سعد الله شاہ



احتیاط واجب ہے


اپنی اپنی انا کو بھلایا جا سکتا تھا شاید سارا شہر بچایا جا سکتا تھا دھوپ میں جلنے والو آئو بیٹھ کے سوچیں اس رستے میں پیڑ لگایا جا سکتا تھا وہی جو کسی نے کہا تھا ’’آئو اک دوسرے کے دُکھ بانٹ لیں‘‘ بلکہ راجندر سنگھ بیدی نے افسانہ لکھا تھا ’’اپنے دُکھ مجھے دے دو‘‘ شاید اسی کا نام زندگی ہے۔ احساس ہو تو دُکھ بانٹنے میں جو خوشی اور مسرت ہے اس سے ہر شخص آشنا نہیں۔ فیض صاحب نے بھی کیا خوب کہا تھا ’’اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا‘‘ مگر اب اگر تصرف کر کے کہا
بدھ 18 مارچ 2020ء

ہم اور موسمِ گریہ

منگل 17 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
میری حیرت کا تصور ہے وہی ذات کہ جو جہاں ہوتے نہیں اسباب‘ بنا دیتی ہے میری آنکھوں کو وہ خالی نہیں رہنے دیتی کہیں تارا کہیں مہتاب بنا دیتی ہے قربان جائوں میں اس ذات کو جو سائے میں ٹھنڈک رکھتی ہے اور دھوپ میں تمازت کہ ہر صورت زندگی محسوس ہونے لگتی جب فطرت پر نظر کریں تو اس کی آیات کہاں کہاں جلوہ گر نہیں ہیں۔ اب کے جو بہار اتری ہے تو اپنے سارے رنگ لے کر اتری ہے آنکھ ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر۔ منہ نظر آتے ہیں دیواروں کے بیچ‘ اللہ اللہ جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو
مزید پڑھیے


کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا

جمعه 13 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
شہرت کے ساتھ ساتھ بڑھا ہے یہ اضطراب گم نام سا وہ شخص ہمیں مانتا نہیں یہ شہرت بھی عجیب شے ہے‘ مل جائے تو سکون تباہ کر دیتی ہے اور نہ ملے تو بندہ اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ہے۔ یہ مثبت بھی ہوتی ہے کہ کوئی نیک نام ہو جائے اور منفی کہ کوئی بدنام ہو جائے۔ لگتا ہے ہر شخص حسد سے۔ سعدؔ ایسا بدنام ہوا ہے‘ اور پھر انجام بھی تو ویسا ہی ہوتا ہے کہ ہم دونوں آغاز پہ پہنچے۔سعدؔایسا انجام ہوا ہے۔ وہ بھی تو کسی استاد نے کہا تھا بدنام جو ہوں گے تو کیا
مزید پڑھیے


ایک شاندار مشاعرہ

جمعرات 12 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
مشکل کو سروں سے ٹالنے والا تو ہے مجھ کو مرے گھر میں پالنے والا تو ہے ہوں سیپ سمندروں میں اور ہوں خالی ہاتھ موتی مری سمت اچھالنے والا تو ہے آج مجھے سمز Simsکے شاندار مشاعرہ کا تذکرہ کرنا ہے مگر آغاز ایک خوبصورت حمدیہ شعر سے کرتے ہیں جو وہاں معروف کالم نگار اور طرحدار شاعرہ سعدیہ قریشی نے پڑھا: وہ پہلے خواب رکھتا ہے تہی آنکھوں کے کاسوں میں پھر اک دست کرم سے خواب کو تعبیر کرتا ہے اور ایک امیدواور آرزو سے بھرا ہوا اس کی غزل کا شعر: گیلی مٹی سے کسی خواب کا چہرہ گوندھے اک ہنر کار کوئی ڈھونڈ کے
مزید پڑھیے


دشمنی اور پاکستان

بدھ 11 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
مجھ پہ کیچڑ نہ اچھالے مرے دشمن سے کہو اپنی دستار سنبھالے مرے دشمن سے کہو وہ عدو میرا ہے اس کو یہ ذرا دھیان رہے اپنا قد کاٹھ نکالے مرے دشمن سے کہو دوستی اور دشمنی غالباً جڑواں نہیں ہیں۔ آپ یقین کریں کہ میں نے بھی سعادت حسن منٹو کی طرح یونہی کالم شروع کر دیا کہ ایک دشمنی کی بات کرنا تھی۔ اپنے ازلی دشمن کی۔ ویسے تو اذلی دشمن شیطان ہے مگر بھارت بھی اس سے کم نہیں ہے کہ اس کی فتنہ سامانیاں کسی کو جینے نہیں دیتیں۔ کشمیر میں اس نے کب سے کرفیو لگا رکھا ہے اور
مزید پڑھیے




