سعدیہ قریشی



امریکی میزبانی اور حلال کھانے کی تلاش


دیارِ غیر کے جتنے بھی سفر نامے ہم نے اپنے ادیبوں اور شاعروں کے پڑھ رکھے تھے ان میں جا بجا‘ ان کے پاکستانی مداحوں اور میزبانوں کی طرف سے سجائی گئیں دعوتوں‘ ظہرانوں اور پرتکلف عشائیوں کی کہانیاں پڑھنے کو ملتیں ایک تو ہمارے شاعر اور ادیب اپنی تخلیقات کے بل بوتے پر اتنے مشہور و معروف اور ہر دل عزیز ہوتے ہیں اور بالخصوص بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں جو اردو ادب سے محبت کرتے ہیں۔ دیار غیر میں بسنے والے وہ پاکستانی جو سالہاسال کی پردیسی کاٹ کر جب خوشحالی کے سرسبز خطے میں داخل ہو جاتے
اتوار 13 جنوری 2019ء

ڈینور‘ دونا برائسن اور تاریخی ویمن پریس کلب

جمعه 11 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
ڈینور میں قیام کی ایک خوب صورت یاد وہاں کے تاریخی ویمن پریس کلب کا وزٹ تھا جہاں پاکستانی صحافیوں کے وفد کے اعزاز میں ایک پرتکلف کافی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ 12دسمبر کو جب ہم اس روز کی مختلف نشستیں اور انٹرایکٹو سیشن نمٹانے کے بعد ڈینور کے تاریخی ویمن پریس کلب پہنچے دن‘ سرمئی شام میں چھل رہا تھا۔ وہاں اتنے روشن اور محبت بھرے چہروں نے ہمارا استقبال کیا کہ دن بھر کی تھکن اور بوریت جیسے ہوا ہو گئی۔ سنہری ‘ گولڈن برائون‘ مہندی رنگ‘ سرمئی اور سفید ہر رنگ کے بالوں والی خواتین‘ خوبصورت لباس پہنے
مزید پڑھیے


ٹیکساس‘وینڈی ہنّہ۔ عافیہ اور اداسی

بدھ 09 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
امریکہ میں ہمارا تیسرا پڑائو ٹیکساس کے شہر ڈیلس میں تھا۔ ڈینور سے ڈیلس جاتے ہوئے ہمیں ہوسٹن سے کینکٹڈ فلائٹ لینا تھی ہوسٹن ایئر پورٹ پر چند گھنٹوں کا ٹرانزٹ تھا۔ ٹیکساس اور ہوسٹن کے ساتھ ہی جو تیسرا نام ذہن میں آیا وہ کم نصیب عافیہ صدیقی کا تھا۔ کیونکہ وہ ہوسٹن کی جیل میں جبر مسلسل کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ دل پر ایک عجیب سا بوجھ اور اداسی سی چھا گئی اور اپنی اور اپنے ملک کی بے بسی کا شدید احساس ہوا۔ عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی ہر آنے والی حکومت سے امید لگاتی
مزید پڑھیے


پروفیسر ونڈھم کی میزبانی اور ہم… (2)

اتوار 06 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
ہمارے امریکی میزبان پروفیسر ونڈھم لوپسیکو ‘ یونیورسٹی آف ڈینور میں (global perspective of business)کے استاد تھے اور عالمی منڈی کے سیاسی اور معاشی زاویوں پر گہری نگاہ رکھتے تھے۔ وہ ایک جہاندیدہ‘ کایاں اور کسی حد تک متعصب دانشور تھے۔ اس کے علاوہ وہ ڈینور میں welaکے نام سے ایک کاروباری مشاورت کی کمپنی کے مالک تھے۔ جو دنیا کے دوسرے ملکوں میں کاروبار کرنے کے خواہش مند امریکیوں کو پیشہ ورانہ مدد اور مشاورت دیتی ہے۔ بہرحال پروفیسر ونڈھم نے آغاز میں ہمارے ساتھ پروفیسروں والا رویہ اختیار کرتے ہوئے ہم پر تابڑ توڑ سوالات کرنے شروع کر دیے۔
مزید پڑھیے


پروفیسر ونڈھم کی میزبانی اور ہم

جمعه 04 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
11دسمبر 2018ء ڈینور کولو روڈو کی ایک یخ بستہ شام تھی اور ہم پروفیسر ونڈھم کے گھر ڈنر پر مدعو تھے۔ انٹرنیشنل وزیٹر لیڈر شپ پروگرام میں یہ ایک ہوم ہوسپٹیلیٹی کا سیگمنٹ تھا جس میں تمام ممبرز کو چار چار کے گروپ میں بانٹ کے کسی امریکی گھرانے میں ڈنر پر جانا تھا۔ یہ ہمارے پروگرام کا بہت دلچسپ حصہ تھا کیونکہ ابھی تک ہم واشنگٹن ڈی سی اور ڈینور کولوروڈو میں مختلف یونیورسٹیوں اداروں اور میڈیا ہائوسز کے وزٹ کر رہے تھے لیکن اس طرح کسی امریکی خاندان کے گھر جا کر ان کے رہن سہن طور طریقوں کو
مزید پڑھیے




