BN

سعد الله شاہ



ایک ولیمہ اور ادبی کہکشاں


منیر نیازی نے کہا تھا: سیاہ شب کا سمندر سفید دن کی ہوا انہی قیود کے اندر فریب ارض و سما مگر ان حدود میں زندگی کے سینکڑوں رنگ ہیں اور جب یہ دل کی صورت دھڑکتی ہے تو یہ جہان آب و خاک مکالمہ کرتا محسوس ہوتا ہے۔ شب و روز کی صورت کائنات کی جلتی بجھتی آنکھیں اور ان میں جگ مگ کرتے ستارا نما آنسو ہمیں کیسے لبھاتے ہیں اور پھر تخلیق سے لبریز لمحے ہمیں گدگداتے ہیں۔ اس میں تو شک نہیں کہ ہم زمان و مکاں کی قید میں ہیں مگر اس کے اندر رہتے ہوئے ہم آزاد
هفته 15 دسمبر 2018ء

سخن فہمی ایک نعمت ہے

جمعرات 13 دسمبر 2018ء
سعد الله شاہ
آج تو لطف آ گیا۔ والد محترم آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے 92نیوز اٹھایا اور پڑھتے ہوئے دفعتاً بولے’’واہ بھئی کیا قطعہ لکھا ہے‘ ساتھ ہی ایک ہزار روپے کا مہکتا ہوا نوٹ میری طرف بڑھا دیا’’تمہارا انعام‘‘ گھر میں آئے مہمان بھی لطف اندوز ہوئے کہنے لگے کہ چوتھے مصرعے نے قطعہ میں جان ڈال دی ہے۔ میرے والد محترم خود حمدو نعت کہتے ہیں اور شعر بھی۔ وہ شعری شعور بھی اپنا سا رکھتے ہیں اور سیاسی شعور بھی۔ وہ نواز شریف کے دلدادہ ہیں ایک زمانے میں جب ایک پارٹی برسر پیکار آئی تو انہوں نے ایک
مزید پڑھیے


پی ٹی آئی کا جائزہ‘ آدھا سچ

بدھ 12 دسمبر 2018ء
سعد الله شاہ
کہتے ہیں بھٹو اتنے زیرک تھے کہ وزراء کی فائلیں اپنے پاس رکھتے تھے اور وقت آنے پر وزیر کی فائل منگواتے اور وزیر کو باور کرواتے کہ اس کے سارے کرتوت ان کے علم میں ہیں۔ ایک مرتبہ انہیں معلوم ہوا کہ ایک وزیر نے انارکلی میں کوئی پراپرٹی خریدی ہے۔ بھٹو نے اس وزیر کو بلایا اور پوچھا کہ اس کی کتنی زمین ہے پتہ چلا کہ ایک آدھ مربع ہے ۔ بھٹو کہنے لگے کہ کیا آپ کی زمین میں زعفران اگتی ہے۔ وزیر شرمندہ سا ہو کر کہنے لگا ’’نہیں‘‘ بھٹو نے کہا پھر’’آپ نے انارکلی
مزید پڑھیے


اساتذہ پر پابندی

منگل 11 دسمبر 2018ء
سعد الله شاہ
پی ٹی آئی کا کمال یہ ہے کہ اچھا کام برے طریقے سے کرتی ہے اور ایک ہی وقت میں وہ سب کچھ ٹھیک کر دینا چاہتی ہے مگر اپنے آپ کو نہیں! کام کے لئے حکمت عملی اور منصوبہ بندی دکھائی نہیں دیتی۔ کوئی بھی اقدام کرنے کے لئے ہوم ورک ازبس ضروری ہے حالات پہلے ہی دگرگوں ہیں اقتصادی اور معاشی صورت حال میں لوگ سراسیمگی میں ہیں۔ حکومت ہے کہ آئے روز ایک نیا مسئلہ پیدا کرلیتی ہے۔ پھر اسے حل کرنے میں وقت کاٹتی محسوس ہوتی ہے۔ ایک نیا معاملہ سامنے آ گیا ہے۔ کہ سرکاری اساتذہ
مزید پڑھیے


وزارت اطلاعات اور حالات

پیر 10 دسمبر 2018ء
سعد الله شاہ
فراز نے کہا تھا: رات کیا سوئے کہ باقی عمر کی نیند اڑ گئی خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا یہ ساری بات کہی اور ان کہی کے درمیان کی ہے‘ سمجھنے کی اور نہ سمجھانے کی۔ بس یہی فنکاری اور آرٹ ہے شیخ رشید نے کہا کہ انہیں وزیر اعظم نے وزارت اطلاعات کی پیش کش کی تو وہ تو شکریہ کہہ دیں گے کہ فواد ان کے چھوٹے بھائی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ ہیں نہیں لگتے بھی ہیں‘ کئی لحاظ سے۔ دوسری طرف فواد چودھری نے کہا ہے کہ وہ شیخ صاحب کے لئے سیٹ
مزید پڑھیے




