BN

سعدیہ قریشی


کراچی: نامعلوم افراد سے معلوم افراد تک


کراچی کی بربادی کا نوحہ ہر زبان پر ہے۔ بارش کے پانیوں میں ڈوبا ہوا کراچی۔ پانی اتر گیا تو غلاظت بھرے کیچڑ میں لتھڑا ہوا کراچی۔ بارش کے موسم سے پہلے‘ کچرے سے بھرا ہوا کراچی کہ لکھنے والے اسے کچراچی لکھنے لگے۔ میں اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ کراچی کا اصل المیہ اس کا سیاسی کچرا ہے جس نے آج اس شہر بے مثال کو بدبودار کر رکھا ہے۔ بے حس سیاسی جماعتوں اور اہل اختیار و اہل اقتدار کے ہاتھ میں کھلونا بنا ہوا شہر جو کھینچا تانی کرنے والوں کے ہاتھوں سے گرتا ہے‘ ٹوٹتا
بدھ 02  ستمبر 2020ء

موت رسوا ہو چکی ہے زندگی سجدے میں ہے

اتوار 30  اگست 2020ء
سعدیہ قریشی
آج دس محرم الحرام ہے۔ گھر کی ہر شے سے لے کر شہر کے ہر منظر تک غم‘ سوگواری کی کیفیت ہے‘ غم و حزن کی فضا ہے۔ صدیاں گزریں مگر آج بھی انسان نواسہ رسولؐ کی استقامت اور عظیم الشان قربان پر حیران، آپ کی عظمت کو خراج پیش کرتا ہے۔ شاعر کا قلم آج بھی امام عالی ؑ مقام اور آل نبیؐ کی عظمتوں کو سلام پیش کرتا ہے۔ آئیے واقعہ کربلا کے تناظر میں لکھے گئے لازوال اشعار‘ مرثیے اور نوحے پڑھتے ہیں۔ افتخار عارف کے قلم سے نکلے چند لازوال ا شعار دیکھئے: کربلا کی خاک پر کیا
مزید پڑھیے


ایک قطرۂ خون

جمعه 28  اگست 2020ء
سعدیہ قریشی
کتاب پڑھتے ہوئے‘ مجھے چائے‘ کافی یا ہربل ٹی پینے کی عادت ہے کبھی ساتھ بادام اور کشمش کھاتے رہنا کتاب کے حرف حرف سے لطف اندوز ہونا اچھا لگتا ہے۔ مگر چند روز سے جو کتاب میں پڑھ رہی ہوں‘ اسے پڑھنا‘کتاب ’’پڑھنے‘‘ جیسا عمل نہیں ہے۔ میں اس کتاب کو پڑھنے کے لئے کھولتی ہوں تو کئی زمانے پیچھے چلی جاتی ہوں۔ ایک نیا جہاں، ایک نئی دنیا، میرے اردگرد آباد ہونے لگتی ہے۔ کربلا کی گرم ریت آس پاس اڑنے لگتی ہے۔ پیاسوں کی قدم بوسی کو تڑپتی ہوئی فرات کی لہروں کا شور سنائی دیتا ہے۔ پیاس
مزید پڑھیے


سرخرو ہوا مگر…!

بدھ 26  اگست 2020ء
سعدیہ قریشی
پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ میں ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ چند ماہ پہلے بورڈ کا نیا ایم ڈی آیا تھا۔ کام کے طور طریقوں میں اس کا انداز بالکل الگ تھا۔نئے ایم ڈی نے بورڈ کے تمام افسران کی میٹنگ بلائی اور انہیں دو ٹوک انداز میں ایک بات کہی۔ اس کام کو ایک مشن سمجھ کر ہو گا۔ اس کام کو سرکار کی تنخواہ اور دوسرے دنیاوی پیمانوں سے ناپیں گے تو مشکل لگے گا۔ لیکن یہ کام ایسا ہے کہ کل سزا و جزا کے دن اللہ اور اس کے رسولؐ کے حضور ہمارے لئے توشہ
مزید پڑھیے


کوئی ہے جو اس پہ بات کرے

اتوار 23  اگست 2020ء
سعدیہ قریشی
سیاست کا سیاپا ہمارے ہاں ضرورت سے زیادہ ہوتا ہے۔ دن رات سیاسی تجزیوں کے ہنگام‘ پرائم ٹائم کے سارے پروگرام سیاست اور سیاسی بازی گروں کے نام ہوتے ہیں۔ سیاسی حالات پر صحافتی دانشوروں کی جگالی ہمہ وقت جاری رہتی ہے۔ ایسے میں کسی ایسے موضوع پر بات نہیں ہوتی جو ادب اور سماج سے جڑا ہو، جس کا ربط اپنی تہذیب وثقافت اور اقدار سے ہو۔ سیاست کے اس سیاپے نے ہمیں اس قدر الجھا رکھا ہے کہ زندگی سے جڑے ہوئے کئی اہم موضوعات کسی گفتگو اور مکالمے میں نہیں آتے۔ ہم سمجھتے رہے کہ اگر سیاستدانوں اور
مزید پڑھیے



