BN

سعد الله شاہ


بیانات اور مضمرات


اک دل بنا رہا ہوں میں، دل کے مکین میں مشکل سے بات بنتی ہے مشکل زمین میں انسان اپنے آپ کو پہچانتا نہیں اک سانپ بولتا ہے سپیرے کی بین میں یہ انسان ہی کا کام ہے کہ اس نے سانپ کو بھی اس کی بل سے نکال کر اپنی پٹاری میں بند کر لیا۔ سانپ کیا شے ہے، اس نے تو شیر کو قابو کر لیا اور سرکس میں لے آیا۔ کونسا تماشہ ہے جو انسان نے برپا نہیں کیا۔ اس نے طوطے سے بھی توپ چلوا دی اور کبوتر کو پیغامبر بنا دیا۔ ہاتھی پر سواری کی۔ اس سے تو بچھو
بدھ 16  ستمبر 2020ء

متشدد رویے

منگل 15  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
کتنے اندیشوں میں وہموں میں گھرا بیٹھا ہوں میں تہی دست ہوں سوچوں میں گھرا بیٹھا ہوں میری کھڑکی سے نظر آتے ہیں اڑتے پنچھی اور میں ہوں کہ کتابوں میں گھرا بیٹھا ہوں کتابوں کے درمیان اخبار بھی تو ہیں جو باہر کی دنیا کی خبر دیتے ہیں اور اسی دنیا کے حولے سے مجھے لکھنا بھی ہوتا ہے۔ آج میری توجہ کا مرکز ان نابغہ ہائے سیاست کا بیان بنا ہے کہ جو تشدد کے خلاف ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ برداشت کی بات کرتے ہیں۔ آپ کو سمجھانے کے لیے میں ایک دلچسپ مگر مضحکہ خیز مثال دوں گا۔ ایک اسلامی
مزید پڑھیے


انصاف اور اجتماعی موت

پیر 14  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
لا کے پھینکا ہے کہاں تونے زمانے ہم کو کون آئے گا لٹیروں سے بچانے ہم کو بے لباسی نے عجب حال کیا ہے اپنا اور صرصر چلی آئی ہے جلانے ہم کو شاید آپ یقین نہ کریں میں دل گرفتہ بیٹھا تھا کہ دفتر سے فون آیا کہ کالم نہیں آیا‘ میں چونکا، واللہ میں تو ایک ایسی کیفیت میں تھا کہ کالم لکھنے کی سکت ہی نہیں تھی۔ وجہ یہ بنی کہ بشریٰ حزیں نے ایک وڈیو بھیجی تو وہ میرے حواس تک زخمی کر گئی۔ ہم کچھ بھول بھی جائیں تو حالات کچھ بولنے نہیں دیتے اور حساس لوگ ہمیں یاد
مزید پڑھیے


ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

اتوار 13  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
معزز قارئین!آج میں بہت رنجیدہ اور آبدیدہ ہوں سوشل میڈیا پر لوگوں کی اس ستم رسیدہ ماں کے حوالے آرا سن رہا ہوں جسے درندوں نے موٹر وے پر اس کے بچوں کے سامنے پامال کر دیا۔ رہ رہ کر میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے سزا کے طور پر یہاں سے انسانیت اٹھا لی گئی ہے۔ابھی تو ساہیوال کے سانحہ کا لہو سوکھا نہیں ۔ہائے ہائے ہر حساس آدمی ایک دوسرے سے منہ چھپا رہا ہے کہ ہمارا معاشرہ کس
مزید پڑھیے


قومی حکومت کے آثار ‘یا…

هفته 12  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
خود اپنی حد سے نکل کر حدود ڈھونڈتی ہے کہ خاک باردگر بھی قیود ڈھونڈتی ہے ہوائے تند بڑھاتی ہے خود چراغ کی لو کہ روشنی میں یہ اپنا وجود ڈھونڈتی ہے واقعتاً یہ انسان تو ہی ہے ،مٹھی بھر مٹی جو اڑتی ہے تو خاک بنتی ہے مگر جتنا بھی اڑ لے آخر واپس پلٹتی ہے اور سر پر بھی پڑ سکتی ہے ۔انجام کار تو مگر مٹی کی ڈھیری ہے۔میں آغاز ہی میں آپ کو فلسفہ جھاڑ کر پریشان نہیں کرنا چاہتا بلکہ آپ کے دل کی بات کروں گا جو آپ کے من کو بھائے۔ ایسی باتیں آج کل بڑی آسانی
مزید پڑھیے