اپنی مرضی کا کالم

پیر 09 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
بولے تو لفظ باعثِ الزام ہو گئے ہم چپ رہے تو اور بھی بدنام ہو گئے چاہت کے چار حرف محبت میں گم ہوئے ہم دل کو پاس رکھنے میں ناکام ہو گئے کیا کریں لوگ کسی بھی حالت میں جینے نہیں دیتے۔ کسی غلط بات پر جواب آں غزل کہہ دیں تو گستاخ گردانے جاتے ہیں اور کسی کی گستاخی پر چپ رہیں تو کہتے ہیں اب بھیگی بلی کیوں بن گئے! یہ رنگ بھی سارے آنکھوں کے ہوتے ہیں ورنہ رنگوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو لوگ کلر بلائنڈ نہ ہوں۔ یگانہ نے بھی تو کہہ دیا تھا
مزید پڑھیے


کاشانہ کی کائنات اور انصاف

اتوار 08 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
مصلحت کو شوائد خواب لٹے جاتے ہیں زندہ رہنے کے بھی اسباب لٹے جاتے ہیں کیا ضروری ہے کہ تم پر بھی قیامت ٹوٹے کیا یہ کافی نہیں احباب لٹے جاتے ہیں غالب نے تو کہہ دیا تھا کہ دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک‘اور یہ بھی فرمایا تھا مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں‘ دل دہلا دینے والے کاشانہ سکینڈل پر حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی اور معاشرتی بے حسی پر سعدیہ قریشی نے اپنے قلم کو نشتر بنا کر کالم تحریر کیا۔ ایک کے بعد دوسرا نوحہ لکھا اور گریہ زاری کی مگر اشک تو جیسے پیاسے
مزید پڑھیے


آزادی نسواں ریلی اور تکریم نسواں واک

جمعه 06 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
منیر نیازی نے بھی کہا تھا کہ ’’ہر حرف دوجے حرف دا پردا میتھوںقیاس نہ ہویا۔ساری عمر میں حرف لکھے پر حرف شناس نہ ہویا‘‘ تبھی تو کہتے ہیں کہ پہلے تولو پھر بولو۔ اچانک مجھے انجم رومانی کا ایک شعر یاد آ گیا دلچسپ ہے: پہلے تول وحید قریشی پھر بھی نہ بول وحید قریشی یہ تو خیر ایک دوستانہ قسم کی طنز تھی ویسے واقعتاً بعض لوگوں کو خاموش ہی رہنا چاہیے کہ وہ بولتے ہیں تو مردے کے مماثل قرار پاتے ہیں۔ ویسے بولنا اچھی بات ہے کہ حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ بولو تاکہ پہچانے جائو
مزید پڑھیے


کچھ قلندر اور نواز شریف

جمعرات 05 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
ہم تو دریا تھے کسی سمت تو بہنا تھا ہمیں کیا خبر کس نے تری سمت ہمیں موڑ دیا بسوں کے پیچھے لکھا ہوا آپ نے بھی پڑھا ہو گا کہ ’’نہ چھیڑ ملنگا نوں‘‘سب لاہور قلندر کے پیچھے پڑے ہوئے تھے اور وہ بھی کب سے بھرے بیٹھے تھے۔ اب جو ان کا بس چلا تو وہ گلیڈیٹر پر چڑھ دوڑے اور 92نیوز نے خوب سرخی جمائی کہ قلندر کی دھمال گلیڈی ایٹر بے حال‘ قلندر جب اپنی آئی پر آئے تو رنز کا پہاڑ کھڑا کر دیا۔209کے جواب میںگلیڈی ایٹر صرف 172رنز ہی بنا سکے۔لاہور قلندر کے سپورٹرز تھوڑے سے
مزید پڑھیے


لاہور قلندر کی شکست کا راز

پیر 02 مارچ 2020ء
سعد الله شاہ
جو بھٹکتا ہے وہی راہ بنا جاتا ہے ورنہ بستی میں کہاں سیدھا چلا جاتا ہے اپنی حالت پہ مجھے خود بھی ہنسی آتی ہے جو بھی آتا ہے مجھے اور رلا جاتا ہے پتہ نہیں مجھے یہ خیال لاہور قلندر کی لگاتار ہار پر کیوں آیا کہ جو بھی اٹھتا ہے وہ لاہور قلندر کو ہرا جاتا ہے۔ کوئی حد ہوتی ہے’’ماڑی بھیڈ ساریاں دی کھیڈ‘‘ ویسے تو کہتے ہیں کہ برا وقت اکیلا نہیں آتا۔ سب کچھ ہی ناموافق ہو جاتا ہے۔ مگر برا وقت بھی کبھی کبھی آتا ہے مگر لاہور قلندر پر تو ہر وقت ہی برا وقت رہتا ہے۔
مزید پڑھیے