BN

سعدیہ قریشی



غبار خاطر۔ ایک نئے زاویے سے!


غبار خاطر ایک کلاسیک کا درجہ رکھتی ہے، میری پسندیدہ کتابوں میں سے سرفہرست۔ جب بھی اسے پڑھوں کچھ نیا ضرور سیکھتی ہوں۔ ابوالکلام آزاد کا طرزِ نگارش اس قدر رچائو، لطافت اور کیف سے بھرپور ہے کہ نثر پڑھنے کا لطف آ جاتا ہے۔ یہ ان کتابوں میں سے ایک ہے جسے میں اکثر پڑھتی ہوں۔ کل ایک ریفرنس دیکھنے کے لیے دوبارہ سے ابوالکلام آزاد کی اس کلاسیک کتاب کو اٹھایا تو حسب معمول اس کی نثر نے مجھے پھر جکڑ لیا لیکن اس بار غبار خاطر کی ایک انوکھی خوبی میرے سامنے آئی اسی لیے میں نے سوچا کہ
بدھ 18  ستمبر 2019ء

کہاں جیک ما۔ کہاں ہم۔!

اتوار 15  ستمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
پوری دنیا میں ابھی جیک ما(Jack ma)کی انوکھی الوداعی پارٹی کی دھوم ہے جس میں اس نے 80ہزار تماشائیوں کے سامنے میوزک انسٹرومنٹ بجائے۔ گانے گائے اور رقص کیا۔جیک ما کو دنیا علی بابا کے سی ای او کی حیثیت سے جانتی ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی دنیا اسے اس صدی کا سب سے بڑا ای کامرس ویژنری مانتی ہے۔علی بابا کو دنیا کی سب سے بڑی آئن لائن ریٹیلر کمپنی کہا جاتا ہے۔ جیک ما اس کا بانی اور کرزمیٹک شخصیت رکھنے والا ویژنری ہے جو خود کو صرف استاد کہلانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ اس نے 55برس کی
مزید پڑھیے


میرے مزدورو! آئو تبدیلی کا ماتم کریں!

جمعه 13  ستمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
میرے مزدورو! میرے پنجاب کے محنت کشو! تم پہ جائز ہے کہ تم تبدیلی کا ماتم کرو۔ اس لئے کہ تبدیلی کا ہتھوڑا اس بار تمہارے سروں پر گرا ہے۔ کارخانوں کی چمنیوں سے دھواں نہیں تمہارے جلتے خوابوں کی راکھ اٹھ رہی ہے۔ کارخانوں کی دیو ہیکل مشینوں کوچلانے کے لئے تمہارے جسموں کا لہو درکار ہے یہ لہو ان مشینوں کے پہیوں کو چلاتا ہے۔ تو کارخانے چلتے ہیں۔ کارخانہ دار کے بنک بیلنس بڑھتے ہیں۔ لیکن تمہیں تو چند ہزار ملتے ہیں جس سے تم اپنی اور اپنے بچوں کی زندگیاں گھسیٹ رہے ہو۔گارمنٹس فیکٹریوں میں کام کرنے
مزید پڑھیے


کیکٹس میں بدلتا سماج

اتوار 08  ستمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
سماج متشدد رویوں سے چھلک رہا ہے کوئی دن ایسی خبروں سے خالی نہیں جاتا جس میں تشدد سے بھرے رویوں کی وجہ سے حادثوں اور سانحوں کا ذکر نہ ہو۔ ہماری روز مرہ کی آف سکرین زندگی سے لے کر سوشل میڈیا پر دکھائی دیتی ہماری آن لائن زندگی کے عکس تک سب عدم برداشت ‘ کینے اور بغض سے لبریز ہے۔ہماری گفتگو میں الفاظ سے زیادہ طنز کے تیر ہیں اور ہمارے مباحثوں میں دلائل سے زیادہ عدم برداشت کے گھونسے ہیں ہمیں تب تک چین نہیں پڑتا جب تک ہم اپنے مخاطب کو اپنے دلائل کے گھونسوں
مزید پڑھیے


کدی سار وی لئی او رب سائیاں!

جمعه 06  ستمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
ذہنی معذور صلاح الدین قانون کی تحویل میں‘ قوم کے باوردی محافظوں کا ظلم سہتا۔ اس نظام کو منہ چڑاتا ہوا۔ تبدیلی کے نعرے لگانے والوں کو ٹھینگا دکھاتا۔ اس دنیا سے اگلے جہاں سدھار گیا۔ اس کا منہ چڑانا ‘ اس معاشرے کے فرعونوں‘ خود ساختہ خدائوں مدینہ کی ریاست کے نعرے لگانے والے حکمرانوں اور ستر سال سے اس ملک پر حکمرانی کرنے والی طاقتوں کو ایک آئینہ دکھانا تھا کہ لو یہ رہا تمہارا نظام۔ تمہارے انصاف کے معیار قانون‘ آئینی ضابطے اور قاعدے تمہاری پولیس ریفارمز اور تبدیلی کے جھوٹے خواب اور یوٹرنوں کے ڈھیر! آئینہ تو مگر
مزید پڑھیے




