BN

سعدیہ قریشی


’’عبدالکریم کا بجٹ‘‘


پرسوں محترم سجاد میر نے اپنے کالم کے آغاز میں ایک فقرہ لکھا ’’آج اگر میں بجٹ پر لکھوں تو یہ میرا پچاسواں بجٹ ہو گا‘‘کچھ برسوںکی جمع تفریق کے بعد میں بھی کہہ سکتی ہوں کہ یہ میرا تیرہواں بجٹ ہے جس پر خامہ فرسائی کرنے جا رہی ہوں لیکن اب بجٹ سال میں ایک بار نہیں‘ کئی بار آتا ہے۔ برینڈ ڈ لان کے جوڑوں کی طرح والیم ون، والیم ٹو۔ پھر پری سمر کولیکشن اور سمر کولیکشن کی طرح بجٹ کے بھی سارا سال ان گنت والیم آتے رہتے ہیں۔ اب تو یہ بھی یاد نہیں کہ
پیر 14 جون 2021ء

مثبت رویوّں کی پنیری لگائیں

جمعه 11 جون 2021ء
سعدیہ قریشی
گزشتہ ہفتے‘لکھے جانے والے دو کالم ایک ہی موضوع کا تسلسل تھے۔خیال یہ تھا کہ بات دو کالموں میں پوری ہو جائے گی مگر ہوا یوں کہ موضوع کی جیسے شاخیں نکلتی آئیں اور وہ پھیلتا چلا گیا، جیسے پانی کا آدھا گلاس اگر پرات میں ڈال دیں تو وہی پانی پھیل جائے گا۔ ابھی بات مکمل ہونا رہتی تھی کہ ٹرین کا ہولناک حادثہ ہوا۔ اس حادثے نے میرے قلم کو پکڑا اور ان مسافروں کا نوحہ لکھوایا جو انتظامیہ کی لامحدود نااہلی اور ناقابل بیان بے حسی کی ریلوے لائن پر اپنی زندگی کی بازی ہار گئے اور درجنوں
مزید پڑھیے


ٹرین حادثے کب تک ہوتے رہیں گے؟

بدھ 09 جون 2021ء
سعدیہ قریشی
خوشی سے ان کے ننھے وجود چہک رہے تھے‘ وہ تینوں ٹرین کی برتھ پر بیٹھے ایک خوشگوار سفر کے لیے تیار تھے۔ تین چھوٹے چھوٹے بہن بھائی سندھ سے پنجاب کی طرف سفر کا ارادہ کر کے اپنی ماں اور نانا کے ساتھ گھر سے نکلے تھے مگر ان کے وجود سے پھوٹتی خوشی کی یہ چہک، گھوٹکی کے ریلوے ٹریک پر اس وقت دم توڑ گئی‘ جب پہلے ان کی بوگی الگ ہو کر ریلوے لائن پر الٹ گئی۔ نیند میں گم بچے چیخیں مارتے ہوئے اٹھ گئے‘ ابھی ماں نے سنبھالا ہی نہیں تھا کہ دوسری طرف
مزید پڑھیے


روحانی اور جذباتی بانجھ پن

اتوار 06 جون 2021ء
سعدیہ قریشی
سیون ڈیڈلی سنز (Seven deadly sins) کا تذکرہ گزشتہ کالم میں تھا اور ہم تین انسانی رویوں پر بات کرسکے۔ یا یوں کہہ لیں سات میں سے تین جہنمی گناہوں پر ہلکا پھلکا تبصرہ کرسکے تھے، ورنہ تو ان پر بہت تفصیل سے لکھا جا سکتا ہے کہ کیسے یہ صرف فرد کی انفرادی زندگی کو خزاں آلود نہیں کرتے بلکہ اس کے اثرات فرد سے خاندان اور خاندان سے معاشرے تک پھیل جاتے ہیں۔ ایک ایسی انسانی عادت ہی اس فہرست میں شامل ہے جسے ہم شاید کوئی ایسی جہنمی برائی تصور نہ کرتے ہوں۔ اس کا نام ہے gluttony
مزید پڑھیے


’’سیون ڈیڈلی سن‘‘

جمعه 04 جون 2021ء
سعدیہ قریشی
ہر انسانی معاشرہ‘وہاں بسنے والے انسانوں کی عادات اور رویوں کا عکس ہوتا ہے۔ جہاں انسانوں میں اچھے رویے نیک عادات ہوں گی ۔وہ معاشرہ خوب صورت اور تہذیب یافتہ ہو گا۔وہاں بسنے والے انسان ایک دوسرے کے لئے زحمت نہیں رحمت اور باعث سہولت ہوں گے۔ اس کے برعکس اگر اکثریت کے رویے اور عادات بری ہوں گی تو وہ معاشرہ بدصورت اور بدبودار ہو گا۔ وہاں بسنے والے انسان ایک دوسرے کے لئے تکلیف کا باعث ہوں گے۔ سیون ڈیڈلی سن(seven deadly sin)سات جہنمی گناہ۔ ان کا تذکرہ میں نے پہلی بار کرسٹو فرمارلو کے پلے ڈاکٹر فاسٹس
مزید پڑھیے



