سعدیہ قریشی


زندگی گزارنے کے روشن ایس او پیز


پچاس‘ پچپن صفحات پر مشتمل یہ ایک مختصر سی کتاب ہے۔ یہ کتاب میں نے انارکلی کی پرانی کتابوں کے سٹال سے خریدی تھی۔ پرانی کتابیں فٹ پاتھ پر بک رہی ہوں یا سٹالوں پر‘ اپنی جانب ضرور کھینچتی ہیں۔ پرانی سال خوردہ کتابوں کو الٹ پلٹ کر کے دیکھنا اور اپنی پسند کی کوئی کتاب تلاش کرنا ایک پرلطف عمل ہے اور اس خوشی کو وہی جان سکتا ہے جسے کتاب پڑھنے اور پرانی کتابوں کے ذخیرے سے خزانے تلاش کرنے کا چسکا ہو۔ یہ گزشتہ موسم سرما کی دھیمی دھیمی سردیوں کی ایک دوپہر تھی‘ دن اتوار کا تھا
بدھ 20 مئی 2020ء

کپڑوں سے اٹی خالی الماریاں

اتوار 17 مئی 2020ء
سعدیہ قریشی
ہفتے میں چار دن کاروباری سرگرمیاں شروع ہونے اور لاک ڈائون کھلنے سے بازار بھیڑ سے بھر چکے ہیں۔ سماجی دوری اور باہمی فاصلے کا اصول ہوا ہو چکا ہے کئی ہفتوں کے لاک ڈائون میں شاپنگ کو ترسی ہوئی بیبیاں رسے تڑوا کر گھروں سے خریداری کی مہم پر نکل کھڑی ہوئیں ہیں۔سماجی دوری‘ باہمی فاصلہ ،ایس او پیز کس چڑیا کے نام ہیں۔ وہ شاپنگ کے ہیجان میں مبتلا ان بیبیوں کو خبر نہیں اور تو اور اپنے ساتھ اپنے چھوٹے بچوں کو بھی بازاروں میں لیے گھومتی پھرتی ہیں۔ اپنے تئیں یہ یقین کر چکی ہیں کہ
مزید پڑھیے


مئی‘املتاس اور مجید امجد

جمعه 15 مئی 2020ء
سعدیہ قریشی
مئی کا وسط آ چکا ہے اور ابھی تک نہ تو املتاس پہ توجہ دے پائی ہوں اور نہ ہی مجید امجد کو یاد کیا کہ مئی کی گیارہ تاریخ ہی تھی جب یہ شعر کہنے والا اس جہان سے رخصت ہوا تھا کہ : میں روز ادھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا اپریل کے ٹھنڈے میٹھے مہینے کے بعد مئی میں موسم گرما کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے۔ ہوا میں حدت بڑھ جاتی ہے اور ہوا کی یہی حدت املتاس کی شاخوں پر زور جادو جگاتی ہے یوں بہار گزرنے کے
مزید پڑھیے


سکرپٹ…؟؟

بدھ 13 مئی 2020ء
سعدیہ قریشی
یہ 2015ء کا سال ہے، یعنی آج سے پانچ برس پیشتر، بل گیٹس Tedtalkمیں عالمی وباء یعنی Pandemicپر ایک لیکچر دیتا ہے۔ ہال سامعین سے کھچا کھچ بھرا ہے۔ روشنیاں مدھم ہیں، ٹیڈ ٹاک کی مخصوص تالیوں کی گونج ابھرتی ہے اور سٹیج پر روشنی کے ایک دائرے کے حصار میں بل گیٹس، اپنی گفتگو کا آغاز کرتا ہے، میں اس کی گفتگو کو ترجمہ کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ بل گیٹس کہتا ہے کہ اگلے چند سالوں میں لوگ جنگوں سے نہیں وبائی امراض سے مریں گے۔ پھر وہ وضاحت کرتا ہے کہ میزائل سے نہیں بلکہ ان کے مرنے کی
مزید پڑھیے


بے یقین موسم میں لکھا گیا ایک کالم

اتوار 10 مئی 2020ء
سعدیہ قریشی
کبھی ایسا لگتا ہے کہ زندگی خوف اور بے یقینی کی اسیر ہو چکی ہے۔ صرف پاکستان ہی نہیں پورا عالمی گائوں اس بے یقینی کا شکار ہے۔ کبھی یوں لگتا ہے جیسے بے یقینی کا یہ زرد موسم کسی طاقت نے جان بوجھ کر انسانوں کی بستی پر اتارا ہو اور اب اسے (A time of great uncertanity)کہا جا رہا ہو یعنی دور بے یقینی۔ جیسے کبھی ۔(A time of great depression) لوگوں کا مقدر تھا۔ معیشت جس میں جھاگ کی طرح بیٹھ گئی تھی ،امریکہ سے شروع ہوا اور کئی ملکوں تک پھیل گیا۔ نوکریاں چلی گئیں روزگار
مزید پڑھیے



