BN

سعد الله شاہ



زیر آسماں


خوابوں سی دلنواز حقیقت نہیں کوئی یہ بھی نہ ہو تو درد کا درمان بھی نہ ہو محرومیوں کا ہم نے گلہ تک نہیں کیا لیکن یہ کیا کہ دل میں یہ ارمان بھی نہ ہو خواب بھی عجیب ہوتے ہیں۔ فراز نے کہا تھا خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا۔ ویسے یہ کیسی بات ہے کہ بعض لوگ خوابوں کی باتیں کرتے ہیں مگر وہ خود تعبیر کی طرح ہوتے ہیں یقینا آپ کے ذہن میں اقبال آئیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دل و دماغ میں سودائے تعمیر ہوتا ہے۔ خواہ وہ جگنو کی طرح چھوٹا سا
اتوار 29 مارچ 2020ء

ذرا نم ہو تو

هفته 28 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
سویا ہوا تھا شہر تو بیدار کون تھا سب دم بخود تھے ایسا خطار کون تھا باقی ہمیں بچے تھے سو نظروں میں آ گئے ہم جیسوں کا وگرنہ خریدار کون تھا بیداری سب کا مقدر نہیں ہوتی۔ اس کا تعلق نہ نیند کے ساتھ ہے اور نہ خواب کے ساتھ۔یہ فکر مندی ہے اور انداز زندگی کہ سونے والوں کو برے ہیں یہ جگانے وائے۔ میں کچھ اور تحریر کرنے بیٹھا تھا کہ ڈاکٹر کاشف رفیق کی ایک پوسٹ نے مجھے متوجہ کیا تو میں نے اپنا اولین فرض جانا کہ اس پر فوراً اپنا ردعمل دوں اور وزیر اعظم تک اگر بات پہنچ
مزید پڑھیے


لمس کی چپ

جمعرات 26 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
جنوں کی تیز بارش میں، اسے پانے کی خواہش میں میں دل کی سطح پر اکثر کھلی آنکھوں کو رکھتا تھا بڑھا دیتی ہیں عمروں کو نہ جانے یہ کتابیں کیوں میں چھوٹا تھا مگر سر پر کئی صدیوں کا سایہ تھا شاید کبھی کبھی یہ کتابیں بھی ناکافی ہوتی ہیں۔ جیسے شمس تبریزؒ نے مولانا رومؒ کی کتابیں اٹھا کر حوض میں ڈال دی تھیں اور پھر مولانا کے استعجاب پر ہاتھ بڑھا کر سوکھی کتابیں نکال لیں تھیں۔ پردہ غیب میں کوئی بات ضرور ہے وہی کہ نغمہ تو پردہ ہے ساز کا۔ کتاب مگر ہمارے لئے ضروری تھی اور مولانا روم
مزید پڑھیے


14روز کا لاک ڈائون

بدھ 25 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
خواب کم خواب کا احساس کہاں رکھیں گے اے گلِ صبح تری باس کہاں رکھیں گے اے مہ گنبدِ گرداں تو ستارے نہ گرا ہم زمین زاد تری آس کہاں رکھیں گے بہار اپنے جوبن پر ہے، اوپر سے ابر بھی چھائے ہوئے ہیں۔ آنگن میں لگے پیڑ اور پودے رات کی بارش میں دھلے ہوئے نہال نظر آتے ہیں۔ پرندوں کی چہکار میں صبح سانس لیتی محسوس ہوتی ہے اور فطرت مسکراتے ہوئے۔ محلے سے گزرتی کوئی چاپ بھی سنائی نہیں دیتے۔ لوگ گھروں میں دبک کر بیٹھے ہیں۔ ایک تو خود ساختہ جلا وطنی ہوتی ہے، یہ خود اختیار کردہ قید ہے
مزید پڑھیے


خواجہ محمدزکریا کی 80 ویں سالگرہ

منگل 24 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
کیا سروکار ہمیں رونق بازار کے ساتھ ہم الگ بیٹھے ہیں دست ہنر آثار کے ساتھ ایک احساس وفا کی طرح بے قیمت ہیں ہم کو پرکھے نہ کوئی درھم و دینار کے ساتھ میرے پسندیدہ فکشن رائٹر جمیل احمد عدیل نے ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کے حوالے سے پوسٹ لگائی کہ 80برس کے ہو چکے مجھے مندرجہ بالا اشعار لکھنا پڑے کہ ’پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ افسوس تجھ کو میر سے صحبت نہیں رہی۔ مگر ہمیں تو ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا سے محبت رہی اور خوب رہی۔ آج بھی ان کے چہرے پر وہی معصومیت اور خوبصورتی ہے جو چالیس
مزید پڑھیے




