BN

سعدیہ قریشی



سب توانائیاں۔ امن کے لیے!


امن محض ایک خواہش۔ ایک آشا نہیں ہے۔ آشائیں تو دل کی سرزمین پر بنتی اور بکھرتی رہتی ہیں۔ بلکہ امن تو ایک ضرورت ہے۔ جو زندگی کی ہر ضرورت سے زیادہ ضروری ہے۔اس لیے کہ زندگی امن کی فضا میں ہی پھلتی پھولتی ہے۔ امن کی موجودگی میں شاموں کا رنگ کاسنی ہوتا ہے اور خواہش البیلے گیت بنتی ہے۔امن کی فضا میں ہمارے دن سنہری دھوپ میں ڈھلے‘ زندگی کی ہماہمی سے لبریز ہوتے ہیں۔زندگی امن کی فضا میں خواب بنتی ہے‘ اچھے دنوں کے‘ خوب صورت مستقبل کے اور امن کی فضا میں ہی زندگی… زندگی کی
اتوار 24 فروری 2019ء

ہائی پروفائل گرفتاریاں اور غریب شہر!

جمعه 22 فروری 2019ء
سعدیہ قریشی
آئے روز نیب کوئی کارروائی کرتا ہے کہ پورے ملک میں ایک سنسنی سی پھیل جاتی ہے کہ جمہوریت خطرے میں ہے اور یہاں یہ بھی یاد رہے کہ پورے ملک سے مراد صرف ہائی پروفائل سیاستدانوں کا ایک ٹولہ ہے۔ ورنہ پورے ملک میں تو پینتالیس چالیس فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے کی اذیت آپ ہم کیا جانیں یہ تو وہ وہی اللہ کی مخلوق بتا سکتی ہے جو ایک وقت کی روٹی بمشکل کھا کر دوسرے وقت کے پیٹ بھرنے کے بندوبست میں لگ جاتی
مزید پڑھیے


فرمان علی تم خوش قسمت تھے

بدھ 20 فروری 2019ء
سعدیہ قریشی
فرمان علی خان کو پاکستانی قوم کا بھی سلام جسے آج سعودی عرب میں رہنے والے اپنا ہیرو مانتے ہیں اور سعودی حکومت اس پاکستانی محسن کو 10سال بعد بھی بھولی نہیں ہے۔ بہت اچھا لگا جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان میں آ کر پاکستان کے اس بہادر بیٹے کی شجاعت اور بے لوث خدمت کو پارہ کیا اور اعلان کیا وہ فرمان علی خان کے نام پر پاکستان میں ایک ہیلتھ سنٹر بنانا چاہتے ہیں۔ فرمان علی خان سوات کا رہنے والا۔ محنت مزدوری کی تلاش میں اپنے دیس پاکستان کو چھوڑ کر سعودی عرب
مزید پڑھیے


آمد پہ تیرے عطر و چراغ و سبو نہ ہو۔!!

اتوار 17 فروری 2019ء
سعدیہ قریشی
سعودی شہزادے محمد بن سلمان کا پاکستان آنا ایسے ہی ہے جیسے کسی غریب ماتڑ کے گھر کروڑ پتی رشتہ دار ازرہ کرم آ جائے اس کے آنے سے بہت سے امیدیں‘ خوشیاں‘ خواب اور خدشات غریب مسکین کے دل میںسر اٹھانے لگیں! خستہ حال مکان میں بٹھانے کو کوئی جگہ اس کے شایان شان نہ ملے غریب صاحب خانہ اگر اپنی منجی پیڑھی جھاڑ کر اور صندوق میں کسی خاص موقع کے لئے سینت سینت کر رکھی گل بوٹوں والی سفید اجلی چادریں نکال کر اس کے استقبال کو بچھائے تو وہ بھی مہمان کی امارت کے جاہ جلال کے
مزید پڑھیے


فروری کی بارش۔ ورڈز ورتھ کے آبی نرگس کے پھول

جمعه 15 فروری 2019ء
سعدیہ قریشی
فروری کا یہ دن بارش میں بھیگا ہوا ہے۔ رات سے بوندوں کی رم جھم لگی ہے۔ کبھی ہلکی تو کبھی تیز بارش، ہر شے بارش میں بھیگی ہوئی ہے۔ قدرت اپنا حسین ترین اظہار بارش کی صورت میں کرتی ہے۔ بارش میں کوئی طلسم ہے کہ سارے ماحول پر چھا جاتا ہے۔ یہ منظر سے پس منظر تک سب کچھ بدل دیتی ہے۔ رم جھم، کن مِن برستی بارش دل کے دروازوں پر دستک دیتی ہے۔ یاد کے پرانے سامان کھولتی ہے۔ کبھی نئے خواب جگاتی ہے۔ گرد آلود زمانوں کی گرد جھاڑتی ان چہروں کو ڈھونڈتی اور آواز
مزید پڑھیے




