BN

سعد الله شاہ


وہ جذبہ تھا کہ جنوں‘یادوں کا ورق


مجھ سا کوئی جہان میں نادان بھی نہ ہو کر کے جو عشق کہتا ہے نقصان بھی نہ ہو کچھ بھی نہیں ہوں میں مگر اتنا ضرور ہے بن میرے شاید آپ کی پہچان بھی نہ ہو وہی جو حافظ نے کہا تھا کہ عشق اول اول تو آسان لگتا ہے مگر یہ ہے تو جان لیوا ہے کہ یہ آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے‘کہ جگر کا وی جگر نے ایسے ہی نہیں کی۔ اقبال نے تو قلم ہی توڑ دیا کہ ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں۔ مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں۔ میں اتنا اونچا نہیں اڑوں گا
بدھ 24 جون 2020ء

طارق عزیز۔یادوں کا ایک ورق

منگل 23 جون 2020ء
سعد الله شاہ
اے مرے دوست ذرا دیکھ میں ہارا تو نہیں میرا سر بھی تو پڑا ہے مری دستار کے ساتھ وقت خود ہی یہ بتائے گا کہ میں زندہ ہوں کب وہ مرتا ہے جو زندہ رہے کردار کے ساتھ دستار اور کردار کا آپس میں گہرا تعلق ہے مگر یہاں میں نے یہ اشعار ایک واقعہ کے باعث لکھے ہیں کہ جس کا تذکرہ میں بعد میں کروں گا۔ پہلے مجھے اس واقعہ کے ایک اساطیری کردار طارق عزیز کا تذکرہ کرنا ہے۔ ان کے ساتھ کئی برسوں پر محیط ایک تعلق خاطر تھا کہ ایک زمانے میں جیسے ہم ایک دوسرے کے عادی
مزید پڑھیے


والد مکرم کی رخصتی

اتوار 21 جون 2020ء
سعد الله شاہ
جسم و جاں پر ایک عجب گرانی ہے ایک بے کلی سی اور ایک بے قراری سی۔ لکھنے کی طرف طبیعت ہرگز مائل نہیں والد صاحب کی طبیعت بگڑی تو سنبھل نہیںپائی۔وہ لمحہ لمحہ مٹھی سے پھسلتی ہوئی ریت کی طرح چلے گئے کہ جانے والوں کو کون روک سکا ہے کوئی‘دیکھتے ہی دیکھتے آخری آسمان بھی سر سے سرک گیا۔ ایک بے اماں موسم نے آن لیا۔پہلی دفعہ میں اپنے آپ کو سن رسیدہ لگنے لگا۔ ان کے ہوتے ہوئے میرے اندر ایک کھلنڈرا سا احساس ہر دم جاگتا تھا اور ان کی طرف دیکھ کر باتیں کرنا چاند
مزید پڑھیے


احساس زیاں بڑھتا جا رہا ہے

جمعرات 18 جون 2020ء
سعد الله شاہ
دشت کی پیاس بڑھانے کے لیے آئے تھے ابر بھی آگ لگانے کے لیے آئے تھے اپنے مطلب کے سوا لوگ کہاں ملتے ہیں اب کے بس لوگ خزانے کے لیے آئے تھے کیا کریں وبا بھی ظالموں کی مدد کے لیے آئی ہے کہ وبا کا جال پھیلا کر اپنے اہداف شکار کیے جا رہے ہیں۔ لوگ سہمے ہوئے ہیں، کچھ ڈرتے جا رہے ہیں اور کچھ مرتے جا رہے ہیں مگر کام کرنے والے اپنا کام کرتے جا رہے ہیں، یعنی کام دکھاتے جا رہے ہیں۔ اف میرے خدایا! عوام کو نیک لاک Neck Lockلگا دیا گیا ہے۔تیرے وعدوں پر اعتبار
مزید پڑھیے


کس کی زباں کھلے گی پھر

بدھ 17 جون 2020ء
سعد الله شاہ
دلوں کے ساتھ یہ اشکوں کی رائیگانی بھی کہ ساتھ آگ کے جلنے لگا ہے پانی بھی بجا رہے ہو ہوائوں سے تم چراغ مگر ہوا کے بعد کہاں ان کی زندگانی بھی ہوا چراغ گل کرتی ہے تو اسے شعلہ بار بھی کرتی ہے۔ زندگانی کا یہی فلسفہ ہے کہ یہ ہوا کی آمدوشد ہے اور یوں حیات کا قافلہ رواں دواں ہے۔ یہ تو کوئی بھی نہیں جانتا کہ نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے‘ کس کو معلوم کہ اس کی کتنی صبحیں طلوع ہوں گی۔ دیکھیے وبائیں آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں آپ اس میں احتیاط
مزید پڑھیے



