Common frontend top

سعد الله شاہ


خالد علیم ایک درویش صفت شاعر


کون سمجھے مرا تنہا ہونا یہ ہے دنیا سے شناسا ہونا کاش خوشبو کی طرح ہو جائے میرا دنیا میں ذرا سا ہونا ایک اور شعر ذہن میں آ گیا ’’پھول کا کھلنا سر شاخ دعا، یعنی امید کا پیدا ہونا‘‘ آج میں بہت اداس ہوں، دو روز پہلے علم ہوا کہ ہمارے دیرینہ دوست جناب خالد علیم تشویشناک صورت حال میں ہیں۔ فون ملانے کی کوشش کی مگر کارگر نہ ہوئی۔ پھر آج نوید صادق سے بات ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ مشکل میں ہیں۔ ان کے لیے دست دعا دراز ہے کہ اللہ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے
بدھ 10 جولائی 2024ء مزید پڑھیے

کجھ مینوں مرن دا شوق وی سی!

منگل 25 جون 2024ء
سعد الله شاہ
اس نے دربار میں قرار کیا جس نے لفظوں کا کاروبار کیا ہار کر بھی وہ خوبصورت ہے ہارنے جس کو اشکبار کیا ایک اور شعر دیکھئے ’’اور اک جرم میں نے یہ بھی کیا، خود کو مجرم نہیں شمار کیا‘‘ دل تو نہیں چاہتا تھا کہ کرکٹ پر لکھوں مگر رہا نہیں گیا کہ دل تو ہمارا بھی ٹوٹا ہے اور یہ شعر بھی ذہن میں کلبلا رہا ہے: دل کے ٹکڑوں کو بغل بیچ لیے پھرتا ہوں کچھ علاج ان کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں میں کیا کروں کہ کرکٹ کو بھی میں شاعری کی طرح دیکھتا ہوں، مثلاً لارا کے کھیل
مزید پڑھیے


عید مشاعروں کے منتخب اشعار!

جمعرات 20 جون 2024ء
سعد الله شاہ
کھل اٹھے وہ کہ انہیں دیکھنے والا آیا ایسے لگتا ہے میں پھولوں کی دعا لے آیا رنگ اڑتے رہے خوشبو کے تعاقب میں وہاں شوق آوارگی میں بھی مزہ لے آیا اس میں موسم کے حوالے سے بھی ایک شعر دیکھ لیجیے کہ، وہ گھٹن تھی کہ چراغوں کا بھی دم گھٹتا تھا۔ اس پہ اک شوخ کہ دامن کی ہوا لے آیا۔ تو صاحبو! عید قربان گزر گئی ایک تو بلا کی گرمی اور پھر اوپر سے بھنا ہوا گوشت ایک ہی مصرع ذھن میں آتا ہے کہ وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا۔ بہرحال سنت ابراہیمی کا
مزید پڑھیے


بزم چغتائی مشاعرہ!

جمعه 07 جون 2024ء
سعد الله شاہ
دھندلا گیا ہے آنکھ میں گو روئے یار بھی لیکن ابھی ہے رقص میں زریں غبار بھی عجز و نیاز نے مجھے رسوا کیا کچھ اور لمحے سے میرے افشاں تھا میرا خمار بھی ایک شعر اور دیکھئے اس دل کو دھو رہا ہوں میں اشکوں سے بار بار۔ اس نے کیا قبول دل داغدار بھی۔ آج کا کالم بزم چغتائی کے تحت ہونے والے شاندار مشاعرے کا ہے اس طرح کے مشاعرے غنیمت ہیں کہ لفظ کے رشتے سے دوست مل بیٹھتے ہیں۔ایک عرصے کے بعد اپنے دوست ڈاکٹر خالد جان سے ملاقات ہوئی کہ صدارت انہی کی تھی چلتے چلتے اپنے قارئین
مزید پڑھیے


صبر اور انسان کا امتیاز!

منگل 04 جون 2024ء
سعد الله شاہ
خالی گھر کوئی گھر ہوتا ہے اندر کا بھی ڈر ہوتا ہے حیرت میرے اڑنے پر ہے پنچھی کا تو پَر ہوتا ہے ایک ہی رو میں کئی خیال مطابقت کے ساتھ اتر آتے ہیں۔ اس میں کوئی حیل و حجت نہیں‘ بس پریشاں خیال تحسیم پا کر سخن آثار بن جاتے ہیں اور وقت سے پہلے جھک جاتے ہیں۔ جن کا کاندھوں پر سر ہوتا ہے۔’’لوگ وہ قابل رشک ہیں کتنے جن کا دامن تر ہوتا ہے اور ادھر کیا حال ہے رات کہ آنکھوں میں کٹتی ہے دن ہے کہ سو کے بسر ہوتا ہے۔ اب میں آتا ہوں کالم کے موضوع کی
مزید پڑھیے



