BN

سعدیہ قریشی



کڑی کمانیں۔ بے اعتبار ہاتھ!


افتخار عارف کاشعر ہے: کڑی کمانوں کے تیر بے اعتبار ہاتھوں میں آ گئے ہیں دعا نئی تھی تو سو اب یہ خمیازہ اثر بھی نیا نیا ہے! دعا تو نئے پاکستان کی تھی۔ بہتر صورت حال اور اچھے خوابوں کے برآنے کی تھی لیکن آغاز ہی میں یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ کہ ناچاہتے ہوئے بھی نوزائیدہ حکومت کے فیصلوں پر سوال اٹھ رہے ہیں اور کچھ فیصلے تو شدید تنقید کی زد میں رہے ہیں۔ اگرچہ وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے استدعا کی ہے کہ انہیں کام کرنے کے لیے تین مہینے دیدیں اس کے بعد تنقید کریں۔
اتوار 09  ستمبر 2018ء

لہو کی لکیر

جمعه 07  ستمبر 2018ء
سعدیہ قریشی
آج جب یہ کالم لکھا جارہا ہے تو تاریخ ہے چھ ستمبر 2018۔ آج سے 58 سال پیشتر چھ ستمبر 1965ء آیا تھا اور یہ ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا تھا۔ افواج پاکستان، پاکستان کے عام افراد، بزرگ، بچے، عورتیں، مرد سب ایک ہو کر اس وطن کی حفاظت کے جذبے سے سرشار اپنے اپنے ذاتی مفادات اور ضرورتوں کی سطح سے بلند ہو کر صرف اس وطن کے لیے سوچنے لگے۔ ایک ہو گئے، محاذ پر جوانوں اور فوجی افسروں نے لہو گرما دینے والی قربانیاں دی تھیں۔ اپنی قربانیوں کی یاد تازہ کرتی، یہ کتاب میرے ہاتھ میں
مزید پڑھیے


ڈاکٹر یاسمین راشد سے اچھی امیدیں!!

بدھ 05  ستمبر 2018ء
سعدیہ قریشی
گزشتہ کالم ’’گڈ نیوز کلب‘‘ کے حوالے سے لکھا کہ مقصد اس کا یہ تھا کہ ہم اپنی اپنی زندگیوں میں موجود نعمتوں اور اچھی باتوں کا تذکرہ اپنی گفتگو میں شامل کریں زندگی کا روشن پہلو دیکھنے کی کوشش کریں۔ اس پر قارئین کا خوشگوار رسپانس سامنے آیا۔ جنہوں نے اپنی ای میلز میں اس ارادے کا اظہار کیا کہ اب ہم بھی اپنی زندگی میںایک گڈ نیوز کلب کی بنیاد رکھیں گے ۔کسی نے کہا کہ آپ اپنے گڈ نیوز کلب میں ہمیں بھی شامل کر لیں۔ کہنا ان سے یہ ہے کہ اس کا مطلب کوئی فارمل
مزید پڑھیے


گڈ نیوز کلب کی ضرورت

اتوار 02  ستمبر 2018ء
سعدیہ قریشی
یہ مارتھا کی کہانی ہے جو میں نے کسی انسپریشنل کتاب میں پڑھی تھی۔ مارتھا لکھتی ہے کہ وہ ایک پرائیویٹ دفتر میں ملازمت کرتی تھی۔ دفتر کے مالی حالات کچھ اچھے نہیں جا رہے تھے۔ کئی سالوں سے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوا تھا۔ سال میں ملنے والے دو بونس بھی مالی خسارے کی وجہ سے بند ہو چکے تھے۔ ان حالات میں کام کرنے والے کمپنی کے ملازم ہر وقت کڑھتے رہتے اور جونہی لنچ بریک میں کیفے ٹیریا آباد ہوتا بس یہی باتیں شروع ہو جاتیں۔ ہر کوئی اپنے مالی مسائل اور کمپنی کی بے
مزید پڑھیے


قوم کے ڈھول سپاہی تجھے سلام!

جمعه 31  اگست 2018ء
سعدیہ قریشی
29اگست 2018ء کی شام سپاہی مقبول حسین کے خاکی جسم کو اس کے آبائی گائوں مرشد آباد نیریاں کشمیر میں سپرد خاک کر دیا گیا، یہ مٹی تم کو پیاری تھی سمجھو مٹی میں سلا دیا۔ سپاہی مقبول حسین کی زندگی کی کہانی تو بھی صرف اتنی سی کہ ساری عمر وہ مٹی سے وفا نبھاتا رہا۔ اور ایسا آشفتہ سرکہ اس مٹی کی محبت میں وہ قرض بھی اتارے جو واجب بھی نہ تھے اور مٹی کی محبت کا یہ قرض وہ ہر روز 40برس تک اتارتا رہا۔! سپاہی مقبول حسین تو مر گیا مگر وہ ڈھول سپاہی بن کر اب
مزید پڑھیے




