BN

سعد الله شاہ


حکومت کا مسلسل ریلیف اور مہنگائی


وضعداری نہ تکلف نہ لطافت سمجھا دل کم فہم مروت کو محبت سمجھا عین فطری تھا حسد مجھ سے مرے یاروں کا جانے کیوں کر میں رقابت کو عداوت سمجھا جناب! بات کچھ ایسے ہے جو ہم سمجھتے ہیں وہ کوئی حرف آخر نہیں ہوتا۔نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے۔پسینہ پونچھیے اپنی جبیں سے۔ایسا ہوتا ہے ہم جس کوتنزل سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ حکومت وقت کے مطابق ترقی ہوتی ہے۔جلیل عالی کے بقول لوگوں نے احتجاج کی خاطر اٹھائے ہاتھ۔اس نے کہا کہ فیصلہ منظور ہو گیا ہم جائیں تو جائیں کہاں کہ میڈیا کا یہ بھی عیب ٹھہرا کہ وہ
اتوار 19  ستمبر 2021ء مزید پڑھیے

ایک معاشی اور دو معاشرتی واقعات

هفته 18  ستمبر 2021ء
سعد الله شاہ
شام کے سائے سے ملتا ہوا سایہ تیرا کیا نظر آئے یہاں نقش کف پا تیرا کون بھولے گا تجھے آنکھ سے لے کر دل تک اشک یادیں ہیں تری درد حوالہ تیرا کیا کریں کس رخ سے بات کریں کہ سچ کو ابلاغ مل جائے۔ہر بندہ اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔کیا کریں کچھ کہنے کا یارا نہیں کہ دل کہتا ہے مت شکایت کرو زمانے کی۔یہ علامت ہے ہار جانے کی۔ یقینا مسئلہ یہی درپیش ہے کہ اک بتانی ہے اک چھپانی ہے ۔ منیر نیازی یاد آتے ہیں کہ بعض اوقات آپ خمیرے آٹے سے بات کر رہے ہوتے ہیں
مزید پڑھیے


مردم شماری‘ الیکشن کمیشن اور ووٹنگ مشینیں

بدھ 15  ستمبر 2021ء
سعد الله شاہ
ہم محبت میں نیا رنج اٹھانے کے نہیں زخم وہ دل پہ لگے ہیں کہ دکھانے کے نہیں خود ہی اک روز نکل آئے گا دیوار سے در ہم وہ خود سر ہیں کہ اب لوٹ کے جانے کے نہیں آغاز محبت ہی سے ہونا چاہیے۔ یہ محبت بھی عجیب ہے میں محبت کو زندگی سمجھا۔ اس محبت نے مار ڈالا مجھے۔ بات حکومت کی کریں یا اپوزیشن کی بنیاد اس کی محبت ہے یعنی اپنے آپ سے محبت۔ محبتوں میں تعصب تو در ہی آتا ہے۔ ہم آئینہ نہ رہے تم کو روبرو کر کے۔ بات کو الجھانے کی بجائے پہلے حکومت کی
مزید پڑھیے


کچھ ادب ،کچھ سیاست

منگل 14  ستمبر 2021ء
سعد الله شاہ
روئے سخن نہیں تو سخن کا جواز کیا بن تیرے زندگی کے نشیب و فراز کیا کتنی اداس شام ہے شام فراق یار جانے گا کوئی رنج ستم ہائے راز کیا ہائے ہائے اس اداسی میں، کس نوں ہال سناواں دل دا۔کوئی محرم راز نہ ملد۔میں نے غالب کی ایک غزل سازو آواز کے بغیر فریحہ پرویز سے سنی تو مطالب اور بھی جاگ پڑے۔گویا میں تو معنی و مراد کی طرف یکسو ہو گیا۔آپ یقین مانتے ہیں کہ ایسے ہی لگا کہ یہ غزل کورونا کے ماحول اور حکمرانوں کے رویوں کے حوالے سے ہے۔واقعتاً سچا ادب اور شاعری ہر زمانے کے لئے
مزید پڑھیے


بھارتی اینکر‘ طالبان اور منور رانا

اتوار 12  ستمبر 2021ء
سعد الله شاہ
جی میں آتا ہے کہ دیکھوں اس زمیں کو کاٹ کر مجھ ہوائے خاک پر یہ کیسے نکلے بال و پر اے مری گلگشت تتلی لوٹ کر تو آ کبھی اس جہان رنگ و بو کی لا کوئی تازہ خبر اپنے موضوع کی طرف آنے سے پہلے یہ شعر بھی ضروری ہے ہیںمثال برف ہم بھی کوہقانوں میں پڑے۔اک شرارہ ہی اٹھا تو اے ہوائے تیز تر۔ اصل میں ہمارے ہاں وہ شرر شرارہ یا چنگاری راکھ میں دبی ہوئی ہے۔ہم راکھ میں انگلیاں نہیں پھیریں گے کہ ہمیں تو ایک نہایت دلچسپ صورت حال کی طرف آپ کو لے کر جانا ہے ایک
مزید پڑھیے



