BN

سعدیہ قریشی



قناعت اور دیانت سے گندھا دانشور


سندھی ٹوپی سر پر پہنے ہوئے‘ ہسپتال کے بیڈ پر لیٹے ہوئے بیمار اور نڈھال اجمل نیازی صاحب پہچان میں نہیں آتے تھے۔ اس لئے کہ ہم نے انہیں ہمیشہ ہی میانوالی کی مخصوص پگڑی کے ساتھ دیکھا تھا۔ ایک وقار اور دیانت سے بھری انا کے ہالے میں۔ خوب صورت گفتگو کرتے ہوئے۔ لیکن یہاں سروسز ہسپتال کے کمرہ نمبر سی۔ فائیو میں ہسپتال کے مخصوص بیڈ پر دراز ڈاکٹر اجمل نیازی بے آواز گفتگو کرتے تھے کہ ایک ماہ سے پاکستانی ڈاکٹروں کے ہاتھوں طرح طرح کی ٹریٹمنٹ سے ان کے گلے میں شدید انفیکشن ہو چکی تھی اور
جمعه 18 اکتوبر 2019ء

لنگر نہیں روزگار! محتاجی نہیںخود کفالت!

بدھ 16 اکتوبر 2019ء
سعدیہ قریشی
لیجئے جہانگیر ترین نے ایک بار پھر عوام کو اور ملک کی لڑکھڑاتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کے لیے عوام کو مرغیاں اور چوزے پالنے کا مشورہ دیا ہے اور ساتھ ہی یقین دہانی کروائی ہے کہ اگر عوام مرغیاں اور چوزے پالنے شروع کر دیں تو اس سے ملک کی لڑکھڑاتی معیشت کو بے مثال سنبھالا ملے گا۔ سرِدست انہوں نے کٹے پالنے کا مشورہ دوبارہ سے نہیں دہرایا۔ اس کے پیچھے بھی یقینا کوئی حکمت بھرا راز ہو گا۔ گویا پہلا مرحلہ صرف مرغیاں اور چوزے پالنے کا ہے اور اگر اس کے بعد بھی آپ کی معیشت
مزید پڑھیے


ڈپریشن کے عفریت کو شکست کیسے دیں

اتوار 13 اکتوبر 2019ء
سعدیہ قریشی
گزشتہ کالم ہی کے تسلسل میں یہ کالم لکھ رہی ہوں۔ اس لئے کہ کالم پر آنے والے فیڈ بیک سے اندازہ ہوا کہ صورت حال اس سے کہیں زیادہ ابتر ہے جس کا تذکرہ میں نے اپنے کالم میں کیا۔ بہت سی ای میلز ایسی آئیں کہ قارئین نے اپنے ڈپریشن کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے ذاتی مسائل پر لکھا کہ میں ان کے راز کی امین ہوں۔ کچھ سوالات ایسے تھے کہ ان کے جواب کے لئے ایک اور کالم لکھنے کا ارادہ کیا۔ تاکہ اس سلسلے میں کچھ رہنمائی ہو سکے۔ ڈپریشن ‘ ذہنی دبائو‘ (anxiety)ہمارے لائف سٹائل
مزید پڑھیے


خدارا ذہنی امراض کو قبول کریں

جمعه 11 اکتوبر 2019ء
سعدیہ قریشی
یہ موضوع ایسا ہے کہ صرف ایک دن اس کے نام کرنے سے بات نہیں بنتی۔ دنیا کی بات الگ ہے، وہاں ذہنی بیماریوں کو جسمانی بیماری سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں نفسیات دان یا پھر سائیکاٹرسٹ سے رجوع کرنا، سیشن اوردوا لینا، ہرگز ہرگز معیوب نہیں سمجھا جاتا جبکہ ہمارے ہاں اگر کوئی ذہنی بیماری میں مبتلا ہو اور اسے علاج کا مشورہ دیا جائے تو وہ اس خوف سے علاج نہیں کرواتا کہ لوگ اسے پاگل کہیں گے۔ 10 اکتوبر کو دنیا بھر میں مینٹل ہیلتھ کا دن منایا جاتا ہے۔ ہر برس کوئی
مزید پڑھیے


چارہ گروں کو آواز دیتی اجڑی بستیاں

بدھ 09 اکتوبر 2019ء
سعدیہ قریشی
14سال پیشتر کا 8اکتوبر اور اس سے جڑی دلخراش یادیں ہر برس اکتوبر کے مہینے میں مجھے یاد آتی ہیں اور اس برس تو کشمیر کی وادی اور اس کے کچھ شہر پھر اس قدرتی آفات کے ہاتھوں اجڑ چکے ہیں۔ اس سے بڑا المیہ کیا ہو گا کہ 14برس پیشتر آنے والے قیامت خیز زلزلے سے جو تباہی ہوئی، جو انفراسٹرکچر زمین بوس ہوا، جو عمارتیں منہدم ہوئیں، ان میں کچھ تو ابھی بھی مکمل بحالی کے مرحلے سے نہیں گزریں،ایک طرف ایرا پر فنڈز کی سنگین کرپشن کے الزامات ہیں تو دوسری طرف تازہ ترین الزامات کی پٹاری
مزید پڑھیے




