BN

سعد الله شاہ



کشمیر کی جنگ…


میری سوچوں کا تصور ہے وہی ذات کہ جو جہاں ہوتے نہیں اسباب بنا دیتی ہے بے یقینی میںکبھی سعدؔ سفر مت کرنا یہ تو کشتی میں بھی گرداب بنا دیتی ہے میرا ارادہ یہی تھا کہ جماعت اسلامی کے آزادیٔ کشمیر مارچ پہ لکھوں کہ اس میں شرکت کرنے کی بھی میرے دل میں شدید خواہش تھی کہ کشمیر ہمارا سب کا مسئلہ ہے، میں ناساز طبیعت کے باعث شریک نہ ہو سکا اور واقفان حال بتاتے ہیں کہ ایسی شاندار اور زوردار ریلی کم کم ہی دیکھنے میں آئی کہ اس میں جماعت اسلامی کے لوگ ہی شریک نہ تھے عام لوگ
بدھ 09 اکتوبر 2019ء

اساتذہ

پیر 07 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
یوم اساتذہ پر میں نہیں لکھوں گا تو کون لکھے گا! اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں کوئی غیر معمولی استاد تھا اور میں نے 33سال تک انگریزی زبان و ادب پڑھایا۔ میرا اعزاز اصل میں یہ ہے کہ میں نے عظیم اساتذہ کو نہ صرف دیکھا بلکہ ان سے بہت کچھ سیکھا۔ استاد کے حوالے سے پہلی اور آخری بات تو یہی ہے کہ ُامّی لقب پانے والے نے اپنا پہلا تعارف یہ کروایا کہ ’’مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا‘‘ علم ویسے بھی پیغمبروں کی وراثت ہے۔ بات میں کروں گا اپنے اساتذہ کی جنہوں نے میرے
مزید پڑھیے


بڑا آدمی کون!

جمعه 04 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
اپنا مسکن مری آنکھوں میں بنانے والے خواب ہو جاتے ہیں اس شہر میں آنے والے شکریہ تیرا کہ تونے ہمیں زندہ رکھا ہم کو محرومی کا احساس دلانے والے ویسے یہ محرومی بھی ایک عجب شے ہے کوئی اسے سمجھ لے تو یہ طاقت بن جاتی ہے کبھی کبھی مجھے یہ احساس اس کمی کی طرح لگتا ہے جہاں ہوا گرم ہو کر اوپر اٹھتی ہے تو ادھر ادھر کی بلکہ اردگرد کی ہوا خالی جگہ لینے کی کوشش کرتی ہے اور اس طرح بگولہ وجود میں آتا ہے۔ شاید گرداب کا بننا بھی اس سے ملتا جلتا ہو گا کہ گہرائیوں میں
مزید پڑھیے


جب زبان دل کی رفیق ہو جائے

بدھ 02 اکتوبر 2019ء
سعد الله شاہ
کیسی عجیب بات ہے کہ ہر کالم نگا رعمران خان کی تقریر پر طبع آزمائی کر رہا ہے میں نے تو کوشش کی کہ اس موضوع سے بچا جائے مگر دل نے کہا نہیں داد تو دو وگرنہ جون ایلیا کی طرح خان کہہ دے گا ’’بولتے کیوں نہیں مرے حق میں۔ آبلے پڑ گئے زبان میں کیا‘‘۔ مجھے خان کی تقریر سے بھی خدائے سخن میر یاد آیا: ہم کو شاعر نہ کہو میرؔ کہ صاحب ہم نے دردو غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا اس میں کتنی صداقت ہے کہ سچا سخن اصل میں خود پر بیتی واردات وگرنہ لفظوں
مزید پڑھیے


اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہے

اتوار 29  ستمبر 2019ء
سعد الله شاہ
یدِ موسیٰ ؑ جلا کر راکھ کرتا ہے بُزِ اخفش جسے ساحر بناتے ہیں انہیں دست براہیمی گراتا ہے جو بت ہر دور میں آزر بناتے ہیں آپ ذرا ان مندربالا اشعار کے مزاحمتی اور انقلابی تیور دیکھیں شاعر کا نام بتانے سے پیشتر آپ کو دلچسپ بات بتائوں کہ ایک نعرہ ہم کالج کے زمانے سے سنتے آئے تھے۔ وہ تھا’’ہم نہیں مانتے ظلم کے ضابطے‘‘ زبان زد خاص و عام پہ مصرع اسی طرح مشہور ہوا جیسے محسن نقوی مرحوم کا لگایا ہوا نعرہ ’’یااللہ یا رسول‘ بے نظیر بے قصور‘‘ حالانکہ اس میں قافیہ بھی ناپید ہے، پھر بھی یار لوگ
مزید پڑھیے




