BN

سعدیہ قریشی


I am only ten


جنگ سے تباہ حال ملبے پر کھڑی ہوئی‘ وہ عالمی طاقتوں سے سوال کرتی ہے۔ وہ رو رہی ہے۔ صرف آنکھیں نہیں۔ اس کے چہرے کے سب خدوخال آنسوئوں میں پگھلتے ہیں۔اس کا پورا وجود آنسوئوں میں ڈھلا ہے۔ اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ پوری دنیا پر‘ وہی ایک رندھا ہوا چہرہ،رندھا ہوا لہجہ،چھا گیا ہے۔ وہ پوچھتی ہے میں صرف دس برس کی ہوں۔ کیوں تم نے میرے سارے خواب بارود میں جلا دیے۔ میرا بچپن‘ میزائل‘ بارود اور آگ میں جلنے کا حقدار نہیں تھا۔ کیوں تم نے میرے بچپن کے کچے برتن میں صدیوں کی اذیت انڈیل
جمعه 21 مئی 2021ء

خالص اور فسوں خیز رات کی سچائی

بدھ 19 مئی 2021ء
سعدیہ قریشی
ایسے ہی یہ خیال آیا کہ ہم برف باری دیکھنے، پہاڑوں پر جاتے ہیں۔ قدرتی چشمے اور سبزے سے ڈھکے ہوئے منظر دیکھنے کے لیے، جتن کرتے ہیں، ہزاروں روپے لگا کر سفر کرتے ہیں۔ مگر کبھی ہم نے اپنے بچوں کو تاروں بھری خاموش اور فسوں خیز رات کا تجربہ کروایا؟ ہم نے کبھی اس کے متعلق سوچا بھی نہیں ہو گا۔ ہمارا تعلق تو اس خوش قسمت نسل سے ہے جو تاروں بھری راتوں سے کہانیاں سن کر نیند کی طلسمی آغوش میں سوتی تھی۔ مگر آج کل کے نوجوان، یا پھر آج کل بچے، جنہوں نے اپنی زندگیوں
مزید پڑھیے


اداسی تحریر کی ہے

پیر 17 مئی 2021ء
سعدیہ قریشی
وبا کے سائے تلے یہ ہمارے دوسری عید الفطر تھی۔اس بارمگر دکھ اور اداسی کے سائے پہلے سے بہت گہرے تھے۔ گزشتہ عید الفطر بھی اگرچہ لاک ڈاؤن میں گزری مگر اس وقت دل میں یہ احساس تھا کہ بس چند ہفتوں کی بات ہے حالات بہتر ہو جائیں گے اور پھر ہماری عیدیں پہلے جیسی ملاقاتوں سے بھری ہوئی اور خوشیوں سے سجی ہوئی ہوں گی۔ اپنوں کی دید سے روشن عید کا دن پھر سے سنہرا ہوگا اور لاک ڈاؤن میں گزری ہوئی یہ بے رنگ عید بس ایک ناخوشگوار یاد بن کے رہ جائے گی۔ عید الفطر شکرانے
مزید پڑھیے


بے بسی کا ناقابل بیان کرب!

بدھ 12 مئی 2021ء
سعدیہ قریشی
ہم اگرچہ اپنے بکھیڑوں میں بری طرح الجھے ہوئے لوگ ہیں۔ مسائل ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہماری توجہ کی طنابیں اپنی جانب کھینچے رکھتا ہے۔ عید کی آمد پر بازاروں میں بڑھتے ہوئے رش‘ ایس او پیز کو یکسر نظر انداز کرنے سے کورونا پھیلنے کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے۔ عید ی آمد ہو تو خستہ حال مکانوں میں رہنے والے مکینوں کے دل میں ہی نئے کپڑے پہننے کی خواہشیں ہلکورے لیتی ہیں۔ مہنگائی اتنی ہے کہ پیٹ کا ایندھن بجھانے میں ساری مشقت صرف ہو جاتی ہے۔ سفید پوش پاکستانیوں کے لیے رمضان اور
مزید پڑھیے


برطانوی ہائی کمشنر اور ہمارے رویے

اتوار 09 مئی 2021ء
سعدیہ قریشی
گلیوں میں بکھرے ہوئے کوڑے کے ڈھیر‘وہاں کے رہنے والوں کی ناامیدی کا بدصورت ترین اظہار ہیں۔ ایک انگریزی زبان کے مضمون میں یہ سطر پڑھی تو گویا چونک کے رہ گئی۔رک گئی اور دوبارہ پڑھا۔ کوڑا کرکٹ‘گندگی ‘ بے ترتیبی اور پھیلاوے کے حوالے سے کبھی اس تناظر میں سوچا تھا اور نہ کبھی پڑھا، ذرا غور کیا تو بات سوفیصد سچی تھی۔لاس اینجلس کا رہنے والا اینڈرسن اپنے علاقے میں کمیونٹی کلین اپ کا ایک پراجیکٹ چلاتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ 1960ء میں جب وہ نویں گریڈ کا ایک طالب علم تھا، تو اس کا استاد ایک
مزید پڑھیے



