BN

سعد الله شاہ


ٹارزن کی واپسی


مری آنکھیں ترے قربان کہاں جاتا ہے اے مرے خواب پریشان کہاں جاتا ہے تو مری راکھ اڑاتا تو پتہ چل جاتا دل سے جی اٹھنے کا ارمان کہاں جاتا ہے کیا کروں خیالات کی آمد آمد ہے موسم ہی کچھ ایسا ہے کچھ سیاست بھی انگیخت لگاتی ہے توجو ہر شب نیا پیمان وفا باندھتا ہے صبح ہوتے ہی پیمان کہاں جاتا ہے، پھر سے تو چاٹنے جائے اسی پتھر کو، عقل کر دل نادان کہاں جاتا ہے۔ہوش تب آتا ہے جب وقت گزر جاتا ہے پر ہو جاتا ہے نقصان کہاں جاتا ہے۔ یہ بھی بس شعر میں ہے کہ ہوش آ
منگل 27  ستمبر 2022ء مزید پڑھیے

غصہ اور اس پر کنٹرول

پیر 26  ستمبر 2022ء
سعد الله شاہ
کیا بتائے کہ وہ کیا بھول گیا اک پرندا جو صدا بھول گیا عجز ایسا تھا میرے دشمن میں میں وہیں اپنی انا بھول گیا اور اسی روانی میں کچھ یوں ہوا ’’اس کو آنا تھا نہ آیا وہ بھی، میں بھی، رکھ کے دروازہ کھلا بھول گیا‘‘۔ قدریں بدلیں تو میں ایسا بدلا۔ سب وفا اور جفا بھول گیا۔ اور ایک بات صرف اور ’’کہ وہ تشدد تھا الٰہی تو بہ میں تو مجرم کی خطا بھول گیا‘‘۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ آغاز ہی میں کچھ ایسا لکھا جائے کہ آپ لطف محسوس کریں وگرنہ حالات تو بہت برے ہیں کہ ہر
مزید پڑھیے


بن میرے شاید آپ کی پہچان بھی نہ ہو

هفته 24  ستمبر 2022ء
سعد الله شاہ
سوچا ہے اب کے بار تجھے چھوڑ دیں گے ہم گویا کہ اپنے آپ سے بدلہ بھی لیں گے ہم مشکل سہی یہ تجربہ لیکن کریں گے ہم تنہائیوں کو اوڑھ کے زندہ رہیں گے ہم سوچا کہ آج خوشگوار آغاز کیا جائے کہ ملکی معاملات تو بڑے گھمبیر ہیں۔اس لئے ایک رومانوی سی فضا میں ہم چلے گئے۔ یادوں میں تیری شام کو نکلیں گے باغ میں راتوں کو تیری یاد میں گھوما کریں گے ہم ۔ ہم بھی اناپرست ہیں بس ٹوٹ جائیں گے لیکن زبان سے نہ کبھی اف کریں گے ہم کچھ بھی نہیں ہے بات تو پھر ختم کیجیے۔کچھ
مزید پڑھیے


ملکہ معظمہ اور ہمارے بادشاہ

جمعرات 22  ستمبر 2022ء
سعد الله شاہ
چند لمحوں کے لئے ہی سہی اچھی گزری یہ محبت بھی ہے دھوکہ تو چلوں یوں ہی سہی کس قدر تونے اذیت میں رکھا ہے مجھ کو میں نے تنہائی میں بھی خود سے کوئی بات نہ کی ہاں ایک خیال اور عجیب سا ہے کہ کتنی بے رعب نظر آئی بلندی پر بھی آس کی شاخ کہ جو پیڑ سے ٹوٹی نہ جڑی اور ہاتھ ملتے ہی ترا ہم پہ قیامت ٹوٹی۔اور تیرے لئے جیسے یہ کوئی بات نہ تھی یقین کریں دنیا بس ایسے ہی ہے اور تو اور ملکہ برطانیہ بھی چلی گئیں اور ان کے ارتحال پر ملال کو جس
مزید پڑھیے


تعلیمی صورت حال اور ہماری ذمہ داری

منگل 20  ستمبر 2022ء
سعد الله شاہ
اس سے یوں دوستی نبھائی کیا یار اتنی بھی سخت جانی کیا ہم مکمل زوال دیکھیں گے آنکھ منظر سے اب ہٹانی کیا چلیے آپ کو اسی بہائو میں لئے چلتے ہیں جب بچھڑنا کسی کے بس میں نہیں صبر کیا اور نوحہ خوانی کیا ’ددرد‘غم‘ ہجر ‘یاس‘ تنہائی اور بھیجے وہ اب نشانی کیا۔کبھی طالب علمی کی زمانے میں ناصر کاظمی کو پڑھتے تھے تو حیرت ہوتی تھی غزلوں کی غزلیں دل و ذہن پر نقش ہوتی جاتیں۔ میرا خیال ہے کہ اس طلسم سخن سے نکل کر بیٹھتے ہیں۔اصل میں آج میرے سب سے چھوٹے بیٹے حافظ عزیر بن سعد کا نویں
مزید پڑھیے