منیرؔاس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے؟

اتوار 06 اکتوبر 2019ء
سعدیہ قریشی
بڑے بڑے دعوئوں اور وعدوں کے خواب دکھا کر پی ٹی آئی کی حکومت وجود میں آئی اور اب حال یہ ہے کہ کارکردگی کے حقائق تو بڑے تلخ ہیں لیکن بڑے بڑے اعلانات اور دعوے اسی طرح جاری و ساری ہیں جیسے حکومت میں آنے سے پہلے تحریک انصاف کا وتیرہ تھا۔ مگر اب حالات بدل چکے ہیں آپ اپوزیشن میں ہوں تو تقریروں اور بیانات سے کام چلا سکتے۔ لیکن اگر آپ حکمران ہوں۔ ملک کی انتظامی مشینری آپ کے اختیار میں ہو تو پھر عوام آپ سے کارکردگی کے ثبوت مانگتے ہیں۔ خالی خولی دعوئوں سے کام نہیں
مزید پڑھیے


بکھیڑے

جمعه 04 اکتوبر 2019ء
سعدیہ قریشی
بعض اوقات کالم لکھنے کے لئے بیٹھیں تو کئی مختلف طرح کے خیالات ذہن کی سطح پر تیرتے رہتے ہیں اور کبھی کسی تازہ پڑھی ہوئی کتاب کی گونج ذہن میں بازگشت کرتی ہے تو کبھی کسی پسندیدہ شخصیت سے گفتگو کی سرخوشی سے سوچ کا آنگن مہکاہوتا ہے۔ کالم نگار کو مگر حالات حاضرہ پر سوچنا اور لکھنا پڑتا ہے کم از کم 90فیصد کالم سیاسی حالات جو سماج کو متاثر کرتے ہیں انہی پر لکھنا پڑتاہے۔ آج بھی کچھ ایسا ہی دن ہے۔ خوب صورت اور باوقار شاعرہ عنبرین صلاح الدین کی کتاب ’’صدیوں جیسے پل‘‘ زیر مطالعہ تھی اس
مزید پڑھیے


احساس ہی انسانیت ہے

بدھ 02 اکتوبر 2019ء
سعدیہ قریشی
ابھی پچھلے مہینے ستمبر کے دوسرے ہفتے کا واقعہ ہے۔ اسلام آباد سے بذریعہ موٹروے لاہور آتے ہوئے بھیرہ انٹرچینج پر ہم ایک غیر ملکی فوڈ چین پر کچھ دیر کے لیے رُکے۔ ہمارا آرڈر آنے میں کچھ دیر تھی۔ ہماری ساتھ والی سیٹوں پر ایک خاندان پہلے سے موجود تھا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد ان کی کوئی رشتہ دار فیملی نے بھی انہیں آ کر جوائن کر لیا۔ گھر کے بڑے ایک میز کے گرد بیٹھ گئے اور بچے ایک ساتھ والی میز کے گرد براجمان ہو گئے۔ گیارہ سے سات آٹھ سال کی عمروں کے تین بچے تھے
مزید پڑھیے


موثر‘ مدلل‘ شاندار!

اتوار 29  ستمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
ہمارے وزیر اعظم ملک کے اندر موجود گوناگوں مسائل کے عفریت سے جس ناتجربہ کاری سے نمٹ رہے ہیں۔ اس سے وہ اکثر تنقید کی زد میں رہتے ہیں۔ وزیر اعظم کے یوٹرن ہوں یا پھر بیرونی دوروں پر ان کی Slip Of Tongnueسے پیدا ہونے والے تنازعے کوئی نہ کوئی ایشو ضرور خان کے اپنے ہاتھوں سے وجودمیں آ جاتا ہے اور پھر سوشل میڈیا پر باقاعدہ ایک ہیجان کی سی کیفیت ہوتی ہے۔ لیکن جہاں عالمی فورم پر ہمارے وزیر اعظم کے اعتماد ‘ جرات اظہار‘ بے مثال باڈی لینگویج کی بات ہے وہ یہ معرکہ کمال خوبی
مزید پڑھیے


خزانے کی دریافت اور اخلاقی زوال کا کلائمیکس

بدھ 25  ستمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
دانیال آٹھ سال کا ہے۔ کارٹونز کی دنیا اس کے ننھے تخیل پر سوار رہتی ہے۔ وہ اکثر کارٹونز کے کرداروں اور واقعات کو حقیقی دنیا سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ ادھر اس عمر کے بچے کارٹون کی دنیا میں ہونے والی چیزوں کو اصل زندگی میں ہی ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب سے اس نے (Ninja go)نجا گو سیریز میں خزانے کی تلاش والی قسط دیکھی ہے اس پر ایک ہی دُھن سوار ہے کہ زمین کی کھدائی کر کے خزانہ تلاش کرنا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ایپی سوڈ اس نے اردو زبان میں دیکھی اس
مزید پڑھیے