سعدیہ قریشی



ادھورے وجود میں اُمید کا مکمل چہرہ


پیاری کرن اشتیاق! میری شدید خواہش ہے کالم تم ضرور پڑھو کیونکہ یہ ایک لکھاری کی طرف سے تمہارے لیے چند لفظوں کی صورت ایک چھوٹا سا خراج ہے! میں اعتراف کرتی ہوں کہ میں نے جب سے تمہاری کہانی ’’اطراف‘‘ میں پڑھی، میں اپنی نظروں میں آپ ہی گر چکی ہوں۔ میں کیسی ناشکری، شکوے شکایت کرنے والی، ہربات پر ایک ہنگامہ کھڑا کر کے اس کا ایشو بنا لینے والی ہوں اور تم کیسی شکر گزار ہو کہ تخلیق کرنے والے نے تو تمہیں مکمل تخلیق بھی نہیں کیا اور تم اس ادھوری تخلیق کے ساتھ ہمہ وقت اس
بدھ 11 مارچ 2020ء

سماجی ڈھانچے کو کوئی خطرہ نہیں

اتوار 08 مارچ 2020ء
سعدیہ قریشی
گزشتہ چند ہفتوں سے میں یتیم بچیوں کے استحصال کے حوالے سے کاشانہ سکینڈل پر کام کر رہی تھی، اس موضوع پر کالم بھی لکھے ،بہت کچھ ایسا ہے جو ضبط تحریر میں نہیں آ سکا۔ میرے خیال کی رو میں ابھی یہی ایشو موجود ہے۔ سو آج جب عورتوں کا عالمی دن منانے کے لئے سب اپنے اپنے نعروں کے ساتھ میدان میں موجود ہیں تو میرا نعرہ آج کے دن یہ ہے کہ سرکاری یتیم خانوں میں یتیم بچیوں کے ساتھ ہونے والی جنسی اور جسمانی استحصال کو روکا جائے۔ اس سکینڈل کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔عورتوں کے
مزید پڑھیے


سرکاری یتیم خانے اور یتیم بچیاں

بدھ 04 مارچ 2020ء
سعدیہ قریشی
اس شہر اقتدار میں مجھے ایسے شخص کی تلاش ہے جو یتیموں کے حقوق کے بارے میں قرآن و حدیث کے احکامات سے واقف ہو اور پھر بھی کاشانہ سکینڈل سے غافل ہو۔ مجھے اس شہر اقتدار و اختیار میں ایسے شخص کی تلاش ہے جو جانتا ہو کہ قرآن میں صرف یتیموں کے حقوق اور ان پر ظلم کرنے سے باز رہنے کے حوالے سے اکیس 21آیات کا نزول ہوا ہے۔ تبدیلی سرکاری کی ریاست مدینہ میں مجھے ایسے روشن دل کی تلاش ہے جسے یتیموں اور مسکینوں کے حقوق کے بارے میں رسولِ رحمتؐ کی کوئی حدیث پوری یاد
مزید پڑھیے


منظروں کو دھڑکن دینے والا نثر نگار

اتوار 01 مارچ 2020ء
سعدیہ قریشی
وہ ایک جناتی قدوقامت کے تخلیق کار ہیں۔ اردو ادب کا یہ عہد انہی کے نام سے منسوب ہے۔ جی ہاں یہ مستنصر حسین تارڑ کا عہد ہے! نثر نگار بھی بے شمار ہیں۔ ناول ‘افسانے‘ سفر نامے بہت کچھ لکھا جا رہا ہے مگر ان کی نثر میں جو جادو ہے، جو تصویر کشی ہے، جو گرفت ہے، وہ کم کم ہی کسی اور کو میسر ہے۔ وہ منظروں کو لکھتے نہیں بلکہ اس منظر کا حصہ بن کر اس میں دھڑکنے لگتے ہیں اور اسی طرح دھڑکتے ہوئے منظروں کو پڑھنے والا قاری اس کی دھڑکن اپنے احساس
مزید پڑھیے


یہ کلی بھی اس گلستان خزاں منظر میں تھی

جمعه 28 فروری 2020ء
سعدیہ قریشی
سبحان اللہ کیسی روشن زندگی گزار کر نعمت اللہ خان اللہ کے حضور حاضر ہو گئے۔ وہ جسے نفس مطمنہ کہتے ہیں اور جس کے بارے میں قرآن کی گواہی یوں آتی ہے۔ اے اطمینان والی روح اپنے رب کی طرف لوٹ جا تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔ 89برس کی طویل اور کامیاب زندگی مسلسل ریاضت اور جدوجہد میں گزاری ہوئی زندگی۔ اس ایک زندگی میں کامیابی کی کئی داستانیں موجود ہیں جن سے سیکھنے والے سیکھ سکتے ہیں۔ کراچی کے سابق میئر بابائے کراچی کے لقب سے نوازے گئے کہ انہوں نے ادھڑے ہوئے ‘بکھرے ہوئے ،روندے
مزید پڑھیے