تو جو ہر شب نیا پیمان وفا باندھتا ہے

پیر 19  ستمبر 2022ء
سعد الله شاہ
یار دنیا وہی سمجھتا ہے جو اسے عارضی سمجھتا ہے خامشی خامشی میری توبہ کون یہ ساحری سمجھتا ہے سخن کا ابلاغ آسان نہیں ایک لمحے کو رک کے پوچھ تو لے۔وہ تیری بات بھی سمجھتا ہے۔لکھ لکھ کے تھک گئے مگر کسی پہ کوئی اثر نہیں کہ یہ لوگ کھا کھا کر نہیں تھکتے۔ایسے ہی دل چاہا کہ ان کھد اور سری پائے کھانے والوں کو انہی کی زبان میں بات سمجھائی جائے مگر چربی چڑھے ذہن سے بات کیا راستہ بنائے گی۔ہمارے دوست زاہد حیات کا ایک پیٹو قسم کا دوست آتا تو دو درجن سے کم روٹیاں نہ کھاتا اس کے
مزید پڑھیے


اک سانپ بولتا ہے سپیرے کی بین میں

اتوار 18  ستمبر 2022ء
سعد الله شاہ
اوراق گرچہ ہم نے کئے ہیں بہت سیاہ لفظوں کی کائنات سے نکلے نہ مہرو ماہ شاید ہمارے ہاتھ میں ہوتی کوئی لکیر قسمت پہ بھی یقین ہمارا نہیں تھا آہ یہ تو ہے اور پھر موجودگی میں موت کی کیسی خوشی ملے۔اس غم سے زندگی کو مگر عمر بھر کی راہ، جی وہی کہ موت کا ایک دن معین ہے۔نیند کیوں رات بھر نہیں آتی اور پہلے آتی تھی حال دل پہ ہنسی۔اب کسی بات پر نہیں آتی۔آپ یقین جانیے بس ایسی ہی صورت حال ہے کوئی پرسان حال نہیں وہ دست قاتل کہ جس کا تذکرہ فیض صاحب نے کیا تھا کہ
مزید پڑھیے


سمر قندمیں شہباز شریف کی ثمر بار ملاقاتیں

هفته 17  ستمبر 2022ء
سعد الله شاہ
پیدا ہوا ہے کوئی تو ہنگام شہر میں یعنی کہ اپنا جب سے ہوا نام شہر میں اے سعد اس کو جھوپ پہ تھا اس قدر عبور طرز سخن اسی کا ہوا عام شہر میں اس کے بعد تو غالب کا مصرع لکھنا پڑے گا۔روئے سخن کسی کی طرف ہو تو روسیاہ کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے۔ آپ بس شعروں کا لطف لیجیے۔کیسا یہ امتزاج مری زندگی میں ہے۔آئی ہے صبح گائوں میں تو شام شہر میں۔یوسف تو ہم نہیں تھے کہ کوئی خریدتا۔پر ہم تو دستیاب تھے بے دام شہر میں۔چلیے اس تمہید کے بعد شہباز شریف کی پیوٹن
مزید پڑھیے


شہباز شریف کے سفید ہاتھی اور سیلاب

جمعه 16  ستمبر 2022ء
سعد الله شاہ
اے عشق تری بک بک نہ گئی گو دل بھی گیا دھک دھک نہ گئی ہم چھوڑ کے اس کو آ بھی چکے کانوں سے مگر بھک بھک نہ گئی معلوم نہیں آپ اس کیفیت سے گزرے ہیں کہ نہیں مگر اس واردات سے تو ضرور نبرد آزما ہوئے ہونگے گونجتے رہتے ہیں الفاظ مرے کانوں میں تو تو آرام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ ۔جی ایسے ہی ہوتا ہے قوم کے رہنما قوم سے وعدہ کر کے بھول جاتے ہیں اور لوگ ٹرک کی بتی کے پیچھے ہانپتے رہتے ہیں ۔فی الحال تو میں اپنی بپتا سنائوں گا کہ اس کا تعلق
مزید پڑھیے


اپنا ٹیکہ مجھے لگا دیں

جمعرات 15  ستمبر 2022ء
سعد الله شاہ
اپنے ہونے ہی کا یقین آئے وہ جو ملنے کو خود کہیں آئے رونے دھونے کا اہتمام کرو شام آئی ہے وہ نہیں آئے جی ایک شعر اور یوں تو نکلے تھے ساتھ اپنے سبھی۔ہاں مگر لوٹ کر ہمیں آئے اب اس میں کوئی تعلی نہیں ہے۔وہ جو واپس نہیں آئے۔ ان کی منزلیں یقینا ابھی باقی ہیں۔ سب سے پہلے میں آپ کے ساتھ ایک نہایت خوبصورت بات شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ محبت کے باب میں ایسی بات ایک اضافہ نہیں تو انمول ضرور ہے۔ ہمارے دوست ڈاکٹر ناصر قریشی صاحب جو ایک مشہور سرجن ہیں اپنی نواسی کے حوالے سے بتانے
مزید پڑھیے








اہم خبریں