BN

سعد الله شاہ

اب دنیا بدل چکی

پیر 20  اگست 2018ء
مسئلہ یہ ہے کہ اب کیا ہوگا ہو چکی اپنی پذیرائی بھی ہمیں اپنے حواس بحال رکھنا مشکل ہوتا ہے جہاں اختیار و اقتدار انسان کو ہوا میں اڑاتا ہے ’’جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی، جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا‘‘۔ انصاف اور سچائی پر مگر کوئی کمپرومائز نہیں۔ اپنے وعدوں سے وفا اور ملک سے ایفا۔ ان باتوں سے پہلے میرا خوشگوار فریضہ ہے کہ عمران خان کو وزیراعظم بننے پر مبارکباد دوں۔ کچھ کچھ اس حوالے سے خامہ فرسائی ہماری بھی ہے اور یقین مانیے جہاں اس تبدیلی سے فرحت و راحت ہمیں محسوس ہوتی ہے وہیں
مزید پڑھیے


وکٹری سٹینڈ پر سٹینڈ کرنا آسان نہیں

هفته 18  اگست 2018ء
محبت ہی عجب شے ہے کہ جب بازی پہ آتی ہے تو سب کچھ جیت لیتی ہے یا سب کچھ ہار دیتی ہے محبت مار دیتی ہے نفرت کا جذبہ تو اس سے کہیں زیادہ زور دار ہوتا ہے، وہ تو محبت کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا۔ سیاست میں ہارجیت تو ہوتی رہتی ہے۔ وہی اپنے اپنے مقام پر کبھی تم نہیں کبھی ہم نہیں۔ اتنا کیا بگڑنا کہ بدن بولی ہی سے سب کچھ عیاں ہونے لگے۔ سعد رفیق فرماتے ہیں کہ وہ عمران خان کو دن میں تارے دکھا دیں گے۔ میں آپ ان کے عزم و استقلال ہی کا اندازہ نہیں
مزید پڑھیے


قوم عمران خان کو کامیاب دیکھنا چاہتی ہے

جمعرات 16  اگست 2018ء
پہلے ایک شعر کہ عمران خان اسے خوشامدیوں کے حوالے سے ذہن میں رکھیں: کتنی خوش اسلوبیوں سے اس نے کاٹا یہ سفر پائوں پڑنے والے ہی نے آخر میرا سر لیا حکومت سازی آرائش خم کا کل نہیں بلکہ اندیشہ ہائے دورودراز والا کام ہے۔ جس ٹہنی میں لچک نہ ہو وہ ٹوٹ جاتی ہے۔ ہاں مجرموں کے لیے بھی یہی ٹہنی بہتر انداز میںکارآمد ہو سکتی ہے۔ ساتھ ہی اس خیر کی طرح دلچسپ ہے کہ ’’ن لیگ کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی۔‘‘ امراؤ جان ادا کو تو جان سے جانا پڑا تھا، تب جا کر کہا تھا ’’اسے
مزید پڑھیے


تین تقاریب

پیر 13  اگست 2018ء
جب ہم انمول گوہر کے تقسیم ایوارڈ پروگرام میں پہنچے تو مہمانوں کے درمیان بیٹھے ہمارے ایک کالم نگار تیرھویں چھینک مار رہے تھے یہ گنتی خود وہ گن رہے تھے۔ یہ تو زندہ دلی ہے کہ جو چیزبندے کے بس ہی میں نہ ہو اس کو برداشت کیا جائے اور اپنی بے بسی کا لطف اٹھایا جائے۔ میں نے کہا جوانی کی چھینکوں کا تو ہم نے سنا تھا کہ کوئی یاد کرتا ہے اور چھینکوں کی شدت سے طلب کی شدت کا اندازہ ہوتا تھا۔ اس عمر کی چھینکیں کچھ بے وقت سی لگتی ہیں۔ انہوں نے
مزید پڑھیے


یہ سب صفر+صفر ہیں

اتوار 12  اگست 2018ء
شتر مرغ سے کسی نے پوچھا’’بھائی جان!آپ مرغ یعنی پرندا ہیں تو اڑتے کیوںنہیں؟‘‘شتر مرغ نے کہا’’میں ستریفی اونٹ ہوں‘کبھی اونٹ بھی اڑا کرتے ہیں!‘‘اس شخص نے دوسرا سوال کیا کہ چلیے آپ اونٹ ہیں تو پھر آپ اونٹ کی طرح مال برداری کیوں نہیں کرتے یہاں بیٹھے انڈے دیتے رہتے ہو‘‘شتر مرغ نے کہا ’’میں مرغ ہوں اور پرندے کبھی مال برداری نہیں کرتے‘‘اسے پنجابی میں کہتے ہیں’’۔من حرامی حجتاں دے ڈھیر‘‘اگر میں بھول نہیں رہا تو ایسے بھی کہتے ہیں’’خوئے بدرا بہانے بسیار‘‘یہاں ہر کوئی اپنی بے عملی کا بہانہ ڈھونڈ لیتا ہے۔اپنی ہار اور ناکامی میں ہمیں
مزید پڑھیے


تیری ماں بولی اے بیبا!

