BN

سعدیہ قریشی



سموگ اور ہم لوگ


سموگ کا سیدھا اور آسان مطلب ہے۔ نظر آنے والی آلودگی اور ہم جیسے لوگ آلودگی کے معاملے کو اسی وقت اہمیت دیتے ہیں جب وہ جان کو آ جائے۔ یہی معاملہ سموگ کا ہے۔ چندروز سے گردو غبار کی ایک موٹی تہہ شہر لاہور کے اوپر تنی ہوئی ہے۔ زہریلی گیسوں کا یہ اکٹھ سانس لینا دشوار کر رہا ہے۔ آنکھوں میں چھبن کے مسائل الگ ہیں اور وہ لوگ جنہیں پہلے سے ہی سانس کی بیماری کا مسئلہ درپیش ہے ان کے لئے سموگ اور بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔ لاہور بڑا شہر ہے۔ ٹریفک کا بہائو سڑکوں پر
جمعه 08 نومبر 2019ء

ایمبولینس کو راستہ دینے والے مولوی

بدھ 06 نومبر 2019ء
سعدیہ قریشی
ہمیں یہ مان لینا چاہئے کہ ہم سب مولوی کے بارے میں خاص قسم کا تعصب روا رکھتے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ویل مینرز اور تہذیب و شائستگی کے اطوار سے شناسائی تو صرف ’’غیر مولوی‘‘ افراد ہی رکھ سکتے ہیں۔ مولوی کا مینرز ازم سے کوئی لینا دینا نہیں۔ اس لیے ہم مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ اور دھرنے سے ڈرے ہوئے تھے۔ کیونکہ یہ خالصتاً مولویوں کا دھرنا تھا۔ ہمیں خدشہ تھا کہ مدرسوں کی حبس زدہ فضائوں سے نکل کر مدرسوں کے طالب علم اگر اسلام آباد کی ماڈرن فضائوں میں آ گئے
مزید پڑھیے


سیاسی سرکس کا ہائوس فل شو اور ایک وقفہ

اتوار 03 نومبر 2019ء
سعدیہ قریشی
سیاسی سرکس جاری ہے۔ اس میں ذرا دیر کا وقفہ اس وقت آیاجب ضلع رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور کے قریب تیز گام کو آگ بڑھکنے کا المناک حادثہ پیش آیا۔سبز اور پیلی بوگیوں کو آگ کے زرد شعلوں کی لپیٹ میں دیکھنا۔ ایک ناقابل بیان خوفناک منظر تھا۔ مسافروں کا زندہ جل جانا ایسا دل سوز سانحہ تھا کہ کم از کم پورا ایک دن ہمارے مین سٹریم میڈیااور سوشل میڈیا کی توجہ اسی سانحے پر مبذول رہی۔ اس روز میڈیا میں سابق وزیر اعظم جناب نواز شریف کی بیماری اور خون میں کم پلیٹ لیٹس پر تشویش
مزید پڑھیے


ایک اور ’’سراب‘‘ کا سامنا تھا منیرؔمجھ کو

جمعه 01 نومبر 2019ء
سعدیہ قریشی
کم از کم میری توقعات کے برعکس مولانا فضل الرحمن پاور فل شو کا کا پہلا مظاہرہ تو کر چکے ہیں۔31اکتوبر کو لکھا جانے والا کالم جب نومبر کی پہلی کو شائع ہو گا تو آزادی مارچ کا یہ قافلہ شہر اقتدار میں پڑائو ڈال چکا ہو گا، ٹی وی چینلوں پر بیٹھے ہوئے تجزیہ نگار مولانا کے اس کاروان آزادی کا تجزیہ ان گنت زاویوں سے کر رہے ہیں۔ آزادی مارچ کے مقاصد حقیقت میں کیا ہیں۔ استعفیٰ تو کسی صورت نہیں لے سکتے پھر مولانا اس ساری کوشش اور سرگرمی سے آخر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں کیا
مزید پڑھیے


صورت بربادیٔ یاراں

بدھ 30 اکتوبر 2019ء
سعدیہ قریشی
فیض کے قلم سے نکلے ہوئے دو مصرعے ہیں ؎ اِن دنوں رسم رہ شہر نگاراں کیا ہے آج کل صورت بربادیٔ یاراں کیا ہے؟ تو عرض یہ ہے کہ شہرِ نگاراں میں ان دنوں دھرنوں، ریلیوں، جلوسوں اور ہڑتالوں کا موسم ہے۔ مولانا فضل الرحمن اپنے قافلے کے ساتھ محو سفر ہیں، 29اکتوبر جس روز یہ کالم لکھا جا رہا ہے مولانا کا قافلہ لاہور پہنچے گا۔ منزل اس قافلے کی، ظاہر ہے شہر اقتدار ہے جہاں پہلے سے ہی حفاظتی بند باندھنے کا کام شروع ہو چکا ہے۔ دھرنا ٹرینڈ ملک میں مقبول کرنے والوں کو
مزید پڑھیے