خط اور تبدیلی

جمعرات 10  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
درد کو اشک بنانے کی ضرورت کیا تھی تھا جو اس دل میں دکھانے کی ضرورت کیا تھی ان خطوں کو کہیں دریا میں بہایا ہوتا اس طرح خود کو جلانے کی ضرورت کیا تھی کہتے ہیں خط آدھی ملاقات ہوتی ہے۔ اب تو خیر خط و کتابت کا زمانہ ہی نہ رہا کہ موبائل پر جھٹ منگنی پٹ بیاہ والا معاملہ ہے۔ وہ جو خط کا انتظار کھینچنے کی قوت تھی ختم ہو گئی۔ غالب کے زمانے میں تو یہ چلن عام تھا، غالب کے خطوط بھی ان کی شاعری کی طرح بے مثل و لاجواب ہیں۔ مرزا نوشہ نے شاعری میں بھی
مزید پڑھیے


دل دکھتا ہے

بدھ 09  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
بے ربط کر کے رکھ دیے اس نے حواس بھی جتنا وہ دور لگتا ہے اتنا ہے پاس بھی اک نخشب خیال چڑھائے گا کوئی چاند کچھ کچھ میں خوش ہوا ہوں تو کچھ کچھ اداس بھی آپ پریشان نہ ہوں۔ یہ حواس بندے کے اپنے بس میں تھوڑے ہوتے ہیں۔ وہی جو کسی نے کہا تھا کہ کسی کے آنے سے ساقی کے ایسے ہوش اڑے۔ شراب سیخ پہ ڈال کباب شیشے میں۔ مولانا روم کی مثنوی میں بھی تو پڑھا تھا کہ کسی کو ایک کی دو بوتلیں نظر آتی تھیں۔ اسے یقین دلانے کے لیے بوتل توڑنا پڑی تو دوسری خود
مزید پڑھیے


انصاف سب کے لئے

منگل 08  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
اک سمندر ہو کوئی اور وہ لبِ جُو آئے کیوں نہ اظہار کو ان آنکھوں میں آنسو آئے خوش گمانی نے عجب معجزہ سامانی کی اب ہمیں کاغذی پھولوں سے بھی خوشبو آئے کاغذی پھولوں سے مجھے اپنا دوست کمال جو آج کل انگریزی اخبار میں ہے یاد آیا کہ انگریزی ڈیپارٹمنٹ میں وہ ہمیں اپنے استاد مہدی حسن کی غزل سناتا۔یہ کاغذی پھول جیسے چہرے مذاق اڑاتے ہیں آدمی کا۔ تو کمال کر دیتا۔ مگر غالب نے اس کاغذ سے فائدہ اٹھا کر جو کہا تو وہ اس دیوان کا پہلا شعر قرار پایا: نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کیا کاغذی ہے
مزید پڑھیے


دیکھتے دیکھتے سب ڈوب گیا

پیر 07  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
اس نے بس اتنا کہا میں نے سوچا کچھ نہیں میں وہیں پتھرا گیا میں نے سوچا کچھ نہیں کون ہے کیسا ہے وہ مجھ کو اس سے کیا غرض وہ مجھے اچھا لگا میں نے سوچا کچھ نہیں کہیں آپ نے سوچا کہ یہ سوچ بھی عجیب شے ہے۔ پنجابی میں تو کہتے ہیں سوچی پیا تے بندہ گیا‘یعنی اگر آپ سوچ میں پڑ گئے تو بس کام سے گئے۔ نہایت دلچسپ بات مجھے اپنے دوست اعوان صاحب کی یاد آ رہی ہے۔ چونکہ انہوں نے شادی نہیں کی تھی تو دوست انہیں کہنے لگے کہ بس اب کافی ہو گئی اب تو
مزید پڑھیے


حالات اب ٹھیک ہو جائیں گے

هفته 05  ستمبر 2020ء
سعد الله شاہ
اس کا چہرا جو نظر آتا ہے چاند آنکھوں میں اتر آتا ہے ایسے آتا ہے خیالوں میں جیسے رستے میں شجر آتا ہے باہر بھادوں کی بارش کے تو اندر کا موسم بھی خوشگوار ہو گیاہے تو ایسے میں یادیں تو اترتی ہیں اور یہ یادیں اگر پھیل جائیں تو ہبوط آدم تک جاتی ہیں۔ یہ آدم کا ذکر بھی ایسے ہی نہیں آ گیا کہ اس کا تعلق مائی حوا سے بنتا ہے اور ان دنوں کا تذکرہ گندم سے علاقہ رکھتا ہے کہ جس کے کھانے کے پاداش میں انہیں جنت سے نکالا گیا۔ اس کا خیال مجھے ایسے ہی نہیں
مزید پڑھیے