BN

سعدیہ قریشی



کیا سیاست اور انسانیت الگ دنیا نہیں ہیں؟


امروز کے لکھے ہوئے امرتا کے خطوط پڑھ رہی تھی، ایک خط لکھتے ہوئے امرتا لکھتی ہے ’’سیاست کی دنیا اور ہوتی ہے انسانیت کی اور!‘‘ اور اس ایک جملے نے گویا مجھے آکٹوپس کی طرح جکڑ لیا۔ میں بار بار یہی سوچتی رہی کہ سیاست کی ساری بدصورتیاں جو اس وقت دنیا کو جہنم بنائے ہوئے ہیں۔ ان ساری بدصورتیوں کو امرتا نے اس ایک جملے میں سمو دیا ہے۔ سیاست کا انسانیت سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہوتا۔ وہ عالمی سیاست ہو یا پھر ملکوں کی اندرونی سیاست ہو۔اگر انسانیت کو مقدم جانا جاتا ہو تو پھر سیاست کی شکل شاید
بدھ 20 نومبر 2019ء

سیاسی تعصبات اور عدم برداشت

اتوار 17 نومبر 2019ء
سعدیہ قریشی
16نومبر کو دنیا بھر میں برداشت اور رواداری کا دن منایا گیا۔ دن منانے کا شوق ہمیں بھی بہت ہے۔ کتاب کا دن‘ استاد کا دن‘ ذہنی صحت کا دن‘ برداشت اور رواداری کا دن۔ ہم برسوں کے طے کئے ہوئے گھسے پٹے طریقوں سے ایسے دن مناتے ہیں اور اگلے روز بھول بھال کر دوبارہ سے اپنی پرانی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ ویسے دن اسی چیز کا منایا جاتا ہے جس کو عام زندگی میں ہم فراموش کئے بیٹھے ہوں۔ مثلاً یہی دیکھ لیں کہ ہم سلام استاد ڈے بڑے ذوق و شوق سے مناتے ہیں۔ مگر حقیقت
مزید پڑھیے


مسیحا کی خودنوشت

جمعه 15 نومبر 2019ء
سعدیہ قریشی
ایک سائیکالوجسٹ اپنے بلاگ میں لکھتا ہے کہ میں اکثر اپنے مریضوں کو خودنوشت یا آپ بیتی پر مبنی کتابیں پڑھنے کی تاکید کرتا ہوں۔ کیوں کہ ان کتابوں میں دوسرے افراد کی زندگیوں کے اتار چڑھائو‘ آزمائشوں کامیابیوں اور ناکامیوں کو ہم اپنی زندگیوں سے relateکر کے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔کتب بینی کا شغف رکھنے والے بیشتر افراد بائیو گرافی پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ خود مجھے بھی دن کے مصروف ترین اوقات میں جب فرصت کے چند لمحے میسر آئیں تو مجھے دو قسم کی کتابیں پڑھنے میں آسانی اور سہولت محسوس ہوتی ہے۔ ایک تو موٹی
مزید پڑھیے


Real Politik

بدھ 13 نومبر 2019ء
سعدیہ قریشی
وہ دن گئے جب سیاست کو عبادت سمجھ کر کیا جاتا تھا اور سیاست کرنے کو عبادت کہا جاتا تھا کیونکہ وہ سیاست انسانوں کی فلاح اور بہبود کے گرد گھومتی تھی۔ سیاست کی ساری سرگرمیوں کا مقصد معاشرے اور انسانوں کے لیے بنائے گئے نظام کی بہتری ہوا کرتا تھا۔ اب سیاست، طاقت کے حصول اور ذاتی مفادات کے گرد گھومنے والی ایک ایسی سرگرمی ہے جس میں عوام اور غریبوں کا تذکرہ صرف تقدیروں کو پُرکشش بنانے اور وقتی بڑھکیں لگانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ سیاست کی اسی قسم کو Real Politik کا نام دیا گیا ہے۔ ڈکشنری میں
مزید پڑھیے


12ربیع الاول محض ایک تہوار نہیں

اتوار 10 نومبر 2019ء
سعدیہ قریشی
یہ سوال میرے آٹھ سالہ بیٹے نے کل مجھ سے کیا۔’’ماما ہم 12ربیع الاول کو کیسے مناتے ہیں‘‘ میں ایک لمحے کو چونک گئی اور سوچا کہ اس معصومانہ مگر اہم سوال کا کیا جواب دوں کیا 12ربیع الاول محض ایک تہوار ہے۔؟ جسے ایک روز منا کر ہم نے اپنا فرض پورا کر لیا۔کیا صرف گھروں ومکانوں ‘ بازاروں‘ دفتروں ‘ گلی محلوں پر چراغاں کرنا‘ دیگیں پکوا کر بانٹنا یا حسب توفیق کچھ بھی بانٹنا ہی 12ربیع الاول کو منانا ہے۔ مجھے میرے بیٹے نے کہا کہ ہم بھی گھر پر لائٹس لگوائیں گے کیونکہ پیارے نبیؐ کا
مزید پڑھیے




