BN

سعد الله شاہ


سیاست میں سب کچھ چلتا ہے


بھولے رستوں پہ جانا ضروری نہیں اب اسے آزمانا ضروری نہیں اک اشارہ ہی کافی ہے اس نے کہا داستانیں سنانا ضروری نہیں ان حالات میں رومانس بھی تو ممکن تھا کہ کوئی کہتا اس نے مجھ سے کہا مسکراتے ہوئے۔ ہر جگہ مسکرانا ضروری نہیں۔ اس وقت سیاست پر لکھنا بہت دلچسپ ہے۔ مریم نواز کا بی بی سی کو دیا گیا انٹرویو اس وقت ہاٹ کیک اور ٹیبل آف دی ٹاک ہے۔ معاف کیجیے گا کہ اردو میں شاید اس کا وہ تاثر نہ بن سکے۔ اب کوئی بات چھپتی نہیں ہے بلکہ چھپائو تو اور زیادہ پھیلتی ہے تجسس بات کو
هفته 14 نومبر 2020ء

ہمارے رویے اور بچے جمورے

جمعرات 12 نومبر 2020ء
ہمارے پاس حیرانی نہیں تھی ہمیں کوئی پریشانی نہیں تھی ہمیں ہونا تھا رسوا ہم ہوئے ہیں کسی کی ہم نے بھی مانی نہیں تھی جتنی بھی ایجادات اور دریافتیں ہیں سب اسی حیرانی کی مرہون منت ہیں۔ ہمیں اپنے بارے میں تو یہ حیرت ہے کہ حیرانی ہمارا مسئلہ ہی نہیں۔ ہمیں تو کسی رویے پر بھی حیرت نہیں ہوتی کہ بقول غالب پہلے آتی تھی حال دل پہ ہنسی۔ اب کسی بات پر نہیں آتی۔ سارا منظر نامہ آپ کے سامنے ہے کہ کس طرح کی سیاست چل رہی ہے اور کس طرح کا نظام روبہ عمل ہے۔ کبھی ہنسی آتی ہے
مزید پڑھیے


علی پور چٹھہ میں تاریخی مشاعرہ

بدھ 11 نومبر 2020ء
سعد الله شاہ
اک نخشب خیال کو زہرہ جبیں کے ساتھ میں نے گماں کو جوڑ دیا اک یقیں کے ساتھ قائل نہ کر سکا کوئی دل کو دلیل سے میں دو گھڑی نہ بیٹھ سکا نکتہ چیں کے ساتھ میرے پیارے اور محترم قارئین! آج میں ایک نہایت پروقار تقریب کا تذکرہ کرنے جارہا ہوں جو خیال کی طرح خوبصورت تھی رنگ و رونق سے بھرپور۔ ہمیں تو یہی بتایا گیا تھا کہ معروف شاعر قمر ریاض اپنے آبائی شہر علی پور چٹھہ میں ایک مشاعرہ منعقد کر رہا ہے۔ اپنی سست روی کے باعث جانے میں ذرا تامل بھی تھا۔ مگر جیسے تیسے گھر سے
مزید پڑھیے


کھول آنکھ

منگل 10 نومبر 2020ء
سعد الله شاہ
اس نے پوچھا جناب کیسے ہو اس خوشی کا حساب کیسے ہو عشق کرتا ہوں اور سوچتا ہوں اس عمل کا ثواب کیسے ہو یقینا آج لکھنا تو مجھے اقبال پہ چاہیے تھا کہ شاعر ہونے کے ناتے مجھ پر عین فرض ہے مگر مجھ سے بہتر لکھنے والے اقبال پر انشا پردازی کریں گے۔ تاہم اقبال کی فکر کی کس کو فکر ہو کہ میاں صاحب نے تو یوم اقبال کی چھٹی ہی ختم کر دی تھی کہ اسی فکر سے اسلام دشمن نجات چاہتے ہیں اس پر ستم ظریفی یہ کہ خان صاحب نے تب بہت باتیں کی تھیں کہ اقبال کی
مزید پڑھیے


عوام کو کون اکسا رہا ہے؟

اتوار 08 نومبر 2020ء
سعد الله شاہ
توڑ ڈالے ہیں جو دریا نے کنارے سارے کون دیکھے گا تہہ آب نظارے سارے نظرانداز کیا میں نے بھی اس دنیا کو اور دنیا نے بھی پھر قرض اتارے سارے دریا بپھر جائے تو وہ اپنے ہی کنارے توڑ دیتا ہے اور پھر سیلاب تو آنا ہی ہے اسی لئے اکثر سمجھدار لوگ دریا کا تیور دیکھ کر اپنا انتظام کر لیتے ہیں۔ سیلاب‘ آندھی اور طوفان کا اندازہ سب سے پہلے جانوروں کو ہوتا ہے اور وہ بولنے لگتے ہیں موسم میں زیادہ شدت‘ تو پرندے ہجرت بھی کر جاتے ہیں۔کہتے ہیں صحرا میں جب ریت کا طوفان آنا ہو تو اونٹ
مزید پڑھیے



