BN

سعدیہ قریشی



سچائی ‘ شائستگی اور انسانیت سے پرہیز


ہر صحافی کی طرح صبح سویرے اخبارات کا مطالعہ کرنا میری بھی عادت میں شامل ہے۔ ٹی وی چینلوں کی بے ہنگم بھیڑ میں بھی مجھے اخبار سے ہی خبر پڑھ کر تسلی ہوتی ہے۔ اگرچہ سارا دن چینلوں کی بریکنگ نیوز بھی کانوں میں پڑتی رہتی ہیں لیکن آخری تسلی اگلے روز کا اخبار پڑھ کر ہی ہوتی ہے اور اخبار بھی اصلی اخبار۔ انٹرنیٹ والا نہیں۔ یہ اور بات ہے انٹرنیٹ پر اردو اور انگریزی اخبارات کا مطالعہ بھی اب روز کے معمولات میں شامل ہے۔ آج کا دن ایسا ہوا کہ اخبار نہیں آئے۔ اس پر ستم یہ
جمعه 06 دسمبر 2019ء

اگلے جنم موھے بٹیا نہ کیجو۔!

بدھ 04 دسمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
مانسہرہ کی خوبصورت وادی سے ہمیں چار سالہ جنت کی خبر ملی اس خبر سے پہلے تو ہم جنت کو نہیں جانتے تھے اور یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ یہ گڑیوں جیسی معصوم بچی جس کے والدین نے اس کا نام جنت رکھ کر اس سے اپنے پیار کا اظہار کیا تھا اپنی چار سالہ مختصر زندگی میں غربت کے جہنم سے بھی کیسے گزری ہو گی۔ غربت اور جہالت کا جہنم نہ ہوتا تو وہ اس طرح لاوارث بے آسرا‘ درخت سے ٹوٹے ہوئے زرد پتے کی طرح ادھر ادھر والدین کے کسی حفاظتی حصار کے بغیر کیسے کھیل
مزید پڑھیے


یاد کی وہ پرچھائیں…!

اتوار 01 دسمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
یاد کی ایک پرچھائیں ہے جوسدا ساتھ ساتھ رہتی ہے۔ کوئی موسم وصل و ہجر کا۔ زندگی کی سڑک کے کنارے لگے سائن بورڈ پر دکھ لکھا ہو، خوشی لکھی ہو یا وہی بے نام سی اداسی۔ یاد کی یہ پرچھائیں ہاتھ پکڑے اٹھتی ہے۔ کبھی کبھی دکھ میں ڈھارس دے جاتی ہے۔ خوشی اور کامیابی کے لمحوں میں آنسوبن کر بہنے لگتی ہے اور دنیا کی اس بھیڑ میں اپنی ’’کمی‘‘ کا احساس دلا کر اداسی کی زرد اوڑھنی کو اور بھی زرد کردیتی ہے۔ پھر آس پاس ایک میلہ بھی لگا ہوتو سب خالی خالی سا لگتا ہے۔ سچ ہی
مزید پڑھیے


خوف کی مارکیٹنگ!

جمعه 29 نومبر 2019ء
سعدیہ قریشی
یہ مارکیٹنگ اور کمرشلائزیشن کا دور ہے۔ زندگی سے جڑی ہر شے اشتہاری اور اشتہاراتی ہو چکی ہے۔ مارکیٹنگ اور ایڈورٹائزمنٹ(Advertisment)کا یہ سونامی آج کے دور کے انسان کی زندگی سے سکون اور خوشی بہا کر دور لے چکاہے اور ہم مارکیٹنگ گزیدہ لوگوں کو اس کی خبر بھی نہیں ہوتی کہ ہم کارپوریٹ دنیا کے لالچ اور دولت کی ہوس کا کس بری طرح شکار ہوئے ہماری زندگیاں کارپوریٹ مافیا نے کس انداز میں یرغمال بنا لیں۔ مارکیٹنگ اور اشتہارات کا کاروبار اس وقت گھنائونی صورت اختیار کر لیتا ہے جب دوا ساز کمپنیاں خوف کی مارکیٹنگ کرتی ہیں۔ جی ہاں دنیا
مزید پڑھیے


بیماریو ں کی سوداگری

بدھ 27 نومبر 2019ء
سعدیہ قریشی
غالب نے غالباً نہایت سادگی میں یہ شعر کہہ دیا تھا کہ: بازیچۂ اطفال ہے دنیا میرے آ گے ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آ گے تماشا گاہ دنیا کو بازیچہ اطفال کی تشبیہ دینا۔ سادگی نہیں تو اور کیا ہے۔ دنیا کی سٹیج پر جو تماشا شب و روز ہمارے سامنے ہو رہا ہے وہ کسی طور بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ بچوں کے کھیل میں تو معصومیت ‘ سادگی‘ بھولپن اور بے ساختہ پن کی خوبصورتی ہوتی ہے جبکہ تماشا گاہ عالم میں چالا کی و عیاری سے ترتیب دیے ہوئے ایک کے بعد دوسرا منظر ہمارے سامنے جلوہ گر
مزید پڑھیے