طفیل صاحب المعروف پا طفیل

جمعه 07 مئی 2021ء
سعدیہ قریشی
صحافت میں اپنی طویل ترین اننگ کھیل کر 90سالہ طفیل صاحب بھی اللہ کے حضور پیش ہو گئے ہیں۔ایم طفیل صاحب اپنے نام سے زیادہ صحافتی حلقوں میں پا طفیل کے نام سے مشہور تھے ۔ آج بھی بیشتر لوگ انہیں پا طفیل ہی کے نام سے پکارتے تھے۔صحافت میں میری پہلی ملازمت ڈیوس روڈ پر واقع ایک اردو روزنامے میںبطور سب ایڈیٹر میگرین کے ہوئی۔میگزین کا کمرہ اس دفتر کی عمارت کے دوسرے فلور پر واقع تھا۔اس فلور پر شیشے کی پارٹیشن کے ساتھ اخبار کے مختلف ڈیپارٹمنٹس کے لیے کمرے بنائے گئے
مزید پڑھیے


بہتری کیوں نہیں آتی؟

جمعرات 06 مئی 2021ء
سعدیہ قریشی
رمضان المبارک آخری عشرے میں داخل ہو چکا ہے۔ ایک طرف عبادتوں میں خشوع خضوع بڑھتا ہے تو دوسری طرف بازاروں میں منافع خوری بڑھنے لگتی ہے۔ مرشدی احمد جاوید کہتے ہیں کہ رمضان المبارک روح کا مہینہ ہے۔ مگر ہمارے ہاں رمضان المبارک میں اہل وطن جس طرح ناجائز منافع خوری پر کمر باندھ لیتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ رمضان تو کمانے اور زیادہ سے زیادہ منافع خوری کرنے کا مہینہ ہے۔جوں جوں عید کے دن قریب آتے ہیں۔ عید کی تیاریوں کے لئے اہل وطن بازاروں کا رخ کرتے ہیں‘اسی شدت سے بازاروں میں پہلے سے موجود
مزید پڑھیے


وہ جو ایک دنیا بسائی تھی ترے نام پر کوئی اور تھی

اتوار 02 مئی 2021ء
سعدیہ قریشی
25اپریل کو پاکستان تحریک انصاف کا یوم تاسیس منایا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی اور اپنی حکومت کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے۔ وہی مخصوص جملے بولے جو ان کے لاشعور پر گزشتہ بیس سال سے نقش ہیں اور اب اتنی بار دہرائے جاچکے ہیں کہ سننے والوں کو سوائے سمع خراشی کے اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ہمیں ناصر کاظمی بے طرح یاد آئے کہ جس نے آرزو کی تھی کہ چاہتا ہوںکہ مرا قصہ شوق آج میرے سوا کہے کوئی لیکن اس قصہ شوق کو اگر کوئی دہراتا تو وزیراعظم میں اسے سننے کی تاب نہ ہوتی۔یہ ایک عشق میں
مزید پڑھیے


عالمی ادارہ صحت کا ایجنڈا آخر کیا ہے؟

جمعه 30 اپریل 2021ء
سعدیہ قریشی
ہر برس سات اپریل کو صحت کا عالمی دن کسی نہ کسی موضوع کے تحت منایا جاتا ہے تاکہ دنیا کی توجہ اس موضوع کی طرف مبذول ہوسکے۔میں نے گزشتہ پانچ سال کے موضوعات ک جائزہ لیا کہ دیکھیں عالمی ادارہ صحت نے ہر سال دنیا کی توجہ صحت کے کن اصولوں کی طرف مبذول کروانے کی کوشش کی ہے۔ جو نتیجہ میرے سامنے آیا وہ نہایت مایوس کن ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کا مقصد دنیا والوں کی صحت کو بہتر بنانا نہیں بلکہ اس کا کوئی اور ایجنڈا ہے جس
مزید پڑھیے


کتاب دوست اور آواز دوست

پیر 26 اپریل 2021ء
سعدیہ قریشی
گزشتہ ایک ہفتے سے طبیعت کی ناسازی کے باعث لکھنا موقوف رہا۔طبیعت کی خرابی آج کل ایک پورے پیکیج کی صورت حملہ آور ہوتی ہے۔ گلا خراب‘ بخار‘ فلو‘ کھانسی وغیرہ۔ اگرچہ یہ سب موسمی بیماری کی صورت بھی میں ہم پر حملہ آور ہوا مگر معصوم سا موسمی وائرس بھی وبائی ماحول سے شہ پا کر کافی تگڑا ہو چکا ہے۔ سو اس موسمی بخار کے اثرات طبیعت میں بے حد کمزوری‘ اضمحلال کی صورت وارد ہوئے۔ ایسے میں زندگی کا واحد مشغلہ بس آرام کرنا اور مزید آرام کرنا بن گیا۔ پھر آرام کے اس تسلسل سے طبیعت
مزید پڑھیے








اہم خبریں