BN

سعد الله شاہ



ایسا کیچ تو میری نانی بھی پکڑ سکتی تھی


ہمارے پاس حیرانی نہیں تھی ہمیں کوئی پریشانی نہیں تھی ہمیں ہونا تھا رسوا‘ ہم ہوئے ہیں کسی کی ہم نے بھی مانی نہیں تھی ’’محبتوں میں تعصب تو در ہی آتا ہے۔ ہم آئینہ نہ رہے تم کو روبرو کر کے ’’بات یوں ہے کہ ہم اپنے وطن سے وابستہ ہر شے سے وابستہ و پیوستہ ہی نہیں بہت جذباتی اور جنونی ہیں۔ تمام معیارات کو پس پشت ڈال کر سوچتے ہیں۔ اب آپ کرکٹ کے معاملہ ہی کو لے لیجیے کہ ہم اپنی محبت میں سامنے کی چیز ماننے کے لئے تیار نہیں کہ بھارت کی کرکٹ ٹیم ہم سے بدرجہا بہتر
منگل 18 جون 2019ء

اللہ کے مہمانوں کی خدمت

پیر 17 جون 2019ء
سعد الله شاہ
ڈائریکٹر حج ریحان کھوکھو نے جب اپنی معروضات کے اختتام پر ہمارے دوست شاکر شجاع آبادی کے دو اشعار پڑھے تو ہمیں بہت اچھا لگا: تو محنت کرتے محنت داصلہ جانے خدا جانے تو دیوا بال کے رکھ چا ہوا جانے خدا جانے ایہہ پوری تھیوے نہ تھیوے مگر بے کارنئیں ویندی دعا شاکر توں منگی رکھ دعا جانے خدا جانے ان خوبصورت اشعار کے پس منظر میں ان کا وہ جذبہ تھا جو اللہ کے مہمانوں کی خدمت کے لئے کمربستہ اور توانا رکھتا ہے۔ حج پر جانے والوں کو وزارت حج کی طرف سے ٹریننگ سیشن میں مدعو کیا گیا تھا۔ جون کی
مزید پڑھیے


کرکٹ سے سیاست ‘سیاست سے کرکٹ

هفته 15 جون 2019ء
سعد الله شاہ
مظفر آباد سے تعلق رکھنے والا خوبرو ڈاکٹر جو ایک اوریجنل شاعر بھی ہے کرکٹ کے بخارمیں مبتلا ہے۔ سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ پوسٹیں اس کی ہوتی ہیں۔ اس کی پیش گوئیاں کچھ درست بھی ہوتی ہیں مگر پاکستان بڑے بڑے نجومیوں کی پیش گوئیوں پر خاک ڈال دیتا ہے۔ سری لنکا سے ہمارا میچ بارش کی نذر ہوگیا یہ بارش ویسٹ انڈیز کو بھی لے بیٹھی یہ معاملہ اگر ہمارے ہاں پیش آتا تو دنیا کیا کچھ کہتی کہ موسم کو ذہن میں کیوں نہیں رکھا اب معاملہ ان کاہے جن کے پاس محکمہ موسمیات کے جدید
مزید پڑھیے


دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام

منگل 11 جون 2019ء
سعد الله شاہ
ہو جاتی ہیں ساری باتیں آ کر میری بات میں گم سب کچھ مجھ سے باہر ہے اور میں ہوں اپنی ذات میں گم یہ کیسی خوش فہمی ہے جو غلط فہمی سے بھی زیادہ نقصان دہ ہے۔ یہ ایک بیماری ہے کہ جب انسان اپنے آپ کو کائنات کا یا زمانے کا محور جاننے لگے بس سمجھئے کہ گردش نے اسے بھی گھما دیا ہے لیکن یہ خوش گمانی یقینا اس ڈوگی کی طرح ہے جو اکثر کسانوں کے گڈے کے نیچے چلتا جاتا ہے اور اس کا خیال یہی ہوتا ہے کہ اس گڈے کو بیل نہیں کھینچ رہے بلکہ
مزید پڑھیے


گلاب کے پھول اور نیو کیمپس قبرستان

اتوار 09 جون 2019ء
سعد الله شاہ
میں ان آنکھوں سے کہاں تک روتا گریہ کرتی تصویر کے ساتھ اک جسارت کا گنہگار ہوا کون لڑ سکتا ہے تقدیر کے ساتھ پوری کائنات کی اساس ہی تضادات پر ہے۔ رات دن جگنوئوں کی طرح جلتے بجھتے اڑتے جا رہے ہیں۔ فضا کے پنکھ نظر نہیں آتے بقا تو صرف خالق کو ہے مرزا نوشہ کیسے سوچتے تھے’’ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا۔ نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا۔ زندہ پل تو وہی ہے جو ہستی باقی کے ساتھ جڑا ہوا ہے جو اس کی یاد میں کٹ گیا وگرنہ تو گزرتی جا رہی ہے ‘ ہنس کر گزار
مزید پڑھیے




