سعدیہ قریشی


ترو تازہ ذائقے کا کالم


لکھنے کو یوں تو بہت کچھ ہے۔ اخبار کی خبریں‘ حادثوں اور سانحوں سے بھریں ہیں ٹی وی چینلز کی بریکنگ نیوز‘ سیاسی اور سماجی محاذ سے کوئی ایسی خبر نہیں لاتی جس سے سماعت کو قرار پہنچے حالات کی وہی یکسانیت ہے۔ وہی مسائل کے عفریت منہ کھولے کھڑے ہیں اور وہی تلخ حقیقتوں کا سامنا ہے کہ جن کو لکھتے لکھتے کبھی اعصاب شل ہونے لگتے ہیں اور رائیگانی کا احساس بڑھنے لگتا ہے۔تو کیوں نہ آج ’’حالات حاضرہ کی سنگینی‘‘سے ہٹ کر کچھ تروتازہ باتیں کر لی جائیں۔ آج ہم دنیا کو بچوں کی نظر سے دیکھنے کی
اتوار 20  ستمبر 2020ء

اور شہر چپ رہا…!!

جمعه 18  ستمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
ہمارے اندر مفادات ‘خوف اور خدشات کے بہت سے فلٹر لگے ہوتے ہیں۔ زندگی کے معاملات‘باتیں‘ اتار چڑھائو‘ حتیٰ کہ سماجی ایشو بھی اسی فلٹر سے گزر کر ہماری سوچ کی ورکشاپ تک پہنچتے ہیں اور پھر اس کے مطابق ہم اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔جو مسائل‘جو سانحے‘ جو حادثے ہماری زندگیوں سے مطابقت نہ رکھتے ہوں‘ ہمارے نظریات کے مطابق نہ ہو‘وہ ہم پر اپنا کم اثر چھوڑتے ہیں۔ جبکہ وہ مسائل اور ایشو جو ہماری زندگیوں سے جڑے ہوں۔یا مستقبل میں ہمیں ان سے متاثر ہونے کا خدشہ لاحق ہو ،اس پر ہم اپنا شدید ردعمل ظاہر کرتے
مزید پڑھیے


معذرت! میں ہجوم کا حصہ نہیں بن سکتی!

اتوار 13  ستمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
المیہ کوئی ایک تو ہے نہیں کہ جس کا رونا رویا جائے۔ المیہ یہ بھی ہے کہ کسی بھی سانحے کے بعد عوام سے لے کر میڈیا تک میں غم و غصے کا جو طوفان اٹھتا ہے وہ بے سمت او رلایعنی ہوتا ہے۔ بظاہر بحث و مباثحے کے ڈھیر لگے ہیں۔ ایک پروگرام کے بعد دوسرے پروگرام میں تواتر سے اسی سانحے کا تذکرہ ہے۔ سوالات میں جوابات ہیں۔ پرائم ٹائم کے پروگراموں میں ممتاز اینکر پرسن اپنے ممتاز مہمانوں کے پینل کے ساتھ اس معاملے کی گتھیاں سلجھانے میں مصروف ہیں۔ دھڑا دھڑ نشر ہوتے ہوئے بلیٹن ہیں۔ فالو
مزید پڑھیے


بدامنی اور بربریت کی انتہا۔!!

جمعه 11  ستمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
کاغذ اور قلم اپنے سامنے رکھے۔ کب سے اس سوچ میں ہوں کہ کیا لکھوں۔ کالم نگاری کے نام پر روز صفحے سیاہ کرتی ہوں، روز حکمرانوں کی بے حسی اور نااہلی کا ماتم کرتی ہوں، روز اس سماج کے زوال کا نوحہ پڑتی ہوں لیکن وحشت ہے کہ یہاں بڑھتی جاتی ہے۔ایک سانحہ ہوتا ہے، اس کا ماتم اس کا نوحہ ابھی لبوں پر ہے کہ اس سے بڑا سانحہ وقوع پذیر ہو جاتا ہے۔ مگر آج تو ایسا لگتا ہے کہ غم و غصے سے احساس کے تن بدن میں آگ لگی ہے۔ الفاظ جھلس رہے ہیں،اظہار بیان راکھ
مزید پڑھیے


اس خرابے میں کوئی ہے جو عطاء اللہ کو انصاف دے

بدھ 09  ستمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
23جون 2017ء کی گرم دوپہر، کانسٹیبل عطاء اللہ کوئٹہ کے جی پی او چوک پر بطور ٹریفک سارجنٹ اپنی ڈیوٹی دے رہا تھا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی کہاں تھا کہ وہ چوراہے پر فرائض کی انجام دہی میں مصروف نہیں بلکہ اپنی قتل گاہ میں کھڑا ہے۔ اس کا قاتل، کروڑوں کی لینڈ کروزر پر سوار ایک بدمست ہاتھی کی طرح، اس کے جیتے جاگتے وجود کو روندنے اور کچلنے کے لیے اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس وقت آتی جاتی گاڑیوں کے درمیان کھڑا ہوا کانسٹیبل عطاء اللہ، اپنے چھ بچوں میں
مزید پڑھیے



یوم دفاع پر یہ بھی سوچیں!

