BN

سعدیہ قریشی



''The Situation is Excellent''


پچاس برس کے طویل وقفے کے بعد کشمیر کا لہو رستا مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ بڑوں کے سامنے پیش کیا گیا۔ بے اختیار اس صورت حال پر یہ مصرعہ یاد آیا ۔خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک۔ یا پھر بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے۔ کشمیریوں پر ہونے والے بھارت کے ریاستی جبر و استبداد پر عالمی طاقتوں کی یہ بے حسی ان کی روایت ہے۔ جس پر وہ پابندی سے قائم ہیں۔ اگست 2019ء سے پہلے 1965ء میں مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل کی میز پر موضوع بحث بنا تھا اور اب
اتوار 18  اگست 2019ء

سلیقہ‘ ڈھنگ اور ترتیب سے عاری قوم!

جمعه 16  اگست 2019ء
سعدیہ قریشی
پہلی عید ایسی گزری کہ جس میں دل رفتگاں کی یاد سے زیادہ کشمیریوں کی حالت زار سے بوجھل تھا۔ اگرچہ ہم سینکڑوں میل کے فاصلے پر اپنے اپنے گھروں کی محفوظ پناہ گاہوں اور اپنے دیس کی آزاد فضائوں میں عید قربان منا رہے تھے لیکن دل میں ایسا ملال تھا‘ایسی اداسی تھی عید مبارک کا فون تک کسی کو نہ کیا۔ اس گہری اداسی میں یوں لگتا تھا کہ مظلوم اور ستم زدہ کشمیر میرے دل میں آباد ہو گیا ہو۔ رہ رہ کر یہی خیال دامن گیر ہوتا کہ خدایا‘ کشمیر کے ستم کدے میں عید کیسی ہو
مزید پڑھیے


کشمیر ایشو!احساس جرم ۔ کھوکھلے نعرے

اتوار 11  اگست 2019ء
سعدیہ قریشی
10اگست بروز ہفتہ میں یہ کالم لکھ رہی ہوں ٹھیک ایک روز کے بعد 12اگست کو عیدالضحیٰ ہو گی۔ عید کی آمد پر اس کی تیاریاں ہر گھر میں اپنی اپنی بساط اور معاشی حیثیت کے مطابق ہو رہی ہیں بلا شبہ عید خوشیوں کا تہوار ہے۔ اپنوں کے ساتھ مل بیٹھنے کا تہوار ہے۔ لیکن عید کی خوشیوں کے ان لمحات میں کشمیری مسلمانوں پر ٹوٹی ہوئی قیامت نے احساسات میں عجیب سی بے چینی اور ملال پیدا کر دیا ہے۔ بلکہ ملال کی کیفیت بھی کچھ احساس جرم والی ہے۔ ایک طرف کشمیری نوجوان پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے
مزید پڑھیے


لیرو لیر۔ کشمیر!

جمعه 09  اگست 2019ء
سعدیہ قریشی
کشمیری تو سات دہائیوں سے قسمت کے الٹے توے پر پڑے سلگ رہے ہیں اور ہمارے ان بہن بھائیوں کی زندگی مسلسل سلگتی چلی جا رہی ہے۔ ظلم کی اس الائو میں کبھی بھڑکائو پیدا ہوتا ہے تو کبھی ہلکے ہلکے یہ سلگتا رہتا ہے۔ بجھتا کبھی نہیں۔ امن کے پانیوں کے چھینٹوں کو ترستے ہوئے کشمیری زندگی کو اسی ڈھنگ میں جیتے رہے ہیں۔ ہم اور آپ زندگی کے اس بھیانک رخ کا تصور بھی ذہن میں نہیں لاسکتے اور اگر ہم تصور کرنے کی کوشش کریں کہ ایک ایسی زندگی کہ جو مسلسل موت ‘ عدم تحفظ‘ عصمت
مزید پڑھیے


شام صاحب

اتوار 04  اگست 2019ء
سعدیہ قریشی
صحافت میں آنے سے بہت پہلے شام صاحب سے میرا پہلا تعارف ان کی ایک دل پذیر نظم’’بیٹیاں پھول ہیں‘‘ کے ذریعے ہوا۔ میں اس وقت کالج کی طالبہ تھی اور یہ نظم میں غالباً ایک ڈائجسٹ میں پڑھی تھی جو مجھے بہت اچھی لگی تو اپنی ڈائری میں نوٹ کر لی۔ پھر چند برسوں کے بعد میں ان سے ایک پینل انٹرویو میں ملی۔ میرا نوکری کے لئے زندگی کا پہلا انٹرویو تھا(الحمد اللہ یہی انٹرویو آخری بھی ثابت ہوا کہ اس کے بعد انٹرویو دینے کی ضرورت ہی نہیں پڑی) ایک بڑے اخبار کے ایڈیٹرز کا پینل تھااور محمود شام
مزید پڑھیے




سستی روٹی کا مذاق!