’’ہر ٹوٹے ہوئے رشتے کے نام‘‘

اتوار 24 نومبر 2019ء
سعدیہ قریشی
یہ کوئی کہانی‘ افسانہ ‘ ناول یا شاعری نہیں ہے۔ خطوط ہیں جو پردیس کاٹتے ہوئے ایک شوہر نے اپنی بیوی کے نام لکھے ہیں۔ یہ خط جس منظر اور پیش منظر میں لکھے گئے وہ بدل چکا ہے ۔ ان کا سیاق و سباق تبدیل ہو گیا ہے۔ جذبات کا محل وقوع وہ نہیں رہا۔ محبت بھی ضروری تھی بچھڑنا بھی ضروری تھا۔ والی صورت حال۔ طواف آرزو کے قبلہ کو بدلے بھی زمانے ہو گئے۔ زندگی کے الیکٹران اب کسی نئے نیو کلپس کے گرد گھوم رہے ہیں۔ شاید یہی زندگی ہے اور یہی محبت کی کہانی ہے۔
مزید پڑھیے


اور کاغذ کی خانقاہ کہاں…!

جمعه 22 نومبر 2019ء
سعدیہ قریشی
پاکستانی مارکہ جمہوریت اور طرز سیاست پر کڑھتے رہنا قلم کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے۔ یہ لکھ دیا گیا ہے کہ ہم بے آوازوں کی آواز بنتے رہیں۔ انسان کے حق میں لکھتے رہیں۔ انسانیت کے لئے آواز اٹھاتے رہیں۔ کم وسیلہ ہم وطنوں کی بنیادی ضرورتوں‘ حقوق اورمجبوریوں کو الفاظ کا پیراہن دیتے رہیں اور یہی ایک کالم نگار کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ جہاں تک ہو سکے سچائی کی آواز بنے۔ جہاں تک ہو سکے خلق خدا کے درد کو اہل اختیار و اہل اقتدار تک پہنچائے۔ سید قاسم محمود ایک نابغہ روزگار تھا۔ بڑے بڑے
مزید پڑھیے


کیا سیاست اور انسانیت الگ دنیا نہیں ہیں؟

بدھ 20 نومبر 2019ء
سعدیہ قریشی
امروز کے لکھے ہوئے امرتا کے خطوط پڑھ رہی تھی، ایک خط لکھتے ہوئے امرتا لکھتی ہے ’’سیاست کی دنیا اور ہوتی ہے انسانیت کی اور!‘‘ اور اس ایک جملے نے گویا مجھے آکٹوپس کی طرح جکڑ لیا۔ میں بار بار یہی سوچتی رہی کہ سیاست کی ساری بدصورتیاں جو اس وقت دنیا کو جہنم بنائے ہوئے ہیں۔ ان ساری بدصورتیوں کو امرتا نے اس ایک جملے میں سمو دیا ہے۔ سیاست کا انسانیت سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہوتا۔ وہ عالمی سیاست ہو یا پھر ملکوں کی اندرونی سیاست ہو۔اگر انسانیت کو مقدم جانا جاتا ہو تو پھر سیاست کی شکل شاید
مزید پڑھیے


سیاسی تعصبات اور عدم برداشت

اتوار 17 نومبر 2019ء
سعدیہ قریشی
16نومبر کو دنیا بھر میں برداشت اور رواداری کا دن منایا گیا۔ دن منانے کا شوق ہمیں بھی بہت ہے۔ کتاب کا دن‘ استاد کا دن‘ ذہنی صحت کا دن‘ برداشت اور رواداری کا دن۔ ہم برسوں کے طے کئے ہوئے گھسے پٹے طریقوں سے ایسے دن مناتے ہیں اور اگلے روز بھول بھال کر دوبارہ سے اپنی پرانی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ ویسے دن اسی چیز کا منایا جاتا ہے جس کو عام زندگی میں ہم فراموش کئے بیٹھے ہوں۔ مثلاً یہی دیکھ لیں کہ ہم سلام استاد ڈے بڑے ذوق و شوق سے مناتے ہیں۔ مگر حقیقت
مزید پڑھیے


مسیحا کی خودنوشت

جمعه 15 نومبر 2019ء
سعدیہ قریشی
ایک سائیکالوجسٹ اپنے بلاگ میں لکھتا ہے کہ میں اکثر اپنے مریضوں کو خودنوشت یا آپ بیتی پر مبنی کتابیں پڑھنے کی تاکید کرتا ہوں۔ کیوں کہ ان کتابوں میں دوسرے افراد کی زندگیوں کے اتار چڑھائو‘ آزمائشوں کامیابیوں اور ناکامیوں کو ہم اپنی زندگیوں سے relateکر کے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔کتب بینی کا شغف رکھنے والے بیشتر افراد بائیو گرافی پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ خود مجھے بھی دن کے مصروف ترین اوقات میں جب فرصت کے چند لمحے میسر آئیں تو مجھے دو قسم کی کتابیں پڑھنے میں آسانی اور سہولت محسوس ہوتی ہے۔ ایک تو موٹی
مزید پڑھیے