خوابوں کی ماند پڑتی تازگی

بدھ 29  اگست 2018ء
سعدیہ قریشی
نئے پاکستان کا خواب دیکھنے والی آنکھوں میں ابھی خوابوں کی تازگی ماند نہیں پڑی کہ تلخ تعبیر کی راکھ اڑنے لگی۔ ابھی وزیراعظم عمران خان کی غیرروایتی اور دل میں اتر جانے والی تاریخی تقریر کی گونج باقی تھی۔ ریاست مدینہ کے طرز حکمرانی کی مثالیں۔ خلفائے راشدین کے انصاف اور مساوات پر مبنی سماج کی شاندار کہانیاں، ابھی روح کو گرماتی سماعتوں میں رس گھولتی تھیں۔سرکاری فضول خرچی اور اسراف کو ترک کرنے کا عہد۔ وی آئی پی کلچر کو دفن کرنے کا عزم، کفایت شعاری سے ملک اور عوام کی خدمت کرنے کا جذبہ، ابھی تو فضا میں دھمالیں
مزید پڑھیے


احمد فراز۔پاکستان کا پابلو نرودا۔!

اتوار 26  اگست 2018ء
سعدیہ قریشی
25اگست 2008ء کو احمد فراز اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔ اور آج جب میں یہ کالم لکھ رہی ہوں 25اگست 2018ء ہے یعنی پورے دس برس بیت گئے ہیں اس شاعر دلنواز کو ملک عدم کو سدھارے۔ لیکن پھر بھی ایسا لگتا ہے جیسے احمد فراز آج بھی ادبی منظر کا حصہ ہوں۔وہ یادوں سے کبھی بھی محو نہیں ہوئے جتنی محبتیں اور دلی وابستگیاں احمد فراز کو اپنی زندگی میں بطور شاعر نصیب ہوئیں دوسرے اس کا خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔ شاید فراز کو اس کا ادراک بھی تھا اسی لیے تو جب وہ اپنے مخصوص انداز
مزید پڑھیے


کھو گئی ہے کہاں سجیلی عید!

بدھ 22  اگست 2018ء
سعدیہ قریشی

ضرورتوں کے پیچھے سر پٹ بھاگتی دوڑتے‘ زندگی کا بوجھ ڈھونے شب و روز عید کی دو چھٹیاں ایسے ہی ہیں جیسے طویل سفر کی تھکاوٹ کے بعد آپ گھر کے مانوس آنگن میں قدم رکھیں۔ اور عید تو ہے ہی ایسا تہوار کہ گھر کے آنگن کو چھوڑ کر پردیس کے دشت میں آئے ہوئے لوگ غم روزگار کی ساری زنجیریں اتار کر گھر واپسی کی راہ لیتے ہیں۔ اپنے شہر‘ اپنے گائوں ‘گوٹھ ‘ گراں‘ بستی۔ قصبوں کے مانوس راستوں پر زندگی اپنی تھکن اتارنے لگتی ہے۔ کسی کو آتش شوق کسی خواب کی تعبیر پانے کے لیے
مزید پڑھیے


رحمن کے مہمان

منگل 21  اگست 2018ء
سعدیہ قریشی
’’رحمن کے مہمان‘‘ حج بیت اللہ کا ایک منفرد اور شاندار سفر نامہ ہے۔ یہ ممتاز صحافی ایڈیٹر اور شاعر محمود شام کے 2017ء میں ادا کئے گئے سفر حج کی روداد ہے۔ لیکن اسے پڑھتے ہوئے قاری ایک عجیب تجربے سے گزرتا ہے۔ وہ صرف شام صاحب کے 2017ء کے سہولتوں سے آراستہ حج کے سفر کی روداد میں ہی شریک نہیں ہوتا بلکہ گزرے زمانوں میں بیتی ہوئی صدیوں کی راہ گزر پر بیک وقت سفر کرتا ہے اور کھٹن حالات‘ سخت مراحل سے گزر کر کئی کئی ہفتوں مہینوں سفر کر کے اللہ کے گھر کی زیارت کو پہنچنے
مزید پڑھیے


’’فصیلِ شہر میں پیدا کیا ہے در میں‘‘

اتوار 19  اگست 2018ء
سعدیہ قریشی
18اگست 2018 اک خواب قریۂ تعبیر میں کِھلا تھا۔! 22برس کی ریاضت اور مسلسل جدوجہد کے بعد بیاض وقت پر عمران خان نیازی۔ وزیر اعظم پاکستان کا نام لکھا جا رہا تھا۔ یہ 22برس کی ریاضت کا انعام تھا یا آزمائش ! اس لیے کہ حکمرانی کسی بھی طور پھولوں کی سیج نہیں ہوتی۔ اللہ کا ایک ایسا انعام جو آزمائش کی صورت انسان کا امتحان لیتا ہے اور اب یہ تاج حکمرانی ہی عمران خان کے لیے ایک آزمائش کا سفر ہے! سیاہ شیروانی میں ملبوس عمران خان جو کل کا کرکٹر تھا اور کرکٹ کے میدان میں جس کے بائولنگ سٹائل کی
مزید پڑھیے