BN

سعدیہ قریشی


اہل اقتدار کی خوفناک بے حسی


آج کالم لکھنے کا موڑ نہیں ہے۔ایک مایوسی کی سی کیفیت ہے کہ کیا لکھا جائے اور کیوں لکھا جائے۔ اور پھر لکھنے سے کیا فرق پڑے گا۔ کالم لکھنا بھی صحرا میں اذان دینے کے مترادف ہے اور کبھی کیکر پر انگور چڑھانے جیسی تکلیف دہ صورت حال۔ ان کالموں میں روز نوحہ خوانی ہوتی ہے، روز سانحوں اور حادثوں پر اشک بہائے جاتے ہیں۔ بے حس حکمرانوں کی بے حسی کا ماتم کیا جاتا ہے۔لیکن یہ نالہ و فغاں کب کسی اہل اقتدار اور اہل اختیار کی سنگ سماعت میں اترتا ہے۔ میرے سینئر محترم کالم نگار پچاس
اتوار 27  ستمبر 2020ء

بلدیہ ٹائون سانحہ:مکمل انصاف کے منتظر متاثرین

جمعه 25  ستمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
بلدیہ ٹائون فیکٹری میں آگ لگنے کے سانحے کو انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے انسانی تاریخ میں ورک پلیس پر ہونے والا بدترین سانحہ قرار دیا تھا۔ 11ستمبر 2012ء کی اس خونی شام کو سینکڑوں مزدوروں کو بھتہ نہ ملنے کی پاداش میں زندہ جلا دیا گیا۔آٹھ برس تک اس سانحے کے متاثرین‘ قانون اور انصاف کی غلام گردشوں میں انصاف کے لئے بھٹکتے رہے۔ آٹھ برس کے بعد اس کیس کا فیصلہ آیا بھی تو متاثرین خاندان کو مطمئن نہ کر سکا۔ جن کے پیارے ،جگر کے ٹکڑے،گھروں کے کفیل ظلم اور بربریت کی اس آگ میں جل کر راکھ ہوئے۔
مزید پڑھیے


سیاسی مباحث کا نشہ اور عافیہ پر جبر کے17سال

بدھ 23  ستمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
ہمارے معاشرے کی بُنت ہی کچھ ایسی ہو چکی ہے کہ سیاسی ہل چل، خواہ کتنی ہی بے معنی کیوں نہ ہو، سماجی اہمیت کے ہر بڑے اور اہم موضوع کو کھا جاتی ہے۔پھر سیاسی بحث و مباحثے کا وہ طوفان اٹھتا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ سوشل میڈیا سے مین سٹریم میڈیا تک ایک ہنگامۂ ہائو ہوسنائی دیتا ہے، ممکنہ سیاسی امکانات، سیاسی جوڑ توڑ۔ سیاست کی قلابازیاں،اس سیاسی ہل چل کے، آنے والے مستقبل پر اثرات پر قیاس آرائیوں کے گھوڑے دوڑائے جاتے ہیں اور سرپٹ دوڑتے ہوئے یہ گھوڑے اتنی گرد اڑاتے ہیں کہ ہر
مزید پڑھیے


ترو تازہ ذائقے کا کالم

اتوار 20  ستمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
لکھنے کو یوں تو بہت کچھ ہے۔ اخبار کی خبریں‘ حادثوں اور سانحوں سے بھریں ہیں ٹی وی چینلز کی بریکنگ نیوز‘ سیاسی اور سماجی محاذ سے کوئی ایسی خبر نہیں لاتی جس سے سماعت کو قرار پہنچے حالات کی وہی یکسانیت ہے۔ وہی مسائل کے عفریت منہ کھولے کھڑے ہیں اور وہی تلخ حقیقتوں کا سامنا ہے کہ جن کو لکھتے لکھتے کبھی اعصاب شل ہونے لگتے ہیں اور رائیگانی کا احساس بڑھنے لگتا ہے۔تو کیوں نہ آج ’’حالات حاضرہ کی سنگینی‘‘سے ہٹ کر کچھ تروتازہ باتیں کر لی جائیں۔ آج ہم دنیا کو بچوں کی نظر سے دیکھنے کی
مزید پڑھیے


اور شہر چپ رہا…!!

جمعه 18  ستمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
ہمارے اندر مفادات ‘خوف اور خدشات کے بہت سے فلٹر لگے ہوتے ہیں۔ زندگی کے معاملات‘باتیں‘ اتار چڑھائو‘ حتیٰ کہ سماجی ایشو بھی اسی فلٹر سے گزر کر ہماری سوچ کی ورکشاپ تک پہنچتے ہیں اور پھر اس کے مطابق ہم اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔جو مسائل‘جو سانحے‘ جو حادثے ہماری زندگیوں سے مطابقت نہ رکھتے ہوں‘ ہمارے نظریات کے مطابق نہ ہو‘وہ ہم پر اپنا کم اثر چھوڑتے ہیں۔ جبکہ وہ مسائل اور ایشو جو ہماری زندگیوں سے جڑے ہوں۔یا مستقبل میں ہمیں ان سے متاثر ہونے کا خدشہ لاحق ہو ،اس پر ہم اپنا شدید ردعمل ظاہر کرتے
مزید پڑھیے



معذرت! میں ہجوم کا حصہ نہیں بن سکتی!

