BN

سعدیہ قریشی



ہمزاد: امرتا پریتم اور افضل توصیف


امرتا پریتم کی شخصیت میں کوئی جادو، کوئی طلسم ضرور ہے کہ وہ شخص بھی ان کے سحرمیں گرفتار ہے جس نے باقاعدہ امرتا پریتم کو نہیں پڑھا۔ بس ان کی بے پناہ مقبول پنجابی نظم کے وہی مشہور زمانہ چار مصرعے سن رکھے ہیں جو ہر جگہ بار بار دہرائے جاتے ہیں۔اَج آکھاں وارث شاہ نوں۔ کتوںقبراں وچوں بول! یا پھر کچھ لوگ انہیں ساحر لدھیانوی کے حوالے سے بھی مانتے ہیں کہ ساحر سے امرتا کے عشق کی داستان بھی نہایت افسانوی اور پرکشش ہے لیکن امرتا کی شخصیت اتنی متنوع، تخلیقی کام اتنا ہمہ جہت ہے کہ ایک
بدھ 04  ستمبر 2019ء

مسز خان کی غلطی اور لنڈے کی فیمیزم

جمعه 30  اگست 2019ء
سعدیہ قریشی
الیکٹرانک میڈیا پر آنے والے سیاسی ٹاک شوز ہوں یا پھر سماجی موضوعات پر ترتیب دیئے جانے والے مارننگ شوز‘ سب بدترین بھیڑ چال کا شکار ہیں۔ کہیں کہیں کوئی استثنا موجود ہو تو کچھ کہہ نہیں سکتی کہ میں نے اب اپنے وقت کو قیمتی جان کر ٹی وی سکرین پر بار بار کے دھراتے ہوئے ٹاک شوز دیکھنا تقریباً چھوڑ دیئے ہیں۔ مارننگ شوز تو زمانہ ہوا نہیں دیکھے۔ لیکن جو بات کچھ متنازعہ ہو وہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے پتہ چل جاتی ہے۔پروگراموں میں بلائے جانے والے مہمانوں کو مدعو کرتے وقت یہ نہیں دیکھا
مزید پڑھیے


اُس روز فیصلوں کے معیار مختلف ہوں گے

بدھ 28  اگست 2019ء
سعدیہ قریشی
کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی نفسیاتی صورت حال اس بے بس ،غریب اورماڑے والدین کی سی ہے جس کی بیٹی کو گائوں کا وڈیرہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر دن دیہاڑے اٹھا کر لے جاتا ہے اور غریب بے چارہ بس دہائیاں دیتا رہ جاتا ہے۔ تھانے کے چکر بھی لگاتا ہے۔ گائوں سے کسی ایک آدھ کی اخلاقی مدد کے بل بوتے پر تھانے میں ایف آئی آر بھی کٹوا لیتا ہے لیکن بات اس سے آگے بڑھتی نہیں۔ گائوں کا کوئی شخص کھل کر اس کا ساتھ نہیں دیتا۔ نہ کوئی کھل کر ظلم کو ظلم
مزید پڑھیے


صحافت اور کالم نگاری کے شوقینوں سے!

اتوار 25  اگست 2019ء
سعدیہ قریشی
’’میں ابلاغیات کا طالب علم ہوں لکھنے کا شوق مجھے رہنمائی کی ضرورت ہے‘‘ ابلاغیات میں ایم اے کیا ہوا ہے لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ مجھے کالم لکھنے کا شوق ہے کبھی کسی سے رہنمائی نہیں کی۔مجھے بھی کالم لکھنے کا شوق ہے کچھ کالم مقامی اخبارات میں چھپے بھی ہیں۔ قومی روزنامے میں کالم لکھنا چاہتا ہوں رہنمائی کریں۔ آپ کو اپنے کالم بھیج رہا ہوں۔ پڑھ کر رائے دیں۔ آپ کو اپنے کالم بھیجے ہیں اپنی اخبار میں جگہ دے کر ممنوں فرمائیں‘‘ اس سے ملتے جلتے مضامین کی ای میل اور دیگر برقی پیغامات کے
مزید پڑھیے


کراچی:کوڑے کے ڈھیر سے سیاسی کچرا کنڈیوں تک!

جمعه 23  اگست 2019ء
سعدیہ قریشی
کراچی شہر کے گلی کوچوں‘ چوکوں‘ چوراہوں اور شاہراہوں پر تعفن بھرے کوڑے اور گندگی کے ڈھیر۔ اس گندی اور بدبودار سیاست کا علامتی مظہر ہیں جس نے کراچی کو کچراچی اور کوڑستان میں بدل ڈالا ہے۔ یوں تو دنیا کے ہر بڑے شہر میں کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانا ایک بڑا اور بنیادی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے 2017ء میں ایک رپورٹ چھاپی کہ دنیا کے تمام بڑے میٹرو پولیٹن اور صنعتی شہروں میں 2025ء تک کوڑا کرکٹ کے ڈھیر ایک خوفناک مسئلہ بن جائیں گے۔ نیو یارک اور بمبئی بھی ان کوڑے کے مسائل سے دوچار
مزید پڑھیے




حکومت کا ایک سال:لفظ تبدیلی کا نیا مفہوم!