ایک لاکھ گدھوں کا اضافہ

پیر 15 جون 2020ء
سعد الله شاہ
کسی کی یاد کا دل میں چراغ جلتا ہے عجیب شدت غم ہے کہ داغ جلتا ہے نہ روکو مجھ کو مجھے آنکھ بھر کے رونے دو وگرنہ شعلہ دل سے دماغ جلتا ہے سب کیفیت کی بات ہے اور موڈ کی۔ مگر اس کا دارو مدار تو آپ کے اردگرد کے ماحول سے ہے۔ سوچ بچار تو تنہائیوں کے سودے ہیں کہ جس میں خوفناک سناٹا بھی ہے یہ تو حساس دل اور فکر مند ذہن کی باتیں ہیں جو آپ کو رولاتی ہیں یا کم از کم موسم ملال میں رکھتی ہیں۔ شیخ سعدی نے بھی فرمایا تھا کہ ہنسنا کھیلنا دوستوں
مزید پڑھیے


عہدوبا کا بجٹ یا عہد وفا کا

اتوار 14 جون 2020ء
سعد الله شاہ
بجٹ پر مجھے ثمینہ راجہ یاد آئی کہ ایک مرتبہ میں نے اسے ایک اداس ردیف والی غزل بھیجی تو اس نے جواب میں اسی بحر کے اندر ایک لاجواب شعر بھیج دیا: شہر میں جن کی خوش دلی آج تک مثال تھی آپ کی اس غزل نے تو ان کو اداس کر دیا اللہ جانتا ہے کہ بجٹ میں تنخواہیں نہ بڑھنے پر جتنی تعریفیں موجودہ حکومت کی ہوئی اس کی مثال ستر بہتر سالوں میں نہیں ملتی۔اس توصیف اور تعریف میں کیا کیا الفاظ استعمال ہوئے اشاعت کے لائق نہیں ویسے بھی میں کیوں بتائوں!تاہم ایک خاص بجٹ کس ضرور بڑھا
مزید پڑھیے


گھر گھر تعلیم اور اساتذہ

هفته 13 جون 2020ء
سعد الله شاہ
کہنے کو اک الف تھا مگر اب کھلا کہ وہ پہلا مکالمہ تھا مرا زندگی کے ساتھ اے سعد فن یہی ہے کہ کہہ جائے آدمی مشکل ترین بات بڑی سادگی کے ساتھ تو جناب بزدار صاحب نے نہ مشکل حل کر دی ہے۔ انہوں نے تعلیم کے حوالے سے بات کی ہے اور پھر اپنی عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں۔ میں نے ایک فیچر دیکھا جو تعلیم کے حوالے سے تھا۔ سرخی دیکھ کر ہی میرے کان سرخ ہو گئے میں آنکھیں جھپکنے لگا۔پہلی بات تو یہ دل کو گدگدائی کہ عمران خاں اور وسیم اکرم پلس یعنی بزدار صاحب
مزید پڑھیے


زحمت میں رحمت

جمعرات 11 جون 2020ء
سعد الله شاہ
کس کس ادا پہ اس کی میں واروں نہ اپنا دل اس پر ہے ختم خامشی اس پر سخن تمام آرام کا نہ سوچ تو جب تک کہ سانس ہے اک دن اتر ہی جائے گی تیری تھکن تمام ہائے ہائے لفظوں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے۔ بعض اوقات نقطہ ہی کام دکھا جاتا؟ کہ ہم دعا لکھتے رہے اور وہ دغا پڑھتے رہے۔ ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کر دیا۔ بہرحال یہاں بات چلے گی شبلی فراز کی کہ وہ جب سے سیاست میں ان ہوئے ہیں ایک شور سا مچ گیا ہے۔ ان کے بیانات لوگوں کی توقعات کے
مزید پڑھیے


وبا کے دن تو دعا کے دن ہیں

بدھ 10 جون 2020ء
سعد الله شاہ
کیا سروکار ہمیں رونق بازار کے ساتھ ہم الگ بیٹھے ہیں دست ہنر آثار کے ساتھ کوئی نقطے سے لگاتا چلا جاتا ہے فقط دائرے کھینچتا جاتا ہوں میں پرکار کے ساتھ وہ بھی ایسا ہی یکتائے روزگار ہے جس کا دل لاکھوں لوگوں کے لئے دھڑکتا ہے اور لاکھوں دل اس کے لئے دھڑکتے ہیں تو دعا کرتے ہیں۔ وہ چند لوگوں میں سے ہے اس کے بندوں کا بندہ جو اپنے بندے سے ستر مائوں سے بڑھ کر پیار کرتا ہے اس کی آنکھیں دل اور دل اشکوں سے بھرا رہتا ہے۔ یہ نمی نمو ہی تو ہوتی ہے جو کسی کو
مزید پڑھیے