اتوار 06  ستمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
گزشتہ دو کالم کراچی کی حالت زار پر لکھے۔ تجزیہ تبصرہ تو نہیں تھا،بس غم و غصہ تھا، جو ایک نثری نوحے کی شکل اختیار کر گیا، مجھے کسی قاری نے ای میل بھی کی۔ آپ نے کالم میں صرف اپنے دکھ اور غصے کا اظہار کیا ہے‘ کوئی تجاویز بھی تو دیں۔ بات یہ ہے کہ جو کچھ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے ساتھ ہوتے ہوئے، ہم نے برسوں دیکھا اور جس تباہی کو دیکھتے ہوئے ،ہم سکولوں سے کالجوں‘ یونیورسٹیوں‘ پھر عملی زندگی کے دشت کی طرف آئے اور آج یہ وقت آ گیا ہے، تو اسے
مزید پڑھیے


کراچی:نامعلوم افراد سے معلوم افراد تک …(2)

جمعه 04  ستمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
نامعلوم افراد کی گولیوں سے ڈرنا اور مرنا کراچی میں بسنے والوں کے شب و روز کا حصہ بن گیا۔ ایسے ہی جیسے کھانا پینا سونا جاگنا روٹھنا اور منانا ہوتا ہے‘ ایسے ہی کسی چوک‘ چوراہے گلی یا بازار میں نامعلوم افراد کی گولیوں سے مر جانا۔ زندگی کے معمولات میں شامل ہوتا گیا۔ معلوم نہیں شہر والے بے حس تھے‘ یا پھر وہ جو اختیار والے تھے جنہوں نے آغاز ہی میں اس ظلم کی بیخ کنی نہ کی۔ اس ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے نہ ہوئے۔ نامعلوم افراد وہ تھے جنہیں سارا شہر جانتا تھا وہ بھی
مزید پڑھیے


کراچی: نامعلوم افراد سے معلوم افراد تک

بدھ 02  ستمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
کراچی کی بربادی کا نوحہ ہر زبان پر ہے۔ بارش کے پانیوں میں ڈوبا ہوا کراچی۔ پانی اتر گیا تو غلاظت بھرے کیچڑ میں لتھڑا ہوا کراچی۔ بارش کے موسم سے پہلے‘ کچرے سے بھرا ہوا کراچی کہ لکھنے والے اسے کچراچی لکھنے لگے۔ میں اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ کراچی کا اصل المیہ اس کا سیاسی کچرا ہے جس نے آج اس شہر بے مثال کو بدبودار کر رکھا ہے۔ بے حس سیاسی جماعتوں اور اہل اختیار و اہل اقتدار کے ہاتھ میں کھلونا بنا ہوا شہر جو کھینچا تانی کرنے والوں کے ہاتھوں سے گرتا ہے‘ ٹوٹتا
مزید پڑھیے


موت رسوا ہو چکی ہے زندگی سجدے میں ہے

اتوار 30  اگست 2020ء
سعدیہ قریشی
آج دس محرم الحرام ہے۔ گھر کی ہر شے سے لے کر شہر کے ہر منظر تک غم‘ سوگواری کی کیفیت ہے‘ غم و حزن کی فضا ہے۔ صدیاں گزریں مگر آج بھی انسان نواسہ رسولؐ کی استقامت اور عظیم الشان قربان پر حیران، آپ کی عظمت کو خراج پیش کرتا ہے۔ شاعر کا قلم آج بھی امام عالی ؑ مقام اور آل نبیؐ کی عظمتوں کو سلام پیش کرتا ہے۔ آئیے واقعہ کربلا کے تناظر میں لکھے گئے لازوال اشعار‘ مرثیے اور نوحے پڑھتے ہیں۔ افتخار عارف کے قلم سے نکلے چند لازوال ا شعار دیکھئے: کربلا کی خاک پر کیا
مزید پڑھیے


ایک قطرۂ خون

جمعه 28  اگست 2020ء
سعدیہ قریشی
کتاب پڑھتے ہوئے‘ مجھے چائے‘ کافی یا ہربل ٹی پینے کی عادت ہے کبھی ساتھ بادام اور کشمش کھاتے رہنا کتاب کے حرف حرف سے لطف اندوز ہونا اچھا لگتا ہے۔ مگر چند روز سے جو کتاب میں پڑھ رہی ہوں‘ اسے پڑھنا‘کتاب ’’پڑھنے‘‘ جیسا عمل نہیں ہے۔ میں اس کتاب کو پڑھنے کے لئے کھولتی ہوں تو کئی زمانے پیچھے چلی جاتی ہوں۔ ایک نیا جہاں، ایک نئی دنیا، میرے اردگرد آباد ہونے لگتی ہے۔ کربلا کی گرم ریت آس پاس اڑنے لگتی ہے۔ پیاسوں کی قدم بوسی کو تڑپتی ہوئی فرات کی لہروں کا شور سنائی دیتا ہے۔ پیاس
مزید پڑھیے