BN

سعد الله شاہ



چند حیات افروز باتیں


ایک سہانی ملگجی شام ہمیشہ میرے شامل حال رہی‘ یعنی ایک تخیل اور ایک تصورو جس کو ایک آرزو نے جگمگا رکھا ہے کہ کاش میں دیکھ سکتا کہ اس شام میں کائنات کے تاجدار اور اللہ کے محبوبؐ اپنے اصحابؓ کے ساتھ اس صفحہ پر شمع محفل ہوئے اور اردگرد سب پروانے۔ یہ سوچ کر ہی کہ وہ کیسا منظر ہو گا آنکھ روشنی سے بھر جاتی ہے اور دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ یہ ناآسودہ خواہش بھی کس قدر آسودگی دیتی ہے کہ بات نسبت کی ہے یقینا وہ قابل رشک لمحات ہونگے جب آقائے نامدار
منگل 29 اکتوبر 2019ء

سانحہ ساہیوال کا فیصلہ

هفته 26 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
یہ شہر سنگ ہے یہاں ٹوٹیں گے آئینے اب سوچتے ہیں بیٹھ کے آئینہ ساز کیا کاش میں بھی ناصر کاظمی کی طرح کہہ سکتا کہ آج تو بے سبب اداس ہے جی‘ میرا دل جو اداس ہی نہیں بلکہ بجھ سا گیا ہے۔ اس کے پیچھے کئی اسباب ہیں ۔ ہائے ہائے کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں، جب محافظ قاتل بن جائیں اور حکمران مفاد اور خود غرضی کی چادر اوڑھ لیں تو مظلوم کہاں جائے۔ پھر تو ایک ہی در ہے کہ باریابی ہو جائے تو پتھر سے چشمہ پھوٹ پڑے اور مردہ زمین زندہ ہوجائے مگر اس
مزید پڑھیے


سنجیدہ صورت حال میں غیر سنجیدہ چال

جمعه 25 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
درد کو اشک بنانے کی ضرورت کیا تھی تھا جو اس دل میں دکھانے کی ضرورت کیا تھی ایسے لگتا ہے کہ کمزور بہت ہے تو بھی جیت کر جشن منانے کی ضرورت کیا تھی کچھ باتیں ہوتی ہیں جو آپ کے اندر کے چور کی چغلی کھاتی ہیں۔ نفسیاتی کیفیت حقیقت کی غماضی کرنے لگتی ہے داستان سے زیادہ زیب داستاں ہے۔ رائی کا پہاڑ بنا دیا گیا ہے۔ یا آپ بات کا بتنگڑ کہہ لیں۔ کہا جا رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے پیچھے بیرونی قوتیں ہیں۔ پھر وزیر اعظم کا دفاعی بیان پر زور کہ ’’کسی قیمت پر استعفیٰ نہیں
مزید پڑھیے


سنہرے لوگ،ڈاکٹر خواجہ صادق حسین

بدھ 23 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
ایک جگنو ہی سہی ایک ستارا ہی سہی شبِ تیرہ میں اجالوں کا اشارہ ہی سہی ہم کو جلنا ہے بہر طور سحر ہونے تک اک تماشہ ہی سہی ایک نظارہ ہی سہی کہتے ہیں کہ پہلے درجے کے لکھنے والے نظریات، دوسرے درجے کے تخلیق کار واقعات اور تیسرے درجے کے لکھاری شخصیات کے حوالے سے لکھتے ہیں۔ مگر وہاں بندہ کیا کرے جہاں کوئی شخص ایک نظریہ، ایک مقصد اور ایک جنوں بن جائے۔ ایک ایسی ہی بے پناہ شخصیت میرے سامنے ہے کہ ان کی لکھی ہوئی خود نوشت "Reflection"میرے سامنے ہے جو ان کے شاگرد اور ہمارے دوست ڈاکٹر انتظار
مزید پڑھیے


قصہ غم سنے گا کون!

پیر 21 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
کیسے سنبھال پائے گا اپنے تو ماہ وسال کو ہم نے اگر جھٹک دیا سر سے ترے خیال کو کیسے بدل کے رکھ دیا لوگوں نے اہتمام سے کچھ نے ترے جواب کو کچھ نے مرے سوال کو تو با ت کچھ یوں ہے کہ منظر بدل رہا ہے اور پھر ہماری آنکھوں یعنی دیکھتی آنکھوں کے سامنے بدل رہا ہے۔ وسوسے اپنی جگہ اور خدشات اپنے مقام پر۔ ہم دیکھ نہیں رہے کہ ہمارے خان صاحب کس قدر مصروف نظر آتے ہیں اور وہ بین الاقوامی سیاست میں اپنا رول ادا کر رہے ہیں۔ ایران اور سعودیہ کی کہنہ عدوتیں ختم کروانے
مزید پڑھیے




