BN

سعد الله شاہ


کچھ تو ڈلیور کریں…


جب تلک اک تشنگی باقی رہے گی تیرے اندر دلکشی باقی رہے گی ہو کوئی برباد اس سے تجھ کو کیا ہے تیرے رخ پر سادگی باقی رہے گی تشنگی تو ختم ہو چکی۔ یعنی لوگ نکو نک ہو چکے۔ ہمارا علاج بھی یہی تھا۔ خیر فی الحال تو طوفانی بارشوں کا زور ہے ۔کراچی جسے ہم حسن بے شمار لکھتے تھے ،بھی جل تھل ہو گیا۔ بلوچستان میں بھی پانی دندناتا پھرتا ہے۔ جانی نقصان کا دکھ ہے۔ شہزاد احمد یاد آ گئے: میں کہ خوش ہوتا تھا دریا کی روانی دیکھ کر کانپ اٹھا ہوں گلی کوچوں میں پانی دیکھ کر ہم اس حوالے
منگل 11  اگست 2020ء

عمران‘ مہاتیر اور ہماری داخلی صورتحال

پیر 10  اگست 2020ء
سعد الله شاہ
اک سمندر ہو کوئی اور وہ لب جو آئے کیوں نہ اظہار کو ان آنکھوں میں آنسو آئے خوش گمانی نے عجب معجزہ سامانی کی اب ہمیں کاغذی پھولوں سے بھی خوشبو آئے بات یہ ہے کہ میں رجائیت پسند ہوں۔ کوشش کرتا ہوں کہ معاملات کے روش پہلوئوں کو دیکھا جائے مگر کبوتر کی طرح آنکھیں تو بند نہیں کی جا سکتیں جو چیز ہویدا ہو اسے صرف فلسفے کے زور پرردکیا جاسکتا ہے۔ غالب کی طرح کہا جاسکتا ہے کہ نہ ہم سمجھے نہ تم آئے کہیں سے۔ پسینہ پونچھئے اپنی جبیں سے۔ اور خوش گمانی یا امید میں ہم بند نیازی
مزید پڑھیے


رونقیں پلٹ آئی ہیں

اتوار 09  اگست 2020ء
سعد الله شاہ
پھول کھلنے لگے یادوں کے پس غرفہ چشم بزم یاراں ہوئی آراستہ سبحان اللہ کامیابی کو علاقہ ہی نہیں عشق کے ساتھ ہوئے ناکام سند یافتہ سبحان اللہ لو جی سمارٹ لاک ڈائون بھی ختم ہوا سب کچھ بحال ہو گیا۔ خاص طور پر پارکوں کے کھلنے کی ہمیں زیادہ خوشی ہے کہ سبزہ پیڑ پودے اور پھول ہمارا مسئلہ ہیں تعلیمی ادارے فی الحال بند رہیں گے کہ تعلیم ہمارا اتنا مسئلہ بھی نہیں مگر یہ پارک بھی تو بچوں کے ساتھ ہی اچھے لگتے ہیں۔ ہائے ہائے پھول کی مہکار اور رنگ کو دیکھ کر بچوں کی شرارتی آنکھوں کی چمک اور
مزید پڑھیے


غیر سیاسی سوشل میڈیا

هفته 08  اگست 2020ء
سعد الله شاہ
لاکھ دشمن سہی وہ دوست نما‘ آ جائے گل تو بے بس ہے اگر باد صبا آ جائے دیکھ اے دل وہ چلے آتے ہیں اپنی جانب اب ترا ضبط نہ ٹوٹے تو مزہ آ جائے برسات میں بھادروں کی پکھ لگ گئی ہے یعنی وہ گھٹن اور چپ چپ آغاز ہو چکی ہے ہوا رکتی ہے اور بندہ پسینے میں شرابور ہو جاتا ہے۔ ہر موسم میں اللہ کی حکمتیں پنہاں ہیں اسی موسم میں تو پھلوں میں رس پڑتا ہے۔ عید کے دن گزر چکے مگر ابھی گوشت خوری جاری ہے اگرچہ لاک ڈائون تقریباً ختم ہو چکا کاروبار کھل گئے اور
مزید پڑھیے


درد کشمیر اور علاج

جمعرات 06  اگست 2020ء
سعد الله شاہ
روشنی بن کے اندھیروں میں اتر جاتے ہیں ہم وہی لوگ ہیں جو جاں سے گزر جاتے ہیں کتنے کم فہم ہیں یہ ہم کو ڈرانے والے وہ کوئی اور ہیں جو موت سے ڈر جاتے ہیں کم سنی ہی میں دادا حضور حبیب تلونڈری کی کتاب درد کشمیر دیکھی۔ تب سے مجھے ایسا ہی محسوس ہوتا ہے جیسے کشمیر کا درد میرے ساتھ ہی پیدا ہوا۔ میری سوچ اور فکر کا حصہ ہے۔ سچ مچ ایسے ہی لگتا ہے کہ لہو کے ساتھ رگ و پے میں دوڑنے والے۔ تہی بتا کہ تجھے کس طرح جدا کرتے ۔ہم نے بچپن سے ہی قائد
مزید پڑھیے