حکم برداشتہ

هفته 08 جون 2019ء
سعد الله شاہ
مرزا نوشہ نے کہا تھا: کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جائے دل انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں واقعتاً کچھ ایسا ہی ہے‘ زندگی اسی کا نام ہے اک پل چین نہیں۔ کچھ زمین گردش میں ہے اور کچھ ہمارے پائوں میں چکر ہیں۔ ہمیشہ ایسا ہی لگتا ہے منیر نیازی کی طرح’’ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو۔ میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا‘‘یہ چیلنجز سب کے راستے میں کب آتے ہیں یہ بھی خوش قسمتی ہے مگر ایسے میں ہی جوہر کھلتے ہیں۔ لیکن یہ فطری بات ہے کہ مسافر تھک بھی
مزید پڑھیے


کرکٹ اور عید کی دوآتشہ خوشی

بدھ 05 جون 2019ء
سعد الله شاہ
شاعرہوں تو ہر چیز کو شاعر کی آنکھ سے دیکھتا ہوں اور محسوس کرتا ہوں۔ رات پاکستان کرکٹ ٹیم کی برطانیہ سے فتح پر مجھے فیض صاحب کی نظم تنہائی نہ صرف یاد آئی بلکہ نیرہ نور کانوں میں رس گھولنے لگی: رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے سچ مچ مجھے ایسے ہی لگا کہ سوکھے ہوئے دھان پر پانی پڑ گیا اور جیسے مردہ زمین جاگ اٹھی۔ کیا کریں یہ اپنے ملک سے وابستگی۔ دلبستگی اور پیار ہے جو
مزید پڑھیے


امریکی سانپ کی کھال سے بنی چپل

پیر 03 جون 2019ء
سعد الله شاہ
جون ایلیا نے کہا تھا: جانے کیا حادثہ ہے ہونے کو جی چاہتا ہے رونے کو مگر یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ بس ’’ہر بات پہ رونے کو کہاں سے جگر آئے‘‘ اور غالب نے کہا تھا کہ ’’مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں‘‘ میں کبھی سر پکڑ لیتا ہوں کہ پی ٹی آئی کے پاس کیسے کیسے نابغہ عصر موجود ہیں اور وہ نت نئے آئیڈیاز لے کر آتے ہیں کہ عقل شل اور حواس مبہوت ہوجاتے ہیں ’’جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی‘‘ قوم مہنگائی کی آگ میں جل رہی ہے پٹرول کی گرانی کے
مزید پڑھیے


پاکستان کی سنچری اور پٹرول بم

اتوار 02 جون 2019ء
سعد الله شاہ
محفل سے اٹھ نہ جائیں کہیں خامشی کے ساتھ ہم سے نہ کوئی بات کرے بے رخی کے ساتھ اپنا تو اصل زر سے بھی نقصان بڑھ گیا سچ مچ کا عشق مر گیا اک دل لگی کے ساتھ کبھی کبھی لینے کے دینے پڑ ہی جاتے ہیں۔ نیلما نے کہا تھا’’کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں۔ ہم جیتے جی مر جاتے ہیں’’جی بالکل ہوتی ہیں اور وہ ہوتی بھی ہوشربا قسم کی ہیں مثلاً صوبائی وزیر توانائی اختر ملک نے کیا خوب بیان دیا کہ ہم روتے روتے ہنس پڑے۔ ستم ظریف نے فرمایا کہ ورلڈ کپ جیتنے پر کرکٹرز کو تاحیات مفت بجلی
مزید پڑھیے


ادب سے سیاست تک

هفته 01 جون 2019ء
سعد الله شاہ
کار فرہاد سے یہ کم تو نہیں جو ہم نے آنکھ سے دل کی طرف موڑ دیا پانی کو جس میں مفہوم ہو کوئی نہ کوئی رنگ غزل سعد جی آگ لگے ایسی زبان دانی کو بات یوں ہے کہ میں زبان دانی کے خلاف نہیں مگر بات یہ کہ اس کے ساتھ ساتھ معنی آفرینی بھی ضروری ہے جس کا تذکرہ غالب کرتے ہیں کہ ’’گجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے جو لفظ کہ غالب مرے اشعار میں آوے‘‘ کافیہ پیمائی بھی اپنی جگہ ہے وہی کہ یہ قافیہ پیمائی ذرا کر کے تو دیکھو‘ مگر ایک رویہ دوسرا بھی تو ہے
مزید پڑھیے