حسِ جمالیات پر بوجھ بنتے مناظر

بدھ 26 فروری 2020ء
سعدیہ قریشی
اس موسم میں شہر کے پارکوں میں بہاراتری ہوئی ہے۔ ماہِ فروری کا اختتام ہے اور شب و روز سخت سردی کے بوجھ سے آزاد ہو کر ایک ٹھنڈے میٹے موسم سے ہم کنار ہو رہے ہیں۔ پارکوں میں بہار اتری ہوئی ہے۔ جو آنے جانے والوں کے حواسِ حمسہ کو شانت کرتی اور ان کی حسِ جمالیات کو طمانیت بخشتی ہے۔ لیکن اس حسین موسم میں جب آپ گلشن اقبال پارک جا نکلتے ہیں تو بہار کی رنگینی درختوں کی جاں بخش ہریاول اور سبز چادر کی طرح بچھے ہوئے میدانوں کے ساتھ آپ کی نگاہ آس پاس کی اوسوں،
مزید پڑھیے


اپنے بچوں کو ہمدردانہ رویے سکھائیں

اتوار 23 فروری 2020ء
سعدیہ قریشی
میں نے اس ننھے بچے کی ویڈیو دیکھی تو ایسے جیسے میرے دل پر گھونسا پڑا ہو۔ وہ بچہ رویا ہے اور بری طرح رویا ہے۔ اپنی غیر معمولی چھوٹی قدوقامت کی وجہ سے اسے جماعت اور سکول کے ساتھیوں کی طرف سے طنز و تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ وہ اس تضحیک اور تذلیل سے اس قدر دل برداشتہ ہوتا ہے کہ ماں سے روتے روتے اس ویڈیو میں کہہ رہا ہے میں جینا نہیں چاہتا۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی آ کر مجھے مار دے۔ یہ ویڈیو پل بھر میں وائرل ہو گئی۔ یہ آسٹریلیا کی ایک سوختہ
مزید پڑھیے


معاشرتی زوال اور جرم کی دو کہانیاں

جمعه 21 فروری 2020ء
سعدیہ قریشی
اخبار میں گھنائونے جرم کی دو خبریں توجہ کھینچتی ہیں۔جرم کی ایک سنسنی خیز کہانی کا مرکزی کردار ایک بیورو کریٹ ہے۔ ایس ایس پی مفخر عدیل اس کا نام ہے۔جرم کی دوسری گھنائونی داستان کا کردار ایک کوالیفائیڈ ایم بی بی ایس اور غالباً اس سے بھی زیادہ میڈیکل ڈگریاں رکھنے والا ڈاکٹر ہے۔ایس ایس پی مفخر عدیل سے متعلقہ خبریں گزشتہ دس بارہ دن سے میڈیا میں آنے لگیں جب اچانک اس کی گمشدگی کی اطلاع ملی۔ ساتھ ہی ان کے نہایت قریبی دوست شہباز تتلہ کا ذکر ہوا کہ وہ بھی پراسرار طور پر غائب ہیں۔اس کہانی
مزید پڑھیے


بلوچستان ایک ناراض بچہ

بدھ 19 فروری 2020ء
سعدیہ قریشی
بلوچستان کا مسئلہ کیا ہے؟اس موضوع پر مجھے ایک کتاب کے لیے اپنی رائے دینے کا کہا گیا، جو کہ بس ایک دو پیرا گراف میں بیان کرنا تھی۔ ایک طرف پیراگراف کی پابندی اور دوسری طرف بلوچستان جتنا بڑا صوبہ ہے اتنے ہی بڑے اور پیچیدہ مسائل کا ایک لامتناہی سلسلہ اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ بلوچستان کی جو اس وقت صورت حال ہے جو امن و امان کا مسئلہ ہے، بیرونی قوتوں کی مداخلت ہے، پسماندگی اور احساس محرومی ناراض بلوچوں کی تحریک یہ سب مسائل ایسے ہیں کہ جیسے ریشم کے دھاگوں کا گچھا آپس میں الجھ
مزید پڑھیے


حالات حاضرہ کو کئی سال ہو گئے

اتوار 16 فروری 2020ء
سعدیہ قریشی
المیہ یہ ہے کہ ہمارے حالات حاضرہ کئی برسوں سے ایک ہی ڈگر پر چل رہے ہیں۔عوام کے لئے مسائل کی وہی دلدل ہے اور اس پہ حکمرانوں کی بے حسی بھی وہی ہے ان دو انتہائوں کے درمیان ‘خبروں کی تاریخیں مختلف ہو سکتی ہیں لیکن خبریں وہی ہیں جو آج سے کئی برس پیشتر تھیں۔ وہی حالات ہیں فقیروں کے دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے ۔تو عرض یہ ہے کہ وہ مخلوق جسے عوام کہتے ہیں وہ اس کے حالات نہ کل بدلے تھے نہ آج تبدیلی کی ہوا چلنے کے بعد بدلے ہیں۔ البتہ وزیروں‘ مشیروں
مزید پڑھیے