With Love From Pakistan

بدھ 02 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
انگریزی اخبارات میں خواتین ایڈیٹرز کی اور بھی کئی مثالیں موجود ہیں۔ کاملہ حیات نامور ایڈیٹر رہی ہیں۔ اس وقت بھی نیوز ان سنڈے کی ایڈیٹر فرح ضیاء ہیں۔ عائشہ ہارون مرحومہ بھی جب امریکہ میں بلڈ کینسر سے زندگی کی جنگ ہاریں تو وہ ایک انگریزی اخبار کی ایڈیٹر تھیں۔ اردو صحافت میں خالدہ یوسف بھی ایسی دبنگ ایڈیٹر رہی ہیں کہ ان کے ساتھ کام کرنے والے ان کی پرفیکشنزم کی عادت سے گھبراتے ہیں۔ ان کے ساتھ کام کرنا ہی اعزاز سمجھتے ہیں۔ یونیورسٹی آف ڈینور کے پروفیسر شان ٹی شیفر پاکستانی صحافت کے اس روشن پہلو کو
مزید پڑھیے


صحافی خواتین ‘ مسائل اور پروفیسر شیفر کی حیرانی!

اتوار 30 دسمبر 2018ء
سعدیہ قریشی
یہ ایکسچینج پروگرام جس کا ہم حصہ بنے اس کا نام انٹرنیشنل وزیٹر لیڈر شپ پروگرام تھا جسے عرف عام میں IVLPکہتے ہیں۔ ہمارا پروگرام خالصتاً پاکستان سے متعلق تھا اور خواتین صحافی اس کا حصہ تھیں۔ اگرچہ اس سے پہلے ہمارے کئی صحافی دوست جو ایکسچینج پروگرام کا حصہ بنے وہ بتاتے ہیں کہ دیگر ملکوں سے بھی نمائندے ان کے پروگرام میں شامل تھے۔ مگر اس بار فوکس صرف پاکستان تھا اور وہ صحافی خواتین جو مختلف الیکٹرانک پرنٹ اور ریڈیو جرنلزم میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں‘ اس لیے گفتگو کے موضوعات بھی انہی سے متعلقہ
مزید پڑھیے


ایکسچینج پروگرام

هفته 29 دسمبر 2018ء
سعدیہ قریشی
امریکہ سے پہلا کالم آنے کے بعد پھر ایک طویل خاموشی چھا گئی۔ بات جو شروع کی تھی وہ وہیں کی وہیں رہ گئی آگے نہ بڑھی۔ بالکل منیر نیازی کی اس نظم کی طرح جس میں وہ اظہار کرتے ہیں کہ۔ پہلی بات بھی آخری تھی۔ اس سے آگے بڑھی نہیں۔ ڈری ہوئی اک بیل تھی جیسے۔ پورے گھر پر چڑھی نہیں!اور بات آگے۔ بڑھنے کی پوری جو بات موجود تھیں۔ امریکہ کی مختلف ریاستوںمیں تین ہفتوں کے قیام کے دوران مصروفیت اس قدر تھی کہ لکھنے کا وقت نہ مل پاتا۔ صبح سے سہ پہر اور کبھی شام
مزید پڑھیے


امریکہ سے پہلا کالم

اتوار 09 دسمبر 2018ء
سعدیہ قریشی
امریکہ سے یہ میرا پہلا کالم ہے۔ اگرچہ خیال یہی تھا کہ جب یکم دسمبر کو ہم واشنگٹن ڈی سی پہنچیں گے تو اگلے روز سے میں اپنا کالم لکھ کر بھیج دوں گی۔ یوں پُرانی روٹین کے مطابق کالم چھپتے رہیں گے۔ خیال یہی تھا کہ امریکہ کے اس سفر میں ہر روز نئے تجربات اور مشاہدات سے گزرتے ہوئے کالم کے لئے موضوع تلاش کرنے کا مرحلہ بھی درپیش نہ ہو گا بلکہ اسی سفر کے تاثرات اور مشاہدات پر کچھ نہ کچھ لکھتی رہوں گی۔ لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس۔ شاید اس لئے کہ جب بہت کچھ
مزید پڑھیے


شکستہ آئینوں میں عکس

جمعه 30 نومبر 2018ء
سعدیہ قریشی
روشان فرخ ‘لاہور کی ایک مہنگی اور ماڈرن یونیورسٹی کی طالبہ تھی۔ لباس سے لے کر رہن سہن تک جسے ہم لائف سٹائل کا نام دیتے ہیں۔ اور گھر سے لے کر یونیورسٹی سب کچھ جدید خوشحالی سے لبریز اور روشن خیالی میں لپٹا ہوا اس سارے منظر نامے میں کہیں بھوک‘ بے چارگی‘ اداسی‘ اور افسردگی کی گنجائش تو نہیں نکلتی۔ تو پھر آخر اسے ایسا کیا ہوا کہ منگل کی صبح وہ اپنے گھر سے یونیورسٹی کے لئے تیار ہو کر نکلی ہے اور وہاں جا کر یونیورسٹی کے چوتھے فلور سے نیچے کود جاتی ہے اس کا
مزید پڑھیے