باتوں سے خوشبو آئے

اتوار 22 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
کس کس ادا پہ اس کی میں واروں نہ اپنا دل اس پر ہے ختم خامشی اس پر سخن تمام شبنم نے کام کر دیا جلتی پہ تیل کا دہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام رئیس المتغزلین حسرت موہانی کے طرح مصرع پر میں نے گرہ لگائی تو میرے پیارے دوست اسلم کولسری بے اختیار گویا ہوئے’’کون لگائے گا اس سے بہتر گرہ‘‘ شاید یہی تو حسرت کے مصرع تر کا کمال تھا۔ بات میں نے شبنم اور پھول کی کرنا تھی کہ اس کی پنکھڑیوں پر اوس کے قطرے موتیوں کی طرح جگمگاتے ہیں۔ کولرج نے تو اور بھی خوب بات
مزید پڑھیے


عمران خان کا بے بدل بیانیہ

جمعه 20 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
اچھا لگتا ہے مجھے گل تو بجا لگتا ہے وہ بھی میری ہی طرح محو دعا لگتا ہے خان صاحب نے قوم سے خطاب کر لیا اور معرکتہ الآرا جملہ کہہ دیا‘ کرونا وائرس جلد پھیلتا ہے، گھبرانا نہیں‘ مل کر لڑیں گے۔ یہ بھی انہوں نے پتے کی بات کی کہ عوام کو احتیاط کرنی ہے۔ آ پ نے ہاتھ نہیں ملانا‘ چھینک نہیں مارنی اور وغیرہ وغیرہ یعنی انہوں نے قومی پالیسیاں بیان کر دیں۔ دنیا سے قرض معافی کی اپیل کر دی کہ اس نازک موقع پر آئی ایم ایف کا قرضہ ادا کرنے کے قابل نہیں ہونگے۔
مزید پڑھیے


احتیاط واجب ہے

بدھ 18 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
اپنی اپنی انا کو بھلایا جا سکتا تھا شاید سارا شہر بچایا جا سکتا تھا دھوپ میں جلنے والو آئو بیٹھ کے سوچیں اس رستے میں پیڑ لگایا جا سکتا تھا وہی جو کسی نے کہا تھا ’’آئو اک دوسرے کے دُکھ بانٹ لیں‘‘ بلکہ راجندر سنگھ بیدی نے افسانہ لکھا تھا ’’اپنے دُکھ مجھے دے دو‘‘ شاید اسی کا نام زندگی ہے۔ احساس ہو تو دُکھ بانٹنے میں جو خوشی اور مسرت ہے اس سے ہر شخص آشنا نہیں۔ فیض صاحب نے بھی کیا خوب کہا تھا ’’اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا‘‘ مگر اب اگر تصرف کر کے کہا
مزید پڑھیے


ہم اور موسمِ گریہ

منگل 17 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
میری حیرت کا تصور ہے وہی ذات کہ جو جہاں ہوتے نہیں اسباب‘ بنا دیتی ہے میری آنکھوں کو وہ خالی نہیں رہنے دیتی کہیں تارا کہیں مہتاب بنا دیتی ہے قربان جائوں میں اس ذات کو جو سائے میں ٹھنڈک رکھتی ہے اور دھوپ میں تمازت کہ ہر صورت زندگی محسوس ہونے لگتی جب فطرت پر نظر کریں تو اس کی آیات کہاں کہاں جلوہ گر نہیں ہیں۔ اب کے جو بہار اتری ہے تو اپنے سارے رنگ لے کر اتری ہے آنکھ ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر۔ منہ نظر آتے ہیں دیواروں کے بیچ‘ اللہ اللہ جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو
مزید پڑھیے


کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا

جمعه 13 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
شہرت کے ساتھ ساتھ بڑھا ہے یہ اضطراب گم نام سا وہ شخص ہمیں مانتا نہیں یہ شہرت بھی عجیب شے ہے‘ مل جائے تو سکون تباہ کر دیتی ہے اور نہ ملے تو بندہ اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ہے۔ یہ مثبت بھی ہوتی ہے کہ کوئی نیک نام ہو جائے اور منفی کہ کوئی بدنام ہو جائے۔ لگتا ہے ہر شخص حسد سے۔ سعدؔ ایسا بدنام ہوا ہے‘ اور پھر انجام بھی تو ویسا ہی ہوتا ہے کہ ہم دونوں آغاز پہ پہنچے۔سعدؔایسا انجام ہوا ہے۔ وہ بھی تو کسی استاد نے کہا تھا بدنام جو ہوں گے تو کیا
مزید پڑھیے