سعدیہ قریشی



پروفیسر ونڈھم کی میزبانی اور ہم… (2)


ہمارے امریکی میزبان پروفیسر ونڈھم لوپسیکو ‘ یونیورسٹی آف ڈینور میں (global perspective of business)کے استاد تھے اور عالمی منڈی کے سیاسی اور معاشی زاویوں پر گہری نگاہ رکھتے تھے۔ وہ ایک جہاندیدہ‘ کایاں اور کسی حد تک متعصب دانشور تھے۔ اس کے علاوہ وہ ڈینور میں welaکے نام سے ایک کاروباری مشاورت کی کمپنی کے مالک تھے۔ جو دنیا کے دوسرے ملکوں میں کاروبار کرنے کے خواہش مند امریکیوں کو پیشہ ورانہ مدد اور مشاورت دیتی ہے۔ بہرحال پروفیسر ونڈھم نے آغاز میں ہمارے ساتھ پروفیسروں والا رویہ اختیار کرتے ہوئے ہم پر تابڑ توڑ سوالات کرنے شروع کر دیے۔
اتوار 06 جنوری 2019ء

پروفیسر ونڈھم کی میزبانی اور ہم

جمعه 04 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
11دسمبر 2018ء ڈینور کولو روڈو کی ایک یخ بستہ شام تھی اور ہم پروفیسر ونڈھم کے گھر ڈنر پر مدعو تھے۔ انٹرنیشنل وزیٹر لیڈر شپ پروگرام میں یہ ایک ہوم ہوسپٹیلیٹی کا سیگمنٹ تھا جس میں تمام ممبرز کو چار چار کے گروپ میں بانٹ کے کسی امریکی گھرانے میں ڈنر پر جانا تھا۔ یہ ہمارے پروگرام کا بہت دلچسپ حصہ تھا کیونکہ ابھی تک ہم واشنگٹن ڈی سی اور ڈینور کولوروڈو میں مختلف یونیورسٹیوں اداروں اور میڈیا ہائوسز کے وزٹ کر رہے تھے لیکن اس طرح کسی امریکی خاندان کے گھر جا کر ان کے رہن سہن طور طریقوں کو
مزید پڑھیے


With Love From Pakistan

بدھ 02 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
انگریزی اخبارات میں خواتین ایڈیٹرز کی اور بھی کئی مثالیں موجود ہیں۔ کاملہ حیات نامور ایڈیٹر رہی ہیں۔ اس وقت بھی نیوز ان سنڈے کی ایڈیٹر فرح ضیاء ہیں۔ عائشہ ہارون مرحومہ بھی جب امریکہ میں بلڈ کینسر سے زندگی کی جنگ ہاریں تو وہ ایک انگریزی اخبار کی ایڈیٹر تھیں۔ اردو صحافت میں خالدہ یوسف بھی ایسی دبنگ ایڈیٹر رہی ہیں کہ ان کے ساتھ کام کرنے والے ان کی پرفیکشنزم کی عادت سے گھبراتے ہیں۔ ان کے ساتھ کام کرنا ہی اعزاز سمجھتے ہیں۔ یونیورسٹی آف ڈینور کے پروفیسر شان ٹی شیفر پاکستانی صحافت کے اس روشن پہلو کو
مزید پڑھیے


صحافی خواتین ‘ مسائل اور پروفیسر شیفر کی حیرانی!

اتوار 30 دسمبر 2018ء
سعدیہ قریشی
یہ ایکسچینج پروگرام جس کا ہم حصہ بنے اس کا نام انٹرنیشنل وزیٹر لیڈر شپ پروگرام تھا جسے عرف عام میں IVLPکہتے ہیں۔ ہمارا پروگرام خالصتاً پاکستان سے متعلق تھا اور خواتین صحافی اس کا حصہ تھیں۔ اگرچہ اس سے پہلے ہمارے کئی صحافی دوست جو ایکسچینج پروگرام کا حصہ بنے وہ بتاتے ہیں کہ دیگر ملکوں سے بھی نمائندے ان کے پروگرام میں شامل تھے۔ مگر اس بار فوکس صرف پاکستان تھا اور وہ صحافی خواتین جو مختلف الیکٹرانک پرنٹ اور ریڈیو جرنلزم میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں‘ اس لیے گفتگو کے موضوعات بھی انہی سے متعلقہ
مزید پڑھیے


ایکسچینج پروگرام

هفته 29 دسمبر 2018ء
سعدیہ قریشی
امریکہ سے پہلا کالم آنے کے بعد پھر ایک طویل خاموشی چھا گئی۔ بات جو شروع کی تھی وہ وہیں کی وہیں رہ گئی آگے نہ بڑھی۔ بالکل منیر نیازی کی اس نظم کی طرح جس میں وہ اظہار کرتے ہیں کہ۔ پہلی بات بھی آخری تھی۔ اس سے آگے بڑھی نہیں۔ ڈری ہوئی اک بیل تھی جیسے۔ پورے گھر پر چڑھی نہیں!اور بات آگے۔ بڑھنے کی پوری جو بات موجود تھیں۔ امریکہ کی مختلف ریاستوںمیں تین ہفتوں کے قیام کے دوران مصروفیت اس قدر تھی کہ لکھنے کا وقت نہ مل پاتا۔ صبح سے سہ پہر اور کبھی شام
مزید پڑھیے