بلف یا چال

هفته 19 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
میں جانتا تھا آگ لگے گی ہر ایک سمت مجھ سے مگر چراغ بجھایا نہیں گیا وہ شوخ آئینے کے برابر کھڑا رہا مجھ سے بھی آئینے کو ہٹایا نہیں گیا کچھ چیزیں سچ مچ بندے کے اختیار میں نہیں ہوتیں۔ کچھ لوگ اپنے تئیں کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر قسمت کہتی ہے تابہ کے! یعنی کب تک ’’پھر ہمت مرداں مدد خدا‘‘ یہ جن کا ایمان پختہ نہیں ہوتا اور وہ صرف اپنے مقصد در باطن تک ہوتے ہیں تھک ہار کر گر جاتے ہیں اور اگلے ہی لمحے موقع ملنے پر خود کو ہوائوں کے دوش پر رکھ دیتے ہیں۔
مزید پڑھیے


ایک کالم میرؔ کے نام

بدھ 16 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
ترے اثر سے نکلنے کے سو وسیلے کیے مگر وہ نین کہ تونے تھے جو نشیلے کیے کمال نغمہ گری میں ہے فن بھی اپنی جگہ مگر یہ لوگ کسی درد نے سریلے کیے کچھ کرشما بھی ہوتا ہے اور کچھ سریلا پن بھی ہوتا ہے۔ بعض اوقات خوبصورتی اتنی سادہ ہوتی ہے کہ اس کی تعریف نہیں ہو سکتی۔وہ سادگی اور پرکاری سے آگے نکتہ آفرینی اور تہہ داری بھی ہو سکتی ہے۔ اچھے شعر میں کوئی شے ہوتی ہے جو صاحبان دل کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور سخن ور کے پائوں پکڑ لیتی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے آغاز زمستاں
مزید پڑھیے


ذہنی امراض‘ ڈیپریشن اور کچھ یادیں

پیر 14 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
اک دل بنا رہا ہوں میں دل کے مکین میں مشکل سے بات بنتی ہے مشکل زمین میں فرصت ہمیں ملی تو کبھی لیں گے سر سے کام اک در بنانا چاہیے دیوار چین میں معزز قارئین: میں نے شاید آپ کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ چلیے اس پر تو بعد میں بات کریں گے کہ محبوب کے دل میں گھر کرنا یا محبوب کو اپنے سر کرنا کیسے کام ہیں۔ بہرحال سر سے کام لینا بھی اتنا آسان نہیں کہ یہ اس کے استعمال پر ہے۔ فی الحال تو مجھے کچھ نہایت دلچسپ یادیں آپ کے ساتھ شیئر کرنی ہیںکہ محترمہ سعدیہ
مزید پڑھیے


قرآن سے کچھ موتی اور مرجان

اتوار 13 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
کبھی کبھی میں ایمان و یقین کے حوالے سے بھی کالم لکھ دیتا ہوں تو ایک اور انداز کا فیڈ بیک ملتا ہے اور تو اور مرحومہ رخسانہ نور نے ایک مرتبہ مجھے فون کر کے بتایا تھاکہ وہ صاحب فراش ہیں اور آپ کے ایمان افروز کالم میں عبادت سمجھ کر پڑھتی ہوں۔ اصل میں تو اپنی اصلاح کی یہ ایک کوشش ہوتی ہے۔ وہی جو برنارڈ شاہ نے کہا تھا کہ دنیا کی اصلاح کرنا چاہتے ہو تو سب سے پہلے خود کو بدلو‘ اس طرح یقینا دنیا کے بدمعاشوں میں ایک کمی ضرور ہو جائے گی ہم
مزید پڑھیے


ڈینگی اور مجبوریاں

جمعه 11 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
ہے تند و تیز کس قدر اپنی یہ زندگی کتنے ہی حادثات سرشام ہو گئے کام وہی جو وقت پر ہو جائے جیسے کہ کہتے ہیں ’’ویلے دی نماز تے کویلے دیاں ٹکراں‘‘ نماز کی مثال بے محل نہیں کہ انسانی خدمت بھی تو ایک طرح کی عبادت ہے۔ لمحے کا اعتبار اور احترام بہت اہم ہے۔ میسر وقت گزر جائے تو پھر پچھتاوا ہی رہ جاتا ہے۔ مجھے منشا یاد کا افسانہ’’ دنیا کا آخری بھوکا آدمی‘‘ یاد آتا ہے کہ وہ ایک فقیر کو نظر انداز کر دیتے ہیں جیسے کہ وہ دنیا کا آخری بھوکا آدمی ہو‘ آپ اس
مزید پڑھیے