکتا ہوں۔ یہ سینہ کبھی بے بال تھا‘ پھر اس کے مساموں سے بال پھوٹے اور اب تو ان بالوں کو وقت کی دھوپ سہتے اتنی مدت ہوگئی کہ ان میں سے اکثر کا رنگ زائل ہوکر سفید پڑگیا ہے مگر اس ڈھیر سارے دورانیے میں آنے والے اتنے سارے رمضان ہائے کی وہ قدر مجھ سے نہ ہوسکی جو ان کا حق تھا۔ میں تو بی بی رابعہ
مزید پڑھیے


اعتماد کا قتل

جمعه 01 مئی 2020ء
سجا د جہانیہ
سنتے ہیں کہ کبھی مادرسری نظام ہوا کرتا تھا کہ جس میں عورت حکمراں تھی اور مرد محکوم. ہوتا ہوگا، مگر معلوم تاریخ یہی بتاتی ہے کہ مرد کا ہر روپ جبر سے عبارت ہے۔ خاوند، باپ، بھائی سب کے سب استحصالی اور مفاد پرست۔ ان کے استحصال کا سب سے بڑا نشانہ ہے عورت۔ زور زبردستی سے، جذبات کے بل پر بلیک میل کر کے استحصال کیا جاتا ہے۔ تاہم جہاں ذکر انسانی رویوں کا ہو تو کوئی بھی نتیجہ صد فی صد نہیں ہوتا، اکثریت کے رویوں کو سامنے رکھ کر نتائج مرتب ہوا کرتے ہیں۔ سبھی مرد
مزید پڑھیے



کورونا، لاک ڈائون اور اذانیں

جمعه 24 اپریل 2020ء
سجا د جہانیہ
ملک میں لاک ڈائون کو ایک ماہ پورا ہوچکا ہے۔ پہلے بھی ایک کالم میں عرض کیا تھا کہ لگتا ہے جیسے پوسٹ کورونا دنیا اور طرح کی ہوگی۔ ہوسکتا ہے برس دو برس میں اس کا علاج دریافت ہوجائے اور علاج کی نوبت کو پہنچنے سے بچنے کے لئے ویکسین بھی بن جائے مگر اس وقت تک ہم پچھلا طرز زندگی شاید بھول چکے ہوں۔ ایک بے لمس دنیا ہماری منتظر ہے۔ جان دار ہوں گے، شجر وحجر بھی اور انسانی ہاتھوں سے تراشی ہوئی دیگر اشیا بھی مگر حضرت انسان کو عطا کردہ پانچ ظاہری حسوں میں
مزید پڑھیے


ہم بڑے ہوگئے

جمعه 17 اپریل 2020ء
سجا د جہانیہ
مسکراہٹ‘ تبسم‘ ہنسی‘ قہقہے سب کے سب کھوگئے ہم بڑے ہوگئے ذمہ داری مسلسل نبھاتے رہیں بوجھ اوروں کا خود ہی اٹھاتے رہیں اپنے دکھ سوچ کر روئیں تنہائی میں محفلوں میں مگر مسکراتے رہیں کتنے لوگوں سے اب مختلف ہوگئے ہم بڑے ہوگئے اور کتنی مسافت ہے باقی ابھی زندگی کی حرارت ہے باقی ابھی وہ جو ہم سے بڑے ہیں سلامت رہیں ان سبھی کی ضرورت ہے باقی ابھی جو تھپک کر سلاتے تھے خود سوگئے ہم بڑے ہوگئے‘ ہم بڑے ہوگئے آج کے کالم کا آغاز جس اداس کردینے والی نظم سے ہوا ہے‘ یہ مجھے ایک خاتون نے واٹس ایپ کی ہے۔ جب آگے کی نسل دنیا میں اتر آئے اور
مزید پڑھیے


اللہ کریسی چنگیاں

پیر 30 مارچ 2020ء
سجا د جہانیہ
مجھے نہیں پتہ کہ قضا و قدر بارے آپ کے خیالات کیا ہیں اور قسمت، نصیب ایسی اصطلاحات پر آپ کس قدر یقین رکھتے ہیں۔ تاہم میں نصیب کو مانتا ہوں۔ یہ مجھے میرے تجربات نے سکھایا ہے۔ ہمارے ایک کالم نگار دوست کا تو فتویٰ ہے کہ انسان سب کچھ کتابوں سے سیکھتا ہے اور تمام مسائل کی جڑ کتابوں سے لاتعلقی ہے۔ تاہم میرا خیال ہے کہ پانچوں حسوں سے انسان علم حاصل کرتا ہے۔ کتاب تو فقط ایک حِس یعنی بصارت کی راہ علم حاصل کرنے کے کئی ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے۔ اچھا چھوڑئیے! آپ
مزید پڑھیے


بدلتا سماج

هفته 21 مارچ 2020ء
سجا د جہانیہ
دفع کریں کروناکو۔سارادن اس موذی بارے سن سن اور پڑھ پڑھ کر سماعت و بصارت سوزش میں مبتلا ہیں۔کرونا بارے اتنی آگہی ہم پر انڈیلی جاچکی ہے کہ اب مزید ضرور ت نہیں۔بستی دُھپ سڑی سے لے کر ڈیفنس کے تمام فیزوں تک سبھی کو پتہ ہے کہ کیا احتیاطی تدابیر کرنی ہیں اور کیوں کر اس سے بچنا ہے۔ پچھلے کسی کالم میں لکھا تھا کہ چائے خانوں ، بیٹھکوں ، تھڑوں ، سبزہ زاروں میںمجلس آرئیوں کی شاید یہ آخری صدی ہے۔ تب یہ بات کسی اور تناظر میں لکھی تھی لیکن اب کرونا کے دم قدم سے
مزید پڑھیے


دائرے میں گھومتی کامیابی

پیر 16 مارچ 2020ء
سجا د جہانیہ
ایک دائرہ ہے‘ کولہو یا خراس میں جتے بیل کے چلنے والے راستے جیسا۔ اگر مہلت میسر ہو تو دائرہ تمام کرو اور وہیں پہنچ جائو جہاں سے چلے تھے۔ اگر جو چکر پورا کرنے کا موقع نہ ملے تو وہیں راستے میں کہیں ڈھے جائو اور وقت کے دھارے سے باہر جاپڑو۔ اسی کا نام زندگی ہے‘ دائرے میں کیا جانے والا پینڈا۔ پرکاربند ہوتودونوں بازو باہم جڑے ہوتے ہیں۔ پرکار کھولتے چلے جائیے‘ بازئوں میں دوری بڑھتی جائے گی مگر تین سو ساٹھ ڈگری کاز اویہ گھوم کر دونوں بازو پھر سے آن ملیں گے۔ سورۃ النحل کی
مزید پڑھیے