BN

سعدیہ قریشی


ویژن اور خواب سے عاری ادارے


میرا بیٹا‘چوتھی جماعت میں 18ویں صدی کے انگلش کلاسیک جوناتھن سوئفٹ کا شاہکار ناول پڑھ رہا ہے۔ اصل کلاسیک ناول کو انتہائی مختصر اور آسان ترین زبان میں منتقل کر کے یہ بچوں کے لئے خاص طور پر Condensed Versionبنایا گیا ہے۔ جوناتھن سوئفٹ کو میں نے ایم اے میں پڑھا تھا۔ مگر انگریزی میڈیم سکولوں میں یہ جونیئر کلاسوں میں مختصر اور آسان صورت میں نصاب کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس اردو زبان کا کوئی کلاسیک ناول‘ لکھاری شاعر ان بچوں کے نصاب کا حصہ نہیں۔ یہ بچے جوناتھن سوئفٹ اور شیکسپیئر کو تو جانتے ہیں
اتوار 28 فروری 2021ء

ہنر‘حِس جمالیات‘ تخلیقی صلاحیتیں اور احساس کمتری

جمعه 26 فروری 2021ء
سعدیہ قریشی
وہ ستر برس کی ایک بوڑھی عورت تھی۔ ہاتھ میں کڑھائی والا فریم‘ فریم میں سفید رنگ کا کپڑا کسا ہوا تھا اور وہ سرخ رنگ کے دھاگے کے ساتھ اس پر سٹرابری کا نقش بنا رہی تھی۔میں نے بہت عرصے کے بعد کسی خاتون کو اس طرح کشیدہ کاری کرتے دیکھا تھا۔بچپن کی یادوں میں ایسے کئی منظر محفوظ ہیں۔ مگر اتنے برسوں کے بعد میں نے بچپن کا یہ بھولا بسرا منظر امریکہ کے شہر ڈیلس میں جان ایف کینیڈی میوزیم کی داخلی لابی میں دیکھا تھا۔ جہاں ایک طرف استقبالیہ ڈیسک پر کچھ خواتین بیٹھی تھیں اور ساتھ
مزید پڑھیے


آئیں سوشل میڈیا پر مثبت ٹرینڈز دیں

جمعرات 25 فروری 2021ء
سعدیہ قریشی
گزشتہ کالم بعنوان ’’بے تکے ٹرینڈز اور ذہنی پسماندگی‘‘ چھپنے کے بعد جو فیڈ بیک آئی اس سے اندازہ ہوا کہ اس موضوع پر مزید لکھنا چاہیے۔کہا گیا کہ سوشل میڈیا ٹرینڈز تو پوری دنیا میں بنتے ہیں اور فالو کئے جاتے ہیں‘ محض اس بنیاد پر ہم اپنے لوگوں کو تنقید کا نشانہ نہیں بنا سکتے۔ بات درست ہے‘ سوشل میڈیا ٹرینڈز پوری دنیا میں بنتے ہیں اور لوگ سوشل میڈیا پر اسے فالو کرتے ہیں۔ ان میں کچھ انتہائی مثبت ٹرینڈز ہوتے ہیں اور کچھ بے کار کے بے تکے رجحانات۔ کالم میں جن پر بات ہوئی وہ بے
مزید پڑھیے


بے تکے ٹرینڈز اور ذہنی پسماندگی

اتوار 21 فروری 2021ء
سعدیہ قریشی
معاشرہ ذہنی پسماندگی کی حالت میں ہے۔ مگر ہم یہاں ہمہ وقت سیاست کا رونا روتے رہتے ہیں۔خبر نہیں کہ ہم ذہنی پسماندگی اور اندھا دھند نقالی کی اس سطح تک کیسے پہنچے کہ سوشل میڈیا پر ابھرنے والے جاہلانہ ٹرینڈز ہمارا طرز حیات بنتے جاتے ہیں۔جس ٹرینڈ میں جتنی عقل و شعور کی کمی ہو گی خیر سے ہمارے لوگوں کو اتنا ہی بھائے گا۔ مجھ جیسے جو سوشل میڈیا پر موجود ہو کر بھی اس کے ہر نئے رنگ میں رنگے جانے سے کچھ شعوری اور غیر شعوری طور پر گریز کی کیفیت میں رہتے ہیں۔ انہیں اس بے
مزید پڑھیے


چار اُجڑی مائیں اور وفاقی محتسب برائے ہراسانی

جمعه 19 فروری 2021ء
سعدیہ قریشی
جس رات شہر اقتدار کی چمچماتی سڑک پر ایک بدمست تیز رفتار لینڈ کروزر نے مہران گاڑی میں سوار چار غریب نوجوانوں کو روند ڈالا۔ اس سے اگلے روز وفاقی محتسب برائے ہراسانی کشمالہ طارق نے ایک پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے بطور خاص سیاہ رنگ کا ماتمی لباس زیب تن کیا اور انتہائی غمگین لہجے میں میڈیا کے سامنے وضاحت پیش کی کہ اس بدمست لینڈ کروزر کو چلانے والا ان کا صاحبزادہ ہرگز نہیں تھا اور یہ کہ انہیں چار نوجوانوں کی موت پر دلی افسوس ہے اور یہ کہ جس گاڑی سے یہ حادثہ سرزد ہوا وہ
مزید پڑھیے



ہم زاہد ڈار کو آئیڈیلائز نہیں کرسکتے!!

