BN

سعد الله شاہ


قربانی اور بکرونا


ہم تو پہلے ہی ترے حق میں تہی دست ہوئے ایسے گھائل پہ نشانے کی ضرورت کیا تھی اتنے حساس ہیں سانسوں سے پگھل جاتے ہیں بجلیاں ہم پہ گرانے کی ضرورت کیا تھی اذیت ناک احساس وہ ہے کہ جس میں کوئی سوچنے لگے کہ کسی کو اس کا احساس تک نہیں کہ وہ کس حال میں زندہ ہے۔ یہی احساس اجتماعی صورت حال اختیار کر لے تو وہ قوم کا کرب کہلاتا ہے کہ ساری عوام ہی جینے کے ہاتھوں مر چلے‘ والی حالت میں آ جائے تو دلی تکلیف بڑھ جاتی ہے مگر ایک اطمینان کی بات تو کم از کم
بدھ 29 جولائی 2020ء

کیا دیکھنے والوں کو نظر آتا ہے!

پیر 27 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
مجھ کو میری ہی اداسی سے نکالے کوئی میں محبت ہوں محبت کو بچالے کوئی میں محبت ہوں مری تہہ میں صدف ہے شاید موج در موج مجھے آئے اچھالے کوئی یہ اداسی بڑی عجب شے ہے کبھی کبھی یہ بے سبب ہوتی ہے اور کبھی کئی مسئلوں کا سبب۔ بہرحال ناصر کاظمی کے ہاں تو یہ درو دیوار پر بال کھولے ہوتی ہے مگر کوئی اس کا حل ڈھونڈے تو وہ بھی اداسی کے سوا کچھ نہیں حل نکالا ہے یہ اداسی کا۔ اب مکمل اداس رہتا ہوں۔ کہاں آ کر ایک شعر نے بازگشت کی۔ یہ اداس ٹھنڈک جو بسی ہے اس
مزید پڑھیے


سرسوں رنگ کا ایک کالم

اتوار 26 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
اگرچہ غم بھی ضروری ہے زندگی کے لئے مگر یہ کیا کہ ترستے رہیں خوشی کے لئے وہ مجھ کو چھوڑ گیا تو مجھے یقیں آیا کوئی بھی شخص ضروری نہیں کسی کے لئے میرے معزز قارئین!بات کچھ یوں ہے کہ میرے پڑھنے والوں میں ادبی ذوق رکھنے والوں کا اصرار ہے کہ گاہے گاہے ادبی یادداشتیں ان کے ساتھ شیئر کیا کروں۔ مجھے اس کا اندازہ ہے کہ جس روز میں ادب کے حوالے سے کچھ تحریر کرتا ہوں تو فیڈ بیک کافی بڑھ جاتا ہے۔ شاید لوگ سیاسی کالم پڑھ پڑھ کر اکتا چکے ہیں پھر ایک ہی طرح کی باتیں خبروں
مزید پڑھیے


این آر او کی بازگشت اور سیاست

هفته 25 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
این آر او کا ذکر باردگر چلا تو نہ جانے پرویز مشرف کیوں یاد آئے: وہ جو کہتا ہے کہ انصاف ملے گا سب کو اس نے منصف کو بھی سولی پر چڑھا رکھا ہے اس نے چوروں سے سرعام شراکت کی ہے اس نے قاتل کو بھی مسند پہ بٹھا رکھا ہے بلاول بھٹو کی طرف سے خان صاحب پر تیر اندازی کیسے بروقت ہے کہ جو تیر خطا ہوتا ہے وہ بھی خان صاحب کو جا لگتا ہے ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ کیسے تیر انداز ہو سیدھا تو کر لو تیر کو۔ بظاہر تو ایسا ہی لگتا ہے مگر کچھ
مزید پڑھیے


نیب‘عیب اور تیز ہوا کا شور

بدھ 22 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
موج میں آ کر جب بہتے ہیں بادل چاند ہوا اور میں تنہا تنہائیوں کیوں رہتے ہیں بادل چاند ہوا اور میں سبز رتوں کو جھلمل میں جب شاخیں پھول اٹھاتی ہیں بہکے بہکے سے کیوں رہتے ہیں بادل چاند اور میں ایسے گھمبیر موسم میں بھی کہ جہاں گھٹائیں گھر گھر کر آ رہی ہیں اور موسلا دھار بارش سب کچھ جل تھل کر رہی ہے ایک تنہائی کا احساس کیوں جاں گزیں ہے کہ جیسے فطرت کے عناصر میں بھی سماجی فاصلے ہیں یا کم از کم محبت کرنے والوں میں دوریاں ہیں۔ رابطے کچھ ٹوٹے ٹوٹے سے ہیں۔ کبھی ہم اس
مزید پڑھیے