پوچھتے ہیں کہ کیا ہوا دل کو

هفته 07 نومبر 2020ء
سعد الله شاہ
ہم سے کوئی بھی عہد نبھایا نہیں گیا سر سے جمال یار کا سایہ نہیں گیا کب ہے وصال یار کی محرومیوں کا غم یہ خواب تھا سو ہم کو دکھایا نہیں گیا سائے کے نیچے کونسا پودا پنپ سکتا ہے اور سایہ بھی جب بوڑھے برگد کا ہو تو وہ کس کو پھلنے پھولنے دے گا۔ اگر اس کے نیچے اگنے والی پنیری ہی رہتی ہے اور پھر یہ کھاد کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ زراعت والے میری بات ذرا اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔فی الحال تو مجھے عمران خاں کی تازہ بات کرنی ہے جسے وہ کئی بار تازہ کر چکے
مزید پڑھیے


پانچویں اہل قلم کانفرنس برائے اطفال2020ء

جمعرات 05 نومبر 2020ء
سعد الله شاہ
کس نے پھولوں کو مہکایا کس نے ان میں رس کو چھپایا کس نے مکھی کو بتلایا اس نے کیسے شہد بنایا بولو کون خیال میں آیا جس کا کوئی جسم نہ سایہ یہ ایک نظم کا بند ہے جو ایک ہی وقت میں پہیلی بھی ہے اور پیغام بھی۔ثمینہ راجا کہنے لگیں کہ واقعتاً اس طرح بچوں کی ذہن سازی کی جائیگی۔ بچوں کے لئے لکھنا سب سے مشکل ہے کہ آپ کو بچہ بننا پڑتا ہے اور ذہن رسا سے ناپختہ دماغ کی سمت نمائی کرنا پڑتی ہے۔ نونہالوں کی دلچسپی سرفہرست ہے اور ان کی حیرتوں کی تشفی بھی۔ علامہ اقبال کی پہاڑ
مزید پڑھیے


نئی تبدیلی اور نیا جھگڑا

بدھ 04 نومبر 2020ء
سعد الله شاہ
کیسے سنبھال پائے گا اپنے تو ماہ وسال کو میں نے اگر جھٹک دیا سر سے ترے خیال کو میں نے بھی تجھ کوپا لیا تو نے مجھ کو پا لیا تو نے مرے زوال کو میں نے ترے کمال کو لیجئے صحیح معنوں میں تبدیلی تو اب آئی ہے بلکہ یہ تبدیلی کے اندر تبدیلی ہے کہ فیاض الحسن چوہان آئوٹ اور فردوس عاشق اعوان ان۔ ویسے تو دونوں ہی ہم قافیہ ہیں مگر فردوس عاشق اعوان ذرا تازہ دم ہو کر آئی ہیں ۔ سوشل میڈیا پر بھی ان کے آنے پر شادیانے بجائے گئے ہیںکہ وہاں ویسے یہ ہلکا پھلکا مذاق
مزید پڑھیے


ایک پُرنور تقریب

منگل 03 نومبر 2020ء
سعد الله شاہ
یقین کچھ بھی نہیں گمان کچھ بھی نہیں جو تو نہیں ہے تو سارا جہان کچھ بھی نہیں ترے ہی نام سے پہچان ہے میرے آقاؐ وگرنہ اپنا تو نام و نشان کچھ بھی نہیں کون سی صفت سے انہیں متصف کیا جائے کہ ہر تعریف اپنے عروج پر بھی ان کے شایان شان نہیں ٹھہرتی۔ کیسے ٹھہرے کہ جس ہستی پر خود خدا اور فرشتے درود بھیجتے ہوں اور اس کی امت کا ہر کام ان پر درود بھیجنے سے تکمیل کو پہنچ جاتا ہو، جن کا حوالہ دعاگوپر لگا دے، جن کا نرم و گداز خیال دل کو فرحت و انبساط
مزید پڑھیے


خدارا آگ نہ بھڑکائیں

پیر 02 نومبر 2020ء
سعد الله شاہ
چند لمحے جو ملے مجھ کو ترے نام کے تھے سچ تو یہ ہے کہ یہی لمحے مرے کام کے تھے سعد پڑھنا پڑی ہم کو بھی کتاب ہستی باب آغاز کے تھے جس کے نہ انجام کے تھے دنیا کی ہما ہمی میں بندہ اس قدر مصروف ہو جاتا ہے تو اسے سب کچھ بھول جاتا ہے پھر بھلانے والا اسے اپنا آپ بھی بھلا دیتا ہے۔ جب اسے ہوش آتا ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اپنی مٹھی میں کوئی بھی لمحہ نہیں اور کہنے کو ہم کتنے برسوں جیئے۔ شام ہوتے ہی اڑ گئے
مزید پڑھیے