جمعرات 18 فروری 2021ء
سعدیہ قریشی
زاہد ڈار اپنے آپ سے بچھڑا ہوا‘ دنیا کی بھیڑ میں گم‘ زندگی سے ناراض‘ مسلسل ذہنی کرب سے گزرتا ہوا ایک ایسا کردار تھا جس پر جون ایلیا کا یہ شعر صادق آتا ہے: میں بھی بہت عجیب ہوں‘ اتنا عجیب ہوں کہ بس خود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیں!! کتاب اس کا عشق نہیں‘ اس کی پناہ گاہ تھی۔ رزم گاہ حیات میں وہ شکست خوردہ سپاہی تھا جو اپنے ہی سوالوں کے تیروں سے زخم زخم تھا۔ کائنات‘ زندگی‘ عدم‘ وجود‘ ہونا نہ ہونا کے ہزارہا سوالوں کی کاٹ دار شمشیریں ہمہ وقت اس کے وجود پر تنی
مزید پڑھیے


دھیمی‘ قناعت پسند اور قدامت بھری فضا

اتوار 14 فروری 2021ء
سعدیہ قریشی
حیرانی عطا تارڑ کی اچانک گرفتاری اور رہائی پر نہیں بلکہ اس مضحکہ خیز جھوٹ پر ہے جو سرکاری ترجمانوں نے اس صورت حال پر بولا۔ کہا کہ عطا تارڑ خود ہی پولیس وین میں بیٹھ گئے تھے اور پھر خود ہی تھانے پہنچ گئے۔ کمال ہے صاحب کمال ہے۔ ایسا خود کار نظام ہے کہ مقتول خود ہی قاتل کی گولیوں کے سامنے آ جاتا ہے اور لٹنے والا خود ہی ڈاکوئوں کے ہاتھوں لٹ جاتا ہے۔ عوام بھی خود ہی مہنگائی کے ذمہ دار ہیں۔ آخر انہیں سبزیاں‘ دالیں‘ گھی‘ گوشت خریدنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی
مزید پڑھیے


Things are falling a parts

جمعه 12 فروری 2021ء
سعدیہ قریشی
شاہراہ دستور پر دستور کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ریاست کے بچوں نے ریاست ماں کا بھیانک چہرہ دیکھا۔ شہر اقتدار میں اپنے دکھوں کی چارہ گری کے لئے آئے ہوئے پاکستانی شہریوں کے ساتھ جس طرح کی بدسلوکی کی گئی یہ سیاسی اور انتظامی زوال کا افسوسناک اور شرمناک مظاہرہ تھا۔ احتجاج کرنے والے کون تھے تنخواہ دار سرکاری ملازمین، قوم کے بچوں کو تعلیم دینے والے قابل احترام اساتذہ تھے۔ انتہائی کم تنخواہ پر کئی طرح کی خدمات سرانجام دینے والی لیڈی ہیلتھ ورکرز تھیں۔ خبر ہے کہ ان میں سٹیل مل کے ملازمین بھی تھے ۔پی آئی اے‘
مزید پڑھیے


ہر روز تصویر میں رنگ بھریں

اتوار 07 فروری 2021ء
سعدیہ قریشی
سال 2021ء کے دوسرے مہینے کا پہلا اتوار ہے۔ چھٹی ہے معمول کے کاموں سے فراغت ہے تو کیوں نہ ان ارادوں کے بارے میں سوچیں جو ہم نے نئے سال کے آغاز میں پہلی جنوری کے نئے نویلے‘ دن اپنے دل سے باندھے۔ ڈائری میں لکھے یا پھر یونہی کاغذ پر ایک فہرست بنا کر اسے کسی کتاب میں رکھ چھوڑا تھا۔ کیا پلٹ کر آپ نے ان ارادوں کو دیکھا ان وعدوں پر نگاہ ڈالی،جو آپ نے خود سے کئے تھے۔ ان خوابوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں کچھ دیر دیکھا‘ جن کی تعبیر حاصل کرنے
مزید پڑھیے


’’مجسمہ ساز مالیوں‘‘سے تازہ ترین گفتگو!

جمعه 05 فروری 2021ء
سعدیہ قریشی
شاعر مشرق علامہ اقبال کے جس مضحکہ خیز مجسمے نے سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ بپا کیا اسے بالآخر ہٹا دیا گیا ہے۔ پارک کے جس پھولوں بھرے قطعے میں یہ دیو ہیکل مجسمہ بنایا گیا تھا۔ وہاں پی ایچ نے پارک کے چند مالیوں کی ڈیوٹی لگا رکھی ہے کہ ہر سوال کرنے والے کو اس پیرائے میں جواب دینا ہے۔آج صبح واک کرتے ہوئے اس قطعے کی جانب گئے تو دیکھا وہاں کچھ مالی موجود ہیں‘ ایک کے ہاتھ میں گھاس سے خشک پتے صاف کرنے والا لمبا سا جھاڑو ہے۔ دو تین مالی پھولوں کی کیاری کی
مزید پڑھیے