روشن مشاعرہ 2024

منگل 28 مئی 2024ء
سعد الله شاہ
گریہ شب کو جو سیلاب بنا دیتی ہے وہی ہستی مجھے بے آب بنا دیتی ہے میری آنکھوں کو وہ خالی نہیں رہنے دیتی کہیں تارہ کہیں مہتاب بنا دیتی ہے دل چاہتا ہے کہ دو اشعار اس غزل کے اپنے معزز قارئین کی نذر کر کے پھر کالم آگے بڑھائوں۔ تم کو معلوم نہیں کیا ہے محبت کا کمال جس کو چھوتی ہے اسے خواب بنا دیتی ہے بے یقینی میں کبھی سعد سفر مت کرنا یہ تو کشتی میں بھی گرداب بنا دیتی ہے بات کچھ یوں ہے کہ کافی روز میں قلم کے ساتھ رشتہ استوار نہ کر سکا اب لکھنے بیٹھا ہوں
مزید پڑھیے


نگہبان رمضان پیکیج اور مسائل

هفته 16 مارچ 2024ء
سعد الله شاہ
سحر کے ساتھ ہی سورج کا ہمرکاب ہوا جو اپنے آپ سے نکلا وہ کامیاب ہوا میں جاگتا رہا اک خواب دیکھ کر برسوں پھر اس کے بعد مرا جاگنا بھی خواب ہوا ایک شعر اور دیکھیے کہ ہماری آنکھ میں دونوں ہی ڈوب جاتے ہیں وہ آفتاب ہوا یا کہ ماہتاب ہوا ۔یہ آتاب و ماہتاب رومانٹک اشارے ہیں ان کا سیاست سے ہرگز تعلق نہیں۔ لیکن آج سیاست پر تھوڑی سی تو بات ہو گی کہ ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں بلکہ سب ہی دیکھ رہے ہیں کہ وزیر اعظم کی نسبت پنجاب کی وزارت
مزید پڑھیے


اجتماع زندگی ہے!

جمعرات 14 مارچ 2024ء
سعد الله شاہ
گھٹا تو کھل کے برسی تھی مگر موسم نہ بدلا تھا یہ ایسا راز تھا جس پر مری آنکھوں کا پردا تھا بڑھا دیتی ہیں عمروں کو نہ جانے یہ کتابیں کیوں میں جھوٹا تھا مگر سر پر کئی صدیوں کا سایہ تھا اس ربط میں صرف ایک شعر اور۔ اگرچہ سعدرستے میں کئی دلکش جزیرے تھے مگر ہرحال میں مجھ کو سمندر پار جانا تھا ۔بس یہاں منزل کا تعین تھا ایسی بات کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے دین میں منزل ہی مقصود ہے اور یہ منزل کیا ہے؟ پہلے ایک مزے کی بات کرتے ہیں کہ اجتماع زندگی ہے اور انتشار
مزید پڑھیے


زباں پر ایک ادبی کالم

جمعه 08 مارچ 2024ء
سعد الله شاہ
کیا سروکار ہمیں رونق بازار کے ساتھ ہم الگ بیٹھے ہیں دست ہنر آثار کے ساتھ رنجش کار زیاں، در بدری، تنہائی اور دنیا ہی خفا تیرے گنہگار کے ساتھ اور پھر یہ کہ چشم نمناک لئے سینہ صد چاک سیے دور تک ہم بھی گئے اپنے خریدار کے ساتھ۔ ان اشعار لکھنے کا ایک مقصد ہے کہ یہ میرے موضوع کے ساتھ لگا کھاتے ہیں خاص طور پر ہمارے ادب سے وابستہ نوجوان اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ درپیش مسئلہ تھا کہ اچھا شعر کیا ہوتا ہے ہم نے حوالے سے ایک محاورہ بند شعر پڑھ دیا: اس کے لب پر سوال آیا
مزید پڑھیے


کچھ الفاظ کے پھول اور معنی کی خوشبو!

اتوار 03 مارچ 2024ء
سعد الله شاہ
دلوں کے ساتھ یہ اشکوں کی رائیگانی بھی کہ ساتھ آگ کے جلنے لگا ہے پانی بھی بجا رہے ہو ہوائوں سے تم چراغ مگر ہوا کے بعد کہاں اس کی زندگانی بھی ایک اور شعر دیکھیئے بہت ذھین تھا ظالم کہ اٹھ کے چل بھی دیا۔ جہاں زبان بنی اپنی بے زبانی بھی۔ اور پھر یہ کہ ہمارے خواب سے ٹکرا گئے ہیں خواب اس کے ۔یہیں پہ ختم کرو سعد یہ کہانی بھی۔ یعنی اب ہمارے کہنے اور کرنے کو کچھ نہیں رہ گیا۔ اخلاقیات کا تذکرہ تو شاید دقیانوسی بات ہو گی۔ مال مسروقہ پہ وہ کس قدر مطمئن ہو گئے۔
مزید پڑھیے








اہم خبریں