فطرت اور تلخ حقیقت

منگل 04  اگست 2020ء
سعد الله شاہ
ہاں ہاں نہیں ہے کچھ بھی میرے اختیار میں ہاں ہاں وہ شخص مجھ سے بھلایا نہیں گیا اڑتا رہا میں دیر تک پنچھیوں کے ساتھ اے سعد مجھ سے جال بچھایا نہیں گیا ابراہیم اعوان نے ہماری توجہ کیٹس Keatsکی نیگیٹو کیپیبلٹی negative capibiltyکی طرف دلائی کہ ثانی شعر اس بے پناہ صلاحیت کی طرف نشاندہی کرتا ہے جو قدرت کسی فنکار کو عطا کرتی ہے۔ فنکار میں کیا ہر صاحب دل کو یہ سوچ ملتی ہے۔ بات تو سیدھی ہے کہ دوسرے کا خیال رکھنا حتیٰ کہ پرندوں کا۔ کیٹس بھی جب سبز میدان میں لیٹ کر ککو کی آواز
مزید پڑھیے


عہد موجود کا سچ

جمعرات 30 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
سچ کو سقراط کی مسند پہ بٹھا دیتا ہے وقت منصور کو سولی پہ چڑھا دیتا ہے ایک دریا میں بنا دیتا ہے رستے کوئی اور پھر ان رستوں کو آپس میں ملا دیتا ہے میرا خیال ہے دنیا کا مشکل ترین سوال یہ ہے کہ سچا کون ہے اور اس کا جواب بھی اتنا ہی دشوار ہے یعنی سچا وہ ہے جو جھوٹ نہ بولے۔جھوٹ اور یوٹرن میں زمیں آسمان کا فرق ہے کہ زمین اوپر چلی جاتی ہے اور آسمان نیچے آ جاتا ہے۔ آپ میری بات پر گھبرائیں نہیں۔ بس یوں سمجھ لیں کہ دماغ چل گیا ہے اور میں
مزید پڑھیے


قربانی اور بکرونا

بدھ 29 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
ہم تو پہلے ہی ترے حق میں تہی دست ہوئے ایسے گھائل پہ نشانے کی ضرورت کیا تھی اتنے حساس ہیں سانسوں سے پگھل جاتے ہیں بجلیاں ہم پہ گرانے کی ضرورت کیا تھی اذیت ناک احساس وہ ہے کہ جس میں کوئی سوچنے لگے کہ کسی کو اس کا احساس تک نہیں کہ وہ کس حال میں زندہ ہے۔ یہی احساس اجتماعی صورت حال اختیار کر لے تو وہ قوم کا کرب کہلاتا ہے کہ ساری عوام ہی جینے کے ہاتھوں مر چلے‘ والی حالت میں آ جائے تو دلی تکلیف بڑھ جاتی ہے مگر ایک اطمینان کی بات تو کم از کم
مزید پڑھیے


کیا دیکھنے والوں کو نظر آتا ہے!

پیر 27 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
مجھ کو میری ہی اداسی سے نکالے کوئی میں محبت ہوں محبت کو بچالے کوئی میں محبت ہوں مری تہہ میں صدف ہے شاید موج در موج مجھے آئے اچھالے کوئی یہ اداسی بڑی عجب شے ہے کبھی کبھی یہ بے سبب ہوتی ہے اور کبھی کئی مسئلوں کا سبب۔ بہرحال ناصر کاظمی کے ہاں تو یہ درو دیوار پر بال کھولے ہوتی ہے مگر کوئی اس کا حل ڈھونڈے تو وہ بھی اداسی کے سوا کچھ نہیں حل نکالا ہے یہ اداسی کا۔ اب مکمل اداس رہتا ہوں۔ کہاں آ کر ایک شعر نے بازگشت کی۔ یہ اداس ٹھنڈک جو بسی ہے اس
مزید پڑھیے


سرسوں رنگ کا ایک کالم

اتوار 26 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
اگرچہ غم بھی ضروری ہے زندگی کے لئے مگر یہ کیا کہ ترستے رہیں خوشی کے لئے وہ مجھ کو چھوڑ گیا تو مجھے یقیں آیا کوئی بھی شخص ضروری نہیں کسی کے لئے میرے معزز قارئین!بات کچھ یوں ہے کہ میرے پڑھنے والوں میں ادبی ذوق رکھنے والوں کا اصرار ہے کہ گاہے گاہے ادبی یادداشتیں ان کے ساتھ شیئر کیا کروں۔ مجھے اس کا اندازہ ہے کہ جس روز میں ادب کے حوالے سے کچھ تحریر کرتا ہوں تو فیڈ بیک کافی بڑھ جاتا ہے۔ شاید لوگ سیاسی کالم پڑھ پڑھ کر اکتا چکے ہیں پھر ایک ہی طرح کی باتیں خبروں
مزید پڑھیے