BN

سعدیہ قریشی



خزانے کی دریافت اور اخلاقی زوال کا کلائمیکس


دانیال آٹھ سال کا ہے۔ کارٹونز کی دنیا اس کے ننھے تخیل پر سوار رہتی ہے۔ وہ اکثر کارٹونز کے کرداروں اور واقعات کو حقیقی دنیا سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ ادھر اس عمر کے بچے کارٹون کی دنیا میں ہونے والی چیزوں کو اصل زندگی میں ہی ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب سے اس نے (Ninja go)نجا گو سیریز میں خزانے کی تلاش والی قسط دیکھی ہے اس پر ایک ہی دُھن سوار ہے کہ زمین کی کھدائی کر کے خزانہ تلاش کرنا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ایپی سوڈ اس نے اردو زبان میں دیکھی اس
بدھ 25  ستمبر 2019ء

کینسر کے مریض سڑکوں پر

اتوار 22  ستمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
17ستمبر 2019ء کو جب پوری دنیا Patient safty dayمنا رہی تھی‘ خود وطن عزیز میں بھی اس حوالے سے تقریبات ہوئیں۔ عین اس سے ایک دن کے بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بلڈ کینسر کے سینکڑوں مریض بستر مرگ سے چارو ناچار اٹھ کر سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور تھے۔ ان کا یہ احتجاج حکمرانوں کے نام تھا جنہوں نے جان لیوا مرض میں مبتلا‘ ان مریضوں کی مفت ادویات بند کر کے سفاکانہ قدم اٹھایا۔ اگرچہ بدانتظامی اور حکومتی نااہلی کے مناظر ہمیں روز ہی یہاں دیکھنے کو ملتے ہیں کبھی استاد تو کبھی ڈاکٹر سڑکوں پر احتجاج کرتے
مزید پڑھیے


میر حسن! اچھا ہی ہوا تم ابدی نیند سو گئے

جمعه 20  ستمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
10سالہ میر حسن ابڑو کوئی سندھ کا پہلا بچہ تھوڑی ہے جو دوانہ ملنے پر اپنی ماں کی میلی غربت زدہ گود میں تڑپتا رہا۔ اس کی ہر ہچکی کی آواز برچھی بن کر ماں کے کلیجے پر قیامت ڈھاتی رہی۔ اور اس کی کراہیں بے بس مامتا کی روح کو کانٹوں پر اس طرح گھسیٹتی رہیں جیسے ململ کا دوپٹہ کانٹوں کی جھاڑیوں میں پھنس کر لیرو لیر ہو جاتا ہے۔ میر حسن ابڑو کوئی سندھ کا پہلا بچہ تھوڑی ہے جو دووا نہ ملنے پر تڑپ تڑپ کر ماں کی میلی گود میں دم توڑ گیا۔یہ سندھ ہے۔ سائیں۔
مزید پڑھیے


غبار خاطر۔ ایک نئے زاویے سے!

بدھ 18  ستمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
غبار خاطر ایک کلاسیک کا درجہ رکھتی ہے، میری پسندیدہ کتابوں میں سے سرفہرست۔ جب بھی اسے پڑھوں کچھ نیا ضرور سیکھتی ہوں۔ ابوالکلام آزاد کا طرزِ نگارش اس قدر رچائو، لطافت اور کیف سے بھرپور ہے کہ نثر پڑھنے کا لطف آ جاتا ہے۔ یہ ان کتابوں میں سے ایک ہے جسے میں اکثر پڑھتی ہوں۔ کل ایک ریفرنس دیکھنے کے لیے دوبارہ سے ابوالکلام آزاد کی اس کلاسیک کتاب کو اٹھایا تو حسب معمول اس کی نثر نے مجھے پھر جکڑ لیا لیکن اس بار غبار خاطر کی ایک انوکھی خوبی میرے سامنے آئی اسی لیے میں نے سوچا کہ
مزید پڑھیے


کہاں جیک ما۔ کہاں ہم۔!

اتوار 15  ستمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
پوری دنیا میں ابھی جیک ما(Jack ma)کی انوکھی الوداعی پارٹی کی دھوم ہے جس میں اس نے 80ہزار تماشائیوں کے سامنے میوزک انسٹرومنٹ بجائے۔ گانے گائے اور رقص کیا۔جیک ما کو دنیا علی بابا کے سی ای او کی حیثیت سے جانتی ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی دنیا اسے اس صدی کا سب سے بڑا ای کامرس ویژنری مانتی ہے۔علی بابا کو دنیا کی سب سے بڑی آئن لائن ریٹیلر کمپنی کہا جاتا ہے۔ جیک ما اس کا بانی اور کرزمیٹک شخصیت رکھنے والا ویژنری ہے جو خود کو صرف استاد کہلانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ اس نے 55برس کی
مزید پڑھیے




میرے مزدورو! آئو تبدیلی کا ماتم کریں!

