BN

سعد الله شاہ


اِدھر اُدھر کی نہ بات کر


اور بھی مجبور ہوتا جا رہا ہوں میں زندگی سے دور ہوتا جا رہا ہوں میں آئینہ تھا آ گیا میں پتھروں کے شہر کیا گلہ جب چور ہوتا جا رہا ہوں میں ہمارے خان صاحب کی سوئی بھی اس پر اڑ گئی ہے کہ نواز شریف کو واپس لائیں گے۔ یعنی کھلائیں گے پلائیں گے اور ان سے کرپشن منوائیں گے۔ یہ الگ بات کہ این خیال است و محال است بلکہ وبال است۔آپ جتنی مرضی قافیہ آرائی کر لیں مگر جب تک سخن میں مضمون پھیکا ہے تب تک شاہکار بننے کا نہیں۔پتہ نہیں اس بیان سے چودھری شجاعت کے عزم کی
جمعرات 01 اکتوبر 2020ء

یہ تو ہونا تھا

بدھ 30  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
ہمارے پاس حیرانی نہیں تھی ہمیں کوئی پریشانی نہیں تھی ہمیں ہونا تھا رسوا‘ ہم ہوئے ہیں کسی کی ہم نے بھی مانی نہیں تھی قدرت کا سب سے بڑا انعام حیرت اور تجسس ہے۔ یہی حیرتیں تمام ایجادات اور اختراعات کے در کھولتی ہیں۔ بچے کے پاس بھی یہی خوبصورتی اس کی معصومیت کو چار چاند لگا دیتی ہے۔ وہ جن آنکھوں سے معصومیت سے دیکھتا ہے ان آنکھوں کی روشنی دیکھنے والی ہوتی ہے ، پھر یہ آنکھیں دنیا سے بھر جاتی ہیں تو وہ نور بھی ماند پر جاتا ہے جو اسے فطرت سے ہم آہنگ کرتا ہے۔ خالد احمد
مزید پڑھیے


ساہیوال میں غنڈہ گردی اور مجید امجد

منگل 29  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
پھر چشم نیم وا سے ترا خواب دیکھتا اور اس کے بعد خود کو تہہ آب دیکھتا تلخی میں بھی وہ بھولا نہیں آپ اور جناب تہذیب اس کی دیکھتا آداب دیکھتا یہ چشم نیم وا تو وہی ادھ کھلی آنکھ ہے جو ڈر سے نہیں پوری کھولی جاتی کہ کہیں دلفریب خواب ٹوٹ نہ جائے یہ حقیقت اور گمان یا فسانہ کے درمیان کی صورت ہے۔ یہ خواب بھی عجیب ہوتے ہیں یہ صرف محاورہ نہیں کہ بلی کو چھیچھڑوں کے خواب آتے ہیں۔ اصل میں ہماری شدید خواہش اور تمنا ہی خواب بنتی ہے اور جب یہ خواب تعبیر سے آشنا نہیں
مزید پڑھیے


ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی

پیر 28  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
گریہ زاری ہے نوحہ خوانی ہے یہ مرے عہد کی کہانی ہے بھوک افلاس چار سو میرے اور طبیعت پہ بھی گرانی ہے میرے ہاتھ میں یہ قلم بھی ایک امانت ہے اور مجھے اس کی پاسداری کرنی ہے۔ آپ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہیے کہ سزا یافتہ نواز شریف کی اس بات میں کیا جھوٹ ہے کہ لوگ فاقوں پر آ گئے ہیں۔ رشوت بغیر چارہ نہیں۔دوائیاں دسترس سے دور اور یوٹیلیٹی بلوں نے جان نکال رکھی ہے اور اس پر ستم ظریفی کہ شیخ رشید صاحب فرما رہے ہیں عمران خان کی تقریر مثالی تھی۔ اب بتائیے کہ تقریر کو
مزید پڑھیے


سرکاری ملازمین اور تعلیم

اتوار 27  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
اجنسی بن کے گزر جاتے تو اچھا تھا ہم محبت سے مکر جاتے تو اچھا تھا ہم کو سب پھول نظر آتے ہیں بے مصرف سے گر تری رہ میں بکھر جاتے تو اچھا تھا کبھی ہم عمران سے شناسائی رکھتے تھے اس لئے کہ اس کو صحت اور تعلیمی معیار سے علاقہ تھا۔ہمیں یقینا اس کے آدرش سے محبت تھی اور تھی بھی والہانہ۔آپ یقین کریں نہ کریں مگر مجھ ایسے استاد بھی کسی بھی مصلحت کو بالائے طاق رکھ کر لیکچر دیتے ہوئے بھی بچوں کو اس عظیم انقلاب کے لئے تیار کر رہے تھے جو کنٹینر پر ہی رہ گیا۔ خیر
مزید پڑھیے



