BN

سعدیہ قریشی


افشاں لطیف کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے


افشاں لطیف کے سچ نے مصلحت کوشی کی جھیل میں بلا کا ارتعاش برپا کر دیا ہے۔اس نے اس سماج کے طاقتوروں کے خلاف ایک خطرناک سچ بول کر خود کو اس طرح عدم تحفظ سے دوچار کر دیا ہے جیسے چراغ کو تیز آندھیوں کے سامنے رکھ دیا جائے۔مجھے اس کی اس غیر معمولی بہادری پر حیرت ہوتی ہے۔ بہت حیرت۔!! کوئی مصلحت کوش ہوتا تو اسے سمجھاتا۔ چراغ لے کر کہاں سامنے ہوا کے چلے۔ کس سماج میں سچ بولنے جا رہی ہو،افشاں جہاں سچ بولنے پر لوگ معتوب کر دیے جاتے ہیں لیکن افشاں لطیف کا المیہ ہی
بدھ 12 فروری 2020ء

سفید پوش

اتوار 09 فروری 2020ء
سعدیہ قریشی
سفید پوش اپنی زندگی دو دھاری تلوار پر چل کر گزارتا ہے زندگی سے جڑی ان گنت ضرورتیں۔ محدود آمدنی کا عذاب‘سماج میں کم تر سماجی حیثیت کا جان لیوا ادراک‘ اور اس پر عزت نفس کی بھاری گھٹڑی اٹھائے‘ وہ تمام عمر اپنے آپ میں سلگتا رہتا ہے۔ شکر ہے یہاں کسی نے تو سفید پوش طبقے کا ذکر کیا۔ چیف جسٹس جسٹس مامون الرشید نے درست کہا کہ یہ طبقہ تو کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا۔ لنگر نہیں کھاتا۔ معاشرے کا سب سے مظلوم‘ پسا ہوا اور اپنے آپ میں سلگتا ہوا طبقہ یہی ہے جسے ہم سفید پوش
مزید پڑھیے


پاکستانی طالب علم چین میں محفوظ ہیں

جمعه 07 فروری 2020ء
سعدیہ قریشی
یہ پاکستانی طالب علموں کا ایک ویڈیو پیغام ہے جو آپ سب نے بھی یقینا دیکھا اور سنا ہو گا۔ کرونا وائرس سے بچائو کے لئے چہروں پر حفاظتی ماسک چڑھائے ہوئے طالب علموں کا ایک گروپ حکومت پاکستان سے استدعا کر رہا ہے کہ وائرس کے پھیلائو کے بعد وہ اپنے ہوسٹل کے کمرے میں قید ہو چکے ہیں ان کے پاس کھانے پینے کا سامان ختم ہونے والا ہے۔ یہاں چین میں ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ پاکستانی ایمبیسی ان سے تعاون نہیں کر رہی۔ انہیں فوراً پاکستان لے جانے کے انتظامات کئے جائیں۔یہ پیغام اور اس سے
مزید پڑھیے


جبر و استبداد سے آزادی

بدھ 05 فروری 2020ء
سعدیہ قریشی
سری نگر کے اس چھوٹے سے گھر میں چار لوگ رہتے ہیں۔ ایک حفیظہ بی بی‘ اس کا شوہر‘ بیٹی شفیقہ اور اس کا معذور دیور بھی ان کے ساتھ ہی رہائش پذیر ہے۔ 52سالہ حفیظہ بی بی‘ کئی سالوں سے پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر کی مریضہ ہے۔ جسے سائیکاٹری کی اصطلاح میں PTSDکہا جاتا ہے۔ حفیظہ بی بی کی کہانی کشمیر کی دوسری مائوں کی کہانی کی طرح بے حد المناک ہے۔1993ء میں اس کے اکلوتے 13سالہ بیٹے جاوید کو بی ایس ایف کے اہلکار اس وقت گھر سے اٹھا کر لے گئے تھے جب وہ دوپہر کا کھانا
مزید پڑھیے


تارڑ صاحب کے ساتھ ایک بیٹھک

اتوار 02 فروری 2020ء
سعدیہ قریشی
فروری کی پہلی تاریخ جب ہم ماڈل ٹائون پارک پہنچے تو مدھم سنہری دھوپ پارک کے سبزہ زاروں پر اترتی تھی۔ آس پاس کے لوگ ٹریک سوٹوں میں ملبوس یا پھر اپنے شب خوابی کے ملگجے لباس پر موٹی موٹی‘ جیکٹیں چڑھائے‘ جوگرز پہنے صبح کی سیر میں مصروف تھے۔ جگہ جگہ لوگ بنچوں اور کرسیوں پر بیٹھے دھوپ سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ مگر ماڈل ٹائون پارک کا وہ حصہ سارے پارک سے زیادہ پررونق اور آباد دکھائی دیتا تھا جہاں اس عہد کے عظیم فکشن رائٹر مستنصر حسین تارڑ صاحب فروری کی مدھم سنہری دھوپ میں اپنے مداحوں
مزید پڑھیے