گرانی اور گراں جانی

منگل 21 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
دامن چشم میں تارا ہے نہ جگنو کوئی دیکھ اے دوست مری بے سروسامانی کو شیشہ شوق پہ تو سنگ ملامت نہ گرا عکس گل رنگ ہی کافی ہے گراں جانی کو بے چارے عوام پر گرانی کا بوجھ لادا جا رہا ہے کہ آخر کمر کب تک بوجھ برداشت کرے گی۔لوگ اب کراہنا شروع ہو گئے ہیں۔ میرے گھر میں بجلی کا بل اٹھارہ ہزار پانچ صد روپے آیا ہے اب گیس کا بل بھی ہزاروں میں آتا ہے۔ آخر ہماری گراں جانی کب تک۔ لیجیے ابھی تو ہم بل پر بلبلا رہے تھے کہ تازہ خبر سامنے پڑی ہے کہ بجلی مزید
مزید پڑھیے


دنیا کی تیزی اور لاک ڈائون

پیر 20 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
ایک جگنو ہی سہی ایک ستارا ہی سہی شبِ تیرہ میں اجالوں کا اشارہ ہی سہی ہم کو جلنا ہے بہرطور سحر ہونے تک اک تماشہ ہی سہی ایک نظارہ ہی سہی میں برسوں سے ایک شخص کو دوڑتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ میں دیکھ دیکھ کے تھک گیا ہوں وہ دوڑ دوڑ کر نہیں تھکا۔ اس کا یہ معمول ہے کہ وہ محلے سے دوڑ کر گزرتا ہے تو اس کے ہاتھ میں ایک لمبی چھڑی ہوتی ہے اور وہ پسینہ میں شرابور سیدھا سڑک پر نہیں بھاگتا بلکہ کوٹھیوں کے آگے لگے گھاس پر سے ہوتا ہوا جاتا ہے۔ کبھی کبھی سڑک
مزید پڑھیے


مون سون اور ہم

اتوار 19 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
ابر اترا ہے چار سو دیکھو اب وہ نکھرے گا خوب رو دیکھو سرخ اینٹوں پہ ناچتی بارش اور یادیں ہیں روبرو دیکھو اس وقت مون سون شروع ہے اور پاکستان میں زبردست بارشوں کا امکان ہے اور ان بارشوں کے نتیجہ میں جو کچھ ہو گا وہ بھی سب کو معلوم ہے۔ حکومت کے مون سون سے نمٹنے کے سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ مگر آج میں روٹین سے ہٹ کر کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں تاکہ میرے قارئین مون سون کے حوالے سے کچھ نہ کچھ جان سکیں کہ موسموں کا یہ سائکل نہایت دلچسپ ہے۔ ہوا یوں کہ
مزید پڑھیے


جبرِ ناروا کا موسم

هفته 18 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
روئے سخن نہیں تو سخن کا جواز کیا بن تیرے زندگی کے نشیب و فراز کیا یہ شہر سنگ ہے یہاں ٹوٹیں گے آئینے اب سوچتے ہیں بیٹھ کے آئینہ ساز کیا میرے پیارے قارئین !اس سے پہلے کہ میں آپ کو اپنے کان درد اور اس کے علاج کا دلچسپ واقعہ سنائوں‘ ذرا سی بات بلاول کے حوالے سے ہو جائے کہ وہ ان دنوں خبروں میں بہت نمایاں ہیں ان کی بات میں کوئی طرحدار پہلو ہوتا ہے جو کشش رکھتا ہے۔ مگر آج ہم اس پر اداس ہیں طالبان کے سابقہ ترجمان احسان اللہ احسان نے ٹویٹر پر بلاول کو قتل
مزید پڑھیے


اندھوں کی بستی اور ظلم کی سیاہی

بدھ 15 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
خواب کمخواب کا احساس کہاں رکھیں گے اے گل صبح تری باس کہاں رکھیں گے خود ہی روئیں گے ہمیں پڑھ کے زمانے والے ہم بھلا رنج و الم پاس کہیں رکھیں گے خواب خوش نما کا احساس اور پھر احساس زیاں کا قلق دونوں ہی جان لیوا ہوتے ہیں ایک روگ وصل کی طرح اور دوسرا فرقت کی جاں کنی کی طرح۔ خیر موضوع سے پہلے دو تین پیاری پیاری اور دلگداز خبریں جو ہمارا دامن پکڑے ہوئے ہیں۔ وہی دامان یار چھوٹا جائے ہے مجھ سے میں چاہتا ہوں کہ ان خبروں کی نشاط انگیزی کو میرے قارئین بھی محسوس کریں اور
مزید پڑھیے