BN

سعد الله شاہ


خیر نال آ تے خیر نال جا


خواب ہو گا یا کوئی خواب کے جیسا ہوگا ہم نے دیکھا تھا جسے آنکھ کا دھوکہ ہو گا اتنا لکھوں گا ترے بعد ترے بارے میں آنے والوں نے تجھے پہلے ہی دیکھا ہوگا خواب‘ سراب‘ شباب‘ حباب اور سماب سب ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں۔ آنکھ کا دھوکہ یا فریب نظر۔ جسے آپ سب سے زیادہ ایماندار سمجھتے ہیں‘ بعض اوقات اس کی ایمانداری آپ کو لے بیٹھتی ہے۔ نالائقی اور نااہلی سب کچھ ہی بلڈوز کر دیتی ہے۔ میں کوئی مافوق الفطرت بات نہیں کر رہا۔ یہی زمینی حقائق ہیں۔ وہی زمین جس پر دوپائے اور چارپائے چلتے ہیں اور
اتوار 17 جنوری 2021ء

اسامہ ستی کا قتل اور حالات

هفته 16 جنوری 2021ء
سعد الله شاہ
اک کرب ہے آنکھوں میں اک درد ہے سینے میں کیا رمز ہے مرنے میں‘کیا راز ہے جینے میں کیا لیں گے تمہیں پا کر‘ساحل کی طرف جا کر طوفان اٹھایا ہے ہم نے تو سفینے میں کاندھوں پہ سرکی گرانی ہے کہ اس میں سوچوں کا بوجھ ہے سوسو فکراں دے پرچھاویں۔ سو سو غم جدائی دے۔ آج تو دل بھی بوجھل ہے کہ سل بنا ہوا ہے کس کو دکھائیں اپنا کلیجہ کٹا ہوا یہ کوئی رسمی اظہار غم نہیں بلکہ وہی سچائی غالب والی کہ اس نابغہ نے تعزیتی خط میں لکھا کہ کیونکر کہوں گا صبر کرو جس کا کلیجہ
مزید پڑھیے


لوح اور نصیر ترابی

بدھ 13 جنوری 2021ء
سعد الله شاہ
یہ کہا کہ حال دل زار اسے سنانے کو میں اپنے ساتھ رلاتا ہوں اک زمانے کو جو اس کی یاد نہ آئے تو جی ٹھہر جائے ہوا تو چاہیے بجھتا دیا جلانے کو دیا ہوا سے ڈگمگاتا ہے اور بجھنے کے اندیشے میں مبتلا ہوتا ہے مگر اس کی زندگی بھی ہوا سے منسلک ہے۔ وہی کہ ’’دیکھ کے میری بے خودی چلنے لگی ہوا کہ یوں‘‘۔ یہ سانس کی آمدورفت بھی تو دہری نعمت ہے کہ بقول سعدی فرحت و راحت
مزید پڑھیے


حالات حاضرہ اور محمد یاسین وٹو

منگل 12 جنوری 2021ء
سعد الله شاہ
کنج دل تباہ میں کیا ہے بچا ہوا اک نقش پائے یار ہے حیرت بنا ہوا سچ مچ نفس زدہ ہے چراغ مزار دل کچھ کچھ جلا ہوا ہے تو کچھ کچھ بجھا ہوا چند ساعتوں کی گوشہ نشینی ہی آنکھیں کھول دیتی ہے۔ تنہائی میں وہ کچھ بھی روشن ہو جاتا ہے جو بھیڑ اور مصروفیت میں صرف نظر ہو جاتا ہے۔ وہی چند تصویر بتاں والا معاملہ ہے الماس شبی نے کالم ،کہ جس میں سرکاری ڈرامے کا تذکرہ تھا کہا کہ آپ ڈرامے کی طرف آ رہے ہیں۔ میں نے کہا ڈرامے دیکھ رہا ہوں ایک تو ڈرامے میں حقیقت ہوتی
مزید پڑھیے


سرکاری ڈرامہ بنایا جا سکتا ہے

اتوار 10 جنوری 2021ء
سعد الله شاہ
جو بھٹکتا ہے وہی راہ بنا جاتا ہے ورنہ بستی میں کہاں سیدھا چلا جاتا ہے بات سنتا ہے تو آنکھیں بھی بچھاتا ہے وہ بات کرتا ہے تو دامن بھی بچا جاتا ہے دنیا کا اپنا چلن ہے۔ یہاں سب چلتا ہے تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا۔ یہ مومن کا دکھ تھا اور اس نے یہ بھی کمال کی بات کی تھی کہ نارسائی سے دم رکے تو رکے۔ میں کسی سے خفا نہیں ہوتا جینا بھی ایک سلیقہ اور قرینہ ہے جو سیدھے لوگوں کو نہیں آتا۔ آج دل چاہا کہ تخلیق کی دنیا کی
مزید پڑھیے