ایک سنہری شام

اتوار 09 دسمبر 2018ء
سعد الله شاہ
ایک سنہری اور زندگی سے بھر پور شام فیصل آباد کے نصرت فتح علی خاں آڈیٹوریم میں محترمہ صوفیہ بیدار نے ہمارے اعزاز میں رکھی تھی۔ تیمور اور حسن بانو کے ساتھ ہم موٹر وے سے گپ شپ کرتے اور سرسوں کے سونے جیسے کھیت دیکھ کر سرشار ہوتے رہے۔ دونوں اطراف میں لینڈ سکیپ کے دوڑتے منظر کتنے اچھے لگتے ہیں۔ پنجاب کی دھرتی کتنی زرخیز ہے اوپر سے دسمبر کی دھوپ کیوں نہ پہلے آپ کو ایوب کموکا کے دو شہر پڑھا دیے جائیں کہ پنجابی زبان کی مہک آپ کو مشکبار کر دے: کیہہ یارا ساڈا جیوناں اسیں
مزید پڑھیے


تہذیب ہی بوڑھی ہو جاتی ہے

هفته 08 دسمبر 2018ء
سعد الله شاہ
منیر نیازی نے کہا تھا: غم کا وہ زور اب مرے اندر نہیں رہا اس عمر میں میں اثنا ثمرور نہیں رہا واقعتاً ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کی توانائیاں جواب دے جاتی ہیں‘ دیکھتے ہی دیکھتے اس کے چہرے کے خدوخال سلوٹوں اور جھریوں میں گم ہونے لگتے ہیں مگر حیرت ناک بات یہ کہ دل وہی زمانے آنکھوں میں بسائے رکھتا ہے جس میں پھول کھلتے ہیں تتلیاں اڑتی ہیں اور بادصبا چھیڑ کر گزرتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں ہر عمر کے اپنے مسائل اور اپنی خوشیاں ہوتی ہیں۔ جیسے خزاں کی اپنی موسیقی
مزید پڑھیے


یہی خاک اکسیر بنے گی

جمعه 07 دسمبر 2018ء
سعد الله شاہ
پہلے خان صاحب کے لیے ایک شعر: بے یقینی میں کبھی سعد سفر مت کرنا یہ تو کشتی میں بھی گرداب بنا دیتی ہے خان صاحب! آپ بہادر آدمی ہیں اور پھر آپ ہی کا قول ہے کہ میں نے کبھی ہار نہیں مانی، تو پھر یہ سب کیا ہے کہ آپ اکھڑی اکھڑی باتیں کرنے لگے۔ معلوم نہیں یہ آپ کا خدشہ ہے، مذاق ہے یا پھر کیا ہے کہ آپ نے قبل از وقت الیکشن کی غیر متوقع بات کرڈالی اور دشمن اس بات کو لے اڑے۔ لوگ تو آپ سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کیے بیٹھے ہیں۔ اس سے پہلے
مزید پڑھیے


ایک شاندار مشاعرہ

جمعرات 06 دسمبر 2018ء
سعد الله شاہ
پہلے ایک شعر: اپنے نقوش پا کے سوا کچھ نہیں ملا اپنے سوا کوئی نہیں صحرا کے پار بھی زمستان میں مشاعرے کثرت سے ہوتے ہیں، شاید سردی کو کم کرنے کے لیے خاص طور پر لاہور میں تو آئے دن کوئی تنظیم مشاعرہ برپا کردیتی ہے۔ آپ سب مشاعروں میں شرکت بھی نہیں کر سکتے کہ کئی بے ثمر ہوتے ہیں کہ سننے سنانے والے سب شاعر ہی ہوتے ہیں۔ لطف وہاں ہوتا ہے جہاں سامعین ہوں اور ہوں بھی ہونہار، چمکتے دمکتے اور مسکراتے چہرے۔ اس حوالے سے کالجز میں جا کر اچھا لگتا ہے۔ ایک ایسا مشاعرہ ایکس پو سنٹر
مزید پڑھیے


حسن و جمال کا شاہکار

منگل 04 دسمبر 2018ء
سعد الله شاہ
کہنے کو اک الف تھا مگر اب کھلا کہ وہ پہلا مکالمہ تھا مرا زندگی کے ساتھ بس یوں سمجھئے کہ اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا۔ آج مجھے اپنے دوست جمیل احمد عدیل کے ایک شاہکار کام کا تذکرہ کرنا ہے۔ اپنے دوستوں میں ڈاکٹر زاہد منیر عامر اور جمیل احمد عدیل دو ایسے تخلیق کار ہیں جو کچھ زیادہ ہی عالم فاضل ہیں اور میں ان کے بارے میں کہا کرتا ہوں کہ بندے کو اتنا پڑھا لکھا بھی نہیں ہونا چاہیے۔ وہ شاہکار اصل میں اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور کا مجلہ فاران ہے۔ فاران
مزید پڑھیے