تہی کیسہ عبدالرشید اور بہتر ہوتے معاشی اشاریے

جمعه 21  اگست 2020ء
سعدیہ قریشی
موڑ کھنڈا کے نواحی گائوں کا رہائشی عبدالرشید روزانہ زندگی کی جنگ ایک نئے جذبے سے لڑتا ہے۔ وہ اپنی خالی جیب کے بھاری پن کے ساتھ زندگی کو مشکل سے سانس سانس آگے دھکیلتا ہے۔عبدالرشید کی زندگی ان کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی کی طرح ہمیشہ مشکلات اور آزمائشوں سے دوچار رہتی ہے جو سفید پوشی کے زخ میں اپنی زندگیاں گزارتے ہیں۔ اور اکثر اس کے معاشی معاملات اتنے دگرگوں ہو جاتے ہیں کہ سفید پوشی سرکتے سرکتے غربت کے دہانے تک پہنچ جاتی ہے۔ پانچ بچوں ایک بیوی اور بوڑھے ماں باپ کے ساتھ وہ ایک بھرے پرے
مزید پڑھیے


پرانا مشغلہ

بدھ 19  اگست 2020ء
سعدیہ قریشی
ایسا میرے ساتھ پہلے بھی ہوا تھا۔ چند سال پہلے اگست ہی کا مہینہ تھا اور میں بہت سی کتابوں کے ساتھ ٹیگور کو بھی پڑھ رہی تھی۔ ٹیگور کے افسانوں اور گیتا نجلی کی نظروں نے گرفت میں لیا تو اس پر کالم لکھنے کا ارادہ کیا۔ عملی صحافت کا تربیت یافتہ کالم نگار‘ کالم کا موضوع چنتے ہوئے ہمیشہ اس کی ریلیوینسی‘ حالات حاضرہ سے تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے نہیں تو کوئی مطابقت کرنٹ افیئرز سے ڈھونڈ ہی لیتا ہے۔ اس لیے کہ صحافت ہے ہی کرنٹ افیئرز کا کام۔ ٹیگور کی سوانح عمری پڑھتے ہوئے پتہ چلا کہ
مزید پڑھیے


حرف باریاب کے رنگ

اتوار 16  اگست 2020ء
سعدیہ قریشی
رحمت سید لولاکؐ پہ کامل ایماں امت سید لولاک سے خوف آتا ہے والد صاحب نے فون کر کے خاص طور پر یہ شعر سنایا تھا۔ اس روز انہوں نے عطاء الحق قاسمی صاحب کے کالم میں یہ شعر پڑھا تھا۔ ان دو مصرعوں میں آباد معنی کے ایک جہان نے انہیں سرشار کر رکھا تھا۔ میں نے بھی یہ شعر دھرایا اور دو مصرعوں کے اندر موجود فصاحت و بلاغت نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا۔ اس وقت تک میرے علم میں نہ تھا کہ یہ شعر افتخار عارف کے قلم کا اعجاز ہے۔ ایسا کئی بار ہوا کہ کوئی شعر
مزید پڑھیے


’’تو استحکام ارض پاک لوں گا‘‘

جمعه 14  اگست 2020ء
سعدیہ قریشی
اللہ کا کروڑوں بار احسان ہے جس نے اتنے بڑے جیون ساگر میں ہم کو پاکستان کی شناخت دی۔دنیا کے 195ملکوں کے جھنڈوں میں سبز رنگ کا سب سے پیارا شیڈ ہمارے سبز ہلالی پرچم کا ہے۔ اس پر جگمگاتا چاند اور ستارہ شناخت کی روشنی سے ہمیں مالا مال کرتا ہے۔دیکھیے پروین شاکر نے اپنے سبز پرچم کو دیکھا تو کیسے دلار سے یہ شعر کہا: ننھے سے ایک ستارے کی کیا روشنی مگر پرچم پہ آ گیا تو بہت چاند پر کھلا 195ملکوں کے ہجوم میں اپنا سبز ہلالی پرچم لہرائے تو دل و روح ساتھ ہم رقص ہو جاتے ہیں۔واشنگٹن
مزید پڑھیے


المیہ

بدھ 12  اگست 2020ء
سعدیہ قریشی
چودھری صاحب اپنی بیٹی کا نکاح مسجد میں کریں گے۔!یہ بات پہلے پہل جس کے بھی کان میں پڑی وہ اس بات کو سراہے بنا نہ رہ سکا۔واہ بھئی اس دور میں اتنی سادگی سے بیٹی کو رخصت کرنا۔ یہ تو ایک مثال قائم ہو جائے گی اس سادگی کو ابھی سراہا جا ہی رہا تھا کہ شادی کارڈ خاندان میں بانٹ دیے گئے۔ مسجد میں نکاح تو شادی کی چھ سات روزہ تقریبات میں سے ایک تقریب تھی۔ پوری شادی برائیڈل شاور‘ مہندی مایوں ‘نکاح بارات ‘ ولیمہ اور چوتھی کی رسم پر مشتمل تھی، نکاح میں جن کو
مزید پڑھیے