سعدیہ قریشی



کرسمس‘ روبن اور کوڑے کے ڈھیر


اس وقت جب کہ باغوں کا شہر لاہور تبدیلی حکومت کے زیر اثر کوڑے کے ڈھیروں میں بدل رہا تھا‘ روبن اپنی کرسمس کے روز ہی ایک بس سٹاپ کی صفائیاں کرنے میں مصروف تھا۔وہ ایک بس سٹاپ پر جہاں سے راولپنڈی اور دیگر شہروں کی لگژری کوچز چلتی ہیں۔ صفائی پر مامور تھا اور اس کے بے حس مالکان نے اسے اس کے تہوار کے روز ہی چھٹی نہیں دی تھی۔ دانیال کی ایک عادت ہے کہ وہ اکثر پبلک سروس پر مامور اپنے فرائض سرانجام دیتے اہلکاروں کو متوجہ کر کے ان کو ویو کرتا ہے ان کا
جمعه 27 دسمبر 2019ء

احتجاج کا سونامی

بدھ 25 دسمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
شاید یہ کشمیر کے مظلوموں کا صبر ہے جو مودی پر پڑ رہا ہے کہ اس وقت پورا بھارت مودی سرکار کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کی زندگیاں تو ایک مسلسل عذاب سے دوچار ہیں۔ غالباً ایک سو پینتالیس دن ہونے کو آئے ہیں کہ چناروں کی وادی میں لوگ ظلم کے زنداں میں محبوس زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ مائوں کے لال شہید ہو رہے ہیں عورتوں کی عزتیں تار تار ہیں۔ صد حیف مسلم دنیا میں معاشی مفادات کی حکمرانی ہے سو ان مظلوموں کے حق میں کوئی ایسی آواز نہیں جوانہیں مودی
مزید پڑھیے


واہمہ۔!

اتوار 22 دسمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
کوالالمپور میں ہونے والی کانفرنس نے ایک بار پھر ہمیں اس واہمے سے باہر نکال دیا کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور ہمارے وزیر اعظم جو اقوام متحدہ کے فورم پر مسلمانوں کے حق میں ایک عدد دبنگ تقریر کے بعد ہمیں اس خوش فہمی سے دوچار کر چکے تھے کہ اب ان کی صورت مسلم دنیا کو ایک تگڑا اور دبنگ لیڈر میسر آ گیا ہے۔ یہ خوشخبری ہمیں ہمارے وزیر اعظم نے بھی سنائی تھی کہ جلد ہی پاکستان ،ترکی اور ملائشیا کے ساتھ مل کر ایک ایسا ٹی وی چینل بنانے جا رہا ہے جو دنیا
مزید پڑھیے


آرزو کا دام

جمعه 20 دسمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
’’بس ذرا دیر کی بات ہے۔ یہ رات ڈھلے گی۔یہ آندھی تھمے گی تو لوگ جان لیں گے کہ عزت کس کے سرکا تاج ہوئی اور کون اقتدار کیا ٓرزو میں بے نیل و مرام ہوا۔ واصف علی واصف نے کیا خوب کہا تھا کہ آرزو کا دام سب سے زیادہ دلفریب ہے۔ اکثر ناکامیاں آرزو کا انعام ہیں۔ اکثر انسان کشتگان آرزو ہیں۔ آرزو کا مدعا، شکست آرزو کے علاوہ اور کیا ہے!!‘‘ تحریر کا یہ ٹکڑا لکھے ہوئے ایک دہائی سے اوپر کا زمانہ بیت گیا 10نومبر 2007ء کو یہ ایک معاصر اخبار میں کالم لکھا تھا جس کا
مزید پڑھیے


اپنی غلطیوں کا بوجھ تو خود اٹھائیں

بدھ 18 دسمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
غالباً حالیؔ کا ہی شعر ہے۔ حملہ اپنے پہ بھی اک بعد ہزیمت ہے ضرور رہ گئی ہے یہی اک فتح وظفر کی صورت ہزیمت اور شکست، ذاتی زندگی میں ہو یا پھر قوموں کی اجتماعی زندگی میں ااس کی فتح وظفر میں بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی کمیوں، کوتاہیوں اور خامیوں کا دیانتدارانہ اور غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے۔ اپنی انائوں اور مفادات کے حصار سے نکل کر دیکھا جائے غلطی کہاں اور کیسے ہوئی؟ اپنے قبیلوں، گروپوں اور کمیونٹی کے خیموں سے باہر نکل کر حالات کا جائزہ لیا جائے۔ غلطی کو تسلیم کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے اور سچ
مزید پڑھیے