بے حسی یا مصروفیت

هفته 09 جنوری 2021ء
سعد الله شاہ
رواں اس آنکھ سے اشکوں کا ایک دریا ہے کسی نے دل پہ تسلی کا ہاتھ رکھا ہے ہماری آگ سے کندن نہ بن سکا سونا ہماری آہ سے پتھر تو ایک پگھلا ہے مگر ہر خواب کو تعبیر کہاں ملتی ہے ہر آرزو ثمر بار کب ہوتی ہے اور خوش فہمی کب تجسیم پاتی ہے۔ خزاں رسیدہ سی شاخوں سے کتنے پات گرے۔ کسے خبر ہے کہ دل بھی کسی کا ٹوٹا ہے ضروری تو نہیں کہ کسی پر قیامت گزر جائے تو کوئی دوسرا بھی اس سے متاثر ہو اس کے لئے تو کوئی صاحب دل ہو تو سوچے سانحہ مچھ
مزید پڑھیے


یکساں نصاب تعلیم

جمعه 08 جنوری 2021ء
سعد الله شاہ
مرے اندر عجب اک واہمہ رکھا گیا ہے حقیقت سے مجھے شاید جدا رکھا گیا ہے میں اب تک رہنما کی چال میں الجھا ہوا ہوں کہ میرے سامنے اک راستہ رکھا گیا ہے نااہل اور نالائق لوگوں کا شاید مشن ہوتا ہے کہ لائق اور اہل لوگوں کا راستہ روکا جائے۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ جیسے تیسے طاقت اور اقتدار حاصل کیا جائے اور پھر شعور و آگہی کے راستے عوام پر بند کر دیے جائیں وگرنہ ان کے احکام کی بجا آوری کون کرے گا یہ تو حکمرانی کی پہلی شرط ہے کہ عام آدمی کو اس کی اوقات
مزید پڑھیے


دل کٹ چکا ہے

بدھ 06 جنوری 2021ء
سعد الله شاہ
اشک گردوں صدف میں پالتے ہیں تب سمندر گہر اچھالتے ہیں خود فراموشیاں نہ پوچھ اپنی زندگی کا عذاب ٹالتے ہیں آج ایک بے کلی سی ہے طبیعت مکدر اور بوجھل ہے۔ یوں تو قدرت کے مظاہر ہم پر اثر انداز ہوتے ہیں او ربعض اوقات اچانک کوئی خبر آپ کو سن کر دیتی ہے اور آپ کے اندر کا موسم متغیر ہو کر فشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ آپ کے پاس اظہار کے لیے الفاظ نہیں ہوتے کبھی کبھی اوپر نیچے ایسی باتیں ہو جاتی ہیں کہ آپ چکر اجاتے ہیں کہ جیسے ایک زخم مندمل نہ ہو تو دوسرا آن لگے
مزید پڑھیے


آئین کو مرکز ماننا پڑے گا

منگل 05 جنوری 2021ء
سعد الله شاہ
جی میں آتا ہے کہ دیکھوں اس زمیں کو کاٹ کر مجھ ہوائے خاک پر یہ کیسے نکلے بال و پر ہیں مثال برف ہم بھی کوہقانوں میں پڑے ایک شرارہ ہی اٹھا تو اے ہوائے تیز تر یہ تو ایک سعی کا عمل ہے ۔ اس جدوجہد کے بغیر کچھ نہیں ہو گا وہی جو اظہار شاہیں نے کہا تھا اپنے ہونے کا پتہ دے کوئی شیشہ کہیں گرا دے۔ جب اپنے ہونے کا اپنے آپ کو بھی پتہ نہ چلے تو کوئی کیا کرے۔جون یاد آئے۔ بولتے کیوں نہیں مرے حق میں آبلے پڑ گئے زیان میں کیا ۔ کیا کیا جائے
مزید پڑھیے


چلنے لگی ہوا کہ یوں

پیر 04 جنوری 2021ء
سعد الله شاہ
ہر کام بگڑتا ہے ہم جیسوں کا ہو ہو کے ان کو بھی کوئی پوچھے بیٹھے ہیں جو رو رو کے ہم جاگنے والوں کو زندوں میں سمجھتے ہیں مر جاتے ہیں کتنے ہی اپنی طرح سو سو کے ظاہر ہے غیب کا علم تو صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کو ہے۔ ہماری تو قیاس آرائیاں اور اندازے ہیں۔ یا ہم تاریخی پس منظرے کچھ اخذ کرلیتے ہیں۔ مگر کیا کیا جائے کہ سیاست میں کوا کب کی چال کہ ،ہیں کوا کب کچھ نظر آتے ہیں کچھ، اور پھر بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے۔ یہ گرکٹ کی طرح رنگ بدلنے والے مفاد پرست
مزید پڑھیے