BN

سعدیہ قریشی



شرمناک اخلاقی زوال


گزشتہ ایک دہائی سے تین برس اوپر کی بات ہے۔2007ء کا زمانہ تھا جب ہم کالے کوٹوں کے سحر میں مبتلا تھے۔ ہم انہیں آمر کے سامنے ڈٹ جانے والے بہادر‘ جبر کے سناٹے میں اپنے گریبان کا پرچم باہر لے کر نکلنے والے دیوانے اور آئین اور قانون کو تحفظ دینے والے محافظ سمجھتے تھے۔ جسٹس افتخار اپنا تاریخی ’’انکار‘‘ آمر کے سامنے کر چکے تھے۔ عدلیہ کی تحریک زور پکڑ رہی تھی۔ جسٹس افتخار کے انکار کو تحریک میں بدلنے والے یہی کالے کوٹ والے دیوانے ہی تھے ان کا کالا کوٹ آئین اور قانون کے تحفظ کا استعارہ
جمعه 13 دسمبر 2019ء

نوم چومسکی: 90 سالہ باغی دانشور

بدھ 11 دسمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
اس عہد کا عظیم باغی دانشور، جدید انگریزی لسانیات کا بانی، نوم چومسکی 7 دسمبر 2019ء کو پورے نوے برس کا ہوگیا۔ یونیورسٹی آف ایرا زونا میں باغی دانشور نے سالگرہ کا کیک کاٹا۔امریکہ میں غیر سرکاری طور پر 7دسمبر کو نوم چومسکی ڈے کہا جاتا ہے۔ اس روز نوم چومسکی کے چاہنے والے ایک دوسرے کو ہیپی کرسمس کی طرح ہیپی نوم چومسکی ڈے کہہ کر مبارک دیتے ہیں اور اس خوشی کا اظہار کرتے کہ وہ اس صدی کے سب سے بڑے دانشور کے عہد میں زندہ ہیں۔ اس میں کیا شبہ کہ جو بھی نوم چومسکی کے نظریات،
مزید پڑھیے


حوصلوں کی وہیل چیئر پر

اتوار 08 دسمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
پارسی ناول نگار بیپسی سدھوا کو جب میں نے پہلی بار پڑھا تو معلوم نہیں تھا کہ وہ وہیل چیئر بائونڈ ہیں اور یہ حادثہ ان کے ساتھ اوائل عمری میں بھی پیش آیا۔ پولیو وائرس نے رفتہ رفتہ چلنے پھرنے سے معذور کر دیا۔ دوسری بار بیپسی سدھوا کو میں نے لنگوسٹکس پڑھتے ہوئے ان کے ایک ناول دی پاکستانی برانڈ پر پریذینٹیشن دینے کے لئے پڑھا تبھی ان کی زندگی کی کہانی کے بارے میں جانا۔ یہ بات بہت انسپریشنل تھی کہ بیپسی سدھوا اوائل عمری میں ہی معذوری کی وجہ سے باقاعدہ سکول نہیں جا سکیں لیکن انہوں
مزید پڑھیے


سچائی ‘ شائستگی اور انسانیت سے پرہیز

جمعه 06 دسمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
ہر صحافی کی طرح صبح سویرے اخبارات کا مطالعہ کرنا میری بھی عادت میں شامل ہے۔ ٹی وی چینلوں کی بے ہنگم بھیڑ میں بھی مجھے اخبار سے ہی خبر پڑھ کر تسلی ہوتی ہے۔ اگرچہ سارا دن چینلوں کی بریکنگ نیوز بھی کانوں میں پڑتی رہتی ہیں لیکن آخری تسلی اگلے روز کا اخبار پڑھ کر ہی ہوتی ہے اور اخبار بھی اصلی اخبار۔ انٹرنیٹ والا نہیں۔ یہ اور بات ہے انٹرنیٹ پر اردو اور انگریزی اخبارات کا مطالعہ بھی اب روز کے معمولات میں شامل ہے۔ آج کا دن ایسا ہوا کہ اخبار نہیں آئے۔ اس پر ستم یہ
مزید پڑھیے


اگلے جنم موھے بٹیا نہ کیجو۔!

بدھ 04 دسمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
مانسہرہ کی خوبصورت وادی سے ہمیں چار سالہ جنت کی خبر ملی اس خبر سے پہلے تو ہم جنت کو نہیں جانتے تھے اور یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ یہ گڑیوں جیسی معصوم بچی جس کے والدین نے اس کا نام جنت رکھ کر اس سے اپنے پیار کا اظہار کیا تھا اپنی چار سالہ مختصر زندگی میں غربت کے جہنم سے بھی کیسے گزری ہو گی۔ غربت اور جہالت کا جہنم نہ ہوتا تو وہ اس طرح لاوارث بے آسرا‘ درخت سے ٹوٹے ہوئے زرد پتے کی طرح ادھر ادھر والدین کے کسی حفاظتی حصار کے بغیر کیسے کھیل
مزید پڑھیے




یاد کی وہ پرچھائیں…!

