BN

سعد الله شاہ

خوبصورتی کے احساس میں لکھا گیا کالم


پہلے دو اشعار: خواب کم خواب کا احساس کہاں رکھیں گے اے گل صبح تری باس کہاں رکھیں گے پہلے پھولوں سے لدے رہتے ہیں جو راہوں میں ہم وہ چاہت کے املتاس کہاں رکھیں گے یہ کائنات بہت حسین ہے اور اس میں حسین ترین خود انسان۔ یہ جمل کا پیکر اللہ کا شاہکار ہے۔ اللہ نے قسم اٹھا کر کہا کہ اس نے اسے حسین ترین پیدا کیا، وہ اشرف المخلوق کہلایا، پھر کیا ہوا، ہوا تو کچھ بھی نہیں اس کی اپنی نظر ہی نہیں گئی۔ اس نے وہ بات یوں سنی ان سنی کردی کہ جس نے خود کو پہچانا
پیر 15 اکتوبر 2018ء

قطر کا مشاعرہ

اتوار 14 اکتوبر 2018ء
سعد الله شاہ
پہلے عزیز نبیل کے دو خوبصورت اشعار: آسیب سا جیسے میرے اعصاب سے نکلا یہ کون دبے پائوں مرے خواب سے نکلا جب جال سمیٹا ہے مچھیرے نے علی الصبح ٹوٹا ہوا اک چاند بھی تالاب سے نکلا لیجیے میرے معززیز قارئین: میں قطر میں انجمن محبان اردو ہند قطر کا سالانہ مشاعرہ پڑھنے کے لیے آیا ہوں بلکہ مشاعرہ تو 12اکتوبر کی رات ہو چکا۔ رات گئے تک تشنگان شعر و سخن ہمارے ساتھ جاگتے رہے‘ داد دیتے رہے اور داد پاتے رہے۔ میں بارہ اکتوبر جمعہ کے روز یہاں پہنچا تو اک خیال میرے ذہن میں کوندا کہ جس طرح جمعہ کا روز
مزید پڑھیے


پرندے اور ہم

جمعه 12 اکتوبر 2018ء
سعد الله شاہ
اڑتا رہا میں دیر تلک پنچھیوں کے ساتھ اے سعد مجھ سے جال بچھایا نہیں گیا غالباً فطری طور پر مجھے پرندوں سے محبت ہے۔ نہ جانے وہ کیسے لوگ ہیں جو پرندوں کو اڑتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے اور ان کی جان لینے کو وہ کھیل سمجھتے ہیں۔ ایک ننھی سی جان کو لقمہ بنا لیتے ہیں۔ کسی پرندے کے حلال ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اس کی نسل کے ختم کرنے میں لگ جائیں۔ مجھے ظہور دھریجہ کی کرلاٹ نے ہلا کر رکھ دیا۔ انہوں نے چولستان کے پرندوں کا نوحہ بجا طور پر کہا ہے۔ انہوں نے
مزید پڑھیے


لاہور کی ترکی صفائی

بدھ 10 اکتوبر 2018ء
سعد الله شاہ
کوئی بھی پیشکش ہو اس میں احتیاط لازم ہے اپنے حواس کو بحال رکھنا‘ نتائج کو پیش نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ مثلاً دیکھیے رابعہ عاطف نے ایک دلچسپ پوسٹ لگائی ہے کہ ’’ٹی وی کمرشلز میں مائیں اپنے بچوں کے گندے کپڑے دیکھ کر ہنستی ہیں جب ہم لوگ کپڑے گندے کر کے آتے تھے تو امی پہلے ہمیں دھوتی تھی اور پھر ہمارے کپڑے’’رابعہ کی بات درست ہے کہ ہماری مائیں ڈاڈھی ہوا کرتی تھیں۔ کبھی ہم کہتے کہ ڈر لگتا ہے تو امی کہتی بہادر بچے نہیں ڈرتے۔ خیر بات ہو رہی تھی گندے کپڑوں پر ہنسنے
مزید پڑھیے


کرب و بلا اور ایک مسالمہ

منگل 09 اکتوبر 2018ء
سعد الله شاہ
شہریار زیدی نے کہا ہے: صحت فکر کے پرچم بڑھے کوفے کی طرف حق کی تحریک چلی مجاہد بیمار کے ساتھ کربلا کا منظر تو ایک طرف، پس منظر اور پیش منظر بھی دلدوز ہے۔ محرم اپنے اختتام پر پہنچ رہا ہے۔ یہ مہینہ اسلامی کیلنڈر کا اولین مہینہ ہے۔ یعنی آغاز ہی ایک بے نام اداسی سے ہوتا ہے جس میں کربلا کا دکھ اور حزن و ملال لمحہ لمحہ وقت میں سرایت کئے ہوئے ہے۔ اس ظلم و ستم کا احساس ایک فطری عمل ہے۔ اس میں شک نہیں کہ امام حسینؓ کی شہادت میں ایک بانکپن اور عظمت ہے کہ
مزید پڑھیے