کرونا وائرس۔خوف اور موت کا ہیولا

جمعه 31 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
تھوڑے بہت فرق کے ساتھ یہ تصوراتی کہانی آپ نے بھی ضرور اپنے بچپن میں پڑھ رکھی ہو گی کہ کسی شہر میں ایک مخبوط الحواس بوڑھا سائنس دان تھا جو اپنے گھر کے تہہ خانے کی تنہائی میں موجود لیبارٹری میں کوئی خفیہ تجربہ کرنے میں دن رات مصروف رہتا پھر ایک روز اس مخبوط الحواس سائنس دان سے مختلف کیمیائی عناصر کے ملاپ میں سنگین غلطی ہو جاتی ہے اور اس کی لیبارٹری میں ان کیمیائی عناصر کے ملاپ سے ایک عجیب غریب مخلوق پیدا ہوتی ہے اب وہ سائنس دان اس نئی عفریت کو پھیلنے سے روکنے
مزید پڑھیے


موسمِ سرما کا عاشق

بدھ 29 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
چند روز سے جنوری کی دوپہریں،گلابی دھوپ کی حدّت سے آسودہ ہونے لگی تھیں۔ سردیوں میں دھوپ نکل آئے تو اس کا سواگت خاص مہمان کی طرح کیا جاتا ہے اور کمروں کی یخ بستگی سے نکل کر باہر دھوپ میں بیٹھنا اور ساتھ اخبارات کا مطالعہ کرنا، کینو کھانا ایک مکمل تھراپی جیسا عمل ہے۔ دھوپ میں موجود ہیلنگ پاور، تھکے ہوئے جسم ہی کو نہیں بلکہ سوچوں کو بھی ایک نئی توانائی دیتی ہے۔ اب دو روز سے گلابی دھوپ پھر سے روٹھی ہوئی ہے، دوپہریں تو ہوتی ہی نہیں۔ بس ایک یخ بستہ دِن چڑھتا ہے اور شام ڈھلے
مزید پڑھیے


کیا انہیں موت کا الہام ہو گیا تھا

اتوار 26 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
یہ کالم میں 24جنوری 2020ء کو لکھ رہی ہوں‘ پورے دس برس بیت گئے دو ہزار دس کے 24جنوری کو‘ جب ارشاد احمد حقانی اس فانی دنیا سے اگلے جہانوں کو رخصت ہوئے۔ مجھے آج بھی یہ بات حیران کر دیتی ہے کہ آخر ان کو اپنی موت کا الہام کیسے ہو گیا تھا اور چار چھ مہینے پہلے سے انہوں نے باقاعدہ اپنی رخصتی کی تیاری شروع کر دی تھی۔ حالانکہ وہ بستر سے لگے ہوئے ایسے بیمار نہ تھے۔ صحت کے اتنے ہی مسائل ان کو بھی تھے جو اسی سال کے کسی بھی بزرگ کو عمومی طور
مزید پڑھیے


زندگی اور موت کے فاصلے پر پڑی دو تصویریں

جمعه 24 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
دو تصویریں ساتھ ساتھ تھیں اور ایک ہی نظر میں ’’نظر‘‘ سے گزرتیں تھیں۔ مگر دونوں میں زندگی اور موت کا فاصلہ تھا۔ پہلی تصویر میں اسے دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے بہار کا کوئی اولین نقش ہو۔حسین پھولوں کے سارے رنگ اس کے معصوم چہرے کے خدوخال میں دکھائی دیتے۔ وہ حقیقت میں آسمانوں سے اتری کوئی ننھی پری لگ رہی تھی۔ جس کے فرشتوں جیسے پاکیزہ وجود کی حفاظت اور رکھوالی کا ظرف زمین والوں کو نہ تھا پہلی تصویر میں اس کا روشنی جیسا چہرہ زندگی کے سارے امکانات سے بھرا ہوا تھا۔ آنکھوں میں خوابوں
مزید پڑھیے


غریب ترین یا قریب ترین!

بدھ 22 جنوری 2020ء
سعدیہ قریشی
پہلے گھر کی بیگم صاحبہ اور گھریلو ملازمہ کے درمیان ایک مکالمہ پڑھ لیجیے۔ کام کا موضوع اسی مکالمے سے نکلے گا۔ رشیداں ماسی: باجی، کل میرے گھر چٹکی آٹا بھی نہیں تھا، نہ کوئی پیسا دھیلا نہ پوچھیں کہ کیسے کہیں سے ادھار پکڑا اور پانچ کلو آٹا خریدا۔ بیگم صاحبہ: رشیداں ابھی پندرہ دن پہلے تمہیں دس کلو آٹا کا توڑا لے کر دیا ہے ختم بھی ہو گیا؟ بیگم صاحبہ حیرت سے گویا ہوئیں۔ رشیداں ماسی: باجی ہم غریبوں نے تو صرف روٹی ہی کھانی ہوتی ہے اور تو کچھ ہوتا نہیں۔ آپ لوگ تو ڈبل روٹی، کیک، پھل فروٹ
مزید پڑھیے