اتوار 01 دسمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
یاد کی ایک پرچھائیں ہے جوسدا ساتھ ساتھ رہتی ہے۔ کوئی موسم وصل و ہجر کا۔ زندگی کی سڑک کے کنارے لگے سائن بورڈ پر دکھ لکھا ہو، خوشی لکھی ہو یا وہی بے نام سی اداسی۔ یاد کی یہ پرچھائیں ہاتھ پکڑے اٹھتی ہے۔ کبھی کبھی دکھ میں ڈھارس دے جاتی ہے۔ خوشی اور کامیابی کے لمحوں میں آنسوبن کر بہنے لگتی ہے اور دنیا کی اس بھیڑ میں اپنی ’’کمی‘‘ کا احساس دلا کر اداسی کی زرد اوڑھنی کو اور بھی زرد کردیتی ہے۔ پھر آس پاس ایک میلہ بھی لگا ہوتو سب خالی خالی سا لگتا ہے۔ سچ ہی
مزید پڑھیے


خوف کی مارکیٹنگ!

جمعه 29 نومبر 2019ء
سعدیہ قریشی
یہ مارکیٹنگ اور کمرشلائزیشن کا دور ہے۔ زندگی سے جڑی ہر شے اشتہاری اور اشتہاراتی ہو چکی ہے۔ مارکیٹنگ اور ایڈورٹائزمنٹ(Advertisment)کا یہ سونامی آج کے دور کے انسان کی زندگی سے سکون اور خوشی بہا کر دور لے چکاہے اور ہم مارکیٹنگ گزیدہ لوگوں کو اس کی خبر بھی نہیں ہوتی کہ ہم کارپوریٹ دنیا کے لالچ اور دولت کی ہوس کا کس بری طرح شکار ہوئے ہماری زندگیاں کارپوریٹ مافیا نے کس انداز میں یرغمال بنا لیں۔ مارکیٹنگ اور اشتہارات کا کاروبار اس وقت گھنائونی صورت اختیار کر لیتا ہے جب دوا ساز کمپنیاں خوف کی مارکیٹنگ کرتی ہیں۔ جی ہاں دنیا
مزید پڑھیے


بیماریو ں کی سوداگری

بدھ 27 نومبر 2019ء
سعدیہ قریشی
غالب نے غالباً نہایت سادگی میں یہ شعر کہہ دیا تھا کہ: بازیچۂ اطفال ہے دنیا میرے آ گے ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آ گے تماشا گاہ دنیا کو بازیچہ اطفال کی تشبیہ دینا۔ سادگی نہیں تو اور کیا ہے۔ دنیا کی سٹیج پر جو تماشا شب و روز ہمارے سامنے ہو رہا ہے وہ کسی طور بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ بچوں کے کھیل میں تو معصومیت ‘ سادگی‘ بھولپن اور بے ساختہ پن کی خوبصورتی ہوتی ہے جبکہ تماشا گاہ عالم میں چالا کی و عیاری سے ترتیب دیے ہوئے ایک کے بعد دوسرا منظر ہمارے سامنے جلوہ گر
مزید پڑھیے


’’ہر ٹوٹے ہوئے رشتے کے نام‘‘

اتوار 24 نومبر 2019ء
سعدیہ قریشی
یہ کوئی کہانی‘ افسانہ ‘ ناول یا شاعری نہیں ہے۔ خطوط ہیں جو پردیس کاٹتے ہوئے ایک شوہر نے اپنی بیوی کے نام لکھے ہیں۔ یہ خط جس منظر اور پیش منظر میں لکھے گئے وہ بدل چکا ہے ۔ ان کا سیاق و سباق تبدیل ہو گیا ہے۔ جذبات کا محل وقوع وہ نہیں رہا۔ محبت بھی ضروری تھی بچھڑنا بھی ضروری تھا۔ والی صورت حال۔ طواف آرزو کے قبلہ کو بدلے بھی زمانے ہو گئے۔ زندگی کے الیکٹران اب کسی نئے نیو کلپس کے گرد گھوم رہے ہیں۔ شاید یہی زندگی ہے اور یہی محبت کی کہانی ہے۔
مزید پڑھیے


اور کاغذ کی خانقاہ کہاں…!

جمعه 22 نومبر 2019ء
سعدیہ قریشی
پاکستانی مارکہ جمہوریت اور طرز سیاست پر کڑھتے رہنا قلم کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے۔ یہ لکھ دیا گیا ہے کہ ہم بے آوازوں کی آواز بنتے رہیں۔ انسان کے حق میں لکھتے رہیں۔ انسانیت کے لئے آواز اٹھاتے رہیں۔ کم وسیلہ ہم وطنوں کی بنیادی ضرورتوں‘ حقوق اورمجبوریوں کو الفاظ کا پیراہن دیتے رہیں اور یہی ایک کالم نگار کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ جہاں تک ہو سکے سچائی کی آواز بنے۔ جہاں تک ہو سکے خلق خدا کے درد کو اہل اختیار و اہل اقتدار تک پہنچائے۔ سید قاسم محمود ایک نابغہ روزگار تھا۔ بڑے بڑے
مزید پڑھیے