اتوار 13  ستمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
المیہ کوئی ایک تو ہے نہیں کہ جس کا رونا رویا جائے۔ المیہ یہ بھی ہے کہ کسی بھی سانحے کے بعد عوام سے لے کر میڈیا تک میں غم و غصے کا جو طوفان اٹھتا ہے وہ بے سمت او رلایعنی ہوتا ہے۔ بظاہر بحث و مباثحے کے ڈھیر لگے ہیں۔ ایک پروگرام کے بعد دوسرے پروگرام میں تواتر سے اسی سانحے کا تذکرہ ہے۔ سوالات میں جوابات ہیں۔ پرائم ٹائم کے پروگراموں میں ممتاز اینکر پرسن اپنے ممتاز مہمانوں کے پینل کے ساتھ اس معاملے کی گتھیاں سلجھانے میں مصروف ہیں۔ دھڑا دھڑ نشر ہوتے ہوئے بلیٹن ہیں۔ فالو
مزید پڑھیے


بدامنی اور بربریت کی انتہا۔!!

جمعه 11  ستمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
کاغذ اور قلم اپنے سامنے رکھے۔ کب سے اس سوچ میں ہوں کہ کیا لکھوں۔ کالم نگاری کے نام پر روز صفحے سیاہ کرتی ہوں، روز حکمرانوں کی بے حسی اور نااہلی کا ماتم کرتی ہوں، روز اس سماج کے زوال کا نوحہ پڑتی ہوں لیکن وحشت ہے کہ یہاں بڑھتی جاتی ہے۔ایک سانحہ ہوتا ہے، اس کا ماتم اس کا نوحہ ابھی لبوں پر ہے کہ اس سے بڑا سانحہ وقوع پذیر ہو جاتا ہے۔ مگر آج تو ایسا لگتا ہے کہ غم و غصے سے احساس کے تن بدن میں آگ لگی ہے۔ الفاظ جھلس رہے ہیں،اظہار بیان راکھ
مزید پڑھیے


اس خرابے میں کوئی ہے جو عطاء اللہ کو انصاف دے

بدھ 09  ستمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
23جون 2017ء کی گرم دوپہر، کانسٹیبل عطاء اللہ کوئٹہ کے جی پی او چوک پر بطور ٹریفک سارجنٹ اپنی ڈیوٹی دے رہا تھا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی کہاں تھا کہ وہ چوراہے پر فرائض کی انجام دہی میں مصروف نہیں بلکہ اپنی قتل گاہ میں کھڑا ہے۔ اس کا قاتل، کروڑوں کی لینڈ کروزر پر سوار ایک بدمست ہاتھی کی طرح، اس کے جیتے جاگتے وجود کو روندنے اور کچلنے کے لیے اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس وقت آتی جاتی گاڑیوں کے درمیان کھڑا ہوا کانسٹیبل عطاء اللہ، اپنے چھ بچوں میں
مزید پڑھیے


یوم دفاع پر یہ بھی سوچیں!

اتوار 06  ستمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
گزشتہ دو کالم کراچی کی حالت زار پر لکھے۔ تجزیہ تبصرہ تو نہیں تھا،بس غم و غصہ تھا، جو ایک نثری نوحے کی شکل اختیار کر گیا، مجھے کسی قاری نے ای میل بھی کی۔ آپ نے کالم میں صرف اپنے دکھ اور غصے کا اظہار کیا ہے‘ کوئی تجاویز بھی تو دیں۔ بات یہ ہے کہ جو کچھ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے ساتھ ہوتے ہوئے، ہم نے برسوں دیکھا اور جس تباہی کو دیکھتے ہوئے ،ہم سکولوں سے کالجوں‘ یونیورسٹیوں‘ پھر عملی زندگی کے دشت کی طرف آئے اور آج یہ وقت آ گیا ہے، تو اسے
مزید پڑھیے


کراچی:نامعلوم افراد سے معلوم افراد تک …(2)

جمعه 04  ستمبر 2020ء
سعدیہ قریشی
نامعلوم افراد کی گولیوں سے ڈرنا اور مرنا کراچی میں بسنے والوں کے شب و روز کا حصہ بن گیا۔ ایسے ہی جیسے کھانا پینا سونا جاگنا روٹھنا اور منانا ہوتا ہے‘ ایسے ہی کسی چوک‘ چوراہے گلی یا بازار میں نامعلوم افراد کی گولیوں سے مر جانا۔ زندگی کے معمولات میں شامل ہوتا گیا۔ معلوم نہیں شہر والے بے حس تھے‘ یا پھر وہ جو اختیار والے تھے جنہوں نے آغاز ہی میں اس ظلم کی بیخ کنی نہ کی۔ اس ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے نہ ہوئے۔ نامعلوم افراد وہ تھے جنہیں سارا شہر جانتا تھا وہ بھی
مزید پڑھیے