سانحہ ساہیوال:ترے سلوک نے لہجہ مرا بدل ڈالا

اتوار 27 اکتوبر 2019ء
سعدیہ قریشی
پرندوں کی طرح چہکتے اور پھولوں کی طرح نرم و نازک بچوں کی نفسیات کسی آبگینے کی مانند ہوتی ہے۔ منفی تاثر‘ کھردرے الفاظ‘ کانٹوں سے بھرے جملے۔ تشدد سے لبریز منظر‘ اس آبگینے پر دراڑیں ڈال دیتے ہیں۔ اور یہ سب غیر محسوس انداز میں ہوتا رہتا ہے کہ تاوقتیکہ یہ دراڑیں بچوں کی اپنی شخصیت میں، مزاج کا اتار چڑھائو ‘ جذباتی عدم توازن اور تشدد سے لبریز رویوں کی صورت میں جھکنے لگتے ہیں۔ پوری دنیا میں چائلڈ سائیکالوجی اب ایک اہم موضوع ہے، خصوصاً وہ ترقی یافتہ ممالک جہاں بچوں کو حقیقت میں قوم کا مستقبل سمجھا
مزید پڑھیے


ٹک ٹاک تبدیلی

جمعه 25 اکتوبر 2019ء
سعدیہ قریشی
مولانا فضل الرحمن کے ممکنہ احتجاج اور دھرنے نے فضا کو انتہائی بوریت سے بھر رکھا ہے۔ ایک زاہد خشک کا سا مولویانہ سیاسی منظر نامہ ہے اور ممکنہ دھرنے کا سوچ کر تو اور بھی کوفت ہوتی ہے کہ آخر کو عوام کے بہلانے کے لئے ان کے پاس کیا ہو گا۔احتجاجی نعروں سے بھی آخر کب تک عوام انٹرٹین ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں کپتان کے دھرنے کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔ سرشام ہی رنگین مناظر سے ٹی وی کی سکرینیں سج جایا کرتی تھیں۔ اور تبدیلی آئی ہے کے موسیقیت بھرے گیتوں پر تبدیلی کے آرزو مندوں
مزید پڑھیے


لاڑکانہ: اب ہر گھر سے بھٹو نہیں ایڈز کا مریض نکلتاہے

اتوار 20 اکتوبر 2019ء
سعدیہ قریشی
PS-11لاڑکانہ میں جمعرات کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کو ہونے والی غیر معمولی شکست کو مورّخ کس کے نام لکھے گا؟ یہ شکست بھٹو کے فلسفے کو ہوئی‘ یا پھر بھٹو کے لبادے میں چھپے زرداریوں کو ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ بھی ہو‘ حکمرانوں کی بے حسی ‘ ناانصافی اور نااہلی کا مارا ہوا غربت زدہ لاڑکانہ جس کا نام سن کر اب بھٹوز سے زیادہ ایڈز کے مریضوں کا خیال آتا ہے۔ اب سیاسی شعور اور سماجی بیداری کی راہ پر چل پڑا ہے۔ تو کیا واقعی ہم یہ سمجھ لیں کہ لاڑکانہ کے سندھی۔
مزید پڑھیے


قناعت اور دیانت سے گندھا دانشور

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
سعدیہ قریشی
سندھی ٹوپی سر پر پہنے ہوئے‘ ہسپتال کے بیڈ پر لیٹے ہوئے بیمار اور نڈھال اجمل نیازی صاحب پہچان میں نہیں آتے تھے۔ اس لئے کہ ہم نے انہیں ہمیشہ ہی میانوالی کی مخصوص پگڑی کے ساتھ دیکھا تھا۔ ایک وقار اور دیانت سے بھری انا کے ہالے میں۔ خوب صورت گفتگو کرتے ہوئے۔ لیکن یہاں سروسز ہسپتال کے کمرہ نمبر سی۔ فائیو میں ہسپتال کے مخصوص بیڈ پر دراز ڈاکٹر اجمل نیازی بے آواز گفتگو کرتے تھے کہ ایک ماہ سے پاکستانی ڈاکٹروں کے ہاتھوں طرح طرح کی ٹریٹمنٹ سے ان کے گلے میں شدید انفیکشن ہو چکی تھی اور
مزید پڑھیے


لنگر نہیں روزگار! محتاجی نہیںخود کفالت!

بدھ 16 اکتوبر 2019ء
سعدیہ قریشی
لیجئے جہانگیر ترین نے ایک بار پھر عوام کو اور ملک کی لڑکھڑاتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کے لیے عوام کو مرغیاں اور چوزے پالنے کا مشورہ دیا ہے اور ساتھ ہی یقین دہانی کروائی ہے کہ اگر عوام مرغیاں اور چوزے پالنے شروع کر دیں تو اس سے ملک کی لڑکھڑاتی معیشت کو بے مثال سنبھالا ملے گا۔ سرِدست انہوں نے کٹے پالنے کا مشورہ دوبارہ سے نہیں دہرایا۔ اس کے پیچھے بھی یقینا کوئی حکمت بھرا راز ہو گا۔ گویا پہلا مرحلہ صرف مرغیاں اور چوزے پالنے کا ہے اور اگر اس کے بعد بھی آپ کی معیشت
مزید پڑھیے