جمعه 13  ستمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
میرے مزدورو! میرے پنجاب کے محنت کشو! تم پہ جائز ہے کہ تم تبدیلی کا ماتم کرو۔ اس لئے کہ تبدیلی کا ہتھوڑا اس بار تمہارے سروں پر گرا ہے۔ کارخانوں کی چمنیوں سے دھواں نہیں تمہارے جلتے خوابوں کی راکھ اٹھ رہی ہے۔ کارخانوں کی دیو ہیکل مشینوں کوچلانے کے لئے تمہارے جسموں کا لہو درکار ہے یہ لہو ان مشینوں کے پہیوں کو چلاتا ہے۔ تو کارخانے چلتے ہیں۔ کارخانہ دار کے بنک بیلنس بڑھتے ہیں۔ لیکن تمہیں تو چند ہزار ملتے ہیں جس سے تم اپنی اور اپنے بچوں کی زندگیاں گھسیٹ رہے ہو۔گارمنٹس فیکٹریوں میں کام کرنے
مزید پڑھیے


کیکٹس میں بدلتا سماج

اتوار 08  ستمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
سماج متشدد رویوں سے چھلک رہا ہے کوئی دن ایسی خبروں سے خالی نہیں جاتا جس میں تشدد سے بھرے رویوں کی وجہ سے حادثوں اور سانحوں کا ذکر نہ ہو۔ ہماری روز مرہ کی آف سکرین زندگی سے لے کر سوشل میڈیا پر دکھائی دیتی ہماری آن لائن زندگی کے عکس تک سب عدم برداشت ‘ کینے اور بغض سے لبریز ہے۔ہماری گفتگو میں الفاظ سے زیادہ طنز کے تیر ہیں اور ہمارے مباحثوں میں دلائل سے زیادہ عدم برداشت کے گھونسے ہیں ہمیں تب تک چین نہیں پڑتا جب تک ہم اپنے مخاطب کو اپنے دلائل کے گھونسوں
مزید پڑھیے


کدی سار وی لئی او رب سائیاں!

جمعه 06  ستمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
ذہنی معذور صلاح الدین قانون کی تحویل میں‘ قوم کے باوردی محافظوں کا ظلم سہتا۔ اس نظام کو منہ چڑاتا ہوا۔ تبدیلی کے نعرے لگانے والوں کو ٹھینگا دکھاتا۔ اس دنیا سے اگلے جہاں سدھار گیا۔ اس کا منہ چڑانا ‘ اس معاشرے کے فرعونوں‘ خود ساختہ خدائوں مدینہ کی ریاست کے نعرے لگانے والے حکمرانوں اور ستر سال سے اس ملک پر حکمرانی کرنے والی طاقتوں کو ایک آئینہ دکھانا تھا کہ لو یہ رہا تمہارا نظام۔ تمہارے انصاف کے معیار قانون‘ آئینی ضابطے اور قاعدے تمہاری پولیس ریفارمز اور تبدیلی کے جھوٹے خواب اور یوٹرنوں کے ڈھیر! آئینہ تو مگر
مزید پڑھیے


ہمزاد: امرتا پریتم اور افضل توصیف

بدھ 04  ستمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
امرتا پریتم کی شخصیت میں کوئی جادو، کوئی طلسم ضرور ہے کہ وہ شخص بھی ان کے سحرمیں گرفتار ہے جس نے باقاعدہ امرتا پریتم کو نہیں پڑھا۔ بس ان کی بے پناہ مقبول پنجابی نظم کے وہی مشہور زمانہ چار مصرعے سن رکھے ہیں جو ہر جگہ بار بار دہرائے جاتے ہیں۔اَج آکھاں وارث شاہ نوں۔ کتوںقبراں وچوں بول! یا پھر کچھ لوگ انہیں ساحر لدھیانوی کے حوالے سے بھی مانتے ہیں کہ ساحر سے امرتا کے عشق کی داستان بھی نہایت افسانوی اور پرکشش ہے لیکن امرتا کی شخصیت اتنی متنوع، تخلیقی کام اتنا ہمہ جہت ہے کہ ایک
مزید پڑھیے


مسز خان کی غلطی اور لنڈے کی فیمیزم

جمعه 30  اگست 2019ء
سعدیہ قریشی
الیکٹرانک میڈیا پر آنے والے سیاسی ٹاک شوز ہوں یا پھر سماجی موضوعات پر ترتیب دیئے جانے والے مارننگ شوز‘ سب بدترین بھیڑ چال کا شکار ہیں۔ کہیں کہیں کوئی استثنا موجود ہو تو کچھ کہہ نہیں سکتی کہ میں نے اب اپنے وقت کو قیمتی جان کر ٹی وی سکرین پر بار بار کے دھراتے ہوئے ٹاک شوز دیکھنا تقریباً چھوڑ دیئے ہیں۔ مارننگ شوز تو زمانہ ہوا نہیں دیکھے۔ لیکن جو بات کچھ متنازعہ ہو وہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے پتہ چل جاتی ہے۔پروگراموں میں بلائے جانے والے مہمانوں کو مدعو کرتے وقت یہ نہیں دیکھا
مزید پڑھیے