بدھ 21  اگست 2019ء
سعدیہ قریشی
اگست 2018ء میں کپتان کی حکومت اقتدار میں آئی تو گویا، امیدوں اور خوابوں کا ایک جہان تھا جو مسندِ اقتدار پر براجمان ہوا۔ امیدوں اور خوابوں کی یہ دنیا تبدیلی کی خواہش سے جڑی ہوئی تھی۔ پورا ایک برس گزر گیا۔ 12مہینے اور ان بارہ مہینوں میں، اڑتالیس ہفتے گزرے یعنی پورے تین سو پینسٹھ دن۔ ایک ایک کر کے ان آنکھوں میں خوابوں کی ریت اڑاتے چلے گئے جنہوں نے بعد اہتمام تبدیلی کے خواب دیکھے تھے۔اور اب ایک برس کے بعد یوں لگتا ہے جیسے اور کچھ تبدیلی ہوا ہو یا نہیں۔ لفظ ’’تبدیلی‘‘ کے Connotativeمعنی ضرور بدل
مزید پڑھیے


''The Situation is Excellent''

اتوار 18  اگست 2019ء
سعدیہ قریشی
پچاس برس کے طویل وقفے کے بعد کشمیر کا لہو رستا مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ بڑوں کے سامنے پیش کیا گیا۔ بے اختیار اس صورت حال پر یہ مصرعہ یاد آیا ۔خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک۔ یا پھر بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے۔ کشمیریوں پر ہونے والے بھارت کے ریاستی جبر و استبداد پر عالمی طاقتوں کی یہ بے حسی ان کی روایت ہے۔ جس پر وہ پابندی سے قائم ہیں۔ اگست 2019ء سے پہلے 1965ء میں مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل کی میز پر موضوع بحث بنا تھا اور اب
مزید پڑھیے


سلیقہ‘ ڈھنگ اور ترتیب سے عاری قوم!

جمعه 16  اگست 2019ء
سعدیہ قریشی
پہلی عید ایسی گزری کہ جس میں دل رفتگاں کی یاد سے زیادہ کشمیریوں کی حالت زار سے بوجھل تھا۔ اگرچہ ہم سینکڑوں میل کے فاصلے پر اپنے اپنے گھروں کی محفوظ پناہ گاہوں اور اپنے دیس کی آزاد فضائوں میں عید قربان منا رہے تھے لیکن دل میں ایسا ملال تھا‘ایسی اداسی تھی عید مبارک کا فون تک کسی کو نہ کیا۔ اس گہری اداسی میں یوں لگتا تھا کہ مظلوم اور ستم زدہ کشمیر میرے دل میں آباد ہو گیا ہو۔ رہ رہ کر یہی خیال دامن گیر ہوتا کہ خدایا‘ کشمیر کے ستم کدے میں عید کیسی ہو
مزید پڑھیے


کشمیر ایشو!احساس جرم ۔ کھوکھلے نعرے

اتوار 11  اگست 2019ء
سعدیہ قریشی
10اگست بروز ہفتہ میں یہ کالم لکھ رہی ہوں ٹھیک ایک روز کے بعد 12اگست کو عیدالضحیٰ ہو گی۔ عید کی آمد پر اس کی تیاریاں ہر گھر میں اپنی اپنی بساط اور معاشی حیثیت کے مطابق ہو رہی ہیں بلا شبہ عید خوشیوں کا تہوار ہے۔ اپنوں کے ساتھ مل بیٹھنے کا تہوار ہے۔ لیکن عید کی خوشیوں کے ان لمحات میں کشمیری مسلمانوں پر ٹوٹی ہوئی قیامت نے احساسات میں عجیب سی بے چینی اور ملال پیدا کر دیا ہے۔ بلکہ ملال کی کیفیت بھی کچھ احساس جرم والی ہے۔ ایک طرف کشمیری نوجوان پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے
مزید پڑھیے


لیرو لیر۔ کشمیر!

جمعه 09  اگست 2019ء
سعدیہ قریشی
کشمیری تو سات دہائیوں سے قسمت کے الٹے توے پر پڑے سلگ رہے ہیں اور ہمارے ان بہن بھائیوں کی زندگی مسلسل سلگتی چلی جا رہی ہے۔ ظلم کی اس الائو میں کبھی بھڑکائو پیدا ہوتا ہے تو کبھی ہلکے ہلکے یہ سلگتا رہتا ہے۔ بجھتا کبھی نہیں۔ امن کے پانیوں کے چھینٹوں کو ترستے ہوئے کشمیری زندگی کو اسی ڈھنگ میں جیتے رہے ہیں۔ ہم اور آپ زندگی کے اس بھیانک رخ کا تصور بھی ذہن میں نہیں لاسکتے اور اگر ہم تصور کرنے کی کوشش کریں کہ ایک ایسی زندگی کہ جو مسلسل موت ‘ عدم تحفظ‘ عصمت
مزید پڑھیے