جمعه 02  اگست 2019ء
سعدیہ قریشی
پٹرول‘ ڈیزل‘ گیس‘ مٹی کے تیل کی قیمتوں پر قیمتیں بڑھا کر غریب کے لئے روٹی سستا کرنے کا اعلان کچھ اس قسم کی متضاد صورت حال سے مطابقت رکھتا ہے: شمار اس کی سخاوت کا کیا کریں کہ وہ شخص چراغ بانٹتا پھرتا ہے چھین کر آنکھیں اور کمال تو یہ ہوا ایک روز پہلے اخبارات کی ہیڈ لائن تھی کہ وزیر اعظم نے روٹی کی پرانی قیمتیں بحال کرنے کا حکم دے دیا۔ خوشی سے مر نہ جانے کی کیفیت تو یہ بھی کچھ ایسی نہیں تھی کہ غریب صرف روٹی ہی تو نہیں کھاتا۔ روٹی کے ساتھ اس نے کوئی
مزید پڑھیے


ذرا سی بات

بدھ 31 جولائی 2019ء
سعدیہ قریشی
نقشِ خیال والے عرفان صدیقی، دل پذیر نثر لکھنے والے کالم نگار، عرفان صدیقی اپنے مداح قارئین کے لیے کئی زمانوں سے لاپتہ تھے کہ اچانک بروز ہفتہ 28جولائی ایک ناخوشگوار انتہائی افسوسناک واقعے نے انہیں ٹاک آف دی ٹائون بنا دیا۔ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں بزرگ صحافی اور استاد…عرفان صدیقی کو ہتھکڑی لگا کر پیش کیا گیا۔ اس واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ وہ بھی ان کے حق میں بولے جنہیں ان سے نظریاتی اختلاف تھا اور ہے۔ 27جولائی جمعہ رات گیارہ بجے انہیں اُس جرم میں گرفتار کیا گیا جس سے ان کا
مزید پڑھیے


خسارے کا سفر

اتوار 28 جولائی 2019ء
سعدیہ قریشی
دولت کی ہولناک ہوس کا انجام سب کے لئے بھیانک تھا۔ کوئی قتل ہوا‘ کسی نے خودکشی کر لی‘ کوئی موت مانگ رہا ہے۔کوئی بدنامی سے منہ چھپا رہا ہے۔ تو کوئی اپنے کروڑوں ڈوب جانے کے غم میں ادھ موا ہو چکا ہے۔ اس کہانی کا ایک اور کردار جو قتل کے واقعے کا عینی شاہد تھا‘ موت اور حیات کی کش مکش میں رہنے کے بعد چل بسا۔ خودکشی کرنے والا عاطف زمان کا ڈرائیور تھا اور اس کے کئی کاموں کا راز دار بھی تھا۔ حرص و ہوس کی اس ہوشربا داستان کا جو پہلا کردار ہمارے سامنے آیا
مزید پڑھیے


’’اک یہی بات ہے اچھی میرے ہر جائی کی‘‘

جمعه 26 جولائی 2019ء
سعدیہ قریشی
ہمارے ہینڈسم سیلبرٹی وزیر اعظم انکل سام کے دیس میں اپنی کرز میٹک شخصیت کا جھنڈا گاڑ کر واپس وطن عزیز آ چکے ہیں۔ وطن عزیز وہی سدا کا مسائلستان ہے۔ مہنگائی‘ غربت‘ اور شدید قسم کی غربت۔بے روزگاری کے مسائل جوں کے توں ہیں لیکن چھوڑیے ان مسائل کو۔ اصل بات تو یہ ہے کہ ہم نے سپر پاور کے دیس میں جا کر بھی ہزاروں افراد سے کھچا کھچ بھرے ہال میں ایک کامیاب جلسہ کر لیا۔ یہ کارنامہ یقینا ہمارے کپتان ہی کا ہے کہ ایسا عوامی جلسہ واشنگٹن ڈی سی کے ایرینا ون ہال میں کیا کہ
مزید پڑھیے


پہاڑ اور گلہری

بدھ 24 جولائی 2019ء
سعدیہ قریشی
وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا دورہ امریکہ خبروں میں ہے۔ ویسے تو ہمارے ہاں بائی ڈیفالٹ ہی ہر حکمران کا دورۂ امریکہ انتہائی کامیاب ہوتا ہے جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر دونوں طرف کے حکمران انتہائی دوستانہ ماحول میں گفتگو فرماتے ہیں۔ سو بائی ڈیفالٹ عمران خان کا دورہ امریکہ بھی کامیاب رہا ہے کیونکہ ہمارے حکمرانوں نے کبھی کوئی ناکام دورہ کیا نہیں۔ پاکستان میں جب بھی کوئی نیا سربراہِ حکومت آتا ہے تو اس کے جن تین چار ممالک کے سرکاری دورے کرنا اہم ہوتا ہے ان میں چین، روس، ایران اور امریکہ شامل ہیں اور
مزید پڑھیے