هفته 11  اگست 2018ء
ایک ٹی وی چینل پر میں سیڑھیاں اتر رہا تھا کہ سامنے سے سہیل احمد آ گئے جنہیں میں فن کی دنیا میں اوریجنل لیجنڈ سمجھتا ہوں۔ انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ میرے رخساروں پر رکھ دیئے اور اپنے مخصوص انداز میں کہنے لگے ’’ہائے ہائے شاہ صاحب! آپ نے ماں کے حوالے سے کیا کالم لکھا۔ مجھے ان کی محبت کا یہ انداز اتنا اچھا لگا کہ دل پرنقش ہو گیا۔ انہیں نہیں معلوم کہ ان کا چھوٹا بھائی جنید اکرم میرا دوست ہے۔ وہ شرافت و نجابت کا ایک نمونہ ہے۔ اصل میں یہ سارا فیض ان کے
مزید پڑھیے


واپڈا کی اندھیر نگری اور ہماری بے بسی

جمعه 10  اگست 2018ء
غالب نے کہا تھا: پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسد ڈرتا ہوں آئینے سے کہ مردم گزیدہ ہوں لیکن مجھے دوسرے مصرعے میں تھوڑی سی تحریف کرنا پڑے گی۔ ڈرتا ہوں واپڈا سے کہ بجلی گزیدہ ہوں۔ آپ کو میں اپنی کیفیت نہیں بتا سکتا ایسے بندے کی کیفیت کیا ہو سکتی ہے جس کا بجلی کا بل 47ہزار روپے آ جائے۔ میرے معزز قارئین!آپ کو یاد ہو گا پچھلے ماہ میں نے لکھا تھا کہ واپڈا کی چالاکیاں دیکھ لیں کہ زیرو بل بھیج کر اوپر لکھا ہے۔No to be paidاور اگلے ماہ جب to be paidہو گا تو دن
مزید پڑھیے


درباری اور کپتان

جمعرات 09  اگست 2018ء
عابد شیر علی نے خوب کہی کہ اقتدار جاتے ہی سب درباری چھوڑ گئے۔اس میں حیرت والی بات کیا ہے جب دربار نہیں رہا تو درباری کیونکر رہیں گے۔ وہ تو صرف دربار کے ساتھ مشروط ہوتے ہیں اور خاص طور پر بادشاہ کی مدح سرائی ان کی زندگی ہوتی ہے۔ جب بادشاہ ہی جیل چلا گیا اور پھر دربار بھی اجڑ گیا تو درباریوں کا کام ختم ہو گیا تو وہ ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ویسے یہ درباریہوتے قابل رحم ہیں کہ ان کی نہ انا ہوتی ہے اور نہ عزت نفس۔ بیچارے بادشاہ کے
مزید پڑھیے


خالص دودھ‘ڈیم کا چندہ اور ادبی شام

بدھ 08  اگست 2018ء

آج میرے گوالے نے بات کر کے مجھے حیران کر دیا کہ وہ ڈیم بنانے کے لیے چندے میں حصہ ڈال رہا ہے۔ میرے پیارے معززین گوالوں یعنی دودھ دوہنے والوں کے بارے میں میرا بھی وہی نظریہ ہے جو آپ کا ہے کہ خالص دودھ صرف کٹا ہی پیتا ہے۔ لیکن ایسی بھی بات نہیں آپ ذرا کوشش کریں تو خالص دودھ مل جاتا ہے ہاں مہنگا ضرور پڑتا ہے۔ اس مقصد کے لیے یعنی گوہر نایاب پانے کے لیے آپ کو بہت پاپڑ بیلنے پڑیں گے‘ کئی دودھی بدلنے پڑیں گے آخر آپ گوہر مراد پا لیں گے
مزید پڑھیے


دُعا

منگل 07  اگست 2018ء
آج میرا دل چاہتا ہے کہ میں دعا کے بارے میں لکھوں۔ آخر شاعر ہوں تو ذہن میں وہی معروف شعر آیا: دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے کہیں جگہ نہ رہی میرے آشیانے کو اور دوسرا شعر اسلم کولسری کا یاد آیا: ایسا نہیں کہ حرف دعا بے اثر گیا کشتی کا ڈوبنا تھا کہ دریا اتر گیا بہرحال ان اشعارمیں شاعرانہ سی شکوہ آمیز باتیں ہیں۔ میں نے بھی انہیں تمہید کے طور پر لیا ہے دعا کو عبادت کا مغز کہتے ہیں۔ دعا ہی خدا کے ساتھ ایک ڈائریکٹ رابطہ ہے۔ خدا خود کہتا ہے کہ میں پکارنے والے کی پکار
مزید پڑھیے