امریکہ سے پہلا کالم

اتوار 09 دسمبر 2018ء
سعدیہ قریشی
امریکہ سے یہ میرا پہلا کالم ہے۔ اگرچہ خیال یہی تھا کہ جب یکم دسمبر کو ہم واشنگٹن ڈی سی پہنچیں گے تو اگلے روز سے میں اپنا کالم لکھ کر بھیج دوں گی۔ یوں پُرانی روٹین کے مطابق کالم چھپتے رہیں گے۔ خیال یہی تھا کہ امریکہ کے اس سفر میں ہر روز نئے تجربات اور مشاہدات سے گزرتے ہوئے کالم کے لئے موضوع تلاش کرنے کا مرحلہ بھی درپیش نہ ہو گا بلکہ اسی سفر کے تاثرات اور مشاہدات پر کچھ نہ کچھ لکھتی رہوں گی۔ لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس۔ شاید اس لئے کہ جب بہت کچھ
مزید پڑھیے


شکستہ آئینوں میں عکس

جمعه 30 نومبر 2018ء
سعدیہ قریشی
روشان فرخ ‘لاہور کی ایک مہنگی اور ماڈرن یونیورسٹی کی طالبہ تھی۔ لباس سے لے کر رہن سہن تک جسے ہم لائف سٹائل کا نام دیتے ہیں۔ اور گھر سے لے کر یونیورسٹی سب کچھ جدید خوشحالی سے لبریز اور روشن خیالی میں لپٹا ہوا اس سارے منظر نامے میں کہیں بھوک‘ بے چارگی‘ اداسی‘ اور افسردگی کی گنجائش تو نہیں نکلتی۔ تو پھر آخر اسے ایسا کیا ہوا کہ منگل کی صبح وہ اپنے گھر سے یونیورسٹی کے لئے تیار ہو کر نکلی ہے اور وہاں جا کر یونیورسٹی کے چوتھے فلور سے نیچے کود جاتی ہے اس کا
مزید پڑھیے


Little Rats

بدھ 28 نومبر 2018ء
سعدیہ قریشی
وہ ابھی شیر خوار ہے۔ ماں کی گود سے باہر اس نے ابھی دنیا کو دیکھا ہی کہاں ہے۔ ہاں مگر اس کم سنی شیر خوارگی میں اس نے اس دنیا کا جبر اور ظلم ضرور سہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے علاقے شوپیاں کے ایک گائوں کی حباّ نثار۔ جس کی عمر ابھی صرف 20ماہ ہے وہ اس وقت کشمیر پر بھارتی ظلم و جبر کا نیا استعارہ ہے۔ کل جب اس کی تصویر میں سٹریم میڈیا اخبارات ٹی وی چینل اور سوشل میڈیا کی لہروں پر چلتی ہوئی گھر گھر پہنچی تو ہر اہل درد نے اپنے دل میں ایک
مزید پڑھیے


شہیدوں کا سفید پوش گھرانہ

اتوار 25 نومبر 2018ء
سعدیہ قریشی
کراچی کے ایک گنجان آباد علاقے میں جہاں گلیاں تنگ و تاریک اور گھر چھوٹے اور خستہ حال ہوتے ہیں۔ وہاں ایک گھر ایسا ہے جو شہیدوں کا گھرانہ کہلاتا ہے اور ہم شاید اس گھر کی عظیم قربانیوں سے بے خبر بھی رہتے کہ کل اس گھر کے ایک بیٹے نے اس وطن پر اپنی جان قربان کی۔ کانسٹیبل محمد عامر خان جو جمعہ کے روز چین کے قونصل خانے پر ہونے والے حملے میں اپنے فرائض کی ادائیگی میں شہید ہوا۔ وہ اس گھر کا بہادر بیٹا تھا۔ اس سے پہلے اس کے بھائی اور بھتیجا بھی مادر
مزید پڑھیے


پروین عاطف اور فہمیدہ ریاض

جمعه 23 نومبر 2018ء
سعدیہ قریشی
پروین عاطف اور فہمیدہ ریاض دونوں ایک دوسرے کے آگے پیچھے ہی عدم کے سفر کو چل دیں۔ چند دن پہلے پروین عاطف کے جانے کی خبر آئی۔ میں ابھی سوچ رہی تھی کہ ان کے حوالے سے اپنے تاثرات لکھوں کہ چند دوسرے موضوعات اس طرف در آئے کہ کالم حالات حاضرہ کی نذر ہو گیا۔فہمیدہ ریاض کے جانے کی خبر تو آج ہی آئی ہے۔ دونوں خواتین پروگریسو‘ لیفٹیسٹ نظریات کی حامل تھیں۔ معاشرے کے مروجہ رسم و رواج اور طور طریقوں سے بغاوت کا عنصر دونوں کی طبیعت میں موجود تھا۔ لیکن اظہار رائے کے لیے پروین عاطف نے
مزید پڑھیے