ہمزاد: امرتا پریتم اور افضل توصیف

بدھ 04  ستمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
امرتا پریتم کی شخصیت میں کوئی جادو، کوئی طلسم ضرور ہے کہ وہ شخص بھی ان کے سحرمیں گرفتار ہے جس نے باقاعدہ امرتا پریتم کو نہیں پڑھا۔ بس ان کی بے پناہ مقبول پنجابی نظم کے وہی مشہور زمانہ چار مصرعے سن رکھے ہیں جو ہر جگہ بار بار دہرائے جاتے ہیں۔اَج آکھاں وارث شاہ نوں۔ کتوںقبراں وچوں بول! یا پھر کچھ لوگ انہیں ساحر لدھیانوی کے حوالے سے بھی مانتے ہیں کہ ساحر سے امرتا کے عشق کی داستان بھی نہایت افسانوی اور پرکشش ہے لیکن امرتا کی شخصیت اتنی متنوع، تخلیقی کام اتنا ہمہ جہت ہے کہ ایک
مزید پڑھیے


مسز خان کی غلطی اور لنڈے کی فیمیزم

جمعه 30  اگست 2019ء
سعدیہ قریشی
الیکٹرانک میڈیا پر آنے والے سیاسی ٹاک شوز ہوں یا پھر سماجی موضوعات پر ترتیب دیئے جانے والے مارننگ شوز‘ سب بدترین بھیڑ چال کا شکار ہیں۔ کہیں کہیں کوئی استثنا موجود ہو تو کچھ کہہ نہیں سکتی کہ میں نے اب اپنے وقت کو قیمتی جان کر ٹی وی سکرین پر بار بار کے دھراتے ہوئے ٹاک شوز دیکھنا تقریباً چھوڑ دیئے ہیں۔ مارننگ شوز تو زمانہ ہوا نہیں دیکھے۔ لیکن جو بات کچھ متنازعہ ہو وہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے پتہ چل جاتی ہے۔پروگراموں میں بلائے جانے والے مہمانوں کو مدعو کرتے وقت یہ نہیں دیکھا
مزید پڑھیے


اُس روز فیصلوں کے معیار مختلف ہوں گے

بدھ 28  اگست 2019ء
سعدیہ قریشی
کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی نفسیاتی صورت حال اس بے بس ،غریب اورماڑے والدین کی سی ہے جس کی بیٹی کو گائوں کا وڈیرہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر دن دیہاڑے اٹھا کر لے جاتا ہے اور غریب بے چارہ بس دہائیاں دیتا رہ جاتا ہے۔ تھانے کے چکر بھی لگاتا ہے۔ گائوں سے کسی ایک آدھ کی اخلاقی مدد کے بل بوتے پر تھانے میں ایف آئی آر بھی کٹوا لیتا ہے لیکن بات اس سے آگے بڑھتی نہیں۔ گائوں کا کوئی شخص کھل کر اس کا ساتھ نہیں دیتا۔ نہ کوئی کھل کر ظلم کو ظلم
مزید پڑھیے


صحافت اور کالم نگاری کے شوقینوں سے!

اتوار 25  اگست 2019ء
سعدیہ قریشی
’’میں ابلاغیات کا طالب علم ہوں لکھنے کا شوق مجھے رہنمائی کی ضرورت ہے‘‘ ابلاغیات میں ایم اے کیا ہوا ہے لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ مجھے کالم لکھنے کا شوق ہے کبھی کسی سے رہنمائی نہیں کی۔مجھے بھی کالم لکھنے کا شوق ہے کچھ کالم مقامی اخبارات میں چھپے بھی ہیں۔ قومی روزنامے میں کالم لکھنا چاہتا ہوں رہنمائی کریں۔ آپ کو اپنے کالم بھیج رہا ہوں۔ پڑھ کر رائے دیں۔ آپ کو اپنے کالم بھیجے ہیں اپنی اخبار میں جگہ دے کر ممنوں فرمائیں‘‘ اس سے ملتے جلتے مضامین کی ای میل اور دیگر برقی پیغامات کے
مزید پڑھیے


کراچی:کوڑے کے ڈھیر سے سیاسی کچرا کنڈیوں تک!

جمعه 23  اگست 2019ء
سعدیہ قریشی
کراچی شہر کے گلی کوچوں‘ چوکوں‘ چوراہوں اور شاہراہوں پر تعفن بھرے کوڑے اور گندگی کے ڈھیر۔ اس گندی اور بدبودار سیاست کا علامتی مظہر ہیں جس نے کراچی کو کچراچی اور کوڑستان میں بدل ڈالا ہے۔ یوں تو دنیا کے ہر بڑے شہر میں کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانا ایک بڑا اور بنیادی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے 2017ء میں ایک رپورٹ چھاپی کہ دنیا کے تمام بڑے میٹرو پولیٹن اور صنعتی شہروں میں 2025ء تک کوڑا کرکٹ کے ڈھیر ایک خوفناک مسئلہ بن جائیں گے۔ نیو یارک اور بمبئی بھی ان کوڑے کے مسائل سے دوچار
مزید پڑھیے