حکیم محمد سعید اور روحانیت

پیر 08 اکتوبر 2018ء
سعد الله شاہ
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں‘ اور ٹھیک ہی سوچتا ہوں کہ سب کچھ خواب‘ سراب اور حباب ہے۔ شباب‘ سماب اور گلاب بھی تو کچھ ایسا ہی تھا۔ کہیں خون کا ابال تھا تو کہیں آب کا بخار اور کہیں خوشبو کی نمی۔ ظاہر کے پیچھے جو چیز ہے بس وہی ہے۔وہ شے جو ہمارے احاطۂ ادراک میں نہیں آتی‘ موجود ضرور ہے‘ وہ محسوس ہوتی نہیں‘ کروائی جاتی ہے۔ اپنی بے چارگی‘ لاچاری اور نارسائی اداسی کے سوا کچھ نہیں۔ ان ہونی کے ہونے کا یقین مجھ کو مایوس نہیں ہونے دیتا۔ ہوا سے بھی ہلکی دستک کہیں محسوس
مزید پڑھیے


تین ادیبوں کی رخصتی

هفته 06 اکتوبر 2018ء
سعد الله شاہ
مجھے یاد ہے جب میں کراچی گیا تو میں اور آصف شفیع، فاطمہ حسن کے ہمراہ جمال احسانی کی تیمارداری کے لیے ہسپتال پہنچے تو جمال احسانی نے شعر پڑھا: چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں سلسلہ وار میں خود کو دیکھ رہا ہوں فسانہ ہوتے ہوئے فاطمہ حسن نے اس کی دلجوئی کرتے ہوئے کہا تھا، نہیں، جمال! تم سٹھیائے بنا نہیں مرو گے۔ جمال احسانی بھی ہنس دیا مگر اس کے منہ سے نکلا ہوا شعر حقیقت تھا اس لمحے مجھے یہ شعر اس لیے یاد آیا کہ آج سلیم آغا قزلباش بھی چل بسے۔ اپنے ہمعصر اور ہمعصر کا جدا
مزید پڑھیے


صلیبوں سے اتارے ہوئے لوگ

جمعه 05 اکتوبر 2018ء
سعد الله شاہ
میرے محترم قارئین!میں نے آپ سے وعدہ کر رکھا ہے کہ کوئی بھی اعلیٰ اور نایاب چیز میرے علم میں آئی تو میں آپ سے شیئر ضرور کروں گا۔ وہی جو میں نے عمر گزار کر سیکھا کہ آپ کے پاس کچھ کہنے کو نہ ہو تو اچھے لوگوں کی اچھی باتیں لوگوں تک پہنچا دو۔ تو ہوا یوں کہ میں نے احمد جاوید صاحب کو ایک شعر کی تشریح کرتے سنا تو لطف آ گیا۔ انہوں نے ایک شعر کی بہت زیادہ توصیف کی کہ اگر یہ شعر سودا یا کوئی اور بڑا شاعر بھی کہتا تو اسے اپنے
مزید پڑھیے


بدمعاش نہیں رہیں گے

جمعرات 04 اکتوبر 2018ء
سعد الله شاہ
پہلے دو اشعار: ہن کیہ خوف بلاواں دا سارا شہر خداواں دا ابا میرے دیس دی خیر سر تے شور اے کانواں دا منیر نیازی بھی کیا جملہ کہتے تھے کہ وہ جملہ شہر کے ادبی حلقوں میں پھیل جاتا تھا۔ ایک دفعہ کہنے لگے بعض لوگ اتنا بولتے ہیں کہ بول بول کر ان کے منہ بڑے اور سر چھوٹے ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح ایک موقع پر فرمایا، بعض آدمی صرف منہ ہی کھولتے ہیں۔ لفظ خودبخود ان کے منہ سے برآمد ہونے لگتے ہیں۔ نہ جانے نیازی صاحب کے یہ دونوں جملے مجھے رانا مشہود کے اس بیان پر کہ ’’اسٹیبلشمنٹ
مزید پڑھیے


فنون کا ندیم صدی نمبر

بدھ 03 اکتوبر 2018ء
سعد الله شاہ
ٹی ایس ایلیٹ نے بھی خوب کہا تھا کہ ہر لمحہ دوسرے کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ کوئی ایسا خوشگوار لمحہ بھی آ جاتا ہے جس کے اردگرد کئی یادیں خوبصورت اور پھولدار بیلوں کی طرح لپٹی ہوتی ہیں۔ پھر یوں ہوتا ہے کہ ذہن رسا جاگ اٹھتا ہے۔ حافظے کے پنجرے کے در کھلتے ہیں، طائر تخیل نکل کر محو پرواز ہو جاتا ہے۔ میں شام ڈھلے گھر آیا تو سامنے ڈائننگ ٹیبل پر دو بھاری بھرکم پارسل پڑے تھے۔ اٹھا کر دیکھے تو یہ ’’خصوصی ندیم صدی نمبر‘‘ تھا۔ میں نے سوچا کہ ہماری بہن ناہید قاسمی نے
مزید پڑھیے