BN

سعدیہ قریشی


تین دن کا از خود لاک ڈائون


یہ شہر کے ایک مشہور سپر سٹور کا منظر ہے، جہاں دنوں میں ہی عید کی خریداری والا رش لگا رہتا ہے۔ ان دنوں لاک ڈائون کی کیفیت میں یہاں خریداروں کا رش ہے۔ آس پاس کے رہائشی علاقوں کے خوشحال لوگ بھی خریداری کے لیے یہاں آتے ہیں لیکن ایسا نظم و ضبط میں نے پہلے کبھی مشاہدہ نہیں کیا جیسا اس روز دیکھا۔ مردوں اور عورتوں کی علیحدہ علیحدہ قطاریں اور ان میں دو دو فٹ کے فاصلے صبر سے کھڑے ہوئے خریدار اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ کسی کو آگے بڑھ کر اندر جانے کی
بدھ 22 اپریل 2020ء

فائیو جی ٹیکنالوجی ،کرونا وائرس اور انسان

اتوار 19 اپریل 2020ء
سعدیہ قریشی
کیا فائیو جی ٹیکنالوجی ہماری زندگیوں کو یرغمال بنا لے گی۔؟ گاہے یہ سوال ذہن میں اٹھتا اور سر پٹختا ہے۔؟ ٹیلی کمیونی کیشن کی سپر سانک سپیڈ کا اسیر ہو کر انسان‘ انسان سے دور ہو جائے گا ۔کیا زندگی لمس کو ترس جائے گی۔؟ زندگی ایک دوسرے کے وجود کی حرارت سے تہی ہو جائے گی۔؟ کیا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا خبط کاروبار حیات کے لئے انسان کو غیر ضروری کر دے گا۔ ہسپتالوں سے فیکٹریوں و دفتروں سے تعلیمی اداروں تک اگر روبوٹ انسان کی جگہ کام کرنے لگیں گے تو پھر یہ کاروبار حیات کس کے
مزید پڑھیے


گوگل کلاس روم اور بیچاری مائیں!

جمعه 17 اپریل 2020ء
سعدیہ قریشی
کورونا کے آنے سے زندگی کا ڈھب بدل کر رہ گیا ہے۔ یوں لگتا ہے پرانے فریم میں ایک نئی تصویر لگا دی گئی ۔ ہم تو وہی ہیں لیکن ہماری زندگی کے رنگ ڈھنگ طور اطوار بدل چکے ہیں اور میرے ایسے لوگ جن کے اندر ابھی قدیم روحوں کا بسیرا ہے ان کے لئے ہی فائیو جی ٹیکنالوجی پر منتقل ہوتی زندگی کے کچھ رنگ آسانی سے قابل قبول نہیں ہیں۔ آن لائن سماجی رابطے‘ تو کچھ عرصہ سے ہماری زندگی کا صفحہ بن چکے ہیں اور اس میں بہت سے پہلو ایسے ہیں کہ جن کا مجموعی طور
مزید پڑھیے


’’میں کورونا کی پٹائی کر دوں گی‘‘

بدھ 15 اپریل 2020ء
سعدیہ قریشی
سنتے آئے ہیں کہ جب کسی روز دنیا اچھی نہ لگے تو کسی بچے کو آئس کریم کھاتے ہوئے دیکھ لیں۔ مگر ایک ایسی دنیا میں ہم کیا کریں جہاں وبا کا موسم پھیل چکا ہو اور بچوں کو آئس کریم کھانے سے احتیاطی تدبیر کے طور پر روک دیا گیا ہو۔! وبا کے اس موسم میں جب بچوں کے سکول جانے پارکوں میں کھیلنے اور نانا‘ نانی ۔ دادا داری سے گلے مل کر پیار لینے پر بھی پابندی ہو‘ وہاں یہ معصوم پھولوں جیسے بچے کیا سوچتے ہیں۔ بچوں کے مسکرانے ‘ ہمکنے اور کھلکھلانے سے زندگی میں
مزید پڑھیے


خوف کو شکست دینا کیوں ضروری ہے

اتوار 12 اپریل 2020ء
سعدیہ قریشی
گزشتہ کالم میں قدرت کی طرف سے عطا کردہ حیران دفاعی میکانزم یعنی‘ امیونٹی سسٹم(immunity systam)پر بات ہوئی تھی۔ یہ نعمت ہر انسان کو قدرت کی طرف سے میسر ہے۔ ایک پوری حفاظتی بریگیڈ ‘ ہمہ وقت اسے ان گننت جراثیموں اور وائرسوں کے حملے سے بچاتی رہتی ہے۔ بیماریوں سے حفاظت کا یہ پیچیدہ نظام خودکار طریقے سے کام کرتا ہے یعنی ہماری اس میں کوئی شعوری کوشش نہیں ہوتی۔ لیکن جو بات یہاں سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنی شعوری کوشش سے اس حفاظتی بریگیڈ کو مضبوط توانا اور طاقت ور کر سکتا ہے تاکہ یہ
مزید پڑھیے



