BN

سعدیہ قریشی



ادھورے وجود میں پورا انسان


یہ میں ہوں۔ سرخ ‘ نیلے‘ پیلے‘ گلابی میک اپ کی بتوں کے پیچھے میں نے اپنا اصل چہرہ چھپانے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ میں نے اپنے نسوانی چہرے کے اوپر اگتی مونچھوں کے سرمئی رنگ کو دنیا کی نظروں سے چھپانے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔ لیکن میرے نسوانی وجود میں۔ مردانہ آواز۔ میرا بھید کھول دیتی ہے۔ میں اسی طرح کے عجیب و غریب تضادات کا مجموعہ ہوں۔آدھی عورت۔ آدھا مرد۔ اور پتہ ہے اس آدھی عورت اور آدھے مرد کا مطلب ہے نہ میں عورت ہوں‘ نہ مرد۔ میری زندگی اس ادھورے پن کے صحرا کو
جمعه 05 اکتوبر 2018ء

مکھی مچھر کی طرح مرتے بچے

بدھ 03 اکتوبر 2018ء
سعدیہ قریشی
بس کچھ دنوں کا وقفہ پڑا تھا درمیان میں کہ کراچی سے امل اور اقصیٰ کے مرنے کی خبریں پے درپے آئیں۔ حادثے کے سیاق و سباق میں تھوڑی بہت تبدیلی نظر انداز کر دیں تو دونوں کے مرنے کی وجہ ایک ہی ہے۔ دونوں کا قاتل بھی ایک ہی ہے۔ اور دونوں کے والدین کے لیے دکھ کا صحرا بھی ایک ہی جتنا طویل ہے! اقصیٰ اور امل کا کراچی جیسے کاسمو پولیٹن شہر میں اندھی گولی کا نشانہ بننا اور پھر زندگی ہار جانا اس پورے نظام کی شکست ہے۔ یہ نظام جو اقصیٰ اور امل کے بڑوں نے
مزید پڑھیے


وارداتیئے

اتوار 30  ستمبر 2018ء
سعدیہ قریشی
کلپٹومینا (Keleptomaina) ایک باقاعدہ نفسیاتی بیماری ہے جس کی تعریف کچھ یوں ہے کہ A recurrent urge to steal, something. سائیکالوجی میں اس بیماری کو Impulse Control Disorder کی کیٹیگری میں ڈالا گیا ہے کیونکہ دوسروں کی چیزیں چوری کرنے کی بیماری میں مبتلا شخص اور بھی کئی طرح کے نفسیاتی عوارض کا شکار ہوتا ہے۔ مثلاً شدید ڈپریشن‘ انزائٹی نیند نہ آنے یا بہت زیادہ کھانے کی بیماری وغیرہ۔ایسا شخص بظاہر صحت مند دکھائی دیتا ہے۔ تمام لوگوں کی طرح سوشلائز بھی کرتا ہے لیکن جہاں اس پر کلپٹومینا کا دورہ پڑ جائے وہ اپنے ساتھیوں دوستوں یہاں تک کہ
مزید پڑھیے


ہجوم میں ایک آدمی۔!!

جمعه 28  ستمبر 2018ء
سعدیہ قریشی
اکتوبر2014ء میں جب پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالا تو ان کا استقبال ایک ایسی فضا نے کیا جہاں ہر طرف بکھرائو‘ الجھائو اور غیر حقیقی صورت حال کا راج تھا۔ پہلی ہی سرکاری میٹنگ میں انہیں بتایا گیا کہ گزشتہ دو برسوں سے یونیورسٹی کے داخلوں کی شرح بہت نیچے آ چکی ہے۔ اگر صورت حال یہی رہی تو یونیورسٹی ملازمین کی تنخواہیں دینے کے قابل نہ رہے گی۔ امیج اس وقت اس کا ادارے کا یہ بن چکا تھا کہ یہ سوئی ہوئی‘ کھوئی ہوئی سی جامعہ تھی۔ جس کی ڈگری
مزید پڑھیے


’’چاچے تائے کے‘‘

بدھ 26  ستمبر 2018ء
سعدیہ قریشی
یہ اصطلاح ہمارے دیہات کے پنجابی کلچر کا حصہ ہے۔ دو بھائیوں کے بچے جو آپس میں چاچا اور تایا کی اولادیں ہیں وہ عموماً یہ اصطلاح استعمال کرتے ہیں ہم آپس میں ’’چاچے تائے کے ہیں‘‘ معنی کے حساب سے یہ تہہ دار اصطلاح ہے کیونکہ اس کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔ حالات و واقعات کے سیاق و سباق کے مطابق ۔سو اس کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارا آپس میں بہت پیار و محبت ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا کہ ہماری آپس میں مقابلہ بازی چلتی ہے۔ اس کا مطلب یہ
مزید پڑھیے