پریشر گروپوں میں ڈھلتا سماج

اتوار 15 دسمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
11دسمبر 2019ء کو جو سانحہ ہوا اس کے پس منظر کا مکمل پوسٹ مارٹم کرنے کی ضرورت ہے۔ مختصراً اس کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو واقعہ رپورٹ ہو رہا ہے اس کے مطابق مبینہ طور پر آج سے اڑھائی تین ہفتے پہلے ایک وکیل اپنی بیمار والدہ کو پی آئی سی لے کر آیا۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا وہ اکیلا تھا یا اس کے ہمراہ اور بھی وکلا تھے۔ بہرحال وکیل اپنی والدہ کو لے کر آیا تو دوا لینے کے لئے ضابطے کے مطابق اس کو قطار میں کھڑا ہونا تھا جس
مزید پڑھیے


شرمناک اخلاقی زوال

جمعه 13 دسمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
گزشتہ ایک دہائی سے تین برس اوپر کی بات ہے۔2007ء کا زمانہ تھا جب ہم کالے کوٹوں کے سحر میں مبتلا تھے۔ ہم انہیں آمر کے سامنے ڈٹ جانے والے بہادر‘ جبر کے سناٹے میں اپنے گریبان کا پرچم باہر لے کر نکلنے والے دیوانے اور آئین اور قانون کو تحفظ دینے والے محافظ سمجھتے تھے۔ جسٹس افتخار اپنا تاریخی ’’انکار‘‘ آمر کے سامنے کر چکے تھے۔ عدلیہ کی تحریک زور پکڑ رہی تھی۔ جسٹس افتخار کے انکار کو تحریک میں بدلنے والے یہی کالے کوٹ والے دیوانے ہی تھے ان کا کالا کوٹ آئین اور قانون کے تحفظ کا استعارہ
مزید پڑھیے


نوم چومسکی: 90 سالہ باغی دانشور

بدھ 11 دسمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
اس عہد کا عظیم باغی دانشور، جدید انگریزی لسانیات کا بانی، نوم چومسکی 7 دسمبر 2019ء کو پورے نوے برس کا ہوگیا۔ یونیورسٹی آف ایرا زونا میں باغی دانشور نے سالگرہ کا کیک کاٹا۔امریکہ میں غیر سرکاری طور پر 7دسمبر کو نوم چومسکی ڈے کہا جاتا ہے۔ اس روز نوم چومسکی کے چاہنے والے ایک دوسرے کو ہیپی کرسمس کی طرح ہیپی نوم چومسکی ڈے کہہ کر مبارک دیتے ہیں اور اس خوشی کا اظہار کرتے کہ وہ اس صدی کے سب سے بڑے دانشور کے عہد میں زندہ ہیں۔ اس میں کیا شبہ کہ جو بھی نوم چومسکی کے نظریات،
مزید پڑھیے


حوصلوں کی وہیل چیئر پر

اتوار 08 دسمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
پارسی ناول نگار بیپسی سدھوا کو جب میں نے پہلی بار پڑھا تو معلوم نہیں تھا کہ وہ وہیل چیئر بائونڈ ہیں اور یہ حادثہ ان کے ساتھ اوائل عمری میں بھی پیش آیا۔ پولیو وائرس نے رفتہ رفتہ چلنے پھرنے سے معذور کر دیا۔ دوسری بار بیپسی سدھوا کو میں نے لنگوسٹکس پڑھتے ہوئے ان کے ایک ناول دی پاکستانی برانڈ پر پریذینٹیشن دینے کے لئے پڑھا تبھی ان کی زندگی کی کہانی کے بارے میں جانا۔ یہ بات بہت انسپریشنل تھی کہ بیپسی سدھوا اوائل عمری میں ہی معذوری کی وجہ سے باقاعدہ سکول نہیں جا سکیں لیکن انہوں
مزید پڑھیے


سچائی ‘ شائستگی اور انسانیت سے پرہیز

جمعه 06 دسمبر 2019ء
سعدیہ قریشی
ہر صحافی کی طرح صبح سویرے اخبارات کا مطالعہ کرنا میری بھی عادت میں شامل ہے۔ ٹی وی چینلوں کی بے ہنگم بھیڑ میں بھی مجھے اخبار سے ہی خبر پڑھ کر تسلی ہوتی ہے۔ اگرچہ سارا دن چینلوں کی بریکنگ نیوز بھی کانوں میں پڑتی رہتی ہیں لیکن آخری تسلی اگلے روز کا اخبار پڑھ کر ہی ہوتی ہے اور اخبار بھی اصلی اخبار۔ انٹرنیٹ والا نہیں۔ یہ اور بات ہے انٹرنیٹ پر اردو اور انگریزی اخبارات کا مطالعہ بھی اب روز کے معمولات میں شامل ہے۔ آج کا دن ایسا ہوا کہ اخبار نہیں آئے۔ اس پر ستم یہ
مزید پڑھیے