حالات اور عافیہ صدیقی

جمعرات 09  ستمبر 2021ء
سعد الله شاہ
روئے سخن نہیں تو سخن کا جواز کیا بن تیرے زندگی کے نشیب و فراز کیا یہ شہر سنگ ہے یہاں ٹوٹیں گے آئینے اب سوچتے ہیں بیٹھ کے آئینہ ساز کیا آج کل تو روئے سخن سب کا طالبان کی سمت ہے اور جواز بھی سب کے پاس ہے۔دل تو یہی کہتا ہے کہ تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو۔لیکن نہیں سائیڈ افیکٹ تو اس کے سب کو بھگتنا پڑیں گے۔خاص طور پر پاکستانیوں کی تشویش ٹی ٹی پی کے حوالے سے ہے کہ ان کی حالیہ جسارت ہمیں پریشان کر گئی ہے کہ ہمارے جوانوں پر حملہ آور ہیں کہ
مزید پڑھیے


When the Moon Will Rise

پیر 06  ستمبر 2021ء
سعد الله شاہ
حسرت وصل ملی لمحہ بے کار کے ساتھ بخت سویا ہی رہا دیدۂ بیدار کے ساتھ کیا کرے جذبۂ وارفتگیٔ شوق نہاں دل کو گل رنگ کیا گوشہ پرخار کے ساتھ ’’ہائے ہائے‘‘ ایک احساس پس حرف تسلی، اس کا کاش وہ گھائو لگاتا مجھے‘‘ تلوار کے ساتھ کہیے اشعار نئے منظر نامے میں اپنے معنی بدل لیتے ہیں، یہ حرف تسلی بھی کیا ہے ،کبھی کبھی تو یہ آگ لگا دیتا ہے، مگر کیا کیا جائے، کہ اگر اتنا بھی کوئی نہ کر سکے۔ اصل میں مجھے میرے قارئین کی طرف سے کہا گیا کہ آپ نے سید علی گیلانی پر کچھ زیادہ
مزید پڑھیے


ہندو لڑکی اور سردار کی زبان پر طالبان

اتوار 05  ستمبر 2021ء
سعد الله شاہ
پھر چشم نیم وا سے ترا خراب دیکھنا اور اس کے بعد خود کو تہہ آب دیکھنا کیوں زخم ہائے سینہ پہ خندہ بلب ہیں لوگ اے آسمان شیوہء احباب دیکھنا شیوہ ہا ئے حبابِ وفا پہ قتیل شفائی یاد آ گئے کہ اس میں ایک مصرع تھا جن کو جلنا وہ آرام سے جل جاتے ہیں۔اس پر تو بعد میں بات ہو گی پہلے مجھے بھارت کی ایک صاف گو اور بے باک لڑکی کی توصیف کرنی ہے۔اس نے اپنی ہندو سرکار کو ایسی کھری کھری سنائیں کہ لطف آ گیا۔اس کی وہ ویڈیو وائرل تو بہت ہوئی مگر جو لکھ کر آپ
مزید پڑھیے


اچھے دن آئیں گے

هفته 04  ستمبر 2021ء
سعد الله شاہ
وضعداری نہ تکلف نہ لطافت سمجھا دل کم فہم مروت کو محبت سمجھا قند میں لپٹا ہوا زہر تھا سب راز و نیاز میں کہ محروم وفا اس کو عنایت سمجھا اور پھر یہ بھی کہ ’’ یہ مراا سحر سخن ہے کہ ترا رنگ طلسم۔ ورنہ یاں کون صداقت کو صداقت سمجھا۔ دل یہی چاہتا ہے سخن میں مگن ہو کر خود کلامی کی جائے مگر کیا کریں شور باہر کا کم نہیں ہوتا‘ بات اندر کی کیا سنائی دے۔ مگر اسی ہنگام میں کوئی پوسٹ یا کوئی ویڈیو نہال بھی کر جاتی ہے۔ قدرت کا کرشمہ ہے کہ ذہانت و فطانت بکھری
مزید پڑھیے


ایک ادبی کالم

بدھ 01  ستمبر 2021ء
سعد الله شاہ
بحر رجز میں ہوں نہ میں بحر رمل میں ہوں میں تو کسی کی یاد کے مشکل عمل میں ہوں کہتا تو وہ بھی ٹھیک تھا اک پل کو ہم ملے لیکن میں آج تک بھی اسی ایک پل میں ہوں میرے ذھن میں ’’من نہ دانم فاعلاتن فاعلات بھی تھا اور وہ مشہور مصرع بھی کہ بحر رجز میں ڈال کے بحر رمل چلے اس اعتراض کے جواب میں جو شعر آیا وہ زبان زدعام ہوا’ گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے‘۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مصرع ہوا اور وہ
مزید پڑھیے








اہم خبریں