پاکستانی مارکہ جمہوریت اور موروثی سیاست

اتوار 23  ستمبر 2018ء
سعدیہ قریشی
پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں موروثی سیاست کا وجود ایک حقیقت ہے۔ آپ اسے ناپسند کریں‘ جمہوریت کے لیے نقصان دہ سمجھیں‘ بھلے اس کے سخت ناقد ہوں لیکن اس حقیقت کو تسلیم کرنا بھی پڑے گا کہ پاکستان میں خاندانی سیاست یا موروثی سیاست اب ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔ موروثی سیاست کو ہمیشہ سخت تنقید کا نشانہ بنانے والے وزیراعظم عمران خان بھی اس حقیقت کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ کہیں شیخ رشید کا بھتیجا‘ تو کہیں پرویز خٹک کے بھائی اور داماد۔ ٹکٹ کے حق دار ٹھہرتے ہیں۔ عدالت سے نااہل جہانگیر ترین کے
مزید پڑھیے


جہاں عشق ہے وہیں کربلا

جمعه 21  ستمبر 2018ء
سعدیہ قریشی
نائنٹی ٹو اخبار سے وابستہ صحافی اور خوبصورت لب و لہجے کے شاعر سجاد بلوچ کا کیا اچھا شعر ہے ؎ افق پہ چاند محرم کا پھر طلوع ہوا اور اک لکیر پڑی دل کے آبگینے پہ دل کے آبگینے پر پڑنے والی درد کی وہ لکیر یوم عاشور تک ایک گھائو میں بدل جاتی ہے۔ اگرچہ ہم اپنے روز مرہ کے معمول کے کام سرانجام دیتے رہتے ہیں۔ مگر دل کی دنیا میں غم حسینؓ کی حکمرانی رہتی ہے۔ پھر غم حسینؓ کی یہ دلگیر فضا پورے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ نذر نیاز‘ پانی
مزید پڑھیے


پرانی کتاب کی نئی بات

بدھ 19  ستمبر 2018ء
سعدیہ قریشی
پرانی کتابیں‘ پرانی تصویریں‘ پرانی عمارتیں اور پرانے منظر ہمیشہ مجھے آواز دیتے ہیں۔ ان پر موجود گزرے زمانوں کا نقش مجھے ہانٹ کرتا ہے انکے پرانے پن میں ضرور کوئی نئی بات ہوتی ہے سیکھنے کے لیے۔ پرانی کتابیں تو ہمیشہ سے میری پسندیدہ رہی ہیں۔ اولڈ بک شاپس پر فٹ پاتھوں پر یا سڑک کنارے سٹالوں پر سجی پُرانی کتابیں مجھے سال خوردہ بزرگوں کی طرح محسوس ہوتی ہیں جو نئی نسل کو اپنے پاس محبت سے بٹھا کر کوئی رمز بھری بات بتانا چاہتے ہیں۔ بزرگ ہمیشہ ایک انتظار کی کیفیت میں رہتے ہیں کہ کوئی آئے اور
مزید پڑھیے


جی کا جانا ٹھہر گیا تھا۔ بائو جی !!

جمعه 14  ستمبر 2018ء
سعدیہ قریشی
عمر کے شب و روز جوں گرتے تھے کہ بند مٹھی سے ریت کے ذرّے انگلیوں کی درزوں سے نکل نکل کر مٹھی خالی کرتے جاتے: جسم و جان کی دیواریں اینٹ اینٹ کر کے بھرتی چلی جاتی تھیں سمے کا برتن خالی ہوتا جا رہا تھا؍ سماعتوں کی دیواروں سے آوازوں کے پتھر آ آ کے ٹکراتے توقع مگر لب کچھ کہنے کے آزار سے آزاد بس خاموش تھے۔ بائوجی کی آواز کلثوم کی سماعتوں سے ٹکراتی تھی۔ کلثوم ! دیکھو بائوجی ہیں آنکھیں کھولو۔! کلثوم نے مگر نہ آنکھیں کھولیں۔ نہ آواز دی! اس نے روکا بھی نہیں اور میں ٹھہرا
مزید پڑھیے


غربت اور شاندار کامیابیاں

بدھ 12  ستمبر 2018ء
سعدیہ قریشی
15ہزار روپے ماہوار تنخواہ لینے والے فیکٹری کے ایک غریب چوکیدار کے بیٹے نے امتحان میں خوشحال اور امیر گھرانوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں طالب علموں کو شکست دے کر خود پہلی پوزیشن کا تاج سر پہ سجا لیا ہے۔ دوسری پوزیشن بھی گاڑیاں مرمت کرنے والے موٹر مکینک کی بیٹی نے حاصل کر لی اور تیسری پوزیشن ایک ایسی طالبہ نے اپنے نام کی جو یتیم ہے۔ اور غریب گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ کل بی اے اور بی ایس سی کے نتائج کا اعلان ہوا تینوں پہلی پوزیشنیں غریب گھروں کے بچوں نے لے لیں۔ یہ خبریں چونکا دینے
مزید پڑھیے