5من مینڈکوں کی حقیقت

هفته 28  ستمبر 2019ء
سعد الله شاہ
رائی سے پہاڑ اور بات سے بتنگڑ بنانا کوئی ہم سے سیکھے ۔ بھنے ہوئے تیتر اڑانا ہمارا مشغلہ ٹھہرا۔ مینڈکوں کا مسئلہ اٹھا اور کسی منچلے نے ایسے ہی کسی چیتھڑا اخبار میں سرخی جما دی کہ لاہور میں 5من مینڈک پکڑے گئے اس کے بعداس کی ضمنی سرخیاں تو لگنا ہی تھیں کہ یہ مینڈک لاہور کے بڑے بڑے ہوٹلوں میں سپلائی ہونے جا رہے تھے۔ مزید یہ کہ غالباً یہ گوشت پیزہ‘ شوارما اور برگرز میں استعمال ہونا ہو گا، بغیر تحقیق کے ہم نے دیکھا کہ پورے سوشل میڈیا پر ٹر ٹر ہونے لگی۔ ایسے ہی
مزید پڑھیے


ختم تفسیر قرآن

بدھ 25  ستمبر 2019ء
سعد الله شاہ
ڈاکٹر ناصر قریشی نے بہت اچھی بات کی کہ ایک استاد نے شاگردوں سے پوچھا کہ یقین اور شک میں کیا فرق ہے۔ ایک شاگرد نے اٹھ کر کہا’’سر :جو آپ نے ہمیں پڑھایا ہے اس کا ہمیں یقین ہے کہ آپ نے درست پڑھایا اور جو ہم نے پڑھا اس میں ہمیں شک ہے کہ ٹھیک سمجھ سکے یا نہیں۔ یہ بات ایک مقدس اور مطہر محفل میں ہو رہی تھی جو ختم تفسیر قرآن کے سلسلہ میں مرغزار کالونی کے خدیجتہ الکبریٰ پارک میں منعقدہوئی جس میں ہمارے محترم و مکرم حمید حسین صاحب نے تفسیر قرآن کااختتام
مزید پڑھیے


لمحہ لمحہ کرچیاں

اتوار 22  ستمبر 2019ء
سعد الله شاہ
بڑھا دیتی ہیںعمروں کو نہ جانے یہ کتابیں کیوں میں چھوٹا تھا مگر سر پر کئی صدیوں کا سایہ تھا یہ ایک احساس ہے جو کبھی مجھے تھا کہ جب مجھ سے کتابیں باتیں کرتی تھیں اور پھر ایک اور طرح کا احساس کہ راز منکشف ہونے لگا’’خوں جلایا ہے رات بھر میں نے۔ لفظ بولے ہیں تب کتابوں سے‘‘ اب سچ یہ ہے کہ نہ وہ دن رہے نہ وہ فراغت کہ کتاب کا لمس اور کاغذ کی خوشبو مدہوش کر دے ۔مجھے یاد ہے کہ تب اتنی کتابیں گھر میں جمع ہوگیں کہ جب ہمیں مکان بدلنا پڑا تو ٹرک
مزید پڑھیے


کشمیر مشاعرہ اور کشمیریوںکا دُکھ

هفته 21  ستمبر 2019ء
سعد الله شاہ
کیوں نہیں دیکھتا قبروں کے نشاں سے آگے اک جہاں اور بھی ہے تیرے جہاں سے آگے تجھ کو معلوم نہیں فرض ہے تجھ پر بھی جہاد اور تو نکلا نہیں لفظ و بیاں سے آگے اصل میں یہ دو اشعار میرے اس نوحہ کے ہیں جو میں نے کشمیر کے ضمن میں ہونے والے مشاعرہ کے لئے کہے جو عارف چودھری نے نجیب احمد کی صدارت میں الحمرا ادبی بیٹھک میں منعقد کیا۔ میری سرخوشی یہ کہ ادیبوں اور شاعروں میں اپنے کشمیری بھائیوں کے لئے ایک احساس درد جاگا اور انہوں نے اپنے فکرو فن کے ذریعہ اس قلمی جہاد میں شرکت
مزید پڑھیے


نابغہ عصر مولانا طاہر القادری

جمعه 20  ستمبر 2019ء
سعد الله شاہ
میرے سخن آشنا دوست یقینا اس بات کو محسوس نہیں کریں گے اور نہ مجھے گردن زدنی قرار دیں گے کہ اگر میں مولانا طاہر القادری کے ضمن میں خدائے سخن میرؔ کا شعر درج کر دوں: مت سہل ہیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں تب خاک کے پردے سے انسان نکلتا ہے میں علامہ طاہر القادری کے بارے میں ان کی سیاست سے ریٹائرمنٹ پر کالم لکھنا چاہتا تھا مگر مجھے اندیشہ تھا کہ کالم چھپنے تک ان کے مداحین ان کو ریٹائرمنٹ واپس لینے پر مجبور نہ کر دیں۔ شاید یہی اندیشہ یا ڈر دوسرے لکھنے والوں کوبھی ہو کہ اس
مزید پڑھیے