نمودو نمائش نہیں،سادگی اور سہولت

بدھ 02 جون 2021ء
سعدیہ قریشی
رات سے موسم مینہ میں بھیگا ہوا ہے۔ صبح بھی ہلکی ہلکی بارش ہوتی رہی۔ سرمئی بادلوں کے دبیز ٹکڑے‘سورج کی کرنوں کو روکے کھڑے رہے۔ایسے میں بادلوں کی چھائوں آس پاس کے منظر کو اور بھی حسین بنا رہی تھی۔ صبح کی چائے پیتے ہوئے‘ اخبار پڑھنا پسندیدہ ترین کام ہے۔ کالم کے لئے حتمی موضوع کا انتخاب بھی صبح کے اخبارات پڑھ کر ہی ہوتا ہے ۔بھلے‘ سارا دن نیوز چینلز کے چیختے، دھاڑتے نیوز اینکرز خبروں کے ہتھوڑے سر پر مارتے رہیں، ہم تو حتی الوسع کوشش کرتے ہیں کہ بار بار کی دھرائی جانے والی خبروں
مزید پڑھیے


ہم سب ایک طرح سے ڈاکٹر فاسٹس ہیں

پیر 31 مئی 2021ء
سعدیہ قریشی
صحرائے چولستان میں سبز نگینے کی طرح آباد، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا بغداد کیمپس، انگلش ڈیپارٹمنٹ کا لیکچر روم، دسمبر کی دھند آلود دوپہر میں اور ڈرامے کی کلاس میں گونجتی ہوئی، پروفیسر ایوب ججہ صاحب کی گھمبیر آواز۔ وہ ہمیں کرسٹوفر مارلو کا لازوال ڈرامہ ڈاکٹر فاسٹس پڑھا رہے ہیں۔ اتنے برسوں کی گرد، اتار کر، یاد کا یہ ٹکڑا اس طرح سے میرے سامنے مجسم تھا جیسے یہ کل کی بات ہو اور پھر اس کے ساتھ جڑی بہت سی خوب صورت یادیں، ماضی کی دھند سے نکل کر میرے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے لگیں۔ الزبیتھین دور کا یہ عظیم
مزید پڑھیے


بھید بھری اقلیم محبت

جمعه 28 مئی 2021ء
سعدیہ قریشی
گیارہ برس پیشتر‘ ٹھیک آج ہی کے دن‘ اٹھائیس مئی 2011ء کو زندگی نے زندگی کو جنم دیا تھا۔ اور میں نے ایک نئی اقلیم محبت پر قدم دھرے تھے۔ یوں لگتا کہ یہ میرا بھی دوسرا جنم ہے۔ بظاہر میں اسے پروان چڑھا رہی تھی مگر درحقیقت‘ وہ اپنے ننھے ہاتھوں سے میرے سالخوردہ وجود کو بے ترتیب کر کے‘ نئے سرے سے بنا رہا تھا۔ میرے اندر کی ساری ترتیب بدل چکی تھی۔ میرے خدوخال ‘ وہی تھے وہی پرانا چہرہ مہرہ تھا۔ مگر اندر محبت کا نیا لینڈ اسکیپ ترتیب پا رہا تھا۔ اس لینڈ اسکیپ سے میں
مزید پڑھیے


جنگ‘ بچے اور سفاک عالمی طاقتیں

بدھ 26 مئی 2021ء
سعدیہ قریشی
وہ سیاہ رنگ کی چمکتی ہوئی طویل دیوار تھی۔ کم و بیش 226 فٹ 19 انچ لمبی۔ پہلی نظر میں دیکھنے پر اس سیاہ دیوار پر کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا‘ ہاں اس کی چمکتی ہوئی سطح پر اپنی ہی شبیہ ابھر آئی۔ جیسے ہم کسی آئینے کے مقابل کھڑے ہوں۔ ذرا سا غور کرنے پر اس دیوار پر لکھے ہوئے نام دکھائی دیتے مگر اس طرح کہ انہیں پڑھنا ممکن نہ تھا۔ یہ ویت نام میموریل وال تھی اور اس پر ویت نام کی جنگ میں مارے جانے والے اٹھاون ہزار امریکی فوجیوں کے نام تحریر تھے۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی
مزید پڑھیے


غم کو طاقت بنانے والا عارف اقبال فاروقی

اتوار 23 مئی 2021ء
سعدیہ قریشی
22 مئی 2020ء عیدالفطر سے ایک دن پہلے۔ ایک عام سا دن طلوع ہوا تھا۔ عارف اقبال فاروقی نے اپنے تین پیارے پیارے بچوں اور محبت کرنے والی بیوی کو لاہور سے کراچی جانے والی پرواز پی کے 8303سے کراچی روانہ کیا تھا۔ دل کا اداس ہونا فطری تھا لیکن اس فطری اداسی میں عارف اقبال کا دل ناجانے کیوں ڈوب ڈوب کے ابھرتا تھا۔ وہ دفتر میں بظاہر کام میں مصروف تھا مگر دل ایک کال کے انتظار پر دھڑک رہا تھا کہ ابھی فوزیہ کی کال آئے گی۔ عارف ہم خیریت سے کراچی پہنچ گئے‘ اس نے گھڑی
مزید پڑھیے








اہم خبریں