لکھاری اور قاری کا رشتہ

بدھ 13 فروری 2019ء
سعدیہ قریشی
لکھاری اور قاری کے درمیان ایک اٹوٹ انگ موجود ہے۔ ایک نہ ختم ہونے والا رشتہ۔ دونوں ایک دوسرے کے بنا مکمل نہیں۔! یہ رشتہ ایسا ہی ہے جیسے بارش کا تعلق خشک زمین سے۔ میگھ ملیار برستی ہے تو پانی کے قطروں کو جذب کرنے کے لئے زمین اپنی بانہیں وا کر دیتی ہے۔ لکھاری اور قاری کے درمیان بھی ایک ایسا ہی تعلق ہے۔ امریکی ناول نگار جان چیوّر نے بھی کیا خوب بات کہی کہ I can`t write without a reader it is precisely like a kiss. you cannot do it alone اگر میرے قارئین نہ ہوں تو میں لکھ
مزید پڑھیے


سعی لاحاصل !

جمعه 08 فروری 2019ء
سعدیہ قریشی
کبھی کبھی کالم لکھنے کا موڈ نہیں ہوتا۔ آج بھی کچھ ایسا ہی دن ہے۔ سردیوں کی بارش میں بھیگا ہوا۔ موضوع بھی بے شمار ہیں۔ ماتم کرنے کو سانحوں اور حادثوں کی بھی کمی نہیں اور حادثے تو ایسے ایسے ہیں کہ بندہ پتھر ہو جاتا ہے۔ سوالات کے گرداب میں پھنس کر۔ جواب نہیں ملتے۔ سمندر کی ریت پر پلاسٹک کی گڑیا کی طرح اوندھے منہ پڑی ہوئی وہ بچی جس کی سگی ماں نے اس کو اس بے دردی سے مار دیا۔ بہت سے سوال پوچھتی ہے ریاست پاکستان سے بھی اور اس سماج سے بھی۔ اس
مزید پڑھیے


کتابوں کا میلہ

بدھ 06 فروری 2019ء
سعدیہ قریشی
ہفتے کی سہ پہر کتابوں کی نمائش میں پہنچے تو پارکنگ میں گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھ کر ہی اندازہ ہو گیا کہ کتاب سے محبت کرنے والے جوق در جوق نمائش میں آ رہے ہیں۔ ایکسپو سنٹر کی پرشکوہ تکونی عمارت کے آس پاس کی بیرونی دیوار پبلشرز اور کتابوں کے رنگین بینروں سے سجی ہوئی تھی۔ اندر پہنچے تو ایک میلے کا سماں تھا۔ واقعتاً بہت رش تھا، لوگ اپنے خاندانوں کو لے کر کتابوں کی نمائش میں پہنچے ہوئے تھے۔ اس سے یقینا ایک خوشگوار تاثر بھرا کہ ہم ہر وقت کتاب نہ پڑھنے کا رونا روتے رہتے ہیں
مزید پڑھیے


رباّ سچیا توں تے آکھیا سی ۔!!

اتوار 03 فروری 2019ء
سعدیہ قریشی
ایک کالم نگار کے ذمے بھی کیا کام لگا ہے کہ ہر وقت ظلم ناانصافی پر ماتم کرتا رہے معاشرے میں موجود عدم مساوات‘ بھوک ننگ‘ غربت اور جہالت پر واویلا مچاتا رہے۔ حکومتوں کے غلط‘ ویژن سے عاری‘ عوامی دشمن پالیسیوں کو بے نقاب کرے‘ اپنے قلم سے حق اور سچ کا ساتھ دینے کی مقدور بھر کوشش کرتا رہے۔ لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ وقتی طور پر دل کی بھڑاس نکل گئی۔ اپنے غصے کا کتھارسس ہو گیا۔ کیا معاشرے پر‘ حکومتوں پر اہل اقتدار اور اہل اختیار پر اس کا کہیں کوئی اثر ہوتا ہے؟ خبریں
مزید پڑھیے


ہوا بہشت کے باغوں کی زلف زلف پھرے

جمعه 01 فروری 2019ء
سعدیہ قریشی
وہ میری ان دنوں کی سہیلی تھی جب زندگی نیلے اور سفید یونیفارم میں ملبوس ‘ بے فکری کی دہلیز پر روز ایک نیا خواب بنا کرتی۔ ماں باپ کی چھتنار چھائوں تلے اٹھکیلیاں کرتی۔ کبھی نہ رکنے والے بے وجہ قہقہوں سے سجی رہتی۔اس سے ملنے کا پہلا دن مجھے آج بھی یاد ہے۔ خان پور میں انگلش طرز تعمیر پر بنی ہوئی ریلوے کالونی کے ایک پرسکون اور سرسبز گوشے میں وہ سکول تھا جسے ہم روانی میں گورنمنٹ گرلز ہائی سکول ریلوے کالونی خان پور کہا کرتے تھے۔ جہاں میرا داخلہ چوتھی کلاس میں ہوا تھا۔ والد صاحب
مزید پڑھیے