کیا’’دست اجل کو سہولت دے دی گئی ہے‘‘؟

جمعه 08 مئی 2020ء
سعدیہ قریشی
وبا اگر صرف ایک بیماری ہو تو لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس سے محفوظ رہنے کا جتن کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر اس عالمی وبا کے درپردہ ‘ نہ سمجھنے آنے والے پراسرار عوامل کارفرما ہوں تو پھر یہ صورت حال ایک گورکھ دھندہ بن جاتی ہے اور اب تو اس وبا کے موسم میں ایسے ایسے المیے جنم لے رہے ہیں مسائل کی جو صورت پہلے تھی وہی کچھ کم نہ تھی لیکن اب جو کچھ خلق خدا کے ساتھ ہو رہا ہے وہ بہت بھیانک ہے۔ کراچی میں ڈاکٹر فرقان الحق کی المناک موت نے اخبارات سے
مزید پڑھیے


اوپر سے حکم ہے

بدھ 06 مئی 2020ء
سعدیہ قریشی
مارچ کے وسط میں ہمارے ہاں وبا کا موسم اپنے پنجے گاڑ چکا تھا۔ دلوں سے لے کر شہر کی شاہراہوں تک، ایک خوف اور ہراس کا عالم تھا۔ انہی دنوں ہماری ایک عزیز فیملی کا طالب علم بیٹا لندن سے واپس گھر آیا تو حفظ ما تقدم کے طور پر اس کا ٹیسٹ کروا لیا گیا۔ اس میں بغیر علامتوں کے کورونا ٹیسٹ پازیٹو آیا۔ پڑھے لکھے اور با شعور لوگ ہیں، شہر کے پوش علاقے میں رہتے ہیں، سو اس وبا کے پھیلائو کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے والدین نے اپنے لندن پلٹ صاحبزادے سے صرف دور
مزید پڑھیے


روحانی خلاء کو بھرنے والے

منگل 05 مئی 2020ء
سعدیہ قریشی
اسی کی دہائی میں جنید جمشید جیسا چاہے جانے والا اور کوئی گلو کار نہ تھا۔شعیب منصور کے لکھے ہوئے گیتوں کو جنید جمشید کی آواز لازوال بناتی رہی۔ وہ کون تھی تمام شہر جس کے حسن میں گم تھا۔ تمہارا اور میرا نام جنگل میں درختوں پر ابھی لکھا ہوا۔ میرا دل نہیں availableکوئی اور در کھٹکھٹائو۔ کتنے ہی گیت ہیں جو اس وقت حرزجاں بنے۔ اور آج پھر اس وقت کو یاد کر کے تحریر میں خودبخود امڈ رہے ہیں۔ یاد آتا ہے کہ اس وقت سکول کا زمانہ تھا اور دل دل پاکستان ہم نے بھی
مزید پڑھیے


’’سچ آکھاں تے بھانبھڑ مچ دا اے‘‘

اتوار 26 اپریل 2020ء
سعدیہ قریشی
کچھ کالم محض کالم نہیں، ایک فرض کی طرح ہوتے ہیں۔ جن کا ادا کرنا بہرحال ضروری ہوتا ہے اور یہ فرض ادا نہ کیا جائے تو لکھاری کو اپنے ضمیر پر بوجھ کا احساس ہوتا ہے۔ جانتی ہوں کہ یہ سماج سچ کوہضم نہیں کر سکتا۔ اس لئے کہ سماج کا تانا بانا طاقتور کی سہولت کے لئے بنا گیا ہے۔ اس سماج کے سارے ضابطے طاقتور کے خدمت گزار ہیں۔ یہاں جو اختیار‘ رسوخ‘ طاقت‘ سٹیٹس‘ سے عاری ہو وہ روندا جاتا ہے۔ سچ کڑوا ہوتا ہے۔ سچ بولنا مشکل ہے۔ سچ بولنے والے سولی پر چڑھتے ہیں۔ سچ
مزید پڑھیے


ماہ رمضان کی آمد

جمعه 24 اپریل 2020ء
سعدیہ قریشی
رمضان کی آمد اور اس بار کچھ سونی سونی سی ہے۔ عموماً رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہی بہت سی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ گھروں میں خواتین گھر کی تفصیلی صفائیاں کرتی ہیں پردے دھلوائے جاتے ہیں‘ فرش چمکائے جاتے ہیں۔ جہاں صفائیاں معمول کا حصہ نہیں ہوتیں وہاں تو دیواروں کی گرد بھی رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی جھاڑی جاتی ہے اور کونوں کھدروں کے جالے بھی اسی ماہ مبارک کی آمد سے قبل اتارے جاتے ہیں۔ الحمد اللہ ہمارے ہاں تو صفائی معمول کی صفائیاں بھی غیر عمولی انداز میں ہوتی ہیں۔ سو رمضان
مزید پڑھیے