قدرت کا عظیم الشان دفاعی میکانزم

جمعه 10 اپریل 2020ء
سعدیہ قریشی
زندگی جب سے کرونائی ہوئی ہے‘ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہوا میں آکسیجن‘ نائٹروجن اور کاربن ڈائی اکسائیڈ کی جگہ‘ کسی انہونی کا ڈر‘ شک اور بیماری کا مستقل خوف موجود ہے۔ انسانی نفسیات کی پرپیج گلیوں میں خوف نے بسیرا ڈال دیا ہے۔شہر کی گلیوں‘ چوراہوں اور شاہراہوں پر ایک آسیب رینگتا رہتا ہے۔ گھر کی محفوظ پناہ گاہوں میں بھی یہ آسیب کسی طور پیچھا نہیں چھوڑتا۔ دن کے اٹھارہ گھنٹے‘ ہاتھ دھوئے‘ جراثیم کش سپرے کرے۔ سینی ٹائزر لگانے ار ایک نادیدہ دشمن سے مسلسل لڑتے ہوئے گزرتے ہیں۔فیس بک کی پوسٹوں سے وٹس ایپ میں آنے والے
مزید پڑھیے


تاریخ کی سب سے بڑی جنگ ہسپتالوں میں لڑی جا رہی ہے

بدھ 08 اپریل 2020ء
سعدیہ قریشی
آج جب میں یہ تحریر قلم بند کر رہی ہوں 7اپریل ہے اور دنیا بھر میں صحت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ یہ دن گزشتہ کئی دہائیوں سے منایا جاتا رہا ہے، ہر بار اس کا موضوع مختلف ہوتا ہے۔ مگر آج جب یہ دن منایا جا رہا ہے تو پوری دنیا کرونا وائرس کی جکڑ میں ہے۔ بیمار تو بیمار، جو لوگ بھلے چنگے اور صحت مند ہیں وہ بھی نفسیاتی طور پر کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔ بعض اوقات بیماری کا خوف، بیماری سے بڑھ کر قاتل ثابت ہوتا ہے۔ سو یہ کہنا غلط نہیں
مزید پڑھیے


زنگار: ایک خواب نگار کی داستان

اتوار 05 اپریل 2020ء
سعدیہ قریشی
زنگار نامہ میں نے پہلی فرصت میں ہی پڑھ لیا تھا۔ مگر اس پڑھنے میں تاخیر یہ بات ہوئی کہ ایک ادبی تنظیم اس کتاب کی تقریب رونمائی کرنا چاہتی تھی۔ نواز کھرل صاحب نے مجھ سے رابطہ کیا، آپ اس پر مضمون لکھیں۔ سوچا کہ لکھ کر تو کبھی پڑھا نہیں۔ چلو‘ اس تقریب میں جو کتاب پر تاثرات پیش کروں گی، وہی قلم بند کر کے اگلے روز کالم کے لئے بھیج دوں گی۔ تقریب جو مارچ کے دوسرے ہفتے میں ہونا تھی تاحال ملتوی ہے ، وجہ آپ سب کے سامنے ہے۔ زندگی جب سے کورونائی ہوئی
مزید پڑھیے


کار سرکار اور زمینی حقائق سے دوری…!

جمعه 03 اپریل 2020ء
سعدیہ قریشی
زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے پالیسیوں کے شیش محل کھڑے کرنا ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ بلکہ المیہ ہے۔ سرکار سے لے کر نجی اداروں تک‘ سکولوں سے لے کر دفاتر تک‘اصل اور بنیادی حقیقتوں کو نظر انداز کر کے پالیسیاں مرتب کی جاتی ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عملی میدان میں مریخ پر بنی ہوئی پالیسیاں کارگر ثابت نہیں ہوتیں۔ ایسی صورت حال پر شاید کسی نے یہ شعر کہا ہو گا: ؎ تم آسماں کی بلندی سے جلد لوٹ آنا مجھے زمین کے مسائل پہ بات کرنی ہے سو
مزید پڑھیے


کرونا ٹائیگرز، عافیہ صدیقی اور ہیلو گاڈ!

بدھ 01 اپریل 2020ء
سعدیہ قریشی
سوشل میڈیا کی پوسٹوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ احباب لاک ڈائون کا وقت نت نئے پکوان پکانے، ان کی تصاویر لینے اور پھر ان کو سوشل میڈیا پر تشہیر کرنے کی مصروفیت میں گزار رہے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک کے 3کروڑ غریبوں کے گھروں پر فاقوں کے زر دسائے لہرا رہے ہوں، اس قسم کے مرغ مسلم، بریانی اورقورموں کی سوشل میڈیا پر تشہیر مجھے تو بے حسی کی دلیل لگتی ہے۔ کل ایک شاعرہ دوست کا بھی فون آیا تو کہنے لگی کہ اور سنائو کیا حال ہے، تم کوئی کھانے وانے نہیں بنا رہی۔ آج
مزید پڑھیے