بے اعتنائی اور مہنگائی

هفته 26  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
گھٹا تو کھل کے برسی تھی مگر موسم نہ بدلا تھا یہ ایسا راز تھا جس پر مری آنکھوں کا پردا تھا مرے دامن کے صحرا میں کئی جھیلوں کا قصد تھا جو بادل کی زبانی میں ہوائوں کو سناتا تھا پردے کے پیچھے کیا ہو رہا ہے کوئی نہیں دیکھ سکتا۔پردہ اٹھنے یا پردہ گرنے کی منتظر ہے، نگاہ اور وہ بھی تو چلمن سے لگے بیٹھے ہیں۔ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں۔ بس آپ فیض صاحب کونظم نورجہاں کی آواز میں سنا کریں کہ میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے ،حیات تیری آنھکھوں کے
مزید پڑھیے


جاگ اٹھے ہیں کئی درد پرانے والے

جمعرات 24  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
اپنا مسکن مری آنکھوں میں بنانے والے خواب ہو جاتے ہیں اس شہر میں آنے والے بات کچھ بھی نہیں بس اپنا مزاج ایسا ہے ہم تری بزم میں واپس نہیں آنے والے آپ ہرگز نہ سمجھئے گا کہ میرا اشارہ نواز شریف کی طرف ہے کیونکہ وہ واپس ضرور آئیں گے مگر پہلا شعر تو خالصتاً رومانٹک ہے یا آپ ادبی کہہ لیں۔ پہلے ہی الماس شبی نے پچھلے کالم پر کمنٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سیاست میں ادب کا تڑکا آپ خوب لگاتے ہیں بلکہ اب کے تو نورجہاں بھی در آئی۔ بات یوں ہے میرے پیارے قارئین! کہ کہنے والے
مزید پڑھیے


آتش قبا سیاسی محبوبہ

بدھ 23  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
ترے اثر سے نکلنے کے سو وسیلے کئے مگر وہ نین کہ تونے تھے جو نشیلے کئے محبتوں کو تم اتنا نہ سرسری لینا محبتوں نے صف آرا کئی قبیلے کئے اس وقت اے پی سی کا ردعمل جاری ہے۔میری کیا بساط کہ میں کسی پر کوئی رائے دوں کہ دانشوروں کی نمائندگی کرتے ہوئے محمد عباس مرزا نے کہا کہ انہوں نے تو سیاسی پوسٹیں لگانا ہی بند کردی ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ اس اعلامیہ کے بھی نتائج اچھے نہیں ہوں گے جس میں ملکی بقا کو پس پشت ڈال دیا گیا مگر کیا یہ بات بھی برخلاف
مزید پڑھیے


قسمت کے کھیل

منگل 22  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
قتل کرتا ہے ہمیں اور وہ قاتل بھی نہیں بے حسی وہ ہے کہ ہم رحم کے قابل بھی نہیں کسی کردار کو چلنے نہیں دیتا آگے ایک کردار کہانی میں جو شامل بھی نہیں یقینا آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ اولین شعر بین الاقوامی ماحول پر ہے اور ثانی شعر کو مقامی سمجھ لیں۔ مگر ضروری نہیں کہ بات ہم اسی حوالے سے کریں مگر کچھ کچھ ایسا احساس ہمیں گھیرے رکھتا ہے کہ جیسا مریخ کی ایک کہانی میں تھا۔ انگریزی کی اس کہانی میں ایک انگریز فیملی اس وقت مریخ پر جا اترتی ہے جب امریکہ بھی ایٹمی جنگ کی
مزید پڑھیے


دھوپ میں جلنے والو!

پیر 21  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
کوئی پلکوں پہ لے کر وفا کے دیئے دیکھ بیٹھا ہے رستے میں تیرے لیے کتنی تیزی سے سب کام بڑھنے لگے وقت گھٹتا گیا ہر کسی کے لیے اے پی سی کا شور ہے حکومت اور اپوزیشن ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے ہیں۔ شہزاد اکبر کہتے ہیں کہ مفرور مجرم کا خطاب نشر نہیں ہو سکتا۔ مریم نواز کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر دکھائیں گے۔ روک سکو تو روک لو۔ مگر ہمیں اس معاملے سے کیا لینا دینا کہ ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا اور گھبرانا تو کپتان کی ڈکشنری میں ہے ہی نہیں۔ ردعمل تو بتا رہا ہے
مزید پڑھیے