سموگ اور ہم لوگ

جمعه 08 نومبر 2019ء
سعدیہ قریشی
سموگ کا سیدھا اور آسان مطلب ہے۔ نظر آنے والی آلودگی اور ہم جیسے لوگ آلودگی کے معاملے کو اسی وقت اہمیت دیتے ہیں جب وہ جان کو آ جائے۔ یہی معاملہ سموگ کا ہے۔ چندروز سے گردو غبار کی ایک موٹی تہہ شہر لاہور کے اوپر تنی ہوئی ہے۔ زہریلی گیسوں کا یہ اکٹھ سانس لینا دشوار کر رہا ہے۔ آنکھوں میں چھبن کے مسائل الگ ہیں اور وہ لوگ جنہیں پہلے سے ہی سانس کی بیماری کا مسئلہ درپیش ہے ان کے لئے سموگ اور بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔ لاہور بڑا شہر ہے۔ ٹریفک کا بہائو سڑکوں پر
مزید پڑھیے


ایمبولینس کو راستہ دینے والے مولوی

بدھ 06 نومبر 2019ء
سعدیہ قریشی
ہمیں یہ مان لینا چاہئے کہ ہم سب مولوی کے بارے میں خاص قسم کا تعصب روا رکھتے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ویل مینرز اور تہذیب و شائستگی کے اطوار سے شناسائی تو صرف ’’غیر مولوی‘‘ افراد ہی رکھ سکتے ہیں۔ مولوی کا مینرز ازم سے کوئی لینا دینا نہیں۔ اس لیے ہم مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ اور دھرنے سے ڈرے ہوئے تھے۔ کیونکہ یہ خالصتاً مولویوں کا دھرنا تھا۔ ہمیں خدشہ تھا کہ مدرسوں کی حبس زدہ فضائوں سے نکل کر مدرسوں کے طالب علم اگر اسلام آباد کی ماڈرن فضائوں میں آ گئے
مزید پڑھیے


سیاسی سرکس کا ہائوس فل شو اور ایک وقفہ

اتوار 03 نومبر 2019ء
سعدیہ قریشی
سیاسی سرکس جاری ہے۔ اس میں ذرا دیر کا وقفہ اس وقت آیاجب ضلع رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور کے قریب تیز گام کو آگ بڑھکنے کا المناک حادثہ پیش آیا۔سبز اور پیلی بوگیوں کو آگ کے زرد شعلوں کی لپیٹ میں دیکھنا۔ ایک ناقابل بیان خوفناک منظر تھا۔ مسافروں کا زندہ جل جانا ایسا دل سوز سانحہ تھا کہ کم از کم پورا ایک دن ہمارے مین سٹریم میڈیااور سوشل میڈیا کی توجہ اسی سانحے پر مبذول رہی۔ اس روز میڈیا میں سابق وزیر اعظم جناب نواز شریف کی بیماری اور خون میں کم پلیٹ لیٹس پر تشویش
مزید پڑھیے


ایک اور ’’سراب‘‘ کا سامنا تھا منیرؔمجھ کو

جمعه 01 نومبر 2019ء
سعدیہ قریشی
کم از کم میری توقعات کے برعکس مولانا فضل الرحمن پاور فل شو کا کا پہلا مظاہرہ تو کر چکے ہیں۔31اکتوبر کو لکھا جانے والا کالم جب نومبر کی پہلی کو شائع ہو گا تو آزادی مارچ کا یہ قافلہ شہر اقتدار میں پڑائو ڈال چکا ہو گا، ٹی وی چینلوں پر بیٹھے ہوئے تجزیہ نگار مولانا کے اس کاروان آزادی کا تجزیہ ان گنت زاویوں سے کر رہے ہیں۔ آزادی مارچ کے مقاصد حقیقت میں کیا ہیں۔ استعفیٰ تو کسی صورت نہیں لے سکتے پھر مولانا اس ساری کوشش اور سرگرمی سے آخر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں کیا
مزید پڑھیے


صورت بربادیٔ یاراں

بدھ 30 اکتوبر 2019ء
سعدیہ قریشی
فیض کے قلم سے نکلے ہوئے دو مصرعے ہیں ؎ اِن دنوں رسم رہ شہر نگاراں کیا ہے آج کل صورت بربادیٔ یاراں کیا ہے؟ تو عرض یہ ہے کہ شہرِ نگاراں میں ان دنوں دھرنوں، ریلیوں، جلوسوں اور ہڑتالوں کا موسم ہے۔ مولانا فضل الرحمن اپنے قافلے کے ساتھ محو سفر ہیں، 29اکتوبر جس روز یہ کالم لکھا جا رہا ہے مولانا کا قافلہ لاہور پہنچے گا۔ منزل اس قافلے کی، ظاہر ہے شہر اقتدار ہے جہاں پہلے سے ہی حفاظتی بند باندھنے کا کام شروع ہو چکا ہے۔ دھرنا ٹرینڈ ملک میں مقبول کرنے والوں کو
مزید پڑھیے